Pehchan by Hadia Naveed NovelR50768 Pehchan by Hadia Naveed Last Episode
No Download Link
788.3K
7
Rate this Novel
Pehchan by Hadia Naveed Last Episode
Pehchan by Hadia Naveed Last Episode
گرو جی یہاں داخلہ نہیں مل رہا مجبور ہوکر جارہا ہوں۔۔۔چار سال کی تو بات ہے اتا جاتا رہونگا اگر آپ ٹکٹ کے پیسے بھیجتے رہے۔۔عمر نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا وہ چاہ کر بھی جانے کی اصل وجہ نا بتا پایا اور نا یہ بتا پایا کے وہ واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔۔۔کب ہے فلائٹ ؟ دس دن بعد۔۔۔چاندنی ہوتی تو کبھی نا جانے دیتی تجھے۔۔۔وہ ہوتی تو میں جاتا ہی کیوں عمر نے تلخی سے سوچا تھا۔خیر اب تو جارہا ہے اور تجھے باہر داخلہ مل گیا ہے تو جشن رکھ لیتے ہے۔جب سے تو یہاں آیا ہے تیرا فنکشن نہیں ہوا۔۔۔جی گرو جی۔۔عمر نے گرو جی کے گھٹنوں پر سر رکھ لیا تھا۔(فنکشن سے مراد خواجہ سرا کا ایک ایونٹ ہوتا ہے جیسے ہماری شادیاں ہوتی ہے۔اس میں یہ لوگ لینا دینا کرتے ہے)
***
عمر اپنا سامان پیک کرہا تھا کے الماری میں اسکو چاندنی کی ساڑی نظر آی جو اس نے بہن کی شادی کے لیے خریدی تھی۔عمر نے کچھ سوچ کر وہ بھی بیگ میں رکھ لی.
***
فنکشن کے اگلے دن ہی عمر کی فلائٹ تھی۔وہ گرو جی کے گھر سے روانہ ہوا تھا۔ساری بستی اسکو روانہ کرنے کے لیے آئ تھی سب فخر کرہے تھے کے ان کی برادری سے کوئی باہر پڑھنے جارہا ہے۔اپنے ملک میں تو کوئی اسکول میں نہیں گھسنے دیتا۔عمر اپنےانگریز دوست کو میرا سلام دینا رانی نے درخواست کی تھی۔جی ضرور عمر نے بے دلی سے کہا ۔۔۔وہ نہیں جانتا تھا وہ یہاں واپس ایگا کے نہیں پر وہ ایسا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔اس نے گھر پر ایک الوداعی نظر ڈالی اور گرو جی کے ساتھ نکل گیا۔ایئرپورٹ پر وہ اپنے ماں باپ بہنوں سے مل کر گرو جی کے گلے لگا تھا گرو جی رنجیدہ ہوگے تھے۔عمر پتر میرا جنازہ پڑھانے آجانا۔۔۔عمر کے دل کو کچھ ہوا تھا اس نے چاہا تھا وہ نا جاے۔۔گرو جی کیوں جانا مشکل کرہے ہے۔عمر نے بغیر نظریں ملاے کہا تھا اور بغیر مڑے اگے بڑھ گیا تھا ۔
***
زین ہم آپکو آپ کے جیسے لوگوں کے پاس بھیج رہے ہے۔
ماما عمر نے نیہا کا دوپٹہ پکڑا تھا۔
تمہاری بہن تمہارا ساتھ دیگی ہمیشہ۔
امی بچے میرا مذاق اڑاتے ہے کہ تم لڑکیوں کی طرح بولتے ہو اور چلتے ہو۔
چھت کے کونے میں بیٹھ کر روتا عمر۔
دادی کی نفرت بھری نظریں۔
آج تو اتنا اچھا ناچا ہے میرا دل خوش کردیا ہے آج کچھ نہیں کہونگی لاتی ہوں ناشتہ چاندنی اپنا پراندہ لہرا کر چلی گئی۔
