Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool NovelR50425 Raaz-e-Muhabat Episode 8 (Last Episode)
Rate this Novel
Raaz-e-Muhabat Episode 8 (Last Episode)
Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool
علیزے ، احد ، فضہ اور حنین کی منگنی جبکہ تسمیہ، شاہ زر اور درنجف شاہ میر کے نکاح کی ڈیٹ فائنل ہوگئی تھی آ فندی ہاؤس میں تمام
تقریب ایک ہی دن منقعد تھی نکاح کی تیاریاں خوب زوروشور سے جاری تھیں تسمیہ اور شاہ زر ، فضہ حنین ، علیزے احد، دل جمعی سے
تیاریاں کر رہے تھے آ فندی ہاؤس میں ہر کوئی خوش تھا مطمئن تھا ان سب میں دو نفوس بلکل خاموش ہوگئے تھے ایک وجود مطمئن تھا تو
دوسرا وجود ہر کسی کو نظر انداز کرتی رہتی تھی سارا دن کمرے میں گزرتا لنچ اور ڈنر سب کے ساتھ اور وہ بھی تب جب شاہ میر نہیں ہوتا
تھا سب کے ساتھ کرتی تھی ۔
نکاح کے لئے ” ہاں ” درنجف نے بہت سوچ سمجھ کر کی تھی وہ اپنا آ پ اپنی انا بھول سکتی تھی لیکن احد اور علیزے کے درمیان نہیں آ سکتی
تھی اسی لئے درنجف نے اپنی تمام تر تکلیف کرلو جذبات کو ایک جانب رکھ کر شاہ میر کے نکاح کے لئے ہاں کی تھی لیکن اس کے سامنے
آ نے سے گریز کر رہی تھی ۔ یہ گریز کوئی شرم یا حیا نہیں تھی ہر بار کی طرح ندامت سر اٹھاتی تھی جو اسے ہر بار کی طرح اپنی پست
سوچ کی پستی میں ڈال دیتی تھی۔
شاہ میر نے بہت کوشش کی اس سے ایک ملاقات کرنے کی یا اس سے بات کرنے کی لیکن درنجف نے اس کی ذات کو نظر انداز کر کے رکھ دیا تھا
شاہ میر کا اس سے سامنا بہت ہی کم ہوتا تھا ادھر سے درنجف ایسے غائب تھی جیسے کبھی سامنا ہی نہیں ہو گا لیکن ہوتا تو وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔
زہرہ آ فندی، بتول آ فندی ، حجاب تبریزی، شاہ زر ، تسمیہ ، فضہ ، علیزے احد، حنین سبھی لوگ مشترکہ شاپنگ کے لئے گئے ہوئے تھے اور گھر
میں صرف درنجف تھی جو اپنی طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے گھر ہی رک گئی تھی کیونکہ
آ فس سے شاہ میر نے بھی انہیں جوائن کرنا تھا اور شاہ میر کا سامنا ہی تو درنجف نے نہیں کرنا تھا۔
موسم میں ہلکی ہلکی خنکی چھائی ہوئی تھی درنجف شاور لیکر گیلے بالوں میں کنگھی کرنے کے بعد ویسے ہی لاونج میں آ گئی تھی بالوں کی
لٹوں سے گرتے موتی اسکی کمر کو بھگو رہے تھے اور وہ ان سب سے بے پرواہ سی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اور بیٹھے بیٹھے کب اسکی
آ نکھ لگی اسے احساس ہی نہ ہوا احساس تو تب ہوا جب اسے ایک مانوس سے خوشبو کا ہالہ اپنے آ س پاس محسوس ہوا وہ خوشبو اسکے
اتنے پاس تھی کہ اسے گماں ہوا کہ وہ اس شخص کی سنگت میں ہے جو اسکے دل کے کسی نیہاں خانے میں رہتا ہے درنجف نے گہری سانس
لیکر اس خوشبو کو اپنے اندر اتارا ، اپنے پاس کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے
آ نکھیں کھولیں تو شاہ میر اسکے ساتھ بیٹھا
