Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool NovelR50425 Raaz-e-Muhabat Episode 5
Rate this Novel
Raaz-e-Muhabat Episode 5
Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool
ڈاکٹر نے درنجف کا مکمل چیک اپ کر لیا تھا اور انجیکشن لگانے کے بعد ریسٹ کی تاکید کرتے ہوئے چلا گیا جبکہ بتول آ فندی اسکے سرہانے
بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ زہرہ آ فندی اسکے دوسری جانب بیٹھی ہوئیں تھیں سرور آ فندی اسکے روم میں پڑے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے
سب ہی پریشان تھے کہ ایک رات میں ایسی کون سی بات ہوگئی جس کی ٹینشن درنجف نے لی اور اس حال کو پہنچی ، شاہ زر فضہ اور علیزے کو جیسے ہی معلوم ہوا وہ تینوں بھی
اسکے کمرے میں اسکی طبیعت پوچھنے کے لئے پہنچے تھے سرور آ فندی نے ان تینوں سے بھی پوچھا تھا لیکن انہیں بھی کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں جیسے ہی درنجف کو ہوش آ یا تو سب ہی بے قراری سے اسکی جانب بڑھے تھے ہلکا ہلکا سا بخارابھی بھی تھا لیکن کمزوری کے باعث اس
سے ا ٹھ کر بیٹھا بھی نہیں جارہا تھا سب نے باری باری اس سے اسکی طبیعت کے بارے میں پوچھا تھا تو اس نے ہلکی سی نقاہت زدہ
مسکراہٹ سے سر کو اثبات میں جنبش دی تھی ۔
زہرہ آ فندی نے اسے سوپ پلا کر میڈیسن دی جو اس نے بنا کسی پس و پیش کے پی لیا اور دوائی بھی کھا لی ، سرور آ فندی بہت بے قرار تھے وہ
بات جاننے کے لئے جس کے باعث درنجف کی یہ حالت ہوئی ، درنجف کی جیسے ہی طبیعت تھوڑی بہتر ہوئی انہوں نے اس سے پوچھنا چاہا
اور درنجف کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئے تو درنجف نے اپنا سر انکے سینے پر رکھ لیا جس سے سرور
آ فندی پیار اور شفقت سے اسکے بال سہلانے لگے ۔
کمرے میں سرور آ فندی، زہرہ آ فندی، بتول
آ فندی، شاہ زر، علیزے ، فضہ اور شاہ میر بھی موجود تھا جسے شاہ زر زبردستی لے آ یا تھا ۔
” بڑے بابا ، بابا کے جانے کے بعد مجھے آ پکے ہوتے ہوئے انکی کبھی یاد نہیں آ ئی ، آ پ سے محبت ہی اتنی ملی کہ میرا انکو یاد کرنا آ پکی
محبت کی توہین محسوس ہوا ، بڑے بابا آ ج تک آ پ نے میری ہر بات ہر خواہش کو پورا کیا ہے ، اسکے لئے میں آ پکی بہت شکر گزار ہوں اور
آ پکی اس محبت ، شفقت اور پیار کا میں جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہوگا ، لیکن پتہ نہیں کیوں
آ ج آ پکے ہوتے ہوئے بھی مجھے بابا کی بہت یاد
آ رہی ہے دل کر رہا ہے انکے پاس چلی جاؤں” سرور آ فندی کے سینے پر سر رکھ کر آ نکھیں موندیں درنجف نے مدھم آ واز میں سب کے
کلیجے پر قیامت کو برپا کیا تھا۔
” ایسے کیوں بول رہیں ہیں آ پ بڑے بابا کی جان ” سرور آ فندی تو اسکی بات پر تڑپ اٹھے تھے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر بے قراری
سے پوچھا، بتول آ فندی اور زہرہ آ فندی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا شاہ زر فضہ اور علیزے نے بھی اسکی جانب پریشانی سے دیکھا تھا جبکہ
شاہ میر بے یقینی کی سی کیفیت سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا شوخ چنچل سی ، دنیا کی سترنگی بھیڑ میں کھو جانے والی درنجف کے
