311.6K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz-e-Muhabat Episode 2

Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool

” اسلام علیکم بڑے بابا، بڑی مما اور میری پیاری مما ” درنجف سکول کےلئے تیار ہوکر ناشتہ کی ٹیبل پر پہنی اور چہک کر سب کو سلام کیا

جواب میں سب نے بہت محبت سے اپنے گھر کی رونق کو پیار کیا تھا جبکہ درنجف نے شاہ میر کی موجودگی کو سرے سے ہی اگنور کر دیا تھا۔

” درنجف، شاہ زر ، فضہ اور علیزے جلدی کرو ورنہ شاہ میر تم لوگوں کی وجہ سے یونیورسٹی سے لیٹ ہو جائے گا” بتول آ فندی نے انھیں جلدی کرنے کو کہا ۔

” کیوں ہم لوگ انکے ساتھ کیوں جائیں گے ڈرائیور انکل کہاں ہیں ؟” شاہ زر، فضہ اور علیزے نے اثبات میں سر ہلا کر جلدی جلدی کرنے

لگے جبکہ درنجف میڈم کو اس سے بھی پروبلم تھی اور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔

” انہیں کچھ کام تھا اس لیئے آ پکے ڈرائیور اپنے گاؤں گئے ہوئے ہیں” سرور آ فندی نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

” لیکن بڑے بابا مجھے ایک بہت ضروری کام تھا جو میں انہیں ہی بتا سکتی تھی ” درنجف نے مایوسی سے کہا تھا ۔

” ارے میری جان تو اس میں مایوس ہونے والی کون سی بات ہے شاہ میر ا پکے ساتھ ہے تو آ پ اسے کہ دیجیئے گا” سرور آ فندی سے اسا دکھی

پن دیکھا نہیں گیا تو فورا بولے۔

” اوہ چلے ٹھیک ہے آ ج شاہ کے ساتھ چلے جاتے ہیں ” درنجف نے اپنی شرارت سے لبریز آ نکھوں سے اسکی جانب دیکھا جو ناشتہ کرنے میں

مصروف تھا۔

” جلدی آ جاؤ میں باہر انتظار کر رہا ہوں ” شاہ میر نیپکن سے ہاتھ اور ہونٹ صاف کرتے ہوئے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ درنجف کے علاوہ وہ تینوں جلدی جلدی کرنے لگے تھے۔

” بھائی کو ہم پر پہلے ہی بہت غصہ ہے اگر آ ج وہ ہماری وجہ سےلیٹ ہوگئے تو آ ج شامت پکی ہے ، اسی لئے جلدی کرو” شاہ زر اسے بازو سے

کھینچتے ہوئے بولا تھا جو گھر کا دروازہ اسیے عبور کر رہی تھی جیسے کسی فلم ہو ڈرامے کی شوٹنگ میں سلومو چل رہا ہو، شا ہ زر نے اسکا بازو کھینچا تو وہ کسی میگنیٹک کی طرح

کھینچتی چلی گئی تھی ۔

” آ پا آ پ آ گے بیٹھ جائیں ” فضہ کی ڈری سہمی سی آ واز اسے سنائی دی تھی اسی لئے وہ فرنٹ ڈور کھول کر آرام اور اطمینان سے اگلی

نشست کو سنبھال چکی تھی جبکہ وہ تینوں خاموشی سے پیچھے بیٹھ گئے تو شاہ میر نے گاڑی سٹارٹ کر کے روڈ پر ڈالی۔

” شاہ مجھے اپنی دوست کے لئے گفٹ لینا ہے تو زرا مارکیٹ میں گاڑی روکئے گا” درنجف نے اسی اطمینان سے کہا۔

” نہیں، میں پہلے ہی تم لوگوں کی وجہ سے لیٹ ہورہا ہوں ” شاہ میر نے روڈ پر گاڑی دوڑانے کے ساتھ نظر بھی ادھر ہی مرکوز تھی جب

سینجدہ سا بولا۔

” نہیں شاہ آ ج اسکا برتھڈے ہے مجھے اسے گفٹ دینا ہے پلیز آ پ گاڑی سائیڈ پر لگائیں ” درنجف نے ضد کی۔

” جب میں کہہ چکا ہوں نہیں تو ضد کرنے والی کوئی تک نہیں بنتی ” شاہ میر نے سلگ کر کہا۔

