Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool NovelR50425 Raaz-e-Muhabat Episode 1
Rate this Novel
Raaz-e-Muhabat Episode 1
Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool
جون جولائی میں گرمی تو اپنے عروج پر ہوتی ہے لیکن اسے یہ نہیں پتہ ہوتا کہ جانے کب اسے زوال آ جائے ۔ سورج راجا کا موڈ آ ج تو کچھ خاص ٹھیک نہیں تھا اسی لئے قہر برسا رہا تھا ۔
ہر ذی نفس اپنے اپنے ٹھکانوں میں دبکے بیٹھے تھے نہ چرند نہ پرند نہ بندہ نہ بندے کی ذات ۔
” آ فندی ہاؤس ” میں بھی کچھ اسی طرح کی
خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ تبھی لاونج میں رکھے لینڈ لائن نے خاموشی کو توڑا ایک بیل دوسری بیل تیسری بیل آ خرکار چوتھی بیل پر
کریڈل اٹھا کر کان سے لگا لیا گیا تھا اور جو خبر دوسری جانب سے ملی وہ ” آ فندی ہاؤس ” میں عید کا سماں باندھ گئی تھی سب کاموں میں
اس طرح مصروف ہوئے کہ کوئی کمی نہ رہے
آ خر کو اس گھر کی لاڈلی بیٹی اتنے عرصے بعد واپس گھر آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
سبھی اپنے کاموں میں بزی تھے جب سرور آ فندی لاونج میں داخل ہوئے ساتھ پوری تمکنت اور مضبوط قدم اٹھاتا ہوا شاہ میر
آ فندی اور ساتھ میں تھکے تھکے قدم اٹھاتا
شاہ زر آ فندی داخل ہوئے
” اسلام علیکم ” تینوں باپ بیٹوں نے بلند آ واز میں سلام کیا اور لاونج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔
” وعلیکم السلام” زہرہ آ فندی اور بتول آ فندی نے سلام کا جواب دیا تب تک ملازمہ پانی لے
آ ئیں اور سب کو پیش کیا ۔
” خیریت ہے آ پ کو اتنے خوش نظر آ رہے ہیں ؟” شاہ میر نے پانی پیتے ہوئے پوچھا ۔
” بات ہی کچھ ایسی ہے ” زہرہ آ فندی سے خوی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
” ایسی کیا بات ہے بیگم صاحبہ ” سرور آ فندی نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
” مما میں کمرے میں جارہا ہوں فریش ہوجاو تب تک آ پ کھانا لگا دیں ” شاہ زر کہتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا کہ۔
” درنجف کل کی فلائیٹ سے واپس آ رہی ہے ” زہرہ آ فندی نے شاہ زر کی بات کو اگنور کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا۔
” کیا ” شاہ زر نے بیک وقت پلٹ کر اونچی آ واز اور حیرت سے کہا۔
” ” بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں بھابھی جان ، درنجف واپس آ رہی ہے” بتول آ فندی نے بھی زہرہ آ فندی کی بات پر پرجوش لہجے میں کہا۔
” یہ تو بہت اچھی بات ہے گھر کی رونق واپس
آ رہی ہے ” سرور آ فندی نے بھی خوشی کا اظہار کیا ۔
” مما، چھوٹی مما آ پکو کیسے پتہ چلا؟” شاہ زر نے احمقانہ سوال کیا جس پر سبھی نے اسکی عقل پر افسوس سے نفی میں سر ہلایا
” شاہ زر اس نے فون کیا تھا ” بتول آ فندی نے نرمی سے کہا۔
” دیکھے اسکے آ نے کی خوشی میں ، میں تو بھول ہی گیا تھا کہ ایک عدد فون کال بھی ہوسکتی ہے ” شاہ زر نے بے ڈھنگی سی بات کہی تھی۔