منہ سے ایسے بے رنگ الفاظ سن کر وہ بے یقین نہ ہوتا تو کیا ہوتا ۔
” میرا آ پکو ہرٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بڑے بابا پلیز آ پ پریشان نہ ہوں ” درنجف نے انہیں اداس دیکھ کر فوراً بات سنبھالی تھی۔
” نہیں میری جان پہلے آ پ بتاؤ کہ ایسی کیا بات ہوئی جس کی وجہ سے آ پ اتنی پریشان ہیں اور ایسی بات بول رہیں ہیں ؟”
” بڑے بابا میری ہر خواہش آ پ نے پوری کی ہے بس ایک خواہش نہیں پوری کی ” درنجف نے چہرے پر مصنوعی خفگی سجاتے ہوئے نروٹھے پن سے کہا ۔
” مجھے ابھی بتائیں میں اپنی بیٹی کی ہر خواہش کو ابھی پورا کر دوں گا”
” میں اپنی باقی کی اسٹڈی پھپھو کے پاس پوری کرنا چاہتی ہوں بس یہی خواہش ہے اور سب سے بڑی خواہش بھی ” درنجف کی بات سے سب حیران ہوگئے تھے ۔
” لیکن بیٹے آ پ کیوں باہر جانا چاہ رہی ہیں جبکہ یہاں پاکستان میں بھی ٹاپ کالجز اور یونیورسٹیز ہیں میں آ پکا ادھر داخلہ کروادو گا
” سرور آ فندی بولے تھے جبکہ باقی سب کے منہ پر قفل لگ گیا تھا۔
” بڑے بابا آ پ ہی تو کہتے ہیں کہ شوق کی اور خواہش کی کوئی حد مقرر نہیں ہے تو بس آ پ یہ سمجھ لیں کہ میری خواہش ہے اور شوق بھی کہ میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کروں “
” وہ تو بات ٹھیک ہے درنجف لیکن بیٹا اتنی دور ۔۔۔” زہرہ بتول نے کہا ۔
” دور تو ہے لیکن میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ایک دن ا پ سب کو مجھ پر فخر ہوگا ، پلیز بڑے بابا مجھے یقین ہے کہ آ پ میری بات رد
نہیں کریں گے ” درنجف نے جس مان سے کہا سرور آ فندی نے دل پر پتھر رکھ کر اسے جانے کی اجازت دے دی تھی انکے فیصلہ پر کوئی
بھی دل سے خوش نہیں تھا لیکن مجبوراً درنجف کی خوشی کا خیال رکھتے ہوئے سب کے زبانوں پر قفل لگ گئے تھے ۔
اس واقعے کے کچھ وقت بعد ہی درنجف پڑھائی کے لئے حجاب پھپھو کے پاس انگلینڈ چلی گئی اسکے جانے کے سارے انتظامات شاہ میر نے منہ
پر قفل لگا کر کئے تھے جانے سے پہلے کئی ہفتوں بعد درنجف شاہ میر کے دوبدو ہوئی تھی اور صرف ایک بات کہی تھی ۔
” کوشش کروں گی کہ آ پکو میرا مکروہ چہرہ بہت کم دیکھنے کو ملے یا دعا کروں گی کہ یہ چہرہ آ پکے سامنے آ نے سے پہلے ہی منوں مٹی
تلے دب جائے ، اس سے پہلے اپنی ہر غلطی کوتاہی کی معافی مانگتی ہوں میں اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہوں زندگی رہے نہ رہے آ پ سے معافی مانگ کر میں اپنے دل پر دھرا بوجھ کچھ
تو کم کر چکی ہوں میری مما کا بہت خیال رکھئے گا ، اللّٰہ خافظ” درنجف جاتے جاتے اسکے دل کے نیہاں خانوں کو بے چینی سے بھر گئی تھی جس کو شاہ میر ہر پل اپنی نظروں کے
سامنے دیکھنے کا متمنی تھا عادی تھا وہ پری چہرہ آ نکھوں سے بہت دور چلا گیا تھا جسے شاہ میر چاہ کر بھی روک نہیں پایا تھا یا ش
اید یہ ضروری تھا ۔
درنجف اسٹڈیز کے لئے انگلینڈ ت والے گئی تھی لیکن دل کی بے چینی حد سے سوا تھی جو عہد وہ پاکستان سے اپنے آ پ سے کر کے آ ئی تھی
ااس پر قائم رہنا بہت مشکل تھا لیکن اسے قائم رہنا تھا اسے اپنے آ پکو بدلنا تھا اس حد تک کہ کسی کو بھی اسکی ذات سے کوئی بھی تکلیف
نہ ملے وہ ہمیشہ خاموش ہی رہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی زبان کا زہر کوئی بھی محسوس کرے یا اسکی سوچ تک کوئی بھی رسائی حاصل کرے ۔
