Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool NovelR50425 Raaz-e-Muhabat Episode 3
Rate this Novel
Raaz-e-Muhabat Episode 3
Raaz-e-Muhabat by Faiza Batool
شاہ میر جلدی جلدی تیار ہوکر زین کے گھر پر پہنچا تھا جہاں منگنی کی تقریب ادا کی جارہی تھی اسکے سبھی گھر والے رشتے دار یونی فیلوز
بھی موجود تھے شاہ میر نے خاموشی سے وقار سی چال چلتا ہوا سٹیج کی جانب بڑھا تھا جہاں زین اسے سخت گھور رہا تھا ۔
” منگنی بہت بہت مبارک ہو ” شاہ میر نے اسکے سامنے پھولوں والا بوکے کرتے ہوئے کہا تو زین نے زبردستی کی سمائل سے اسے پکڑکر شکریہ ادا کیا ۔
” سحر یہ میرا دوست شاہ میر ” زین نے اپنے ساتھ کھڑی نازک سی لڑکی سے اسکا تعارف کروایا ۔
” اسلام علیکم، منگنی کی بہت بہت مبارک ہو ” شاہ میر نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
” وعلیکم السلام ، بہت بہت شکریہ لیکن زین کے دوست ہونے کی وجہ سے آ پکو سب سے پہلے ہمیں مبارک بات دینی چاہئے تھی شاہ میر
بھائی” سحر نے بھی نرم مسکراہٹ کے ساتھ اسے کہا تو زین نے اپنا ایک ائبر اچکایا۔
” میں جانتا ہوں تھوڑی نہیں بہت دیر ہوگئی، اسی لئے معافی چاہتا ہوں ” شاہ میر کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا جس پر سحر نے مسکراتے
ہوئے کوئی بات نہیں کہا جبکہ زین اسے لیکر سائیڈ پر آگیا ۔
” لیٹ کیوں آ ئے ہو؟” زین نے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” ایک کام تھا جسے کرنا مجبوری تھی “
” ایسا کون سا کام ہے جو شاہ میر آ فندی کو مجبور کر دے “
” تھا یار اب کیا بتاؤ” شاہ میر نے اسے ٹالنا چاہا۔
” پھر بھی یارا بتا تو ” زین نے زور ڈالا۔
” ایک کزن ہے میری کزن نہیں آ فت کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ہر وقت تنگ کرتی رہتی ہے جان بوجھ کر ایسے کام کرتی ہے جن سے مجھے چڑ
ہوتی ہے اب بھی اسی کی وجہ سے لیٹ ہوا ہوں محترمہ کو ریاضی کے سوالات سمجھا کر آ رہا ہوں ” شاہ میر نے برے منہ بنا کر درنجف کا
انٹروڈکشن کروایا تھا جس پر زین امڈتے قہقہے کو دبا نہیں سکا تھا اور فلک شگاف قہقہے سے بہت سے مہمانوں کو اپنی جانب متوجہ کر چکا تھا۔
” کیا کر رہے ہو زین میں نے تمہیں کوئی لطیفہ سنایا ہے جو تم اس طرح قہقہہ لگا رہے ہو” شاہ میر نے اس گھرکہ تھا۔
” یار تیری کزن کا میں فین ہو گیا ہوں دی ون اینڈ اونلی شاہ میر آ فندی جسے یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں آ پنا آ ئیڈیل مانتی ہیں وہ ایک
لڑکی سے تنگ ہے ویری انٹرسٹنگ ” زین بات کنے کے بعد پھر ہنس دیا۔
” اتنی بھی بڑی بات نہیں ہے ، جتنا تو ہنس رہا ہے ” شاہ میر نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
” میرے لئے بہت بڑی بات ہے یار ویسے یار ایک بات بتا تیری کزن تجھے بلیک میل کرتی ہے اگر کرتی ہے تو کس نام سے “