اسکے موہنے چہرے کو فرصت سے دیکھنے میں
محو تھا درنجف نے گھبرا کر اٹھنا چاہا تھا لیکن شاہ میر نے اسکی کلائی سے پکڑ کر واپس بیٹھا
لیا جیسے اسے معلوم تھا اب کہ وہ کیا کرے گی۔
” شاہ میر پلیز مجھے آ پ سے کوئی بات نہیں کرنی میرا ہاتھ چھوڑیں ” درنجف اسکی حرکت پر حیران رہ گئی تھی کیونکہ اتنے سال شاہ میر
اسے صرف زبان سے ہی مخاطب کرتا تھا اور اب اسے کیا ہوگیا تھا اس رات کمرے میں آ نے والی حرکت اور اب یہ ہاتھ پکڑنے والی حرکت ،
درنجف نے درنجف نے لہجے کو ہموار رکھتے ہوئے اپنی۔ کلائی چھڑوانے چاہی لیکن شاہ میر کی گرفت اور زیادہ مضبوط ہوئی تھی۔
” شاہ میر پلیز ” درنجف نے ایک اور کوشش کی تھی لیکن شاہ میر ایک دم سے اٹھایا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے لگا درنجف کی کلائی
ہنوز اسکے ہاتھ میں تھی اور وہ اسکے ساتھ بھاگنے کے سے انداز میں گھسیٹ رہی تھی کمرے میں داخل ہونے کے بعد شاہ میر نے اسکی کلائی
ایک جھٹکے سے چھوٹی تھی جس سے وہ بامشکل گرتے گرتے بچی تھی درنجف نے چہرہ گھوما کر دیکھا تو شاہ میر کمرے کا دروازہ لاک
کر رہا تھا ۔
” شاہ میر یہ کیا طریقہ ہے ؟” درنجف نے شاہ میر کو دروازہ لاک کرتے اور اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
” مجھے باہر جانے دیجئے ” درنجف نے غصے سے کہا تھا اور دروازے کی جانب بڑھنے لگی جب شاہ میر نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر دیوار
سے اسکی پشت لگا دی دیورا پر اسکے دونوں جانب ہاتھ رکھ دئیے تاکہ وہ کہیں بھاگ نہ جائے غصہ ، بے چینی اور اضطراب کے تاثرات لئے وہ
اپنی لہو چھلکاتی آ نکھوں سے درنجف کے چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں حیرانی، پریشانی، گھبراہٹ اور اس قدر شاہ میر کی قربت سے
تذبذب کا۔ شکار ہورہی تھی، ہمت کر کے اس نے شاہ میر کی جانب دیکھا ۔
” شاہ میر یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات کرنے کا ” لہجے کو تھوڑا غصے والا بناتے ہوئے درنجف نے کہا۔
” شاہ ، شاہ کہو ” اسکے چہرے کی اڑی رنگت کو دیکھتے ہوئے شاہ میر مزید اسے بوکھلانے پر مجبور کردیا تھا۔
” جو بھی ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات کرنے کا “
” تو پھر تم سکھا دو ، مجھے تو نہیں آ تا “
” تھوڑا دور رہ کر بات کریں ” درنجف نے نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے کہا تھا اسکی کنفیوز شکل
سے محفوظ ہوتے ہوئے شاہ میر نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی۔
” کیوں ؟”
” کیوں کیا ؟ ، مجھے یہ سب کچھ پسند نہیں ہے کیا یہ کافی نہیں ہے “
” اور مجھے تمہارے قریب آ نا پسند ہے اور میرے لئے یہی کافی ہے ” شاہ میر نے انتہائی پرسکون انداز میں کہا تھا نظریں ہنوز درنجف کے چہرے
کا طواف کر رہی تھیں جس کو شاہ میر فرصت سے دیکھنے میں محو تھا وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے ۔