جہاز بلندیوں کی طرف جارہا تھا۔اور عمر ماضی کی طرف۔پھر اس نے جیب سے چاندنی کو دیا ہوا کارڈ نکالا تھا۔جو اتنے وقت گزرنے کے بعد بوسیدہ تو ہوگیا تھا لیکن محبت اور خلوص کی خوشبو ابھی بھی اس میں باقی تھی۔
***
عمر california کے ایئر پورٹ سے باہر نکلا تھا کے روڈ کے پار اسے واٹسن کھڑا نظر آیا دونوں کی نظریں ملی تھی۔دونوں نے سیکنڈز میں اایک دوسرے کو پہچانا تھا۔دونوں اپنی اپنی جگہ سے ایک دوسرے کی طرف بڑھے تھے اور سڑک کے بیچ میں ہی بغلگیر ہوگے تھے۔دونوں صرف لہروں کے زریعے دوست بنے تھے۔اور کیا اعلی دوست بنے تھے۔دوستی کا حق ادا کردینے والے۔دونوں ایک دوسرے سے الگ نا ہوتے اگر گارڈ سٹی بجا کر انکو روڈ سے ہٹنے کا نا کہتا۔
***
عمر کو california میں چھ مہینے ہوگے تھے۔شروع میں تو عمر ڈرا کے یہاں بھی اسکو مختلف ٹریٹ کیا جایگا لیکن کسی نے بھی عمر کو جنس کے اسکیل پر نہیں پرکھا تھا۔بہت سارے دوست بھی بنا لیے تھے جن میں لڑکے لڑکیاں بھی شامل تھی۔یہاں آکر گویا عمر کو پر لگ گے تھے۔اس نے ہر وہ کام کیا جو وہ پاکستان میں نہیں کرسکتا تھا۔جم جانا شروع کردیا۔
واٹسن کے ساتھ ہارس کلب جوئن کیا ہوا تھا۔اور تو اور وہ واٹسن کی کلیکشن کے لیے ماڈلنگ کرتا تھا۔دیکھنے میں کوئی نہیں کہ سکتا تھا کے اس میں کوئی کمی ہے۔زین خرچہ بھیج دیا کرتا تھا۔مگر اپنی عیاشیوں کے لیے پیسے وہ گرو جی سے مانگتا تھا۔ایک چیز جسکا وہ خیال رکھتا تھا وہ تھی پڑھائی۔کیوں کے اسکو پتا تھا جس دن اس کے گڑیڈز گرے گے گرو جی تو دور اس کے اپنے سگے باپ نے اسکو خرچہ نہیں بھیجنا اور اسکو باقی سٹوڈنٹس کی طرح جاب کے لیے خوار ہونا پڑیگا۔
***
گرو جی آپی نے کان بھرے ہے آپ کے میں یہاں شریف بچوں کی طرح رہ رہا ہوں۔یونی سے گھر اور بس۔پلیز آپ پیسے بھیج دے میرے سب دوست جارہے ہے۔عمر ویڈیو کال پر گرو جی سے بات کرہا تھا۔نا پتر میں ایک پیسا نہیں بھیجنا تو پڑہںنے گیا تھا۔عیاشیوں میں پڑ گیا ہے۔ جتنے اس مہینے بھیجے تھے گزارا کر۔تیری جو سپیڈ ہے نا میرے جائیداد دو مہینے نہیں رہنی۔۔گرو جی عمر نے معصوم سی شکل بنای تھی لیکن گرو جی فون کاٹ چکے تھے۔واٹسن کمرے میں داخل ہوا تھا اور جوتے اتار کر دور پھینکے اور صوفے پر لیٹ گیا تھا۔ یار پیسے نہیں دے رہے گرو جی اب میں کیسے جاؤنگا؟نا جا واٹسن نے جواب دیا تھا۔میرے سے ادھار مت مانگنا۔ادھار نہیں بیٹا تو یہ بتا تو ایک ماڈل کو کتنا دیتا ہے؟ تم مجھ سے پیسے لوگے ؟تجھے اپنے گھر میں رکھا ہے۔ہاں اور اس گھر کا آدھا راشن میرے باپ کے پیسوں سے اتا ہے عمر نے ترکی با ترکی جواب دیا تھا۔اچھا چھوڑ ویسے بھی پلان کینسل ہوگیا ہے۔کیوں؟ عمر نے پریشانی سے کہا۔۔۔پتا نہیں اب سونے دے اور برتن دھو دینا۔واٹسن نے کہا اور انکھوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔آج بتا دے تو مجھے اپنی بہو سمجھتا ہے یا ماسی۔۔۔۔مگر واٹسن نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