“شاہ زر چھوڑ دو یہ بچپنا کب بڑے ہوگے تم ” شاہ زر کی بات شاہ میر اسے ٹوکے بغیر نہیں رہ سکا اور سختی سے کہا۔
” سوری بھائی ” شاہ زر منہ لٹکا کر معذرت کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
” کیا ہوا شاہ میر تمہیں خوشی نہیں ہوئی در نجف کے آ نے کی ” زہرہ آ فندی نے اسکے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔
” ایسی کوئی بات نہیں ہے ، مجھے خوشی ہے وہ واپس آ رہی ہے ” شاہ میر نے نرم سا مسکراتے ہوئے کہا تو سبھی مطمئن ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
ڈنر پر سبھی گھر والے موجود تھے اور درنجف درنجف ہی کر رہے تھے جبکہ شاہ میر بھی بظاہر خاموش تھا لیکن اندر سے الجھا ہوا تھا ۔
” شاہ میر تم چلے جانا انہیں آ ئرپرٹ سے لینے کے لئے ” سرور آ فندی نے اسے مخاطب ہوئے۔
” انہیں ؟” شاہ میر نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
” ہاں وہ میری تھوڑی دیر پہلے ہی بات ہوئی ہے ان سے تمہاری پھپھو بھی آ رہی ہیں ” زہرہ
آ فندی نے بتایا۔
” اوہ واؤ ، پھپھو بھی آ رہی ہیں مطلب تسمیعہ بھی آ رہی ہے ” فضہ نے ایکسائٹڈ ہو کر کہا اور اسکا ساتھ علیزے نے بھی دیا۔
” تمہاری پھپھو ادھر ہی شفٹ ہو رہی ہیں بھائی صاحب پاکستان میں ہی اپنا بزنس سیٹ کر رہے ہیں ” بتول آ فندی نے تفصیلی بتایا ۔
” وہ یہاں ہی رہے گی کیوں شاہ زر بھائی کتنا مزہ آ ئیے گا ناں ” علیزے نے پرجوش انداز میں کہا اور شاہ زر کی رائے بھی جانی جو اسکے
انداز پر دانت پیستا رہ گیا تھا سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
وہ اپنے کمرے میں پڑی راکنگ چئیر کو مسلسل جھول رہا تھا ایک ہاتھ سے چئیر کے ہینڈل کو
سہلا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی سیگریٹ بار بار اپنے اعنابی لبوں کو لگا رہا تھا لیکن خوبصورت نظریں سامنے ٹیبل پر پڑے لیپ
ٹاپ پر مرکوز تھیں جہاں تصویریں سلائیڈ شو ہورہی تھیں اور ایک چلبلی سی لڑکی کو دکھا رہیں تھیں ہاتھ میں پکڑی سیگریٹ کا دھواں
کئیں منظر کو ابھار رہا تھا وہ کوئی چین اسموکر نہیں تھا لیکن اسکی حالت جب ایسی ہوتی تو سیگریٹ کا حساب نہ لگایا جا سکتا تھا دل کی بے چینی حد سے سوا ہوئی تو کمرے میں
لگی ونڈو کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا اور شیشے کو دھکیل دیا ونڈو کے پار بارش کا خوبصورت منظر شاید اسی کا منتظر تھا اسی بارش سے
جڑی اسکی بہت سی یادیں تھیں جب اسکی زندگی کے بائیس سال اسکے ہاتھوں سے ریت کے مانند پھسل گئے تھے وہ ” ایک لمحہ” میں خالی
ہوگیا تھا کیونکہ اس کے اندر محبت کا درخت ” ایک لمحہ”میں پروان چڑھ گیا تھا۔ وہ آ ج تک اسی ” ایک لمحہ ” میں قید تھا ۔
اب بھی بارش ہورہی تھی اب بھی بارش کو دیکھ کر وہ اسی ” ایک لمحہ” میں جاپہنچا تھا۔
ایک لڑکی بارش میں بھیگ رہی تھی ، کالےجوڑے میں دودھیا رنگت خوبصورت نرم و نازک سا سراپا ، دوپٹہ گلے میں ڈالے گھوم رہی تھی ،
بارش کے قطرے اسکے کالے جوڑے میں مقید خوبصورت سراپے کو بھگو رہے تھے ،
“ایک شعر تو سناؤ” کسی نے کہا۔