” شاہ میر آ پ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں ؟” درنجف نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کیوں کہ وہ شاہ میر کی نظروں سے کنفیوز ہورہی تھی۔
” تم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟”
” میں کیا کر رہی ہوں ؟” درنجف نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا پوچھا۔
” مجھے نظر انداز “
” میں کیوں آ پکو نظر انداز کرنے لگی ” درنجف نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔
” یہ تمہیں پتہ ہوگا “
” یہ فالتو سوال ہے کوئی اور سوال کریں ” درنجف نے بات بدلتے ہوئے کہا کیوں کہ اسکے پاس جو جواب تھا وہ شاہ میر کو دینا نہیں چاہتی تھی۔
” ٹھیک ہے چھوڑ دیا ” شاہ میر نے کہا تو درنجف نے سکھ کا سانس لیا۔
” کیا تم اس شادی سے خوش نہیں ہو ؟” شاہ میر کے سوال پر درنجف کے چہرے کا رنگ یکلخت تبدیل ہوا تھا ۔
” نہیں ” درنجف نے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا تھا اسکے لئے یہ سوال بہت مشکل تھا اور اس کا جواب اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا لیکن درنجف نے پھر بھی دیا تھا۔
” یہ بات یہ انکار میری ذات کی نفی میری
آ نکھوں میں دیکھ کر کرو “
” میں اپنی بات دہرانے کی عادی نہیں ہوں “
درنجف نے شاہ میر کی آ واز میں موجود تکلیف کو محسوس کیا تھا لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب اسے کمزور نہیں ہونا تھا ۔
” ایک بار میری آ نکھوں میں دیکھ کر یہ انکار کرو ” شاہ میر نے اس سے کہا درنجف کچھ پل خاموش رہی شاید مضبوط کر رہی تھی شاہ میر
کی آ نکھوں میں دیکھا اور کہنے ہی لگی تھی جب شاہ میر نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے بولنے سے باز رکھا تھا۔
” درنجف آ فندی تمہارے سینے میں جو چیز دھڑک رہی ہے ناں اسے شاید دل کہتے ہیں لیکن تمہارے دل کی جگہ ایک پتھر نے لے لی ہے اسی
لئے میری آ نکھوں میں دیکھ کر کہنے کی ہمت
رکھتی ہو لیکن درنجف آ فندی میرے سینے میں پتھر نہیں ہے دل دھڑکتا ہے ایسا نہ ہو تمہارے
انکار کی صورت میں یہ دھڑکنا ہی بھول ہی جائے ” شاہ میر نے دکھ سے کہا تھا ، درنجف خاموشی سے پلکیں جھکائے کھڑی تھی شاید
آ نکھوں میں آ ئی نمی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” ہاتھ رکھ کر دیکھو میرے دل پر تمہاری اس قدر قربت پہ کیسے دھڑک رہا ہے ایسےلگ رہا ہے جیسے ابھی بند ہو جائے گا ” شاہ میر نے درنجف
کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور اسکی بات کی تصدیق اسکی تیز سے تیز تر ہوتی دھڑکنیں تھیں ۔
” شاہ میر پلیز ” درنجف نے ہاتھ نکالنا چاہا تھا ۔
” نجف تمہاری آ نکھوں سے تمہارے چہرے سے تمہارے دل کا حال بتا سکتا ہوں ، کیوں خود پر ضبط کر رہی ہو جو دل میں ہے کہہ دو میں سب
سننے کے لئے تیار ہوں ، لیکن شرط یہ ہے کہ سب سچ ہو ” شاہ میر نے اسے کندھوں سے پکڑ کر کہا ۔