***
نور اپنی دوست کی مہندی میں جانے کے لیے تیار ہورہی تھی کے ماہا بلانے آی نیچے تم سے کوئی ملنے آیا ہے۔کون ؟ پتہ نہیں آجاؤ بس ۔اوکے نور نے جواب دیا تھا۔
نور وایٹ اور پنک کومبینیشن کے لہنگے میں ملبوس ہاتھوں میں وائٹ چوڑیاں مکیپ کے نام پر صرف لپسٹک لگاے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی کے سامنے موحد کو دیکھ کر ٹھٹکی تھی۔ موحد کے ساتھ ایک آنٹی بھی موجود تھی شاک کے عالَم میں اس نے انکو سلام کیا تھا اور تھوڑی دیر بعد معذرت کر کے مہندی پر جانے کے لیے اٹھ گئی تھی۔کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کے موحد نے آواز دی تھی۔نور ان سنی کر کے اگے بڑھ گئی تھی کے موحد نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا چوڑیاں کھنک اٹھی تھی۔نور میری بات سن لو پلیز موحد نے التجا کی تھی۔
****
عمر ڈانس کلب میں بیٹھا شدید بور ہورہا تھا واٹسن زبردستی اسکو لے آیا تھا اور خود غائب ہوگیا تھا۔عمر کے سامنے بیٹھی ایک لڑکی مسلسل عمر پر لاین مارنے کی کوشش کرہی تھی۔عمر نے اسکو سمائل پاس کی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اگلے ہی منٹ وہ لڑکی عمر کے پاس موجود تھی۔
WANNA dance?
اس نے ایک دلربا مسکراہٹ کے ساتھ عمر کے سامنے ہاتھ پیش کیا تھا۔
SuRE
عمر نے ہاتھ تھام لیا تھا اور ڈانس فلور کی طرف بڑھ گیا
***
میں تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا تھا نور میں تمہیں کوئی امید نہیں دینا چاہتا تھا جب تک امی کو نا منا لیتا۔اب وہ مان گئی ہے تو میں آگیا ہوں۔گاڑی میں موحد کی آواز گونج رہی تھی۔تم مجھ سے ناراض ہو نور؟ ڈائریکٹ رشتہ لے آے ہو اب کیا ناراض ہونگی نور نے مسکراتے ہوے جواب دیا۔اچھی لگ رہی ہو موحد نے نور کی چھوڑیوں کو چھڑا تھا۔اب چھچورپن بند کرو اور مجھے چھوڑ کر اؤ۔نور نے مصنوعی غصے سے کہا تھا۔roger موحد بولا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
***
عمر ڈانس فلور پر ہی تھا کے واٹسن نے اسکو گھر چلنے کا کہاں تھا۔
I’VE to go
عمر لڑکی کے کان میں بولا تھا اور کلب سے نکل آیا تھا ابھی واٹسن اور وہ گاڑی میں بیٹھے تھے کے وہ لڑکی بھاگتی ہوئی آی اور چلای
HANDSOME your phone number ..??
واٹسن گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔عمر نے کھڑکی سے سر نکالا اور چلایا
SWEET heart I’m Trans.