اپنے آ پ کو بدلنے کے مکمل تگ ودو میں درنجف ہلکان ہورہی تھی اسکے اعصاب بری طرح اسکی ذات کو جھنجھوڑ رہے تھے جب جب وہ اپنے
آ پ کو رکھتا محسوس کرتی شاہ میر کی تصویروں کو دیکھ لیا کرتی تھی کئیں بار تو تصویریں دیکھتے ہوئے درنجف ان تصویروں رک
سے نظریں چرا جایا کرتی تھی وہ نظر محبت کی وجہ سے یا شرم کی وجہ سے نہیں جھکتی تھی بلکہ وہ نظریں ندامت کی وجہ سے جھک
جایا کرتی تھی اور وہی ندامت درنجف کو ایک مرتبہ پھر سے ترو تازہ کردیا کرتی تھیں اسکے عہد کو نبھانے میں مدد کیا کرتیں تھی ۔۔۔۔
شرارتی، ہنسنے مسکرانے والی اور نان اسٹاپ بولنے والی درنجف اب کہیں بہت پیچھے رہ گئی تھی تاحد نگاہ سے بہت دور جس تک کسی کو
بھی رسائی حاصل نہیں ہو سکتی تھی اگر وہ خود بھی کوشش کرتی تو سوائے سیراب کے اسکے پاس کچھ نہیں ہوتا ان گزرے سالوں میں
درنجف نے نہ تو کبھی شاہ میر سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی شاہ میر نے کبھی کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ اس دن کےبعد درنجف کا اپنی دوستوں تک سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا لیکن درنجف کی خاموشی
کبھی کبھی شاہ میر کو اتنا اضطراب میں مبتلا کر دیتی تھی اور یہی اضطراب اور بے چینی تب تک قائم تھی جب اسکے سامنے درنجف روبرو تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئیں دن سے
نہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تم
وہ شوخیاں ، وہ تبسم ، وہ قہقہے نہ رہے
ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تم
چھپا چھپا کہ خاموشی میں اپنی بے چینی
خود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تم
رات کو ڈنر کے بعد درنجف واک کرنے نے غرض سے چھت کا رخ کیا جہاں ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جو حبس زدہ موسم کی نسبت
جسم کو بہت بھلی لگ رہی تھی درنجف ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر گہرا سانس لیا اور فضا میں چھائی بھینی بھینی خوشبو سے اپنے اعصاب کو
سکون بخش رہی تھی جب اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔
” نجف” ہلکی سی آ ہٹ کے ساتھ ہی اس وجود کی آ واز سنائی دی اور یہ آ واز تو درنجف بھیڑ میں بھی پہچان سکتی تھی شاہ میر کی آ واز
کے ساتھ ہی درنجف کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی اتنی کہ اسے خاموشی کے باعث اپنی دھڑکن کی آ واز کانوں تک کو سنائی دے رہی تھی۔
درنجف نے گہرا سانس لیا کچھ اعصاب سکون زدہ ہوئے تو رخ موڑا ۔
” جی ” درنجف نے کہہ کر پھر سے رخ موڑ لیا تھا اسے حیرانی ہورہی تھی کہ اتنے دنوں سے شاہ میر نے اس سے کوئی بھی بات نہیں کی تھی تو
اب کیوں ؟
شاہ میر قدم قدم چلتا ہوا اسکے پاس لیکن کچھ دوری پر کھڑا ہوگیا کہ اسکے کلون کی خوشبو درنجف کو اپنے اعصاب کو منجمند کرتی محسوس ہوئی تھی ۔
” یہاں پر کیوں کھڑی ہو ؟” کچھ پل کی خاموشی کے بعد شاہ میر نے خاموشی کو توڑا تھا۔
” بس ویسے ” درنجف نے لہجے کو عام سا بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔
” غصہ ہوگئی ہو تم ؟” ایک اور سوال شاہ میر نے پوچھا۔
