311.6K
8

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raaz-e-Muhabat Episode 6

Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool

درنجف کا اپنی طرف شاہ میر کا ان غصیلی نظروں سے دیکھنا عجیب سی کیفیت میں مبتلا کر گیا تھا وہ جتنا ان نظروں کو بھلانے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی آ نکھوں کے سامنے

آ جاتیں تھیں۔

درنجف ابھی بھی وہی پر بیٹھی ہوئی تھی جب علیزے، فضہ اور تسمیہ اسکے پاس آ کر بیٹھ گئیں ، گاؤں میں شادی اٹینڈ کرکے سبھی بہت

خوش تھیں لیکن اس انجوائے منٹ میں بہت زیادہ تھی بھی گئیں تھیں اسی لئے بڑوں کو گھر پہنچنے کی بہت جلدی تھی ایک تو تھکن اور

دوسرا موسم کے تیور کچھ خاص اچھے نہیں تھے ۔

بڑوں کو جتنی جلدی تھی چھوٹے اتنے ہی سست تھے ، سرور آ فندی، حجاب تبریزی، زہرہ آ فندی ، بتول آ فندی کو ڈرائیور کے ساتھ گھر روانہ کیا

جبکہ شاہ زر تسمیہ اور علیزے ایک گاڑی میں اور دوسری گاڑی میں شاہ میر درنجف اور فضہ

تھے ۔ درنجف کو فضہ ناچاہتے ہوئے بھی شاہ میر کی گاڑی میں بٹھا لیا تھا لیکن درنجف بیک سیٹ پر جاکر بیٹھ گئی تو فضہ کو مجبوراً

فرنٹ سیٹ پر شاہ میر کے ساتھ بیٹھنا پڑا تھا۔

دونوں گاڑیاں شہر پہنچ چکی تھیں شاہ زر کی گاڑی آ گے اور شاہ میر اسے فولو کر رہا تھا شاہ زر نے گاڑی آ ئس کریم پارلر کے سامنے روکی تو

مجبوراً شاہ میر کو رکنا پڑا تھا۔

” بھائی آ ئس کریم کھا لیں نہیں تو علیزے نے میرے کان کھانے ہیں ” شاہ زر نے گاڑی سے اتر کر

شاہ میر کو بتایا تو وہ سبھی گاڑی سے اتر گئے سوائے درنجف کے کیونکہ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی اور وہ اس موسم کو دور سے

دیکھنا چاہتی تھی اور محسوس کرنا چاہتی تھی اسے ہمیشہ سے ہی یہ موسم بہت اداس کر دیا کرتا تھا۔

سبھی باہر کھڑے آ ئس کریم سے بھرپور انصاف کررہے تھے اور وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھے آ ئس کریم کپ کو ہاتھوں میں پکڑے جانے کن

خیالات میں غوطہ زن تھی اچانک گاڑی کے شیشے پر دستک ہوئی تو درنجف نے چونک کر دیکھا شاہ زر شیشہ ناک کررہا تھا درنجف نے شیشہ کھولا ۔

” میڈم باہر آ جاؤ اور ہمارے ساتھ انجوائے کرو” شاہ زر نے بارش میں بھیگتے ہوئے اسے آ فر کی۔

” میں نہیں آ رہی ، اور میں ادھر بیٹھ کر ہی

انجوائے کر رہی ہوں ” درنجف نے اسکے لہجے میں جواب دیا۔

” دیکھے آ پا اتنا اچھا موسم ہے ” فضہ نے لالچ دی۔

” جانتی ہوں ” درنجف نے اثبات میں سر ہلایا۔

” تو پھر آ جاؤ بھیگنے میں بہت مزہ آ رہا ہے ” تسمیہ نے کہا۔

” نہیں یار” ایک دفعہ پھر انکار کیا۔

” آ جاؤ نا باہر یار ” شاہ زر بھی بولا تھا۔

” دل نہیں کر رہا ہے “

” کیوں دل کو کیا ہوا ہے ؟” علیزے نے خفگی سے کہا۔

” بہت کچھ ” درنجف نے شرارتا سب کا موڈ فریش کرنے کےلئے کہا شرارتی انداز اپنایا۔

” ہمیں بھی بتا دیں جناب ، ہم کچھ مدد کر دیں گے ” شاہ زر نے بھی شرارتی انداز اپناتے ہوئے شاہ میر کی جانب اشارہ کر کے کہا۔

” اوئے بدتمیزی نہ کرو ، ورنہ تھپڑ کھاؤ گے”