“شعر” گھومتے گھومتے وہ رکی اور اپنی مخروطی انگلیوں سے چہرے پہ لمبے شہد رنگ بالوں کو ہٹایا اور کھلکھلا کر ہنسی جیسے اسکی بات سے محفوظ ہوئی تھی۔
“تو پھر سنو”
” کچھ انہیں پسند ہے کالا جوڑا
کچھ کم بخت ہم پہ جچتا بھی بہت ہے”
اک ادا سے شعر سنایا گیا جو دور کھڑے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا بس ایک لمحے کی بات تھی ، جو اس جیسے اکھڑ ، سنجیدہ، اور سخت بندے کو زیر کرنے کے لیے کافی تھی۔
اس ” ایک لمحہ” کو سوچتے ہوئے اب بھی اسکے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی تھی جیسے مسکراہٹ آ ئی تھی ویسے ہی دبے پاؤں واپس لوٹ گئی تھی۔
ایک لمحے نے ہی اسے اس دنیا کا سب سے امیر ترین انسان بنا دیا تھا اور اسی ایک لمحے نے اسے اس دنیا کا غریب ترین انسان بنا دیا تھا۔۔۔
وہ پھر سے خاموش سا راکنگ چئیر پر بیٹھ کر نظریں لیپ ٹاپ پر مرکوز کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
وہ چاروں سکول سے چھٹی کے بعد اپنے ڈرائیور کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔
” نجف اب کیا ہوگا ” شاہ زر نے درنجف کی جانب رخ موڑ کر مایوسی سے کہا۔
” وہی ہوگا شاہ زر جو منظورِ خدا ہے ” درنجف نے لاپرواہی اور شرارت سے کہا۔
” نجف میں سیریس ہوں یار ” شاہ زر نے خفگی سے کہا ۔
” تو میں بھی سیریس ہوں” در نجف نے سنجیدہ ہونے کی ناکام کوشش کی ۔
” نجف بھائی کو پتہ چلا تو وہ ہمیں بہت ڈانٹیں گے ” شاہ زر نے ڈرتے ہوئے کہا تھا جس پر درنجف نے ایک نظر اسے دیکھا پھر علیزے اور فضہ کو جو معصومیت کی حدود کی چھو رہی تھیں۔
” شاہ زر تم میرے سامنے یعنی درنجف کے سامنے اس ” ہٹلر ” سے ڈر رہے ہو”:درنجف جو تو غصہ ہی آ گیا تھا۔
” مجھے پتہ ہے تمہیں شاہ میر بھائی سے ڈر نہیں لگتا لیکن ہمیں تو لگتا ہے ناں ” شاہ زر نے علیزے اور فضہ کی دلی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا تو ان دونوں نے امداد طلب نظروں سے درنجف کو دیکھا۔
” تم سب ٹینشن نہ لو میں سب سنبھال لوگی” درنجف نے کالر کو سہی کرتے ایک فخر سے کہا تھا جس پر انہیں کچھ تسلی ہوئی تھی تب تک انکاڈرائیور انہیں لینے کے لئے آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
گھر آ کر یونیفارم وغیرہ چینی کرنے بعد کھانا کھایا اور تھوڑی دیر ریسٹ کی اسکے ایک گھنٹے کے بعد انکا اسٹڈی ٹائم ہوتا تھا اسی لئے شاہ زر
علیزے اور فضہ نے بہت بہانے کئے لیکن بتول
آ فندی اور زہرہ آ فندی نے ناہیں اسٹڈی میں دھکیل ہی دیا جہاں سامنے ہی صوفے پر اکیس
سالہ شاہ میر اپنی تمام تر مردانہ وجاہت کے ساتھ کسی کتاب کے مطالعہ میں غرق تھا دروازہ کھلنے کی آ واز پر نظر اٹھا کر دیکھا تو اسکی
بھوری کالی آ نکھوں پر لمبی خم دار پلکیں تھیں لمبی تیکھی ناک باریک اعنابی ہونٹوں کے نیچے ہلکی ہلکی داڑھی نے اسکی خوبصورتی
میں اضافہ کر دیا تھا ۔ کالے گہرے بال رد سے
کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔
” ا جاؤ” اس نے ان چاروں کو اندر آ نے کی
اجازت دی تو وہ درنجف کو چھوڑ کر مرےمرے قدموں سے چلتے ہوئے صوفے پر آ کر بیٹھ گئے۔