” غصہ ہونے کے لئے کوئی وجہ چاہئے ہوتی ہے ، جو میرے پاس نہیں ہے ” ہوا سے اسکے لمبے کالے کھلے بالوں کی لٹ چہرے پر آ ئی جسے وہ ہٹاتے ہوئے بولی تھی۔
” مجھے لگا شاید تم صبح والی بات پر غصہ ہو ” شاہ میر کو اپنی نظریں ہٹا نا مشکل لگ رہا تھا ۔
اور درنجف کو اسکی نظریں خود پر محسوس ہورہی تھیں۔
” کچھ تم بھی بات کر لو ” شاہ میر نے اسکی خاموشی پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
” کیا بات کروں اور کس سلسلے میں ؟” درنجف نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” پہلے تو باتوں کو سلسلے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی” ایک چھوٹا سا شکوہ شاہ میر نے کیا۔
آ نکھیں ہنوز گرے آ نکھوں پر تھیں جسے درنجف نے سرعت سے جھکایا تھا۔
” مجھے کچھ ضروری کام ہے میں جاؤں” درنجف نے اجازت چاہی تھی شاہ میر نے کچھ بھی کہے بغیر چہرہ سامنے کی جانب کر لیا اور درنجف نے محض ایک نظر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تھا اور وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ شاہ میر نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے
آ نکھیں زور سے بند کیں تھیں ۔۔۔۔۔۔
آ فندی فیمیلی نے اپنے آبائی گاؤں شادی اٹینڈ کرنے جانا تھا ، ایک دن کی شادی یعنی ولیمہ تھا مہندی بارات پر سرور آ فندی اور زہرہ آ فندی
جاچکے تھے جبکہ باقی سب نے ولیمہ پر آ نا تھا۔
حجاب تبریزی ، بتول آ فندی ، شاہ زر اور شاہ میر تیار ہوکر کے تھے جبکہ فضہ، تسمیہ ، علیزے
اور درنجف کی تیاری ہی ختم نہیں ہورہی تھی
۔فضہ ، علیزے اور تسمیہ نے ڈفرینٹ کلرز کے خوبصورت شرارے پہنے ہوئے تھے اور انکے
مطابق اوور ڈاک میک اپ کیا ہوا تھا جبکہ درنجف نے اورنج اور نیوی بلو کلر کے امتزاج کا
شارٹ فراک ، ساتھ کیپری اور گرین کلر کا دوپٹہ لیا ہوا تھا میک اپ تو لائیٹس ہی کرنا تھا لیکن
ان تینوں نے مل کر ڈارک میک اپ چکر دیا تھا لمبے سلکی اور سیدھے لمبے بالوں کو کرل ڈال کر
کھلے چھوڑے دئیے تھے ، درنجف ضد کرتی رہ گئی تھی لیکن ان تینوں میں سے کسی نے بھی
اسکی بات پر کان نہیں دھرے تھے ۔
جب وہ مکمل تیار ہوکر دوپٹہ لینے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ ئی تو اپنا عکس دیکھ کر وہ حیران
رہ گئی تھی اتنا گہرا میک اپ اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں کیا تھا اور اب جب کیا تھا تو
انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی ایک گہرا سانس لیکر دوپٹہ لیا اور ان تینوں کے ساتھ باہر
آ گئی جہاں سب انہی کا انتظار کر رہے تھے ۔
دو گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا ، دو گھنٹے کی
مسافت پر واقع ایک خوبصورت گاؤں تھا تسمیہ اور درنجف ایکسائیٹڈ تھیں لیکن کنفیوز بھی ہو
رہی تھی کیونکہ وہ دونوں اتنے عرصے بعد گاؤں آ رہی تھیں تو اتنی سی کنفیوژن تو بنتی تھی
لیکن وہ پورے اعتماد سے گاڑی سے اتر کر سبھی سے انتہائی مہذب اور شائستگی سے سب سے
ملیں تھیں ، زہرہ آ فندی نے حجاب تبریزی ، تسمیہ اور درنجف کو سب سے ملوایا اور
چھوٹوں سے ملوانے کی زمہ داری فضہ اور علیزے پر ڈال دی ۔
فضہ اور علیزے نے تسمیہ اور درنجف کا تعارف کروایا درنجف تو پہلے مل چکی تھی ان سے لیکن