” بڑے بابا نے کہا تھا مجھے جو بھی کام ہے وہ

میں آ پ سے کہہ دوں اور ا پ اس میں میری ہیلپ کریں گے تو اب آپ انکار نہیں کرسکتے ” درنجف نے اسے بات یاد دلائی جس پر شاہ میر

نے ایک سخت نظر اسکے شکل سے معصوم چہرے پر ڈالی اور غصے پر ضبط کرتے ہوئے گاڑی سائیڈ پر لگائی۔

” بس پانچ منٹس ہیں تمہارے پاس جلدی کرو ” شاہ میر نے ٹائم دیکھتے ہوئے اسکے لیکچر کا ٹائم ہوگیا تھا اور وہ کبھی بھی اپنا لیکچر مس نہیں

کرتا تھا آ ج پہلی مرتبہ ہورہا تھا جسکی بڑی وجہ درنجف تھی۔

درنجف سر ہلاتے ہوئے مارکیٹ کے اندر داخل ہوگئی، جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا شاہ میر کی پیشانی پر شکنیں ابھر رہی تھیں جبکہ شاہ

زر ، فضہ اور علیزے کی حالت پتلی ہورہی تھی ۔

درنجف پانچ پانچ منٹ کی بجائے بیس منٹ لگا

آ ئی تھی اور جب دروازہ کھول کر بیٹھی تو شاہ میر اپنی خوبصورت کالی آ نکھوں میں بے انتہا

سرخی لئے اسے گھور رہا تھا غصے کی وجہ سے وہ لال پیلا نیلا اور ہرا ہوا بیٹھا تھا لیکن سامنے بھی درنجف تھی جسے اس نے مکمل طور پر نظر

انداز کر دیا تھا درنجف کے آ نے پر ان تینوں نے سکھ کا سانس لیا تھا جبکہ شاہ میر کچھ بھی کہے بغیر گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖

ڈنر پر سرور آ فندی ، زہرہ آ فندی ، بتول

آ فندی ، حجاب تبریزی ، شاہ میر ، شاہ زر ، درنجف ،تسمیہ ، فضہ اور علیزے موجود تھے ڈنر

کو سب ہی انجوائے کرتے ہوئے نوش فرما رہے تھے درنجف پر تو سب کچھ زیادہ ہی فوکس کئے بیٹھے تھے جو سب کی نظروں کو خود پر واضح

محسوس کر رہی تھی سوائے شاہ میر کے کیونکہ وہ خود کو لاتعلق سا ظاہر کر ہا تھا لیکن درنجف اس بات کا نوٹس لئے بغیر خاموشی سے

اپنی پلیٹ میں ڈالی ہوئی بریانی کو کھا رہی

تھی ۔

” درنجف کیسی بنی ہے ؟” بتول آ فندی نے پوچھا جو درنجف کے ساتھ ہی بیٹھ ہوئی تھی ۔

” جی اچھی بنی ہے ” درنجف نے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا جس پر سبھی کے چہروں پر مسکراہٹ غائب ہوئی تھی، حتی کہ شاہ میر نے بھی اسکی جانب دیکھا تھا ۔

” کیا ہوا ؟” درنجف نے اپنے اوپر سبھی کی سنجیدہ سی نظریں محسوس کیں تو پوچھیں بنا رہ نہ سکی۔

” تمہیں بریانی بہت پسند تھی درنجف یا اب نہیں رہی ” شاہ زر نے پوچھا ۔

” ہاں تو اب بھی پسند ہے مجھے بریانی “

” نہیں تمہاری اس بات کا یقین نہیں کر سکتے ” سرور آ فندی بھی بولے تھے ۔

” اس میں یقین نہ کرنے والی کونسی بات ہے بڑے بابا ” درنجف کو حیرانی ہورہی تھی اب کے اس روئیے پر۔

” وہ اس لئے کہ ہماری درنجف کی فیورٹ ڈش بریانی ہوا کرتی تھی جو اسکی پہلی محبت اسکا جنون تھی اور جہاں بریانی ہوتی تھی وہاں

درنجف ملا کرتی تھی اور اگر گھر میں بریانی نہیں بنتی تھی تو ہماری بیٹی کھانا نہیں کھاتی تھی ” سرور آ فندی لہجے میں بہت ساری اداسی