” ٹیسٹ کیسا رہا اور تم چاروں کے کتنے مارکس
آ ئیں ہیں ؟” شاہ میر نے اپنی کتاب ایک جانب رکھتے ہوئے نا سے استفسار کیا انکی جان تو پہلے ہی حلق میں اٹکی ہوئی تھی اسکے پوچھنے پر
مزید حالت پتلی ہو گئی تھی ان میں جو بندہ ریلیکس تھا وہ تھی درنجف ۔
” ٹیسٹ دکھاؤ” شاہ میر نے ان سے ٹیسٹ مانگے تو درنجف نے بغیر کسی پس و پیش کے اسکے سامنے ٹیبل پر رکھ دئیے۔ شاہ میر جوں جوں
ٹیسٹس کو دیکھ رہا تھا اسکی کشادہ پیشانی پر لکیریں ابھر رہی تھی۔
” تم سب کے زیرہ مارکس آ ئیں ہیں ؟” شاہ میر نے غصے سے کہا۔
” میرے خیال میں ہم سب کے ٹیسٹ تو یہی بتا رہے ہیں ” درنجف نے کافی ریلیکس اور نڈر انداز میں کہا ، درنجف کے اس انداز پر شاہ میر کو
غصہ تو بہت آ یا لیکن وہ ضبط کر گیا۔
” یہ کیسے ہوسکتا ہے تم سب کے زیرہ مارکس
آ ئیں ہوں دوبارہ ٹیسٹ دکھاؤ” شاہ میر کے
دوبار ٹیسٹ مانگنے پر درنجف کی ہوائیاں اڑنے لگیں۔
” دیکھ تو لئے ہیں اور ویسے بھی دوبارہ دیکھنے سے نمبرز زیادہ نہیں ہوجائیں گے ” درنجف نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔
” میں نے دلیل نہیں مانگی ٹیسٹ مانگیں ہیں ” شاہ میر کے غصے کا اظہار وقت امتحان لیتی تھی یہ لڑکی اب بھی کہنے پر اس نے ٹیسٹ شاہ
میر کو پکڑائیں ، درنجف اور شاہ زر میٹرک کے سٹوڈنٹ تھے جبکہ فضہ اور علیزے ٹوئینز ہونے کی وجہ سے آ ٹھویں جماعت میں تھیں ، آ ج
انکے مخلتف سبجیکٹ کے ٹیسٹ تھے جن میں شاہ زر ، علیزے اور فضہ کے سچی میں زیرہ مارکس تھے جبکہ درنجف کے نو نمبر تھے
لیکن بڑی صفائی اور تھوڑا سا غور کرنے پر انسانی آ نکھ کو معلوم ہوتا کہ یہ نو نمبر ہیں بظاہر وہ نو نمبر زیرو لگ رہاتھا۔درنجف کی اس
حرکت نے شاہ میر کو مزید اشتعال دلا دیا تھا۔
” “یہ کیا ہے؟” انتہائی غصہ سے اس نے پوچھا۔
“ٹیسٹ ہیں” اطمینان سے جواب دیا گیا۔
“تم لوگ ، خاص کر تم بدتمیزی کرنے کے ساتھ ساتھ دھوکہ دینا بھی سیکھ گئی ہو؟” شاہ میر نے درنجف کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“کیسا دھوکہ” درنجف نے حیرانی سے پوچھا۔
“تمہارے نو نمبرز آ ئیں ہیں اور تم نے زیرہ بنا کر پیش کئے ہیں،کیا یہ دھوکہ نہیں ہے” شاہ میر نے
ان کے ٹیسٹ پھینکتے ہوئےغصے سے کہا شاہ میر کے غصے سے وہاں پر کھڑے وہ چاروں خوفزدہ ہوگئے تھے ، ایک لمحے کے لیے تو در
نجف کو بھی ڈر نے آ ن گھیرا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی۔
” نہیں ” درنجف نے اطمینان سے جواب دیا۔ جو
شاہ میر کے اشتعال میں اضافہ کر گیا۔۔۔۔۔۔
” تو پھر یہ کیا ہے ؟”
“مما بڑی مما اور آ پ بھی تو کہتے ہیں کہ بہن بھائیوں کے ساتھ پیار سے رہو جیسا اپنے لئے پسند کروں ویسا انکے لئے بھی ہو د کرو انکے
دکھ اور تکلیف میں انکا ساتھ دیا کرو ، تو بس میں نے بھی یہی کیا ہے ” شاہ میر آ فندی کے سامنے بھی درنجف آ فندی تھی اپنی ہی دلیل ،
اپنی ہی منطق ایک سیر تو دوسرا سوا سیر ، ایک سمجھدار تو دوسرا ماہا سمجھدار ۔
” تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” شاہ میر نے غصے سے کچھ کہنا