” یار بابا کی جان بستی ہے اس میں بہت لاڈلی ہے بابا کی اسی لئے بابا اسکی کوئی بات نہیں ٹالتے اور وہ بھی بابا کا نام لیکر مجھے بلیک میل
کرتی رہتی ہے ” شاہ میر نے اسے بتایا تو وہ حیران ہورہا تھا۔
” انکل کے نام سے سبھی کو بلیک میل کرتی ہے ؟”
” نہیں یار صرف مجھے کرتی ہے “
” شاہ میر تیری باتوں سے مجھے ایسا فیل ہورہا ہے کہ تمہاری کزن تمہارے گھر کی رونق ہے اس میں سب کی جان بستی ہے ، نہیں “
” رونق کا تو مجھے نہیں پتہ زین لیکن ہمارے گھر کے سبھی لوگوں کی جان بستی ہے اس میں”
” اور تیری ” زین نے بے ساختہ پوچھا۔ شاہ میر نے اسکی جانب دیکھا ۔
” میری صرف کزن ہے اور اب تم نے مجھ سے کوئی سوال پوچھا ناں تو آ ج تیرے سپیشل دن کا لحاظ نہیں رکھنا میں نے ” شاہ میر نے جواب
دیتے ہوئے فوراً اسے دھمکی بھی دی تھی جس پر وہ کندھے اچکاتے ہوئے خاموش ہوگیا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
حجاب تبریزی ، تسمیہ اور درنجف کو آ ئیے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا گھر میں رونق لگی ہوئی تھی سب حجاب تبریزی کی کمپنی کو انجوائے کر رہے
تھے لیکن ایک بات سب کےدماغ میں چل رہی تھی جسے پوچھنے کی ہمت کسی میں بھی
نہیں تھی۔
آ ھ اتور تھا سب لوگ لاؤنج میں خوش گپیوں میں مصروف تھے جب شاہ میر بھی وہاں ہی چلا آ یا ۔۔۔۔۔۔
” پھپھو آ پ نے ہماری درنجف کو کیا کیا ہے ؟” شاہ زر نے گھما پھرا کر بات کی جسے سن کر
سبھی خاموش ہوگئے تھے جبکہ درنجف نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا۔
” میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ” حجاب تبریزی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
” پھر یہ ایسی کیوں ہے ؟” ایک اور سوال ۔
” کہنا کیا چاہ رہے ہو شاہ زر ” درنجف نے سوال کیا۔
” میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ تم پہلے ایسی نہیں تھی”
” مطلب کیسی ؟” درنجف نے مزید سنجیدگی سے پوچھا۔
” تم پہلے اتنی سنجیدہ نہیں تھی کم گو اور خاموش رہنے والی ” شاہ زر نے دہرایا۔
” میں نے پہلے بھی بتایا ہے انسان وقت کے ساتھ ساتھ تھوڑا بہت تبدیل ہوجاتا ہے پھربار بار یہ بات کیوں کر رہے ہو ؟”
” پھپھو آ پ بتائیں یہ اتنی سنجیدہ کیوں ہے ؟” درنجف کی بات سے شاہ زر کی تسلی نہیں ہوئی تھی اسی لئے حجاب سے پوچھ لیا۔
” اسکی وجہ تو مجھے بھی نہیں پتہ لیکن یہ جب سے پاکستان سے ہمارے پاس گئی تھی یہ تب سے ہی ایسی ہے کم بولنے والی ، سنجیدہ ،
اور صرف تب بات کرتی ہے جب کوئی کام ہو ، حالانکہ پہلے یہ ایسی نہیں تھی پہلے اس کے سامنے ہاتھ باندھنے پڑتے تھے کہ مس درنجف
آ فندی ا پکو خدا کا واسطہ ہے خاموش ہوجاو لیکن یہ اور خاموشی ناممکن بات ہوا کرتی تھی”پھپھو نے مسکراتے ہوئے کہا جسے سن کر
سبھی کے چہروں پر اداس مسکراہٹ بکھر گئی تھی شاہ میر نے اسے دیکھا جو مسکرا بھی نہ سکی تھی۔