کوسموئے ہوئے بولے تھے

” بڑے بابا اب میں بڑی ہوگئی ہوں ، اور ویسے بھی چیزوں کو بیلینس رکھنا چاہئے ناں “

درنجف نے مسکراتے ہوئے کہاتھا جس کی بات پر سبھی نے مایوسی سے مسکرائے تھے وہی پر شاہ میر اسکی سنجیدگی پر پہلو بدل کہ رہ گیا تھا۔۔۔

💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖

ڈنر کے بعد تسمیہ فضہ اور علیزے نے آ ئس کریم کا شور ڈال دیا جس پر سرور آ فندی نے انہیں جانے کی پرمیشن دے دی لیکن درنجف کا

موڈ نہیں تھا اسے شاہ زر زبردستی لیکر کر آگیا تھا شاہ میر کی بی ایم ڈبلیو ایکس 5 گاڑی کے بیک سیٹ پر وہ چارو پتلی ہونے کی وجہ سے

بیٹھ گئیں تھیں جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر شاہ میر اور ساتھ والی سیٹ پر شاہ زر بیٹھ گیا تھا ۔۔گاڑی میں شاہ میر اور درنجف کے علاوہ سبھی بول رہے تھے اور وقفے وقفے وہ سب ان دونوں کو بھی مخاطب کر لیتے تھے۔

شاہ میر نے گاڑی آ ئس کریم پارلر کے سامنے روکی اور سبھی گاڑی سے اتر گئے سب کے پسند کی آ ئس

کریم کا آ رڈر دیا تو شاہ زر انکی جانب بڑھ گیا جو گاڑی کے پاس ہی کھڑی باتیں بگھار رہیں تھیں۔ جبکہ شاہ میر بھی آ ہستہ آہستہ چلتا ہوا

ان تک پہنچ گیا تھا۔

” درنجف ایک بات پوچھوں؟” شاہ زر نے اسے مخاطب کیا جو فضہ کی کس بات پر مدھم سا مسکرا رہی تھی۔

” آ پ کب سے اجازت لینا شروع ہوئے ” درنجف کی بجائے تسمیہ نے اسکی ٹانگ کھینچی جس پر فضہ علیزے کا قہقہہ درنجف نے مسکراتے ہوئے

جبکہ شاہ میر نے مسکراہٹ کو دبایا تھا۔

” میں تم سے بات کر رہا ہوں ” شاہ زر اپنی اس قدر عزت افزائی پر دبہ دبی سا چیخا تھا۔

” بھائی تسمیہ آ پا بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں ، آ پ کب سے اٹیکیٹس نبھانے لگے ” فضہ نے بھی

تسمیہ کا ساتھ دیا۔

“تسمیہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے شاہ زر ، تم میرے ساتھ کب سے فارمل ہونے لگے ” درنجف نے خفگی سے کہا۔

” تب سے جب سے تم اتنا سنجیدہ رہنے لگی ہو ” شاہ زر نے بھی دوبدو جواب دیا۔

” اسے سنجیدگی نہیں میچورٹی کہتے ہیں شاہ زر جو تمہیں زرافے کی طرح قد لمبا ہو جانے سے بھی نہیں آ ئیں” درنجف نے مسکراہٹ کو دباتے

ہوئے کہا جس پر سبھی کا قہقہہ بلند ہوا تھا ج کہ شاہ میر بھی مسکراہٹ کو دبا نہیں سکا تھا۔

” اب ایسی بھی بات نہیں ہے میرا بھائی بیشک

زرافے کی طرح لمبا ہے تو میچورٹی اتنی بڑی ٹانگوں کے گھٹنوں تک پہنچ چکی ہے دماغ تک پہنچتے میں وقت لگتا ہے ہے ناں شاہ میر بھائی”

علیزے نے بھی بات میں حصہ ڈالا اور شاہ میر کو کھینچا جو کب سے خاموش کھڑا تھا۔

” ویسے میچورٹی کا ایسے دماغ میں کیا کام

جہاں پہلے ہی گھاس بھری ہو ” شاہ میر نے بھی اسکی ٹانگ کھینچی تھی۔

” بھائی آ پ بھی ” شاہ زر نے صدمے سے کہا تو سب ایک مرتبہ پھر سے قہقہہ بلند ہوا تھا۔

اتنے میں آ ئس کریم آ گئی اور آ ئس کریم کھانے کے دوران بھی سبھی شاہ زر کو تنگ کرتے رہے تھے جس پر وہ منہ پر ٹیپ لگائے بیٹھا رہا تھا

اسکے بعد سبھی گھر کے لئے نکلے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖

درنجف ، شاہ زر ، علیزے اور فضہ کو انکے سکول ڈراپ کرنے کے بعد شاہ میر اپنی یونیورسٹی پہنچ چکا تھا جبکہ پہلا لیکچر کو سٹارٹ ہوئے

تقریباً بیس منٹ گزر چکے تھے جو کہ شاہ میر کی یونی لائف میں پہلی مرتبہ ہوا تھا روم میں داخل ہونے کی جب شاہ میر نے پرمیشن چاہی

پہلے تو پروفیسر بھی شاک ہوئے تھے لیکن پھر

اسے اندر آ نے کی پرمیشن دی اور اپنا کام جاری رکھا شاہ میر اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اور

مکمل فوکس لیکچر کو سمجھنے میں لگایا تقریباً چالیس منٹ کے بعد جب لیکچر ختم ہوا اور سبھی سٹوڈنٹس باہر نکل گئے تو زین ( شاہ

میر کا دوست ) اسکے پاس آ یا۔

” آ ج اتنی لیٹ کیوں ہوئے شاہ میر ” زین نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے وجہ پوچھیں ۔

” بس ہوگیا یار اب کیا بتاؤ” شاہ میر اپنی نوٹ بک پر جھکے ہی اسکی بات کا جواب دیا۔

” ایسا بھی کیا کام تھا جس نے شاہ میر کا اتنے سال کا ریکارڈ بریک کر دیا” زین نے اصرار کیا۔

” یار وہ شاہ زر لوگوں کو سکول ڈراپ کرنے میں دیر ہوگئی تھی ” اس مرتبہ شاہ میر نے کرسی سے کمر ٹکاتے ہوئے جواب دیا۔

” اوہ سہی ، تو تم آ ج آ رہے ہو “

” کہاں ؟” شاہ میر نے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” بھول گئے کیا ” زین نے خفگی سے کہا۔

” اب بتا بھی دو زین ” شاہ میر نے اسکی خفگی کی پرواہ کئے بغیر پوچھا

” اگر تمہارے اس دماغ میں کہیں میں ہوں ناں تو تمہیں یاد ہوتا کہ آ ج رات کو تمہارے اکلوتے دوست کی منگنی ہے ‘ زین نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا۔

” اوہ ہاں یاد آ یا ، میں آ وں گا یار میرے اکلوتے دوست کی منگنی ہے ” شاہ میر نے فریش موڈ سے کہا۔

” ہاں ہاں دیکھ لی تیری دوستی “

” اچھا ناں یار تجھے تو پتہ ہے ناں فائنل نزدیک ہیں تو پڑھائی میں کچھ اور یاد ہی نہیں رہتا “

” اچھا بس ٹھیک ہے ناں ، اور اگر تم آ ج نہیں

آ ئے تو یہ بات یاد رکھنا کہ تیری میری دوستی ختم “

” ارے ایسے کیسے ، میں ضرور آ وں گا ” شاہ میر کی بات پر زین نے لڑکیوں کی اترا کر نزاکت سے بالوں کو جھٹکا تھا جس پر شاہ میر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖

رات کو شاہ میر اپنے کمرے میں تھا ابھی ابھی وہ شاور لیکر نکلا تھا جسم پر ایک عدد ٹراؤزر اور گلے میں تولیہ ڈالا ہوا تھا جس سے وہ سر

رگڑ کر صاف کر رہا تھا کہ تبھی اچانک سے روم کا دروازہ کھلا اور درنجف صاحبہ اندر پدھاریں جبکہ شاہ میر کا حلیہ دیکھ کر آ نکھیں شرم سے

جھک گئی تھیں جبکہ چہرہ دیوار کی جانب کر لیا ” I am sorry Shah, مجھے پتہ نہیں تھا کہ آ پ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” درنجف اپنی زندگی میں پہلی

مرتبہ معافی مانگ رہی تھی اور وہ بھی ہٹلر سے ۔

” کسی کے کمرے میں داخل ہونے کا یہ کیا طریقہ ہے درنجف ” درنجف کو اپنے سامنے یوں پاکر شاہ میر یکدم بوکھلا یا تھا اسے دیکھ کر جلدی