چاہا تھا کہ تبھی بتول آ فندی اسٹڈی روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں ۔
” کیا ہوا ہے ؟” بتول آ فندی نے شاہ میر کی بات کو کاٹتے ہوئے پوچھا تو ان تینوں یعنی شاہ زر ، فضہ اور علیزے کو کچھ حوصلہ ہوا تھا لیکن
شاہ میر نے سب کچھ انکےگوش گزار کر دیا ۔
” درنجف یہ تو غلط بات ہے ” بتول آ فندی نے درنجف سے کہا جو خفگی سے شاہ میر جو گھور رہی تھی۔
” چھوٹی مما اس لڑکی نے میرا دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے ” شاہ میرنےجھنجھالاتے ہوئے کہا۔
” آ پ میں دماغ تھا ؟”
” درنجف ” بتول آ فندی نے اسے ٹوکا تو درنجف نے اپنا رخ دوسری جانب کر لیا۔
” چھوٹی مما دیکھا آ پ نے ؟” شاہ میر نے ان سے کہا توانہوں نےبےبسی سے اسکی جانب دیکھا اور شاہ میر چپ چاپ مزید کچھ کہےاسٹڈی روم
سےباہرنکل گیا ۔
” کیوں کرتی ہوایسےنجف ؟”
” پتہ نہیں مما خود بخود ہو جاتا ہے ” درنجف نےان سے کہا اور وہ چارو اپنی عزت افزائی کے بعد ریلیکس سے اسٹڈی روم سےباہر نکلے تھے ۔
درنجف تو کچھ زیادہ ہی ریلیکس تھی اسےمزہ
آ تا تھا شاہ میر کو تنگ کرنے میں ” کیوں ” اسکی وجہ تو اسے بھی معلوم نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
شاہ میر اور سرور آ فندی آئر پورٹ پر موجود تھے سرور آ فندی نے شاہ میر سے پہلے کہا تھا کہ وہ چلا جائے لیکن پھر وہ خود ہی اسکے ساتھ
چل پڑے تھے آ خر دل کو ایک بے چینی تھی اتنے سالوں سے انکے چھوٹے بھائی کی آ خری نشانی ان سے دور تھی اور اب ایک پل کا انتظار
بھی دو بھر ہوگیا تھا اب تو دل کر رہا تھا کہ جلدی سے وہ سامنے آ ہے اور اسے سینے سے لگا لیں اور اپنے بے چین دلیل کو قرار بخشیں ، شاہ
میر انکے دل کی کیفیت سے آ گاہ تھا ۔
” بابا پلیز خود کو سنبھالیں ” شاہ میر نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گویا انہیں تسلی دی تھی ۔
” مجھ سے صبر نہیں ہورہا شاہ میر آ پ سمجھ ہی نہیں سکتے میرے دل کی کیفیت کو ، میرے دل کا چین اتنے سالوں سے مجھ سے دور ہے
جسے میں ہمیشہ اپنی آ نکھوں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا پتہ نہیں کیا وجہ تھی جو وہ ہمیں اس طرح اکیلے چھوڑ گئی ہماری ساری خوشیاں اپنے
ساتھ لے گئی ” سرور آ فندی نم لہجے میں بولے تھے جس پر شاہ میر صرف ضبط کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا۔
” اب آ پ پریشان کیوں ہورہے ہیں ان شاءاللہ اب سے وہ آ پ کی آنکھوں کے سامنے رہے گی “
شاہ میر نے انہیں تسلی دی جا پر وہ نم آ نکھوں سے مسکرا دئیے تھے ۔ آ خر کار دونوں کا انتظار ختم ہوا اور سامنے سا حجاب تبریزی ( پھپھو)
عیر معمولی حامل کی ایک خوبصورت لڑکی تسمیہ تبریزی اور چہرے پہ دنیا جہاں کی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ خوبصورتی لئے بڑی
بڑی گرے آ نکھوں والی جن پر گہری کالی پلکیں سایہ فگن تھیں خوبصورت چھوٹی مگر تیکھی ناک میں پہنا چھوٹا سا نگ باریک قدرتی لال لب