” آ پا اب کیا ہوگیا ہے ؟” فضہ نے پوچھا۔
” ہاں آ پا اتنا جلدی تو کوئی نہیں بدلتا جتنا جلدی آ پ بدل گئیں ہیں ” علیزے نے بھی
افسوس کرتے ہوئے کہا۔
درنجف نے ایک خاموش نظر سب پر ڈالی تھی سوائے شاہ میر کے ۔
” انسان کو بدلنے کےلئے وقت درکار نہیں ہوتا ، اگر وقت بدلنے پی آ ئیے تو صدیاں بھی لگ سکتی ہیں اور ” ایک لمحہ ” بھی جیسے” ایک
لمحے” نے میری پوری شخصیت کو بدل ڈالا “
درنجف نے انتہائی سنجیدگی سے کہا جہاں
سبھی حیران ہوئے تھے وہاں پر شاہ میر پہلو بدل کے رہ گیا تھا۔
” ماحول خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا ہے ” تسمیہ نے کہا
” نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں کی میں نے جس سے ماحول سنجیدہ ہوگیا ہو ” درنجف
نےماحول کی کشیدگی کو کم کرتے ہوئے کہا۔
” آ پ لوگ اپنی باتیں جاری رکھے مجھے کام ہے تھوڑا سا میں چلتی ہوں ” درنجف نے وہاں سے
چلے جانا ہی مناسب سمجھا تھا جبکہ بتول
آ فندی اور زہرہ آ فندی نے خاموش نظروں کا تبادلہ کیا تھا جن میں حسرت تھی ایک چاہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
اگلے دن پھر سے شاہ میر نے انہیں سکول ڈراپ کیا تھا انہیں سکول کے گیٹ پر اتارنے کے بعد شاہ میر چلا گیا جبکہ شاہ زر اپنے بوائز کیمپس
کی جانب چلا گیا فضہ اور علیزے اپنی کلاس کی جانب جبکہ درنجف اپنی کلاس کی جانب چل دی جب کلاس میں ہی اسکی دوستوں نے
اسے گھیر لیا۔
“درنجف وہ کون تھا جو تمہیں ڈراپ کرنے کے لئے آیا تھا ” درنجف کی دوست اریبہ نے پوچھا کیونکہ اس نے درنجف کو دیکھ لیا تھا۔
” میرے کزن تھے ” درنجف نے منہ کا زاویہ بگاڑتے ہوئے بتایا۔
” کونسے کزن اور تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا ” درنجف کی دوسری دوست فرخ بولی تھی ۔
” شاہ میر تھے ” درنجف جھنجھلا کر کہا۔
” شاہ میر کون ” اریبہ نے اپنا سوالوں کا ہٹاتا بوکس کھولتے ہوئے کہا۔
” فرسٹ کزن “
” انکل سرور کے بیٹے؟ “
” جی بلکل “
” تم نے پہلے کبھی زکر نہیں کیا ” فرخ نے پوچھا
” ہماری دوستی کو اتنا ٹائم نہیں ہوا ناں یار اسی لئے کبھی موقع ہی نہیں ملا بتانے کا ، اور ویسے
بھی اس ہٹلر کا زکر وہ بھی میں کبھی بھی
نہیں “
” ایسے تو نہ بولو یار اتنا تو پیارا ہے ” اریبہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” پیارے اور وہ توبہ “
” کیوں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟” فرخ نے تڑک کر پوچھا۔
” میرے جانی دشمن ہیں “
” وہ کیسے “
” ہم لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں “
” اس لڑائی جھگڑے میں تو پیار ہے ” فرخ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
” کیا مطلب ؟” درنجف نے حیرانی سے پوچھا۔
” میں نے بہت سارے ناولز میں پڑھا ہے کہ جہاں ہیرو اور ہیروئن میں جھگڑا زیادہ ہوتا ہے وہاں پر
پیار اور محبت بھی زیادہ ہوتی ہے ” اریبہ نے معنی خیز لہجے میں بتایا۔
