Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool NovelR50425 Raaz-e-Muhabat Episode 4
Rate this Novel
Raaz-e-Muhabat Episode 4
Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool
درنجف کو اسکیچز بنانے کا بہت شوق تھا اور اسی شوق کی وجہ سے وہ گھر اور اپنے سکول میں بہت مشہور تھی اسکیچز میں اتنی صفائی
نہیں تھی لیکن پھر بھی پرفیکٹ بنتے تھے ، گھر میں سبھی کے الٹے سیدھے اسکیچز وہ بنا چکی تھی، اب بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اسکیچ
بنانے میں مصروف تھی بارک ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ سجائے وہ پیپر پر لیڈ پینسل سے لائنیں کھینچ رہی تھی ، زہن میں نجانے کیا چل
رہا تھا لیکن پیپر پر اسکے زہن کی ترجمانی ہورہی تھی کافی محنت کے بعد وہ اسکیچ بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی ایک گہری سانس لیکر
سکیچ کو دیکھاجو خوبخو شاہ میر جیسا لگ رہا تھا درنجف خود کی کیفیت سے پریشان ہورہی تھی ہاتھ بڑھا کر اسکیچ کو سہلایا تھا
عجیب سی کیفیت تھیں اسکی جو اسے خود بھی سمجھ نہیں آ رہیں تھیں شاہ میر کو دیکھ کر اسکا دل بے اختیار دھڑک اٹھتا تھا وہ شاہ میر
کے سامنے جانے گھبرا جاتی تھی اور پھر ہوٹل میں شاہ میر کو کسی لڑکی کے ساتھ دیکھنا اس سے برداشت نہیں ہوا تھا عجیب سی جلن ہوئی
تھی درنجف کو غصہ یکدم عود کر آ یا تھا جس سے اس نے اپنی ہی دوستوں پر اتار دیا تھا وہ مزید کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے چلی ا ئی
تھی۔
” میں اب مزید شاہ میر کے سامنے ہی نہیں جاؤں گی جو مجھے ہورہا ہے اگر کسی کو پتہ چل گیا تو پتہ نہیں کیا سوچیں گے میرے بارے
کسی کو تو دور کی بتا ہے اگر شاہ میر کو زرا بھی بھنک پڑ گئی تو بڑے بابا سے شکایت کر دیں گے ، اور بڑے بابا سے ناراضگی میں برداشت نہیں
کر سکتی ، ہاں یہی ٹھیک رہے گا میں شاہ میر کو مکمل طور پر انداز کروں گی ” درنجف خود سے کہتی ہوئی اٹھی اور اسکیچ کو اپنی الماری
میں سب سے نچلے حصے میں چھپا دیا گہرے گہرے سانس لیکر خود کو پرسکون کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
رات کو فضہ اور علیزے نے شور ڈالا کہ انہیں
آ ئس کریم کھانی ہے تو شاہ میر نے پروگرام طے کیا کہ جلدی سے سب کو بلا کر لاؤ تو فضہ
جلدی سے درنجف کو اسکے کمرے میں بلانے کے لئے گئی لیکن درنجف نے انکار کر دیا تھا فضہ نے بہت اصرار کیا لیکن وہ سر درد کا بہانہ بنا کر
لیٹ گئی جب فضہ نے شاہ میر کو اسکے بارے میں بتایا تو شاہ میر بذاتِ خود اسے بلانے اسکے کمرے میں چلا آ یا۔
” ہمارے ساتھ چلو آ ئس کریم کھانے ” شاہ میر اسکے بیڈ کے پاس کھڑا سنجیدگی سے گویا ہوا۔
” نہیں وہ میں نہیں جاسکتی میرے سر میں درد
ہے ” درنجف بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے خود کو بلینکٹ میں مکمل چھپائے نظریں جھکائے شاہ میر سے مخاطب ہوئی۔
” میڈیسن لے لو اور چلو ہمارے ساتھ ” شاہ میر نے نرمی سے کہا۔
” نہیں مجھے آ رام کرنا ہے ” درنجف نے پھر منع کیا۔