سے بیڈ پر پڑی شرٹ کو اٹھا کر پہننے کے ساتھ ساتھ دبے دبے غصے سے کہا۔

” معافی مانگ تو رہی ہوں ” درنجف نے معافی مانگی تو گویا اس پر احسان کیا ہو ۔

” دیکھ سکتی ہو ، اور معافی سےکیا ہوجائے گا ، کوئی مینرز نام کی چیز ہوتی ہے جس سے تمہارا پالا شاید ہی کبھی پڑا ہو ” شاہ میر ہنوز غصے

سے کہہ رہا تھا درنجف نے آ ہستہ آ ہستہ چہرہ اسکی جانب گھمایا تھا جب تسلی ہوگئی تو اسے گھورنے لگی۔

” الحمدللہ مجھ میں بہت مینرز ہیں جو میں ہر کسی پر ضائع نہیں کرتی ” درنجف نے اسے گھورتے ہوئے کہا جس پر شاہ میر ک پارہ ہائی

ہوا۔

” درنجف اب تم ۔۔۔۔۔۔۔”

” اوہو اب تو معافی بھی مانگ لی ہے اسی لئے غصہ تھوک دیں ” شاہ میر کی بات کاٹتے ہوئے درنجف نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔

” سوری سے اب کیا ہوجائے گا “

” سوری سے کچھ بھی نہیں ہوگا ” درنجف نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

” درنجف کسی کے بھی کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دروازہ ناک کرتے ہیں ” شاہ میر اب کے اپنے دانتوں کے نیچے الفاظ چبا کر ادا کررہا تھا

جیسے وہ درنجف جیسی آ فت کو چبا رہا ہو۔

” اوہو شاہ ، آ پ تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہیں جیسے آ پ لڑکی ہوں اور میں کوئی لڑکا “

” نجف “

” شاہ میں یہاں میتھس کے کوئسچن سمجھنے

آ ئی تھی نہ کہ آ پکا غصہ برداشت کرنے آ ئی تھی” درنجف نے مزید جھنجھلاہٹ سے کہا جس

پر شاہ میر صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔

” اس وقت میں نہیں سمجھا سکتا ” شاہ میر کہتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا اور کنگھی کرنے لگا۔

” شاہ سمجھا دیجئے صبح ٹیسٹ ہے ” درنجف کہتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔

” نہیں مطلب نہیں ” شاہ میر نے انکار کرتے ہوئے خود پر پرفیوم اسپرے کیا۔

” اتنی پیاری ، اتنی گولو مولو سی اتنی معصوم کزن ہوں میں آ پکی پھر بھی نہیں سمجھائیں گے ” درنجف نے معصومیت کی انتہا کر دی تھی اور

گرے آ نکھوں کو معصومیت سے ٹپٹپاتے ہوئے کہا جبکہ شاہ میر کے خود پر اسپرے کرتے ہاتھ یکدم تھمے تھے اور ” ایک نظر” درنجف کی

معصومیت کو دیکھ کر شاہ میر کے سینے میں موجود لوتھڑا یکدم دھڑکا تھا ” ایک لمحے” کی بات تھی شاہ میر نے نظروں کا زاویہ بدلا اور بنا

کسی تاثر کے سختی سے بولا۔

” نہیں اس وقت نہیں مجھے کہیں جانا ہے “

” میں بڑے بابا کو بتا دوں گی ” درنجف نے

معصومیت کا چولہ اتارتے ہوئے اپنا آخری ہتھیار

آ زمایا۔۔۔

” دھمکی دے رہی ہو مجھے “

” آ پکو پتہ ہے میں دھمکیاں نہیں دیتی ” درنجف نے کہتے ہوئے نوٹ بک ، بک اور پینسل اسکی جانب بڑھائی ، شاہ میر کچھ پل اسے گھورتا رہا

جیسے صالم نگل جائے گا پھر غصے سے بک کو تھام لیا۔

” بہت بد تمیز ہو تم ” شاہ میر صوفے کی جانب بڑھتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی۔

” آ پکی کزن ہوں ” درنجف نے لاپرواہی سے

کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

” نجف “

” پلیز شاہ سمجھا دیں ” درنجف نے مزید التجائی انداز میں کہا تو شاہ میر بیچارے کو چاروناچار سوال سمجھانے لگا تھا زین کی منگنی

میں جانے کے لئے وہ تیار ہورہا تھا جب یہ آ فت

آ ن ٹپکی ۔ مسلسل پندرہ منٹ سر کھپانے اور درنجف کو برداشت کرنا صرف شاہ میر کا

حوصلہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