” نجف تمہاری فیلنگز میں بہت اچھے سے جانتا ہوں پھر مجھ سے ایسی بے رخی کیوں بتاؤ نجف آ خر کیا وجہ ہے بتاؤ ” شاہ میر اسے بولنے
پر اکسا رہا تھا اور وہ جو کب سے خود پر ضبط کئے کھڑی تھی شاہ میر کے سینے سے لگ کر بلکل بلکل کر رونے لگی تھی اتنے سالوں کا غبار جو
دل میں بھرا ہوا تھا اسے نکلنے کا راستہ مل گیا تھا اور اتنی شدت سے درنجف روئی تھی کہ اسکی ہچکی بندھ گئی لیکن رونے کی شدت میں
کوئی کمی نہ آ ئی شاہ میر نے اسکے گرد بازوں کا حصار مضبوط کیا لیکن اسے خاموش کروانے کی کوشش نہیں کی درنجف کے دل کا غبار کچھ
ہلکا ہوا تو درنجف نے بولنا شروع کیا ۔
” شاہ میر میں آ پ کے قابل نہیں ہوں آ پپ مجھے ڈیزرو نہیں کرتے آ پ ایک ایسی لڑکی کو ڈیزرو کرتے ہیں جو بہت خوبصورت ہو جسکی
سوچ آ پکی سوچ کی طرح پاکیزہ ہو جس کے زہن میں آپ کیلے لئے کبھی کوئی شک نہ ہو ،
آ پ نے بہت اچھا کیا تھا مجھے تھپڑ مار کر آ خر
مجھے بھی تو پتہ چلا میں کیسی ہوں میری سوچ کیسی ہے ، لیکن خدا کی قسم شاہ میر میں اب اس درنجف سے بہت مختلف ہوں ، اپنے آ پ
کو بہت بدلنے کی کوشش کی ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں بہت بدل گئی ہوں ، اتنا سب کچھ بدل دیا میں نے ، بہت کچھ پیچھے چھوڑ
دیا میں نے لیکن آ پ سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکی یہ میرے بس میں نہیں تھا ، شاہ میری وجہ سے آ پ بہت ہرٹ ہوئے تھے اس دن بھی
معافی مانگی تھی اور اب بھی معافی مانگ رہی ہوں خدارا مجھے معاف کر دیں میں نے آ پ پر بہتان لگایا آ پ پر کیچڑ اچھالا ، میں آ پکی
سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے معاف کر دیں ” درنجف نے روتے ہوئے اپنی ازیت ، اعتراف محبت اور معافی مانگی ، درنجف نے باقاعدہ شاہ میر
کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ دئیے تھے جنہیں شاہ میر نے فورا تھام لیا تھا ۔
” درنجف پلیز نہیں ، مجھ سے معافی مت مانگو ، ہاں میں ہرٹ ہوا تھا اور تمہاری باتوں کی وجہ سے مجھے غصہ آ گیا تھا کیونکہ جس
لڑکی کی تم بات کر رہی تھی تو وہ زین کی منگیتر تھی جس کی کچھ دنوں میں شادی تھی اور میں اسے یونی سے گھر ڈراپ کرنے گیا تھا
اور دوسری بات ہوٹلز کی تو مجھے نہیں یاد کہ تم نے کب ہم دونوں کو دیکھا لیکن ایک دن میں زین اور انکے ساتھ انکی شادی کی شاپنگ کرنے
گیا تھا بس مجھ سے آ رام سے پوچھتی میں بتا دیتا لیکن جس وے میں جس انداز میں تم نے باتیں کہیں مجھے غصہ آ یا اور میرا ہاتھ اٹھ گیا
انفیکٹ اس کے لئے تو مجھے معافی مانگنی چاہئے ” شاہ میر اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں۔
تھامتے ہوئے بولا تھا جبکہ درنجف تو شرمندگی کی نیہاں خانوں میں ڈوب چکی تھی۔
” شاہ میر آ پ مجھے ڈیزرو۔۔۔۔۔۔۔۔”درنجف نے بولنا چاہا تھا لیکن شاہ میر نے اسکی بات کاٹ دی۔
” میرے لئے اس دنیا کی سب سے خوبصورت، پاک ذہنیت کی مالک ، دل کی صاف ، کردار کی پاک اور زبان کی سچی لڑکی صرف درنجف