” نجف مجھے کیوں سختی کرنے پر مجبور کرتی ہو “
” نہیں میں۔۔۔۔۔ ” درنجف کے کہنے سے پہلے شاہ میر نے اسکے اوپر سے بلینکٹ ہٹایا جس سے اسکے بال چہرے پر بکھر گئے شاہ میر نے جلدی
سے انہیں ہٹایا اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اسکے پاؤں کے پاس سلیپر رکھی بیڈ پر پڑا اسکا دوپٹہ اٹھا کر اسکے کندھوں پر پھیلا یا درنجف
نے سلیپر پہنی تو شاہ میر ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اسے کھینچتا ہوا باہر لے جانے لگا جبکہ درنجف کے منہ پر قفل لگا ہوا تھاا وہ سن سی شاہ میر
کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے چل رہی تھی کہ تبھی تیز تیز اور بے دھیانی میں چلنے کے باعث پیر کا انگوٹھا یکدم مڑا تھا ۔
” سسس آ ہ ” درنجف کی سسکی نکلی جس سے شاہ میر اسکی جانب متوجہ ہوا۔
” کیا ہوا ؟ ” اسکے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو ضبط سے لال ہوگیا تھا لیکن سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
” بتاؤ کیا ہوا سر میں زیادہ پین ہورہی ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں ” اسکی رخسار پر بہتے آ نسو کو اپنے ہاتھ کی پوروں پر چنتے ہوئے شاہ میر مزید نرمی سے بولا۔
” نہیں سر نہیں پاؤں کا انگوٹھا ” شاہ میر نے اسکے پاؤں کی جانب دیکھا جو رگڑ کھانے سے مکمل ریڈ ہوگیا تھا ۔
” یہ کیسے ہوا ؟” اسکو صوفے پر بٹھاتے ہوئے شاہ میر نے انتہائی فکرمندی سے پوچھا۔
” تب جب آ پ مجھے کھینچ رہے تھے ” درنجف کی آ نکھوں میں بدستور آ نسو بہہ رہے تھے جس سے چھوٹی ناک لال ہوگئی تھی شاہ میر کو
یکدم پشیمانی ہوئی۔ فوراً فرسٹ ایڈ باکس میں سے کریم اٹھا کر اس پر لگائی۔
” تم خود تو سختی کرنے پر مجبور کرتی ہو نجف لیکن میں پھر بھی معافی مانگتا ہوں میری جلدی کی وجہ سے یہ سب ہوا ، وہ کیا ہے ناں
سب جارہے تھے تو تمہارا گھر رہنا مجھے اچھا نہیں لگا تو بس اسی لئے آئی ایم سوری”
” نہیں شاہ پلیز آ پ معافی نہ مانگیں ، تھوڑا سا درد تھا آ پ نے کریم لگائی ہے ناں تو ٹھیک ہوگیا ہے “
” تو پھر چل رہی ہو “
” اب میں آ ئس کریم کو تو منع نہیں کر سکتی ناں ” درنجف نےمسکراہٹ کو دباتے ہوئے کہا جس پر شاہ میر نےمسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
درنجف اور شاہ میر کے جہاں جھگڑے ختم نہیں ہوتے تھے اب ان جھگڑوں کی جگہ ہنسی مذاق ایک دوسرے کی کئیر نے لے لی تھی درنجف کا
شاہ زر کو تنگ کرنے میں شاہ میر کا ساتھ دینا اور جب شاہ زر درنجف سے بدلہ لینا چاہے تو شاہ میر کا اسے ڈپٹ دینا اب معمول بن گیا تھا گھر
والے اس نئی تبدیلی سے بہت خوش تھے اور کافی انجوائے بھی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درنجف اور شاہ زر کا آ ج رزلٹ تھا اور ساتھ میں درنجف کی سالگرہ بھی شاہ میر کا ایم بی اے کا امتحان تھا جسکی وجہ سے وہ جلد ہی نکل گیا
تھا جبکہ درنجف کی دوستوں نے اسے زبردست سی ٹریٹ دی تھی سالگرہ کی ، جس کی وجہ سے وہ انکے ساتھ آ وٹنگ پر گئی ہوئی تھی سارا
دن بہت زبردست اور یادگار گزرا تھا کہ واپسی پر درنجف نے کچھ ایسا دیکھا جسکی وجہ سے اتنا خوبصورت اور روشن دن رات کے کالے سائے میں بدل گیا تھا ۔۔۔۔۔
درنجف اور شاہ زر کافی اچھے مارکس سے پاس ہوئے تھے تو گھر والوں نے گھر میں ہی ایک چھوٹی سی پارٹی ارینج کی تھی ایک تو درنجف
کی سالگرہ اور دوسرا اسکے رزلٹ کی خوشی میں ، کیک کٹ ہوگیا سبھی نے اسے وش کیا اور ڈھیر ساری دعاؤں سے بھی نوازا اور وہ مدھم
مسکراہٹ کے ساتھ سبکی دعائیں وصول کرتی رہی تھی ، چھوٹے سے فیمیلی فنکشن میں شاہ میر موجود نہیں تھا سبھی نے اسے کالز کیں
تھیں لیکن اسکا موبائل بند جارہا تھا بڑے بابا نے اسکے دوست زین کو کال کی تو انہوں نے بتایا شاہ میر انکی طرف ہے توبڑے بابا نے خاموشی
اختیار کرلی تھی ۔۔۔۔۔۔
دن سے شام شام سے رات ہوگئی تھی لیکن شاہ میر گھرنہیں آ یا تھا درنجف بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اسکا انتظار کر رہی تھی مین ڈور کے
سامنے بنی ہوئی سیڑھیوں پر ہی بیٹھی بے چینی سے شاہ میر کی راہ دیکھ رہی تھی آ ج درنجف نے شاہ میر سے صاف صاف بات کرنی
تھی کیا یہ بتا کرنی تھی کہ اس نے درنجف کو وش نہیں کیا یا رزلٹ کی مبارکباد نہیں دی یا اسکا کسی لڑکی کے ساتھ انولو ہے ، پہلی بات کا
جواب کہ شاہ میر ہر سال ہی اسکا برتھڈے بھول جایا کرتا تھا تو اس بات پر اتنا غصہ ہونے والی کوئی بات نہیں تھی لیکن دوسری بات
درنجف کو ہضم نہیں ہورہی تھی وہ اپنی ہی سوچوں میں غلطاں تھی جب مین ڈور کھلا اور شاہ میر کی گاڑی اندر داخل ہوئی گاڑی کی تیز
ہیںڈ لائیٹس کی وجہ سے درنجف کی آ نکھیں چندھیا گئیں تھیں اسی لئے اپنی آنکھوں کے سامنے بازو کرلیا۔
” نجف ادھر کیا کر رہی ہو ؟” شاہ میر گاڑی کا دروازہ بند کرتا اس تک آ کر پوچھا۔
” آ پکا انتظار” درنجف نے تھوڑے غصے سے کہا۔
” میرا انتظار” شاہ میر نے حیرانگی سے پوچھا اور پھر جیسے ہی کچھ یاد آ یا ہلکی سی
مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔
” او ، آ ئی ایم سوری میں پھر بھول گیا تھا، ایکچولی آ ج پیپر تھا تو کچھ یاد ہی نہیں رہا”
شاہ میر کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا۔
” ہیپی برتھڈے ” شاہ میر نے مسکرا کر کہا۔
” کس کے ساتھ بزی تھے” نجف کا لہجہ شاہ میر کو چونکنے پر مجبور کر گیا تھا اور کافی
مشکوک بھی لگا تھا۔
” دوستوں کے ساتھ” شاہ میر اسکے تاثرات
کامشاہدہ کرتے ہوئے نارمل لہجے میں بولا۔
” دوست کے ساتھ یا کسی گرل فرینڈ کے ساتھ؟” درنجف نے تلخی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
” تمہیں اندازہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو” شاہ میر کو غصہ یکدم عود کے آ یا تھا لیکن پھر بھی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
” اندازے کے ساتھ نہیں یقین سے بات کر رہی ہوں “
” تو پھر بکواس کر رہی ہو”
” میں بکواس نہیں کر رہی بلکہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں “
” درنجف خاموش ہو جاؤ اس سے پہلے میں بھول جاؤ کہ میرے سامنے کون کھڑا ہے ” شاہ میر نے اسے انگشت دکھاتے ہوئے وارن کیا۔
” بلکل آ پ اپنی لمٹس تو بھول ہی گئے ہیں جسکا عملی نمونہ میں بازاروں میں دیکھ چکی ہوں ” درنجف کے لہجے میں حقارت سی تھی۔
” اپنی بکواس بند کر لو ، میں آ خری دفعہ کہہ رہا ہوں “
” کیوں بند رکھو میں اپنی بکواس ؟ کیا وہ
آ پکی گرل فرینڈ نہیں ہے ؟ کیا آ پ اسکے ساتھ ٹائم سپنیڈ نہیں کرتے ؟کیا آ پ اسکے ساتھ
ہوٹلنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” درنجف غصے سے بولی جارہی تھی جب شاہ میر کا ہاتھ بلند ہوا اور اسکے نازک رخسار پر انگلیوں کی چھاپ چھوڑ گیا۔۔۔۔
” درنجف آ فندی اپنی زبان کو لگام دو بہت بکواس کر لی تم نے اور بہت سن لی میں نے ، اسکے بارے میں ایک بھی لفظ نکالا تو مجھ سے
برا کوئی نہیں ہوگا ” اتنی زور کا تھپڑ تھا کہ شاہ میر کو اپنا ہاتھ سن ہوتا محسوس ہوا تھا
لیکن پھر بھی انگشت دکھاتے ہوئے وہ غصے سے پھنکار رہا تھا۔
” اتنا برا لگا میرا اسکے بارے میں بات کرنا؟” تھپڑ کی وجہ سے درنجف زمین پر گر گئی تھی جب کہ ہونٹوں کے کنارے سے نکلتی خون کی
لکیر تھوڑی سے ٹپک رہی تھی ہونٹوں سے اٹھتی درد کی ٹیسوں کو برداشت کرتے ہوئے وہ تکلف دہ لہجے میں بولی تھی۔
” ہاں بہت برا لگا اتنا برا کہ میرا دل کر رہا ہے تم میری نظروں سے اوجھل ہوجاو تاکہ میں تمہارے اس خوبصورت چہرے کے پیچھے پستی میں
ڈوبی ہوئی سوچ تک کو نہ دیکھ سکو، مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ تم اتنی گری ہوئی سوچ کی لڑکی ہو اتنی گھٹیا ذہنیت کی مالک ،
تم دوسروں کو ہمیشہ جج کرتی آ ئی ہو کبھی اپنے آ پ کو جج کیا ہے تم کیا ہو ؟” شاہ میر کے منہ میں جو آ رہا تھا وہ بولے جارہا تھا جبکہ
درنجف اچھی بھی زمین پر بیٹھی نم آ نکھوں سے اسے خود پر برستا دیکھ رہی تھی ، ہمت کرتی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
” آ ئی ایم سوری شاہ میر ، مم مجھے آ پکے پرسنل میٹر میں بولنے کا کوئی حق میں نہیں تھا میں اپنے بوکے گئے ۔۔۔۔۔ الفاظوں پر شرمندہ
ہوں،۔۔۔۔۔۔۔اور امید کرتی ہوں کہ مجھے معاف کر دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور شکریہ ۔۔۔۔۔۔ ہواؤں میں اڑتی درنجف کو زمین پر پٹخنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
مجھے بتانے کا کہ میں کس قدر پستی کا شکار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ یہ بتانے کےلئے کہ میری سوچ کتنی گھٹیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکریہ یہ بتانے کےلئے کہ
آ پکی زندگی میں میری کیا اوقات ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔کوشش کروں گی کہ آ ئند ہ آپکے سامنے اپنا مسخ شدہ چہرہ نہ لاؤ، ۔۔۔۔۔۔۔۔Again sorry”
درنجف روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان اپنی ذات کی تذلیل خود کر رہی تھی نم آ نکھوں سے محض ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے وہ وہاں سے
