Pehchan by Hadia Naveed NovelR50768

Last updated: 10 July 2026

Pehchan by Hadia Naveed

میں نے تمہارے لیے اتنا کچھ کیا ہے زین تمہاری ماں کی باتیں برداشت کی خود کو مکمل بدل لیا۔تمہاری بچیاں تمہارا گھر سنبھالا۔میں نے ہر طرح کے حالات میں تمہارا ساتھ دیا ہے زین۔۔۔۔اور آج میں جب تم سے کچھ مانگ رہی ہوں تو تم مجھے مایوس کر رہےہو۔پلیز زین وہ تمہاری بھی اولاد ہے میں جہیز میں نہیں لائ تھی۔مت کرو اسطرح میں اسکو لیکر چلی جاؤنگی تم سب کی زندگیوں سے دور۔مان جاو۔۔۔زین نے اسکو ملامتی نظروں سے دیکھا اور کمرے سے نکل گیا۔کمرے میں صرف نیہا کی سسکیاں بچی تھی۔
***
ماسٹرز کے بعد نیہا کی زین سے شادی ہوگئ شادی کے روایتی پندرہ سالوں میں میں ہلچل تب ہوئ جب جڑواں بیٹیوں نور اور ماہا کے بعد انکا بیٹا عمر پیدا ہوا۔جیسے عمر بڑا ہو رہا تھا نیہا اس میں غیر معمولی تبدیلیاں محسوس کرہی تھی عمر زنانہ چیزوں کی طرف زیادہ مائل تھا پہلے تو زین اور نیہا بہنوں کی صحبت کا اثر سمجھتے رہے لیکن آہستہ آہستہ عمر بڑاہورہا تھا زین اور نیہا کے بدترین خدشہ صحیح ثابت ہوتا محسوس ہو رہا تھا
****
عمر کھانا کھانے کے لیے بیٹھا تھا اسکول سے اکر۔۔ امی میں کل سے اسکول نہیں جاؤنگا۔۔کیوں کیا تکلیف ہے تمہیںی؟نہا نے غصے سے پوچھا امی بچے میرا مذاق اڑاتے ہے کہ تم لڑکیوں کی طرح بولتے ہو اور چلتے ہو۔ ۔۔میں نہیں جاؤنگا بس۔نیہا عمر کا صرف منہ دیکھتے رہ گئی۔ کل ساتھ والی باجی نے بھی یہی کہا تھا مطلب لوگوں کی نظروں میں وہ سب آرہا تھا آرہا تھا جو زین اور نیہا نے خود سے بھی چھپایا تھا
****
نیہا زین نے پکارا میں چاہ رہا تھا کے عمر کو کسی اچھے سی physician کو دیکھادے کیا پتا جو ہم سوچ رہے ہے ایسا نا۔ہو ہمارا وہم ہو۔ ۔۔۔اور اگر وہم نا ہوا تو؟ دعا کرو زین نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔کیا دعا کروں میں زین؟ یہ کیسی تکلیف ہے؟ ہم دنیا کو کیسے منہ دیکھائے گے ۔ہم کیسے پالے گے اسکو۔ہم کیا کرے گے؟ نیہا نے رونا شروع کردیا۔ ۔۔کل عمر کو تیار رکھنا ڈاکٹر کے لے جاونگا اسکول مت بھیجنا اس کو زین نے بات بدلی۔
****
امی کھسرا کیا ہوتا ہے؟ ؟؟ عمر نے معصومیت سے پوچھا جو اپنی۔ ماں کی بازو پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا نیہا کی روح تک کانپ گئی یہ کہا سے سنا ہے تم نے؟ امی پارک کھیلنے گیا تھا تو وہاں عامر کی کزن نے کہا تھا بیٹا ایسا کچھ نہیں ہوتا سوجاؤ ۔۔۔عمر تو سوچ می ڈوبا آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا
لیکن نیہا آنے والے کل کے طوفان کا سوچ رہی تھی
۔۔۔۔
نیہا کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی وہ کسی سے دل کا حال بھی نہیں کہ سکتی تھی کہ اپنا پیٹ ننگا کرنے والی بات تھی۔ آخر فجر کے قریب اس نے مصلہ بچھایا اور اللہ‎ کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنے لگی "اللہ‎ میں تو اپنی نمازوں کی بھی پکی نہیں ہوں میں نے بغیر مطلب کبھی آپ کو یاد نہیں کیا میں جانتی ہوں یہ تکلیف میرے اپنے اعمال کی ہے میری اپنی کوتاہیاں ہیں یا اللہ‎ پلیز مجھے معاف کردے میری اولاد کو نا تکلیف میں ڈال اللہ‎ پلیز جو ہم سمجھ رہے ہے۔ ویسا کچھ نا ہو" نیہا روتے روتے مصلے پر ہی سوگئی تھی۔ ۔۔
***
اگلے دن جب زین اور عمر ڈاکٹر کے پاس سے اے تو گھر میں کہرام مچ گیا۔نیہا نے تو ڈھاڑے مار مار کر رونا شروع کر دیا۔اللہ‎ نے انکو ایک ایسے انسان کی پرورش سونپ دی تھی جسکو معاشرہ ہیجڑا کہتا ہے۔ نیہا کی آواز اونچی ہوتی جارہی تھی۔زین نے گھر کے دروازے اچھی طرح بند کیے کہ گھر سے باہر آواز نا جائے اور خود گھر سے نکل گیا۔بچیوں نے جب گھر کا ماحول دیکھا تو چپ کر کے بستر میں دبک گئی۔عمر ان کے پاس ایا تو اسکو غصے سے ایسے گھوریاں دی کہ دیکھو تمھاری وجہ سے کیا ہورا ہے۔بیچارہ شرمندہ ہوکر چھت پر چلا گیا۔
***
دس سالہ عمر چھت کے کونے میں بیٹھا رو رہا تھا یا اللہ‎ ڈاکٹر نے ایسا کیا کہا ہے کہ امی رو رہی ہے آپیاں غصے سے دیکھ رہی ہیں۔ میں نے کیا کیا ہے اب تو میں homework بھی ٹائم پر کرتا ہوں ۔تنگ بھی نہیں کرتا پھر سب کیوں ایسے کرہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہی میری پٹائی تو نہیں ہونے والی۔۔۔اتنے میں نیہا کے آواز آئی جو عمر کو ڈوھندڈ رہی تھی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *