311.6K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz-e-Muhabat Episode 7

Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool

حجاب اور تسمیہ اپنے گھر شفٹ ہو گئے تھے انگلینڈ سے انکا شوہر احمد اور بیٹا حنین تبریزی واپس آ گئے تھے اور آ ج انکا ڈنر آ فندی ہاؤس میں تھا ۔

سرور آ فندی اپنے کمرے میں موجود تھے جب دروازہ ناک ہوا انہوں نے اندر آ نے کی اجازت دی تو درنجف اندر داخل ہوئی تھی ۔

” اسلام علیکم بڑے بابا “

” وعلیکم السلام ، کیسا ہے میرا بیٹا ، طبیعت ٹھیک ہوئی یا نہیں ؟” سرور آ فندی نے اسکے سر پر پیار کرتے ہوئے نرمی سے کہا اور اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا۔

” کافی بہتر ہے ، آ پ بتائیں آ پکی طبیعت کیسی ہے ؟” درنجف نے بھی نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

” بس اپنے بچے کا چہرہ نظر آ تا رہے تو میں بلکل ٹھیک ہوں ، اور آ پس کی بات ہے بخار کیوں ہوا تھا ؟” سرور آ فندی نے رازدارانہ انداز میں پوچھا۔

” تھکاوٹ کی وجہ سے ” درنجف نے عام سےلہجے میں جواب دینے کی بھرپور کوشش کی۔

” چار دنوں سے میری بیٹی کی تھکاوٹ ہی نہیں اتری ” سرور آ فندی اس مرتبہ لاڈ سے بولے تھے۔

” بڑے بابا کافی عرصے بعد کوئی ایونٹ اٹینڈ کیا

ہے تو شاید اسی لئے زیادہ تھکاوٹ ہوگئی تھی ” درنجف نے انہیں مطمئن کرنا چاہا جس پر وہ مطمئن ہوگئے تھے۔

” آ گے کا کیا پلین ہے ویسے “

” مطلب ؟” درنجف نے الجھتی نظروں سے انہیں دیکھا۔

” مطلب کے اسٹڈیز کمپلیٹ ہوگئیں ہیں تو کوئی جاب وغیرہ کرنے کا پلین ہے ؟”

“نہیں بڑے بابا فلحال تو ریسٹ کرنا چاہتی ہوں ہاں بعد میں سوچا جا سکتا ہے “

” ہمم تو جاب کے بارے میں بعد میں سوچ لیجئے گا اب یہ بتائیں کہ شادی کے بارے میں کیا پلین ہے؟ ” درنجف انکے سوال پر شاکڈ رہ گئی تھی ۔

” ش۔شش۔شادی ؟”

“ہممم شادی “

” ن۔۔نہی۔۔۔نہیں بڑے بابا ، ابھی تک تو نہیں سوچا ” درنجف نے لہجے کو حد درجہ نارمل رکھتے ہوئے کہا سرور آ فندی نے اسکے چہرے پر تذبذب کو دیکھا تھا۔

” چلے جب سوچ لیں تو انفارم کر دیجئے گا ہم تب بات کر لیں گے ” سرور آ فندی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی ۔

اور تبھی دروازہ ناک ہوکر کھلا تھا تو دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں شاہ میر کسی فائلز میں محو نمودار ہوا۔

” بابا یہ احسان بلڈرز کی فائل۔۔۔۔۔۔۔۔” شاہ میر اپنی بے دھیانی اور عجلت بھرے لہجے میں فائلز کو سرور آ فندی کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا تھا لیکن چلتی زبان کو بریک تب لگا جب اس نے درنجف کو وہاں دیکھا۔

درنجف سے اسکا سامنا چار دن بعد ہورہا تھا دونوں کی نظریں یہ وقت ملی تھیں درنجف نے جلدی سے نظر جھکائی تھی جس سے شاہ میر کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے ۔

” اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟” شاہ میر نے ایک کوشش کی شاید وہ نظریں اٹھا کر جواب دے گی۔

” بہتر ہے ، بڑے بابا آ پ لوگ بیٹھے میں چلتی ہوں ” درنجف نے سرور آ فندی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا اور وہاں سے چلی گئی جبکہ شاہ

میر کے پیشانی کے بل مزید گہرے ہوئے تھے ہاتھ میں پکڑی فائلز پر گرفت مضبوط ہوئی تھی اسکی پشت پر بڑی گہری نظر ڈالی تھی اس نے ،

یہ دیکھے بغیر کے سرور آ فندی اسکے تاثرات بڑی غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو ڈنر کے بعد سبھی لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے جب احمد تبریزی اور حجاب تبریزی سے سرور آ فندی نے شاہ زر اور تسمیہ کے رشتے کے

لئے بات کی تو ان لوگو نے خوش دلی سے رشتہ قبول کیا تھا جس پر سبھی بہت خوش تھے فضہ علیزے اور درنجف بار بار اسے تنگ کر رہی

تھیں جبکہ وہ گلاب کا پھول بنی بیٹھی تھی ایسے ہی ایک خوبصورت ڈنر کے بعد وہ لوگ اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگئے جبکہ باقی سب بھی

اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے جن میں درنجف بھی شامل تھی ابھی اپنے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا اور سینڈل اتارنے کے لئے جھکی

ہی تھی کہ دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا درنجف نے سر اٹھا کر دیکھا تو شاہ میر تھا جواب دروازے سے ٹیک لگائے اپنی لال آ نکھوں

سے اسے گھور رہا تھا جو اسکن قمیص ، میرون پاجامے میں لمبے بالوں کو کندھے کے ایک جانب ڈالے جھکی کھڑی تھی درنجف دفعتاً سیدھی

ہوئی تھی ہاتھ کندھے پر گیا تو وہاں دوپٹہ نہیں تھا دوپٹہ بیڈ سے اٹھا کر کندھے پر اچھے سے پھیلایا اور رخ شاہ میر کی جانب کیا تو اسکا سر

شاہ میر کے سینے سے ٹکرایا تھا درنجف نے تیز ہوتے تنفس کے ساتھ چند قدم پیچھے لیکر اپنا اور اسکا فاصلہ برقرار رکھا تھا۔

” آ۔ آ پ ۔۔یہاں پر کیوں آ ئیں ہیں ؟” درنجف نے خشک ہوتے ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے پوچھا تھا ۔

” بات کرنے آ یا ہوں تم سے ” شاہ میر اسکی جانب قدم لیتے ہوئے بولا تھا۔

” کیوں ؟” درنجف نے بے ساختہ قدم پیچھے لینے شروع کر دیئے تھے ۔

” بات کیوں کرتے ہیں ؟” شاہ میر کے قدم ہنوز درنجف کی جانب اٹھ رہے تھے۔

” پپپ۔۔۔۔پتہ نہیں ” درنجف نے چند قدم پیچھے لئے تھے اور مزید کے لئے تگ ودو بھی کررہی تھی لیکن وہ قدم رائیگاں جارہے تھے کیونکہ اسکی

پشت دیوار سے جالگی تھی اور اسے اپنی جان فنا ہوتی نظر آ رہی تھی۔

” کیوں کر رہی ہو تم یہ سب ؟” شاہ میردیوار پر درنجف کے دونوں سائیڈوں پر ہاتھ رکھ کر اسکے جانے کی راہیں بندتال کرتے ہوئے بولا تھا ۔

اور وہ اسکے چہرے پر نظریں گاڑھے بندتال یعنی اس تالاب کی طرح جو چاروں جانب سے گھرا ہوا ہوتا ہے جس سے کھیت سیراب ہوتے یں ویسے ہی درنجف کی دید سے اپنے دل سے روح تک کو سیراب کر رہا تھا ۔

” مم میں کک کیا کر رہی ہوں ؟” درنجف نے گھبراتے ہوئے اس سےپوچھا تھا جبکہ نظریں بھی اسکی آ نکھوں پر جمائی تھیں ۔

” تمہاری نظر میں میری کوئی اوقات کوئی اہمیت نہیں ہے جو تم یوں سب کے سامنے میری ذات کی نفی کرتی ہو ” شاہ میر کے لہجے سے درنجف کو اپنی پورے جسم میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی تھی آ نکھیں فورا بند ہوئیں تھیں۔

” آ پ غلط سمجھ رہے ہیں ” درنجف نے اس مرتبہ اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے کہا تھا۔

” تم آ خر کہنا کیا چاہتی ہو ؟”

” میں صرف یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ آ پ کو ایسا کیوں لگا کہ میں آ پکو اگنور کر رہی ہوں ، حالانکہ ہمارا شروع سے ایسا کوئی ریلیشن نہیں

رہا کہ میں آ پکو اگنور کرو اور آ پ اس طریقے سے اتنی رات کو میرے روم میں داخل ہو کر یہ سوال پوچھیں اور پیچھے ہوکر بات کریں

“درنجف کا پہلے سے کافی مضبوط لہجہ تھا اپنے دونوں ہاتھ شاہ میر کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے اتنا دور کر دیا کہ ان میں پانچ قدم کا فاصلہ پیدا ہوگیا تھا ۔

” اگر بات مجھے ایسا لگنے کی ہے تو کیا تم نے مجھ پر اس احد کو فوقیت نہیں دی ، کیا اس رات تم سب کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کروں

اور میرے ساتھ کھڑے ہونے تک تم اعتراض کرو ، سبکے ساتھ نارمل بی ہیو کروں اور میرے ساتھ بات کرنا تو دور کی بات ہے میری طرف

دیکھنا تک گوارا نہیں ہے تو کیا یہ میری ذات کی نفی نہیں ؟” شاہ میر کا لہجہ اور انداز جلن سے لبریز تھے شاہ میر کیا بول رہا تھا اسے خود

بھی معلوم نہیں تھا بس جو کھولن تھی اتنے دنوں کی آ ج وہ باہر نکل رہی تھی اسکے الفاظوں کے زیر اثر درنجف کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔

” آ پ کو اندازہ ہے آ پ کیا بول رہے ہیں ؟” درنجف نے شدید حیرت کے زیر اثر کہاتھا۔

” نہی مجھے نہیں اندازہ میں کیا بول رہا ہوں اور

مجھے انکے مطلب بھی نہیں سمجھنے میں یہاں بس ایک بات کہنے آ یا ہوں ، مجھے تم آ ئیندہ احد کے ساتھ نظر نہ آؤں ورنہ جو میں کروں گا

وہ تم برداشت نہیں کر پاو گی اور ایک آ خری بات اتنی رات کو اس کمرے میں آ نے کی تو یہ آدھار رہا اب میں تمہارے کمرے میں نہیں آ وں گا

بلکہ پورے حقوق کے ساتھ تم میرے کمرے میں

آ وں گی اس ننھے سے دماغ میں یہ بات بٹھا لو ” اسکی پیشانی پر شہادت کی انگلی سے دستک

دیتے ہوئے شاہ میر نے کہا اور ایک نظر اسکے سفید چہرے پر ڈالتے ہوئے جیسے آ یا تھا ویسے چلا گیا جبکہ درنجف اسکی آ خری بات پر غور

کرتی رہ گئی تھی مرے مرے قدموں سے بیڈ پر

آ کر بیٹھی تھی سائیڈ ٹیبل پر پڑے پانی کے گلاس کو بے ساختہ لبوں سے لگایا تھا اور ایک سانس میں اسےختم کر ڈالا تھا۔

اچھی گلاس رکھا ہی تھا جب دروازے پر دستک ہوئی درنجف اچھل پڑی تھی گلاس نیچے گرتے گرتے بچا تھا ۔