درنجف نے برا مناتے ہوئے شاہ زر کو جھڑک دیا ۔

” آ پکو تو پتہ ہے ہمارے پاس ڈگری ہے بدتمیزی کی ” فضہ نے بھی شرارتی ہنسی ہنستے ہوئے کہا جس پر سبھی کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔

” آ جاؤ باہر ” شاہ زر نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسے باہر کھینچ لیا اور اسے مزاحمت کا موقع ہی نہیں ملا اور وہ باہر ۔

” شاہ زر ” درنجف نے خفگی سے کہا وہ سب درنجف کو لیکر کھینچتے ہوئے شاہ میر کے پاس

آ کر کھڑے ہوگئے ۔

” مجھے بھیگنا پسند نہیں ہے ” درنجف نے بے بسی سے بھیگتے ہوئے کہا۔

” پہلے تو بہت پسند تھا ” فضہ اور علیزے دونوں اکٹھے بولیں تھیں ۔ اور اسے یاد کروایا کہ کیسے کیسے وہ پلینز بنایا کرتی تھی بارش میں بھیگنے کے لیکن شاہ میر ان پلینز کو ناکام کر دیا کرتا تھا۔

” پہلے کی بات اور تھی یار “

” کیوں پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے ؟” تسمیہ نے پوچھا۔

” پتہ نہیں ” درنجف نے دو لفظی جواب دیا اور شاہ میر سے تھوڑا دور ہوکر کھڑی ہوگئی شاہ میر اس ساری بحث میں خاموش کھڑا تھا لیکن

درنجف کی جانب دل و جان سے انوولو تھا ۔ اسکی دلی کیفیت یکسر مختلف تھی ہمیشہ کی طرح اس موسم میں چھائی جانی والی اداسی

آ ج کہیں بھی نہیں تھی بلکہ دلی کیفیت بہت پرسکون تھی نہ کہیں شور تھا نہ کہیں بے چینی تھی تھا تو بس ایک ایسا سکون جو شاید

درنجف کی سنگت کا اثر تھا جسے شاہ میر ناچاہتے ہوئے بھی بیان نہیں سکتا تھا۔

” شاہ میر بھائی ، میں نے سنا ہے آ پکی آ واز بہت خوبصورت ہے تو کیوں نہ کچھ اچھا سا گانا ہو جائے ” تسمیہ نے صرف خواہش کی تھی لیکن

شاہ میر کو موقع ملا تھا اپنے دل کی کیفیت کو اس واحد ایک انسان تک پہچانے کے لئے جو اسکی بولی بہتر طریقے سے جانتا تھا لیکن کچھ

عرصے سے سے وہ اسکی الفاظوں کے پیچھے چھپے معنی کیا الفاظ تک نہیں سنتا تھا۔

” ہاں شاہ میر بھائی پلیز کچھ سنا دیں ” فضہ علیزے اور شاہ زر نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔

شاہ زر نے درنجف کے ایکسپریشن دیکھے تھے سرد سنجیدہ اور پھر شاہ میر کے ایسکپریشن دیکھے تھے جن میں ایک جذبہ تھا کچھ پانے کی

تسکین کچھ کھونے کا ڈر کچھ کہنے کی تمنا بولنے کے لئے الفاظ کے چناؤ میں دشواری ایک تذبذب تھا جیسے کہہ دیا تو کیا ہوگا ؟ اور اگر نہ

کا تو کیا ہوگا ، شاہ میر بہت دیر تک خاموش رہا تھا

کچھ اس ادا سے آ ج وہ پہلو نشیں رہے

کہ جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے

یا رب کسے کے رازِ محبت کی خیر ہو

دست جنوں رہے نہ رہے ، آ ستیں رہے

درد غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے

حیراں ہوں میں کہ پھربھی تم اتنے حسیں رہے

اللّٰہ رہے چشمِ یار کی معجزبیانیاں

ہر ایک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

اس عشق کی تلافی و مافات دیکھنا

رونے کی حسرتیں ہیں جب آ نسو نہیں رہے

برستی بارش ، خوبصورت رات ، دلوں میں پلتے انوکھے سے جذبات ، ساتھ پروان چڑھتی بے نام سی خواہشات ، اس پر غنیمت اسکی دل میں

سما جانے والی خوبصورت آواز وہاں سبھی کو انوکھے سے احساسات سے دوچار کررہی تھی ۔

پرفسوں آ واز اور منظر کا اثر درنجف کے دل پر بھی گہرا اثر چھوڑ رہا تھا دل کی کیفیت یکدم بہت بدلی تھی شاہ میر کا لہجہ ، اسکے الفاظ ،

