Shatranj by Muskan Kanwal NovelR50450 Shatranj Episode 3
Rate this Novel
Shatranj Episode 3
Shatranj by Muskan Kanwal
حریم نے ایک دم ارسلان کو دیکھا …..
جو ہاتھ باندھے بیٹھا حریم کو دیکھ رہا تھا……………
پھر اس کی تابی نظر پر گی ….
جو اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہہ رہا تھا…………
ایک بار پھر اس کی نظر ارسلان پر گی……
جو اسے ترچھی نگاہ سے دیکھ رہا تھا……
وہ آنئ میں فروٹ کاٹ رہی تھی…….
تو چھری سے میرا ہاتھ کٹ گیا……
آف حریم تو کس نے کہا تھا کہ تم فروٹ کاٹو………!!!!!!!?????
رشید کہاں ہیں …..???
اس نے تمہیں کیوں کاٹنے دیے……
نہیں….. نہیں…… آنی ابو کی کوئی غلطی نہیں……..
ابو تو سو گئے تھے…….
انہیں کچھ نہیں پتا تھا ……
آپ پلیز کچھ نہیں کہنا انہیں……
اچھا نہیں کہتے ہم کچھ……
آؤ تم میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلو نہیں…….
ظفر انکل میں ٹھیک ہوں……
بیٹا اب درد تو نہیں…..????
فریال آنی حریم کا گال سہلاتے ہوئے پوچھا………….!!!!!!
نہیں آنی درد تو نہیں……
اب ٹھیک ہے …….
___________________________________
حریم لون میں بیٹھی…..
کچھ پھولوں کا ہار بنا رہی تھی…..
جب ارسلان اس کے پاس آیا …..
حریم نے ارسلان کو دیکھ کر ایسے ظاہر کیا جیسے اسکو ارسلان کے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا …….
میری بات سنو…… حریم ……!!!!
اگر آپ مجھے سوری کرنے آئے ہیں تو میں نے آپ کو معاف کیا …….
حریم نے معصومیت سے کہا ……
میں تم سے کوئی سوری کرنے نہیں آیا……
سمجھیں……
غلطی کی تھی تم نے ……
تو سزا بھی ملی آئی سمجھ……
یا اللہ ارسلان بھائی……
میں تو صرف ……
ہاں بولو کیا کرنے گئی تھی!!!!!
میرے کمرے میں…….
ہاں بولو جواب دو…..!!!!
میں یہ ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ تم میرے کمرے میں بنا اجازت قدم رکھو……
تو تابی بھائی بھی تو بنا اجازت آتے ہیں…….
ہاں تو تمہیں اور تابی میں بہت فرق ہے…..
کیا فرق ہے آخر!!!!!
وہ میرا کزن ہے ….
میرے بھائیوں کی طرح …..
اور تم ایک میں کیا …..
حریم کی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے…..
اور تم ایک نوکرانی ہو……
سمجھیں …..
وہ کچھ دیر خاموش کھڑی رہی پھر چلا کر بولی……..
حریم نوکرانی نہیں ہے…..
یہ کہتے ہیں ارسلان کو دوردھکا دیا…..
اور وہاں سے بھاگتی ہوئی چلی گئی…..
_______________________________________________
کچھ گھنٹوں بعد…….
اللہ کی رحمت…….
جی ابو …..!!!!
جاؤں رحمت یے ارسلان بابا کو دے آؤ…..
ابو میں جاؤ….????
میں نہیں جاتی …..
اس چھپڑ کنجو کے پاس …….
کیا مطلب ایسے نہیں بولتے حریم….
آپ کو نہیں پتہ ابو وہ ارسلان بھائی بہت کھڑوس. ہیں……
ارے نہیں میری رحمت…..
رشید نے حریم کو اپنی گود میں بٹھایا …..
بس ان جیسا بچہ تو ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں……..
اس عمر میں لڑکے بہت بگڑ جاتے ہیں……
اور تم جانتی ہو ارسلان بابا بہت دولت مند ہیں……..