آ فندی ہے اور رہی بات کہ میں تمہیں ڈیزرو نہیں کرتا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے بلکہ تم میرے جیسا انسان ڈیزرو نہیں کرتی شاید اسی
لئے تم اس شادی سے انکار کر رہی ہو ” شاہ میر نے اسکے لئے خوبصورت الفاظ استعمال کئے تھے اور وہ نم آ نکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میں خوش ہوں ، لیکن آ پ نہیں خوش ” رندھی آ واز شاہ میر کو سنائی دی تھی۔
” جتنا میں خوش ہوں اس شادی پر شاید ہی کوئی خوش ، جسے میں نے تہجد کی نمازوں
میں مانگا تھا میرے خدا نے مجھے وہ نواز دی ہے یا ایسا کہنا بہتر ہوگا کہ عطا کی ہے “
” آ پ سچ کہہ رہے ہیں ؟”
” اتنی نازک سچویشن میں ، میں تم سے جھوٹ بولوں گا ” شاہ میر نے اسکے آ نسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
” آ پ نے کبھی بتایا ہی نہیں ؟”
” کیسے بتاتا ؟ ہر وقت توتم جھگڑا کرتی رہتی تھی مجھ سے ، اور ویسے بھی یہ میرا راز تھا میری محبت کا راز ، رازِ محبت ” شاہ میر نے
اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تو شاہ میر کے خوبصورت اظہار پر درنجف کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
” اب سے ہم ” ہم راز ” ہیں اپنی محبت کے ” شاہ میر کے کہنے پر درنجف نے اثبات میں سر ہلایا تو شاہ میر نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی اور باہر کو قدم بڑھائے تھے ۔
” تمخوش ہو ؟” شاہ میر نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔ درنجف مسکراہٹ کو دباتے ہوئے شاہ میر کے قریب ہوئی اور اسکی ٹائی کی ناٹ کو سہی کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولی۔
” ہممم خوش تو ہوں لیکن مجھے افسوس ہے کہ احد جیسے کمال شخصیت کے بندے سے میں نے شادی سے انکار کر دیا ” شاہ میر اسکی بات پر حیران رہ گیا تھا جبکہ درنجف کی آ نکھوں میں ناچتی شیطانی کو دیکھا ۔
” تم مزاق کر رہی ہو ؟”
” بلکل شاہ میں مزاق کر رہی ہوں ” درنجف نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ پانچ قدموں کا فاصلہ بڑھایا ۔
” تمہیں آ ج میں نہیں چھوڑوں گا ، ستائیس سال سے ناک میں دم کیا ہوا ہے اسکا حساب تو تم اب دو گی ہاتھ آ جاؤ ایک مرتبہ ” شاہ میر نے اسے وارننگ دیتے ہوئے کہا۔
” تو پھر پکڑ کر دکھائیں ” درنجف کہتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی تھی جبکہ شاہ میر بھی اسکے پیچھے تھا غلط فہمیاں دور ہوئیں تو سب
کچھ صاف نظر آ نا شرع ہوا تھا ، انسان ایسے ہی جب کوئی غلط فہمی ہوجائے تو بیٹھ حل کرنا چاہئے ناکہ درنجف کی طرح جذبات میں بہہ
کر ایسے فیصلے کرنے چاہئے جو اپنوں کے لئے تکلیف کا باعث بنیں ، ان دونوں کے چہروں کی مسکراہٹ کو گھر کے اندر داخل ہوتیں زہرہ اور
بتول آ فندی نے دیکھا جبکہ دونوں مائیں اپنے بچوں کی ان خوبصورت خوشیوں کے لئے خدائے واحد کے سامنے شکر گزار ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