چلی گئی تھی جبکہ شاہ میر سپاٹ تاثرات کے ساتھ اسکی پشت کو دیکھتا رہ گیا تھا درنجف کی نم پلکوں سے بہتے جذبات شاہ میر کے اندر
ہلچل مچا گئے تھے دل کیا اسے روک لے لیکن اس مرتبہ درنجف نے بہت بڑی غلطی کی تھی شاہ میر کے کرادر پر کیچڑ اچھال کر محض ایک غلط
فہمی کی وجہ سے اگر وہ اس سے آ رام سے پوچھتی تو وہ بتا دیتا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ زین کی منگیتر تھی جسے وہ پیپر کے
بعد یونی سے گھر ڈراپ کرنے گیا تھا لیکن درنجف کا طریقہ غلط تھا جو شاہ میر کو بھڑکنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
درنجف کمرےمیں داخل ہوتے ہی بیڈ پر اوندھے منہ گرنے کے س انداز میں لیٹی تھی آ نکھوں سے ہنوز آ نسو بہہ رہے تھے اسے اپنے آ پ سے
وحشت ہورہی تھی وہ کسی کی ذات کو کیسے کی کر سکتی تھی اسکے پاس اختیار ہی نہیں تھا اس نے کتنی گھٹیا بات کی تھی اب وہ شاہ
میر کے سامنے کس طرح جائے گی اس سے کس طرح نظریں ملائے گے یہ ہی وہ ایک لمحہ تھا جب درنجف نے اپنے آ پ سے عہد کیا کہ اب وہ
ایسی بنے گی جس سے کسی کو یا کسی ذات کو تکلیف نہ پہنچے ، درنجف نے اپنے آ پ کو بدلنے کا عہد کر لیا تھا اپنے دل میں سر اٹھاتے
خوبصورت جذبات کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن درنجف اپنے آ پ کو بدل سکتی تھی اپنے دل کو کسی سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتی تھی ۔۔۔۔۔
ساری رات گریہ زاری کی اپنے آ پ کو مضبوط بنانے میں ہلکان ہوئی الجھی ہوئی ڈور کا سرا نکالنے کی پوری کوشش کرتی رہی لیکن کوئی
سراغ ہاتھ نہیں آ رہا تھا وہ ایسا کیا کرے جس سے وہ شاہ میر کو اپنی مکروہ شکل دکھانے سے بچ جائے ایسا کیا کرے جس سے شاہ میر کی نظر
بھی اس کی جانب نہ اٹھے اسی شش و پنج کے عالم میں ایک پل کے لئے بھی اسکی آ نکھ خشک نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب لوگ موجود تھے سوائے درنجف اور سرور آ فندی کے جب وہ آ ئے تو انہوں نے پوچھا۔۔۔۔
” درنجف اٹھی نہیں ابھی تک ؟” انہوں نے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
” نوری ( ملازمہ) کو بلانے بھیجا ہے اسے ابھی
آ جائے گی ، آ پ ناشتہ کریں “
زہرہ آ فندی نے انکے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا شاہ میر خاموشی سے ناشتہ کر رہا تھا ۔
” اسے بلا کے لائیں بھئی میں اپنی بیٹی کے بغیر ناشتہ نہیں کروں گا ” سرور آ فندی کے لہجے میں اسکے لئے محبت تھی بے پناہ محبت جبکہ شاہ
میر چائے کاکپ رکھتے ہوئے فوراً جانے کے لئے اٹھا۔
” بی بی جی وہ درنجف بی بی کو بہت تیز بخار ہے اور اسکی وجہ سہ ا نکھیں بھی نہیں کھول رہیں ” نوری نے گھبراتے ہوئے انہیں بتایا جبکہ
سرور آ فندی زہرہ آ فندی اور بتول آ فندی ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر اسکے کمرے کی جانب بھاگے تھے شاہ میر کا دل کسی نے مٹھی میں
جکڑ لیا ہو اسکے کمرے میں جانے کے لئے قدم بڑھائے لیکن پھر وہی پر روک بھی لئے اور خاموشی سے گھر سے چلا گیا مزید کچھ بھی
کہے سنے اور بولے بغیر۔۔۔۔۔