اتنے عرصے کے بعد چہرے پہچاننے میں مشکل ہورہی تھی اور تسمیہ تو مل ہی پہلی بار رہی
تھی ، سب سے ملنے کے بعد فضہ علیزے اور تسمیہ ان کی کزنز سے باتیں کرنے بیٹھ گئیں
تھیں لیکن درنجف اتنے ہجوم میں بیٹھے ہوئے
تھک گئی تھی اس لئے وہ سب سے آ خر میں
چئیر پر بیٹھ گئی سب کو اتنی دور سے دیکھ کر اتنے ہجوم سے باہر نکل کر اچھا فیل ہو رہا تھا ۔
” درنجف ” کسی نے اسکے سکون کو توڑا اور درنجف اسکو پہچاننے لگی تھی۔
” وائیٹ سوٹ کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے کالے بالوں کو جیل سے ایک جانب سیٹ کئے کشادہ
پیشانی کالی سحر انگیز آ نکھوں پر گہری پلکیں تیکھی ناک باریک لب جن پر مسکراہٹ رقص کر رہی تھی وہ جو بھی تھا سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا۔
” احد؟” درنجف نے بے یقینی سے کہا ۔
” شکر ہے اللّٰہ کا آ پ نے پہچانا تو ” احد زہرہ
آ فندی کے سب سے چھوٹے بھائی کا بیٹا تھا جو
درنجف کے انگلینڈ جانے سے پہلے ایک دو دفعہ گھر آ یا تھا جس سے درنجف کی اس سے سلام دعا ہوگئی تھی ۔اور مسکرا کر بات وغیرہ کر لیا
کرتے تھے۔
” کیسے ہیں آ پ؟” درنجف نے خوشدلی سے اسکا حال پوچھا۔
” میں ٹھیک ہوں آ پ کیسی ہیں؟” احد نے بھی جوابا مسکرا کر کہا۔
“الحمدللہ” درنجف نے شکر ادا کرتے ہوئے کہا تو درنجف کے ساتھ والی چئیر پر احد بیٹھ گیا۔
” ویسے آ پ کب آ ئیں ؟” احد نے پوچھا۔
” تقریباً بائیس تئیس سال پہلے ” درنجف نے
شرارتا کہا تو احد کا ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا تھا جسے ہال میں داخل ہوتے شاہ میر نے بھی
سنا تھا اس جانب دیکھنے پر جو منظر اسکی
آ نکھوں نے دیکھا اس نے اسکے پورے وجود میں شرارے نکلتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔
آ نکھوں میں یہ وقت کئی جذبات ابھرے تھے حیرانی، خفگی ، ناپسندیدگی اور شاید جلن بھی لیکن وہ اپنی فیلنگز پر قابو پاتا ہوا سٹیج
کی جانب بڑھ گیا۔
” میرا مطلب تھا انگلینڈ سے کب آ ئیں ؟” احد نے ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوے پوچھا۔
” ایک ہفتہ پہلے ” درنجف نے جواب دیا۔
” آ پ نے بتایا ہی نہیں ” احد نے بھی سنجیدگی سےکہا۔
” موقع ہی نہیں ملا اور دوسرا آ پکا نمبر ہی نہیں تھا ، ورنہ آ پکو سب سے پہلے بتاتی “
درنجف کا موڈ فریش تھا اسی لئے وہ احد سے مسکرا کر بات کر رہی تھی اور یہی بات سٹیج پر بیٹھے شاہ میر کو ناگوار گزر رہی تھی وہ پہلو پر پہلو بدل رہا تھا۔
” یہ خوب کہی آ پ نے ” احد ہنستے ہوئےبولا۔
” ویسے آ پ ادھر کیوں بیٹھی ہوئی ہیں ؟” ایک اور سوال احد کی جانب سے آ یا۔
” ایکچولی سرمیں پین تھی تو شور سے تھوڑا بیٹھی ہوں “
” میڈیسن وغیرہ لی آ پ نے “
” نہیں شور سےدور رہو گی تو ٹھیک ہو جائے گا”
” اوکے پھر میں چلتا ہوں ، آ پ سےاتنے عرصے کے بعد مل کر بہت خوشی ہوئی “
” مجھے بھی ” درنجف نے بھی جوابا ایٹیکیٹس نبھائے تھے جب احد چلا گیا تو درنجف کی
سرسری سی نظر اردگرد اٹھی تو سٹیج پر بیٹھے شاہ میر کی نظروں سے جا ٹکرائی تھی جو
آ نکھوں میں بہت ہی سنجیدگی لئے اسے دیکھ رہا تھا درنجف نے نظریں ہٹائی اور الجھ گئی ادھر شاہ میر کو اسکی یہ حرکت ناگوار گزری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