لڑکی اب گالیاں دے رہی تھی۔
گاڑی واٹسن اور عمر کے قہقہوں سے گونج رہی تھی۔
***
بس زین آج ہم تم سے بہت قیمتی چیز لینے آے ہے۔زین کے بڑے بھائی نے کہا تھا۔زین کے بڑے بھائی سعودی عرب سے ے تھے۔دونوں فیملیز ڈرائنگ روم میں موجود تھی اور خوش گپیوں میں مصروف تھی۔انکی والدہ پاس ہی وہیل چیر پر موجود تھی۔بھائی سب کچھ اپکا ہے جو مرضی لے جاے۔
ماما بابا آپی کہاں ہے سارے؟۔سرپرائز ۔۔۔۔عمر گھر میں سب کو ڈھونڈتا ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تھا۔ وہ دو سال بعد آیا تھا اور پہلے سے پیارا ہوکر آیا تھا۔سب چونک گے تھے نیہا کا ایک رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔کے اب اسکا سسرال کیا فتویٰ لگے گا۔نور اور ماہا مزے سے سب کے تاثرات دیکھ رہے تھے۔۔۔زین اٹھ کر عمر کی طرف بڑھا تھا۔اؤ بیٹا۔یہ کون ہے زین؟ بھائی میرا بیٹا ہے عمر ابھی ہی california سے آیا ہے۔پڑھ رہا ہے وہاں زین فخر سے بولا تھا۔بیٹا سلام کرو سبکو۔۔۔سب کی نظروں میں حیرت تھی تعریف تھی۔خاندان کے مکمل بچے بھی اس مقام پر نہیں تھے۔جہاں پر گھر بدر کرنے والا بچہ تھا۔عمر سب کو سلام کرتا اپنی دادی کے سامنے جھکا تھا انہوں نے کوئ کلام نہیں کیا تھا۔بس سر پر ہاتھ پھیر دیا تھا۔
***
تمیز سے ہی ملے تھے اور کیوں قبول نا کرتے میرا برائٹ فیوچر دیکھا ہے۔ماہا کے لیے اپنے بیٹے کا ہاتھ منگا ہے۔بابا نے کہا ہے دونوں کی شادیاں میری گریجویشن کے بعد ہوگی۔عمر گرو جی کی گود میں سر رکھے سب بتا رہا تھا۔گرو جی فضول باتیں چھوڑے میں کسی مقصد کے لیے آیا ہوں دو مہینوں کے لیے ۔میں پاکستان واپس نہیں آنا چاہتا میں یہاں نہیں رہنا چاھتا۔یہاں کے لوگ مجھے نہیں پسند کریگے۔پر گرو جی میں یہاں سکل اسکول بنانا چاہتا ہوں۔جو میرے بغیر بھی چلیگا۔مختلف ہنر سیکھاے گا ہمارے بچوں کو۔ہم بھیک نہیں مانگے گے گروجی۔میں پیسے بھی لایا ہوں آپ کام شروع کرادے میں مکمل کر کے جانا چاہتا ہوں۔گرو جی نے كچھ کہا نہیں بس عمر کا ماتھ چوم لیا تھا۔
***
پوری بستی بلکہ دور دور کے خواجہ سروں نے اسکول کے لیے فنڈز دے تھے۔بہت ساروں نے سونا عمر کو دے دیا تھا۔سب عمر کو دعایں دے رہے تھے۔فخر کرہے تھے۔بستی میں ہی موجود دو منزلہ عمارت کو اسکول میں تبدیل کیا جارہا تھا۔NGO کی مدد سے مختلف ٹیچرز ڈھونڈے گے تھے ۔جو صرف پہلے بیچ کو سیکھاے گے۔اگلے بیچ کو پاس آوٹ سٹوڈنٹس سیکھاے گے۔
چاندنی سکلل انسٹیٹیوٹ میں آج پہلی کلاس تھی۔گرو جی عمر سے اتنا خوش تھے کے اس کے واپس نا انے کے فیصلے کو بھی نظر انداز کر گے۔