” ککون؟” ڈرتے ڈرتے اس نے پوچھا ۔اور تبھی بتول آ فندی اور زہرہ آ فندی اندر داخل ہوئیں تھیں ۔

” کیا کر رہی ہے ہمارے بیٹی ؟” زہرہ آ فندی اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی تھی جبکہ بتول

آ فندی بھی ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئیں۔

” کچھ نہیں ، آ پ لوگ یہاں پر ” درنجف نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔

” کیوں ہم لوگ یہاں نہیں آسکتے کیا” زہرہ

آ فندی نے خفگی سے کہا تھا۔

” ارے نہیں ایسی بات نہیں ہے “

” تو پھر کیسی بات ہے ؟” بتول آ فندی نے بھی کہا تھا۔

” خوشی ہورہی ہے آ پ لوگوں کو اپنے کمرے میں دیکھ کر “

” سچی ” زہرہ آ فندی نے شاکی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

” مچی ، بڑی مما ” زہرہ آ فندی کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے درنجف نے کہا تھا اپنے لہجے کو حد درجہ نارمل رکھنے کی پوری کوشش کررہی تھی ۔

” ہماری بیٹی بہت پیاری ہے کیوں بتول؟” زہرہ

آ فندی نے اسکی پیشانی کو چومتے ہوئے کہا تھا۔

” بلکل بھابھی ” بتول آ فندی نے کہا اور نظریں جھکا لیں۔

” مجھے دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے ” درنجف نے شرارتی انداز میں کہا۔

” نہیں میری جان دال میں کچھ کالا نہیں ہے بلکہ پوری دال ہی کالی ہے ” زہرہ آ فندی نے بھی شرارتی انداز میں کہا تھا ۔

” تو پھر بتائیں کیا بات ہے ” درنجف نے گھبراتے ہوئے پوچھ لیا تھا۔

” بات یہ ہے نجف کے شیراز بھائی نے تمہارے لئے احد کا رشتہ مانگا ہے ” بتول آ فندی نے اسکے سر پر جیسے بم پھوڑا تھا اور وہ حیران نظروں سے

زہرہ آ فندی اور بتول آ فندی کو دیکھ رہی تھی ساتھ دماغ میں شاہ میر کی بات گھوم رہی تھی۔

” لیکن نجف ہم نے ہمیشہ تمہیں شاہ میر کے ساتھ دیکھا ہے ” دوسرا بم بھی درنجف کے سر پر پھٹا تھا۔

” سرور بھائی کی ، زہرہ بھابھی کی اور میری بھی یہی خواہش ہے کہ تمہاری شادی شاہ میر سے ہو ” بتول آ فندی اسکے تاثرات کو دیکھتے

ہوئے آ رام اور ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہیں تھیں اور درنجف سب کچھ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں سن رہی تھی۔

” یہ ہماری ہی نہیں بلکہ تمہارے بابا کی بھی یہی خواہش تھی بچپن میں ہی تم دونوں کا رشتہ طے ہوگیا تھا وقت گزرتا رہا اور تم دونوں بڑے

ہوتے گئے تمہاری اور شاہ میر کا آ پایا جھگڑا ہی ختم نہیں ہوتا تھا تو ہم سب نے یہی فیصلہ کیا کہ اس بارے میں تم دونوں سے چھپایا جائے اور

ہم اچھی بھی کچھ وقت نہ بتاتے لیکن شیراز بھائی نے تمہارا ہاتھ مانگ کر ہمیں مجبور کر دیا کہ ہم ساری حقیقت کو تمہارے سامنے رکھیں اور

تم ہی ختمی فیصلہ کرو گی ، بھائی صاحب بھی پہلے تمہاری مرضی کو ترجیح دے رہے ہیں، اسی لئے میں اور بھابھی تم سے اس موضوع پر