اسکا انداز بہت کچھ جتا رہا تھا بہت کچھ بتا رہا تھا اسکے الفاظ دل میں اتر گئے تھے لیکن دماغ بار بار نفی کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

درنجف کا ضبط جواب دے رہا تھا اسکی آ نکھیں جھلملا رہی تھی آ نسو پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر بہنےکےلئے بے تاب تھے جنہیں وہ

بامشکل اندر اتار رہی تھی لیکن پھر بھی وہ رخساروں پر بہہ نکلے تھےکسی سے بھی نظریں ملائے بغیر آ نسووں کو ہاتھ کی پشت سے زور

سے رگڑتی شاہ زر کی گاڑی کی جانب بڑھی تھی

باقی سب جو شاہ میر کی آ واز کو انجوائے کر رہے تھے درنجف کے تاثرات اور وہاں سے چلے

جانے سے شاہد رہ گئے تھے کیونکہ انہوں نے درنجف کے چہرے پر بارش کے پانی کے علاوہ کوئی اور بارش دیکھی تھی شاید نمکین بارش

تھی جذبات کی بارش تھی جو بارش کے پانی کے ساتھ ہی بہہ رہی تھی ۔

شاہ میر نے بے بسی سے اسے جاتے دیکھا تھا اسکی دل کی بات درنجف تک پہنچ گئی تھی جسے وہ نظر انداز کرتی وہاں سے چلی گئی تھی

شاہ میر نے بھی ضبط سے آ نکھیں بند کیں تھیں اسے درنجف کا ایسے جانا ایک مرتبہ پھر سے برا لگا تھا شاہ میر اپنے آ پ پر ضبط کرتا ہوا اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

” ی۔۔۔یہ۔۔۔۔ک۔۔۔کیا ۔۔۔تھا ؟” علیزے نے ہوش میں

آ تے ہوئے بے یقینی سےپوچھا تھا۔

” گھر چل کر بات کرتے ہیں ” شاہ زر بھی علیزے کی بات پر ہوش میں آ یا اور سب کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا اس مرتبہ شاہ زر کی گاڑی میں علیزے اور درنجف تھیں جبکہ شاہ میر کی گاڑی میں تسمیہ اور فضہ ۔

گاڑی میں خاموشی چھائی تھی درنجف بے آ واز رو رہی تھی ادھر شاہ میر ہونٹوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پوست کئے انتہا کی سنجیدگی

سے کار ڈرائیو کر رہا تھا ، دونوں گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں میں بے شمار سوالات چل رہے تھے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا

سوائے شاہ میر اور درنجف کے لیکن ابھی ان دونوں کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ ان میں سے کسی سے کچھ بھی پوچھا جاتا اسی لئے

خاموشی بہتر تھی کیونکہ خاموشی کی بھی ایک اپنی زبان ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت ایک گلاب کی طرح ہوتی ہے جو دور سے بھی خوشی دیتی ہے اور جن کو ہوتی ہے یا جنکے پاس ہوتی ہے انہیں مہکاتی رہتی ہے اگر

پھول مرجھا جائے تو بھی خوشبو دیتا ہے لیکن محبت کبھی نہیں مرجھائے گی یہ وقت کے ساتھ ساتھ کھلتی اور بڑھتی رہتی ہے اسکی خوشبو

آ سپاس کے لوگو کو بھی معطر کرتی رہتی ہے ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ محبت اور اسکی خوشبو دوسروں کے دلوں کو مسرور نہ کرے یاانکو خبر ہی نہ ہو۔

ایسے ہی یہ خوشبو پچھلے کچھ سالوں سے تسمیہ نے درنجف کی صورت اپنے آ س پاس محسوس کی تھی جس سے وہخودبھی مسرور

ہوجایا کرتی تھی اب یہی خوشبو شاہ زر فضہ اور علیزے نے بھی محسوس کی تھی درنجف کی ہی نہیں بلکہ شاہ میر کی بھی محبت کو محسوس کر لیا تھا ۔۔۔۔۔

ڈائننگ ٹیبل پر ناشتے کے لئے ابھی موجود تھے سوائے درنجف کے کیونکہ اسے بہت تیز بخار تھا جسکی وجہ سے وہ اپنے کمرے میں آ رام کر رہی