جیسے کسی پنکھڑی گلاب کی ہوتی ہے ، درنجف آ فندی پیروں تک آ تے میرون گاؤن کے ساتھ ہم رنگ حجاب کئے سنجدہ سی چال چلتی ہوئی ان
تک آ رہی تھی وہ چہرہ جس پہ کبھی لاابالی پن ، شرارتی پن کا پورا پورا راج ہوا کرتا تھا اب انتہا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی سرور
آ فندی اسے دیکھ دیکھ کر اپنے دل کو ٹھنڈک پہچا رہے تھے جبکہ آنکھوں میں نمی تھی۔
دوسری جانب شاہ میر مبہوت سا اسے دیکھ رہا
تھا اسکی آ نکھوں میں الجھن تھی بے یقینی تھی۔
وہ تینوں ان دونوں کے پاس پہنچ گئیں تھیں حجاب تبریزی نے شاہ میر کو گلے لگا کر ملی اور ڈھیر سارا پیار کیا جبکہ درنجف آ تے ہی اپنے
بڑے بابا کے گلے لگ گئیں تھی خود پر ضبط کرنے کے باوجود بھی گرے آ نکھوں سے آ نسو رخسار پر بہہ نکلے تھے سرور آ فندی نے اپنی
جان سے عزیز بھتیجی کے آ نسو صاف کئے اور اسکی روشن پیشانی پر بوسہ دیا۔
” ماموں جان مجھ سے بھی مل لیں ” تسمیہ شاہ میر کو سلام اور خیر خیریت بھی پوچھ چکی تھی اب سرور آ فندی اور درنجف کو اس طرح
ایموشنل دیکھ کر کہے بنا نہ رہ سکی ۔
” ضرور ماموں کی جان آ ؤ” سرور آ فندی نے
اسے بھی گلے سے لگایا تو درنجف کی دوسری نظر شاہ میر پر پڑی جو نظریں پھیر گیا تھا۔
” اسلام علیکم ” درنجف نے پھر بھی سلام میں پہل کی۔
” وعلیکم السلام کیسی ہو؟” شاہ میر اسکی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔
” الحمدللہ، آ پ کیسے ہیں ؟” درنجف نے بھی فارمیلٹی نبھائی ۔
” ٹھیک ہوں ” شاہ میر نے کہا تو سب گھر کے لئے روانی ہوئے تھے درنجف بیک سیٹ پر دروازے کے ساتھ بیٹھ حسرت سے روشنیوں کے شہر کو
دیکھ رہی تھی جو پانچ سال میں کتنا بدل گیا تھا اسکی آنکھوں کی حسرت بیک ویو مرر سے شاہ میر کو اندر تک جھنجھوڑ گئی تھی کیوں
تھی اسکی ا نکھوں میں یہ حسرت ؟ اسکا جواب شاہ میر کے پاس تھا یا نہیں یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
گھر پہنچنے پر بتول آ فندی کو دیکھ کر درنجف کا ضبط جواب دے گیا تھا اور اسکے ضبط کا پیالہ چھلکا تو سب کی آنکھوں میں ا نسو آگئے
تھے شاہ میر کچھ بھی کہے بغیر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا جبکہ درنجف سب سے ملی تھی۔
” میں نہیں بولتا مجھ سے نہیں ملی تم ” شاہ زر
نے خفگی سے کہا تو درنجف نے اسکی جانب بڑھی اور اسکے رخسار پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔
” تم ابھی بھی نہیں بدلے ” درنجف نے مسکرا کر کہا اور شاہ زر نے ایک بازو سے اسکے گرد حصار
باندھا تھا سب خوش تھے کہ انکی رونق واپس آگئی ہے لیکن شاہ میر اسکی سنجیدگی کو دیکھ کر اضطراب میں مبتلا ہوگیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
آ پ کو تعریف اور تنقیدکا حق حاصل ہے۔
اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معزرت خواہ ہوں انشاللہ اگلی قسط میں ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گی۔
اسلام علیکم ڈئیر ریڈرز توبتائیں کیسی لگی پہلی قسط ۔ امید کرتی ہوں اچھی لگی ہوگی تو پھر جلدی سے لائیکس اینڈ کمینٹس کر دیں تاکہ اگلی قسط جلدی آ ئیے ………….