***
عمر کی آج گریجویشن سرمنی تھی۔زین نیہا ماہا نور اور گرو جی california میں موجود تھے۔گرو جی عمرہ کرتے ہوے آے تھے۔پاکستانی میڈیا اور سوشل۔ میڈیا بھی عمر کو کوریج دے رہا تھا جس کا کوی فائدہ نا تھا۔عمر نے اپنے کلاس فیلو کے ساتھ ای ٹی کمپنی کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔
***
سب واٹسن کے فیشن شو میں شریک تھے۔ڈفرنٹ کلیکشن دکھائی جارہی تھی۔گرو جی اور باقی سب چونکے جب ریمپ پر پاکستانی خواجہ سرا کے حلیے میں ماڈلز آنا شروع ہوگے۔یہ شو واٹسن کا میگا شو تھا۔جس میں خاص طور پر ادھورے لوگوں کو بلایا گیا تھا۔ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا جب عمر نمودار ہوا تھا۔اس نے چاندنی کی ساڑھی پہن رکھی تھی جو اسکو پہنا نصیب نا ہوئی تھی۔فل چاندنی کے گیٹ اپ میں تھا عمر۔چاندنی کا کسی شادی میں گایا گیا گانا بج رہا تھا۔سکرینز پر چاندنی کی تصویریں دکھائی جارہی تھی۔اتنے میں عمر نے مائک تھاما اور کہنا شروع کیا ۔
“جب آج میں یہ ریڈ لپسٹک لگا رہا تھا تو مجھے لگا کے چاندنی ایگی اور اپنے جوتے سے مری تواضع کریگی۔میرے اندھیری زندگی میں میرا چاند چاندنی ہی تھی۔میری بہن تھی۔دوست۔اور سب سے بڑھ کر اس نے کسی باپ کی طرح میرے پر سختی کی تھی۔وہ میری ڈھال تھی۔میں نے کبھی تلخ جملے نہیں سننے معاشرے کے کیونکہ وہ مجھے اپنے پروں میں چھپا کر رکھتی تھی۔میری ڈھال کو پہلے انسانو ں نے اسکو اندر سے کچلا پھر اسکو کچل کر قتل کردیا۔یہ صرف چاندنی کی نہیں میرے ملک کے ہر ٹرانس جینڈر کی کہانی ہے۔اگر میں یہاں زندگی جی رہا ہوں تو صرف بابا کی وجہ سے۔تھنک یو بابا آپ نے ایک چاندنی کو مرنے سے بچا لیا۔”عمر نے سینے پر ہاتھ رکھ کر زین کو دیکھا تھا۔زین نے فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔
زین نیہا ماہا نور گرو جی وہاں بیٹھے ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ماہا کے اکاؤنٹ سے live دیکھنے والے بھی ابدیدہ تھے۔
عمر نے تیرا حق ادا کردیا ہ چاندنی رانی سکرین دیکھتے ہوے بولی تھی۔
میں یہاں چاندنی کی ساڑی پہنے کھڑا ہو جو اسکو پہنا نصیب نہیں ہوئی تھی۔عمر کی آواز بلند ہوئی تھی۔
میں کہنا چاہتا ہوں چاندنی سے کے تم ادھوری نہیں تھی میں بھی ادھورا نہیں ہوں۔ہم ادھورے نہیں ہے چاندنی۔عمر چیخا تھا۔یہ معاشرہ ادھورا ہے۔ہمیں ادھورا جاننے والے لوگ ذہنی طور پر ادھورے ہیں۔جو ہمیں مجبور کرتے ہے کے ہم اپنی دور جاتی ماؤں کے آنچل پکڑ کر روکنے کی کوشیش کرے اور وہ ہم سے آنچل چھڑوا کر چلی جاے۔
LET us live۔
پورا ہال کھڑا ہوا تھا۔تالیاں گونج رہی تھی۔آنسو بہ رہے تھے۔عمر نے سر جھکایا تھا۔اور واپس جانے کے لیے مڑا تھا۔*چاندنی تم واقعی غلط جگہ پیدا ہوگئی تھی۔عمر نے زیر لب کہا تھا۔
ختم شد