بات کر رہے ہیں ” بتول آ فندی نے بہت نرمی سے اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھیں جبکہ زہرہ آ فندی چپ بیٹھی ہوئیں تھیں

اور درنجف سر جھکا کر بات سن رہی تھی اور

آ نسو پینے اور مضبوط ہونے کی ناکام کوشش کررہی تھی ۔

” دیکھو نجف تمہارے پاس دو آ پشن ہیں ایک احد جو بہت ہی سلجھا ہوا اور ویل مینرڈ ہے جبکہ شاہ میر کی ہر اچھی اور بری عادت کو تم

سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا ، تم جتنا وقت لینا چاہو لے سکتی ہو لیکن فیصلہ جو بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا ” بتول آ فندی نے اس

پر واضح کر دیا تھا اور پھر چپ ہوکر اسکے بولنے کا انتظار کرنے لگیں۔

” مما آ پکو پتہ ہے احد علیزے میں انٹرسڈڈ ہے پھر بھی میرا رشتہ ۔۔؟” درنجف نے دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ دونوں

خاموش ہوگئی تھیں۔

” ہمیں معلوم ہے احد اور علیزے کے بارے میں ، اسی لئے تو ہم نے یہ فیصلہ تم پہ چھوڑ دیا ہے ” زہرہ آ فندی نے پیار سے کہا ۔

” بڑی مما آ پکو پتہ ہے میری اور شاہ میر کی کبھی نہیں بنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہم اتنا جھگڑا کرتے تھے لیکن یہ پوری زندگی کا فیصلہ

ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ ہم کبھی بھی ایڈجسٹ کر پائیں گے ” درنجف نے دل پر پتھر رکھ کر شاہ میر کی باتوں کو بھلائے اس رشتے کی سب سے

بڑی خامی بتائی تھی اور انہیں اس سے باز رکھنا چاہا تھا لیکن وہ دونوں اسکی بار پر مسکرا رہیں تھیں ۔

” بھابھی ہماری درنجف نے ہمیشہ وہی کیا جو دل نے چاہا لیکن ایک فیصلہ دماغ سے کیا جو اتنے سال ہم سب کے لئے ازیت کا باعث بنا رہا تھا

اور آ ج پھر یہ فیصلہ دماغ سے کر رہی ہے ” بتول آ فندی نے آ بدیدہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔

” دیکھو نجف ہم نہیں جانتے تمہارے اور شاہ میر کے درمیان کیا کشیدگی چل رہی ہے یا کیا غلط فہمی ہے لیکن ہم اتنا جانتے ہیں تم دونوں

نے دماغ سے فیصلے کرتے ہو کیونکہ دل کی آ واز کو دونوں ہی فراموش کر دیتے ہو ” زہرہ آ فندی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

” نجف ہم چاہتے ہیں تم اپنے دل سے فیصلہ کرو”

” میں شاہ میر کے لائق نہیں ہوں بڑی مما وہ

مجھ سے کئیں گنا اچھی لڑکی کو ڈیزرو کرتے ہیں جس کی سوچ ان سے ملتی ہو ، جن کی

ذہنیت میں کسی قسم کا کوئی بھی تضاد نہ ہو ” درنجف نے بے بسی سے ایک اور دلیل دی ۔۔۔

” تم سے بہتر کوئی ہو سکتا ہے اسکے لئے ؟” زہرہ آ فندی نے اسکی دلیل کو رد کر دیا۔

” لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

” نجف ہم مجبور نہیں کریں گے تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں بتا دینا ، ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن ہم اچھے کی امید رکھتے ہیں ” بتول آ فندی

نے اسکی بات کو کاٹ کر کہا تھا اور مزید کوئی بھی بات کئے بغیر وہاں سے چلی گئی جبکہ زہرہ آ فندی اسکی پیشانی پر بوسہ دیا اور وہ بھی

بلی گئیں ج کہ درنجف اپنا گھومتا سر تھامے وہی بیٹھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