تھی سبھی نے اسکی طبیعت کا باری باری پوچھا تھا سوائے شاہ میر کے کیونکہ وہ آ ج جلدی آ فس چلا گیا تھا اسکے بعد سرور آ فندی

بھی چکے گئے جبکہ شاہ زر نے کچھ دیر بعد

آ فس جانے کا فیصلہ کیا اور تب سے وہ چاروں روم میں بیٹھے رات کے واقعے کو ڈسکس کر رہے تھے۔

” کیا آ پ سب نے بھی وہی محسوس کیا جو میں نے نے کیا تھا ؟” فضہ نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا تھا

” یہ کیسے ہوسکتا ہے ، شاہ میر بھائی اور درنجف ایک دوسرے سے محبت کیسے ۔۔۔؟” شاہ زر بھی الجھا پڑا تھا ۔

” کیوں نہیں کر سکتے ؟” تسمیہ نے خفگی سے کہا۔

” کیونکہ وہ دونوں تو لڑتے جھگڑتے رہتے تھے ، ان دونوں کی آ پس میں کبھی بنتی ہی نہیں تھی ” علیزے نے بھی حیرانگی سے وضاحت دی ٹھی۔

” آ پ لوگوں کو کیا لگتا ہے وہ دونوں آ پس میں کیوں جھگڑا کرتے تھے ؟” تسمیہ نے وضاحت مانگی۔

” بتایا تو ہے کہ انکی بنتی ہی نہیں تھی ” فضہ نےکہا۔

” ایسا بھی تو ہو سکتا ہے وہ اپنی فیلنگز کو چھپانے کے لئے ایک دوسرے سےجھگڑا کرتے ہوں ، اور لاسٹ ٹائم ہمارے پیپرز کے بعد بھائی

اور درنجف مل کر مجھے کتنا تنگ کیا کرتے تھے” شاہ زر کے مائنڈ میں ایک کلک ہوا اور اس نے اپنا پوائنٹ بتایا۔

“ایگزیکٹلی” تسمیہ نے پرجوش انداز سے کہا۔

” اوہ مائی گاڈ ، ہم لوگ کتنے بیوقوف ہیں “

علیزے نے حیرت سے کہا۔ تو فضہ اور شاہ زر بھی اپنی کم عقلی پر افسوس کرنے لگے۔

” بلکل ٹھیک کہتی ہے درنجف آ پ تینوں کے بارے میں بیوقوفی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے

” تسمیہ نے شرارتی انداز میں درنجف کی بات دہرائی تو سبھی اسے خفگی سے دیکھا ۔

” اب ایسے فیسز نہ بناؤ مجھے اور زیادہ ہنسی

آ ئیے گی ” تسمیہ نے ہنسی کو دباتے ہوئے کہا تھا

اور کمرے سے باہر آ گئی باہر آ تے ہی شاہ زر نے اسکی کلائی کو تھام کر اسکے جانے کے کوشش کو ناکام بنایا۔

” چھوڑے کوئی آ جائے گا ” تسمیہ نے کلائی کو چھڑواتے ہوئے کہا۔

” نہیں آ تا کوئی ، اور آ پ کو بڑا تجربہ ہے محبت کے قیدیوں کو تلاش کرنے کا ” شاہ زر نے اسکی کلائی پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔

” محبت کے قیدیوں کو تلاش کرنا اور ملوانا تو ثواب کا کام ہے اسی لئےمیں یہ کام کر رہی ہوں ” تسمیہ نے عام سےلہجے میں جواب دیا۔

” محبت کے قیدی تو ہم بھی ہے ، ہمیں کب ملوا رہی ہیں آ پ ؟” شاہ زر نے ” ہمیں ” پر زور دیتے ہوئے کہا ۔

” اچھا آ پ کو بھی محبت ہوگئی ہے ؟”

تسمیہ نے بناوٹی حیرانگی سے کہا۔

” جی بلکل ” شاہ زر نے بازو چھوڑتے ہوئے کہا۔

” تو پھر آ پ ممانی جان سے بات کریں ناں کہ

آ پکو آ پکی محبت سےملوا دیں ” تسمیہ نے مناسب سا جواب دیا۔

” سچ میں ؟” شاہ زر نے تصدیق چاہی ۔

” جی بلکل ” تسمیہ نے مسکراہٹ کو دباتے ہوئے

کہا اور وہاں سے بھاگ گئی جبکہ شاہ زر کچھ حیرانی اور خوشی کے جذبات لئے وہاں کھڑا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