وہ چاہے تو پورا شہر خرید لیں ……
مگر اللہ نے انکی تربیت نرم بنائی ہے…….
ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو غرور کا تاج سر پر سجا کر رکھتا…….
مگر ……!!!!!!
بس کردیں……
ابو اتنی تعریفیں مجھ سے ہضم نہیں ہوتی ………
لائی میں دے کر آتی ہوں…..ارسلان بھائی کو………..
حریم منہ بسورتی ٹی وی لانچ میں گی……
جہاں ارسلان صوفے پر بیٹھا فٹبال کو پیروں میں گردش دے رہا تھا…….
حریم تسمیہ پر تھی اس کے پاس گی……
ٹرے ٹیبل پر رکھ کر مرنے لگیں……
جب تابی کے چلانے کی آوازیں سنائی دیں …..
دروازہ بند کرو جلدی وہ نوکروں کو تاکید کرتا اندر آیا …….
دروازہ بند کرو…..
اگر اب کسی نے دروازہ بجایا تو دروازہ نہیں کھولنا………
تابی خاصہ بکھلایا ہوا تھا…..
اس کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے …..
کیا ہواتابی…..!!!!!
ارسلان نے پریشانی میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا…….
نن نہیں….. ک کچھ نہیں……
یہ کہہ کر تابی سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا………
ارسلان اس کے پیچھے گیا……
مگر تابی نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا……
دروازہ کھولو تابی ……!!!!!
تابی پلیز دروازہ کھولو……!!!!
میں تم سے بات کرنے آیا ہوں ….!!!!
دروازہ کھولو…..!!!!
ارسلان بھائی میں تھک گیا ہوں……
ریسٹ کرو گا……
تابی نے بنا دروازے کھلے بلند آواز میں ارسلان کو جانے کے لیے کہا……….
ارسلان سیڑھیوں سے اترا تو حریم آخری سیڑھی پر کھڑی تھی…….
تم یہاں کیا کر رہی ہو…..?????
ارسلان نے چیختے ہوئے پوچھا…..!!!!
وہ دراصل تابی بھائی…..!!!!
تمہارا مسئلہ کیا ہے لڑکی……
اسلان نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا ……
مسئلہ تو آپ کو ہے…..
کیوں آپ میرے ساتھ اتنی بدتمیزی کرتے ہیں…….
کیا میں نے کبھی آپ کو کچھ کہا ہے……
نہیں نہ ……?????
چپ کرو …..چپ …بالکل چپ…..
آئی سمجھ …….
اپنی حد میں رہو تم……
اچھا تو کیا ہے میری حد…..!!!!
حریم اس کے قریب بڑی…..
تمہاری حد میں بتاتا ہو……
یہ کہہ کر ارسلان نے اسے بازو سے پکڑا …..
اور باہر لان میں گیا…….
جہاں ایک طرف مٹی پڑی ہوئی تھی……
ارسلان نے حریم کو زمین پر جھٹکے سے پھینکا…….
وہ منہ کے بل زمین پر جاگری……
مٹی اس کے چہرے, ہاتھوں, اور کپڑوں,
میں بھر گئی……..
ارسلان گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا……
اور سنجیدگی سے 8 سالہ لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولا…….
یہ ہے تمھاری حد…. سمجھیں ……
حریم آنکھوں میں آنسوں چھپائے…..
زمین پر دیکھتی رہیں……
تاکہ ارسلان اس کی بے بسی نہ دیکھ سکے…….
حریم کی عزت نفس کو آج پہلی بار کچھلا گیا تھا………
وہ اپنے ہاتھوں پیروں سے مٹی صاف کرتی ہوئی کھڑی ہوئی……..
آنسو صاف کیے …..
گہری سانس لیں……
اور مسکرائی……
تکلیف ایسی کہ چیخ کر رونا چاہوں….![]()
پر ضبط ایسا کہ لب سے آہ بھی نہ نکلے..