” تم نے کہانیاں پڑھی ہیں حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ، اور ویسے بھی نہ تو وہ کوئی ہیرو ہیں اور نہ میں کوئی ہیروئن جو
ہماری لڑائی جھگڑے میں کہیں پیار چھپا ہوا ہوگا”
” لیکن یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” بس بہت ہوگیا اب اور ایک لفظ بھی تم دونوں نےکہا ناں تو میں یہاں سے چلی جاؤں گی ” درنجف نے کافی سختی سے انہیں وارننگ دی
تھی تو وہ دونوں مصلحتاً خاموش ہوگئیں تھیں
لیکن دوبارہ بات تو کرنی تھی ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اگلے کئیں دن درنجف اور شاہ میر کی ذات
کا زکر ہوتا رہا تھا جب تک درنجف کی دوستوں نے اسے یہ یقین نہیں دلا دیا کہ شاہ میر اسے تنگ کرتا ہے اس سے بات کرنے کے لئے باتوں کو
طول دیتا ہے تو درنجف بھی زہن پر پڑنے والی بار بار کی باتوں سے سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ واقع میں ایسا کچھ ہوسکتا ہے کیونکہ کچے زہن پر بار بار دستک دیتی باتیں بہت گہرا اثر چھوڑتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
درنجف اور شاہ زر کے میٹرک کے پیپرز نزدیک تھے اسی لئے وہ دن رات ایک کر کے پڑھائی کر رہے تھے اسی وجہ سے درنجف کی شیطانیاں
بھی کافی کم ہوگئیں تھیں لیکن ایک بات تبدیل ہوئی تھی جو سب کے لئے باعث حیرت تھی کہ درنجف پہلے بھی پڑھائی کرتی تھی لیکن شاہ
میر کو اسکے دوران بھی سکون نہیں لینے دیتی تھی لیکن اب اسے تنگ کرنا تو دور کی بات تھی درنجف اسے مخاطب ہی کم کیا کرتی تھی یا
کرتی ہی نہیں تھی پڑھائی میں کسی قسم کی مدد کی ضرورت بھی ہوتی تو وہ شاہ زر کو شاہ میر کے سامنے کر دیا کرتی تھی اسے شاہ میر سے
عجیب سی جھجھک محسوس ہونے لگی تھی جس سے وہ شاہ میر کے سامنے جانا کم کر چکی تھی جہاں شاہ میر ہوتا درنجف وہاں کہیں نہیں
ملتی تھی اس بات سے شاہ میر بھی کافی حیران ہوا تھا لیکن پڑھائی کی وجہ سے وہ بھی بزی تھا تو زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا
تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
درنجف اور شاہ زر پیپرز سے مکمل طور پر فری ہوچکے تھے اور اسی وجہ سے درنجف اپنی دوستوں کے ساتھ شاپنگ وغیرہ کرنے آ ئیں
ہوئی تھی شاپنگ کے بعد انہوں نے لنچ کرنے کے لئے ہوٹل کا رخ کیا ۔ اپنا آ رڈر پیلس کرنے کے بعد وہ باتوں میں مصروف تھیں جب اریبہ نے اسے
مکمل طور پر جھنجھوڑ ڈالا۔
” درنجف وہ دیکھو تمہارا کزن وہ بھی کسی لڑکی کے ساتھ ” درنجف اسکے جھنجھوڑنے پر بوکھلا گئی تھی لیکن جب اس نے سامنے کا
منظر دیکھا جہاں شاہ میر ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ لنچ کرنے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا ، درنجف کو حیرانگی نے آ ن گھیرا
تھا کہ شاہ میر وہ بھی ایک لڑکی کے ساتھ ۔۔۔
” یہ لڑکی کون ہوسکتی ہے تمہارے کزن کی گرل فرینڈ” فرخ نے پوچھا تھا۔
” مجھے نہیں پتہ کون ہے ” درنجف نے ناگواری سے کہا تھا پتہ نہیں کیوں اسے شاہ میر کا کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھنابرا لگا تھا ۔
” تو پتہ کرو ” درنجف کی دوستوں کو درنجف سے زیادہ اس لڑکی کے بارے میں جاننے کا تجسس تھا۔
” مجھے نہیں ضرورت پتہ کرنے کی “
” کیوں بھئی کیوں ضرورت نہیں ہے ” اریبہ نے برا مانتے ہوئے پوچھا
” یہ انکا پرسنل میٹر ہے “
” انکے پرسنل میٹر میں تم نہیں آ تی ” فرخ نے پوچھا۔
” نہیں “
” یہ کیابات ہوئی تمہارا کزن تمہارے سامنے کسی لڑکی کے ساتھ گپے ہانک رہا ہے اور تمہیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ” اریبہ نے اسے مشتعل کرنا
چاہا۔
” میں کیوں کروں انکی پرواہ” درنجف نے لاپرواہ بنتے ہوئے کہا۔
” عجیب لڑکی ہو تم اسے پسند کرتی ہو اور تمہیں اسکا کسی لڑکی کے ساتھ برا بھی نہیں لگا “
” میں انہیں کوئی پسند نہیں کرتی ہوں ، مجھے انکی کوئی پرواہ نہیں ہے یہ انکا پرسنل میٹر ہے وہ کیا کرتے ہیں کیا نہیں اس سے مجھے کوئی
سروکار نہیں ہے ، اور اب خدا کا واسطہ ہے اس بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ” درنجف غصے سے کہتی
ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ اریبہ اور فرخ اسکے بیہیور پر حیران رہ گئیں تھیں اگر اتنی بڑی بات نہیں تھی تو اتنا ری ایکٹ کیوں
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
زین کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی تھی تو اسکی شاپنگ وغیرہ کرنے میں مدد کے لئے زین نے شاہ میر کو اپنے ساتھ اپنے کو کہا تھا جس پر
شاہ میر نہ چاہتے ہوئے بھی آ گیا تھا لیکن شاہ میر نے اس وقت زین کی گردن پکڑی جب مال
آ نے کے بعد اسے پتہ چلا کہ سحر کو بھی اس
نے شاپنگ کروانی تھی شاہ میر کا یوں ان دونوں کے درمیان ہونا عجیب لگ رہا تھا شاہ میر نے ان دونوں کو مال میں شاپنگ کے لئے بھیجا
جبکہ خود بھی سرسری سا مال کا جائزہ لینے لگا ۔
کچھ ہی دنوں میں درنجف کا برتھڈے تھا تو شاہ میر نے اسکے لئے گفٹ لینے کا سوچا یہ شاہ میر کی زندگی میں پہلی مرتبہ ہوا تھا جب اسے
درنجف کی ڈیٹ آ ف برتھ یاد رہ گئی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ ہی اسکی ڈیٹ آ ف برتھ بھول جایا کرتا تھا۔
گفٹ لینے کے بعد اسے پیک کروایا اپنے لئے ایک دو اشیا لیں تو زین کی اسے کال آ ہی کے وہ لوگ ہوٹل میں لنچ کے لئے پہنچ گئے ہیں وہ بھی وہاں
ہی پہنچ جائے شاہ میر نے موبائل جیب میں ڈالا اور ہوٹل کی طرف چل پڑا ۔
لنچ کرنے کے دوران زین کی شرٹ پر کھانا گر گیا تو وہ اسے صاف کرنے کے لئے واش روم چلا گیا جبکہ ٹیبل پر شاہ میر اور سحر ہی رہ گئے تھے
لنچ کرنے کے دوران ہلکی پھلکی گپ شپ ہوتی رہی تھی لنچ کرنے کے بعد وہ تینوں نے گھر کی راہ لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
