Pehchan by Hadia Naveed NovelR50768 Pehchan by Hadia Naveed Episode05
No Download Link
788.3K
7
Rate this Novel
Pehchan by Hadia Naveed Episode05
Pehchan by Hadia Naveed Episode05
گرو جی میں نے اپنی بڑھاپے کی کمائی ان پر لوٹا دی۔جنکو میں نے دیکھا بھی نہیں۔میں نے ادھار چڑھا لیا۔میں نے بھیک مانگی۔ آپ تو جانتے ہے میں نے عمر کے آنے کے بعد بھیک مانگنا چھوڑدی تھی۔میں نے پولیس کے ڈنڈے کھائے کے میرے ماں جاوں کو ضرورت ہے میری پر نہیں انکو میں نہیں انکو پیسوں کی ضرورت تھی۔انکو ایک دھتکارے ہوئے ہیجڑے کی بھیک کی ضرورت تھی۔۔۔چاندنی گرو جی کے سامنے نیچے ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھی آنسو بہا رہہی تھی ۔بڑی شان سے انہوں نے بھیک کے پیسوں سے میری بہن کو رخصت کیا ہوگا ۔انکو تب غیرت نہیں آئی ہوگی؟چل بس کردے چاندنی بھول جا۔۔بچہ بھی پریشان ہورہا ہے اسی کا دھیان کر لے ہمارے ہوتے ہوئے تجھے کیا ضرورت ہے ان ہرجائیوں کی؟بھول جا میری بچی۔۔۔گرو جی چاندنی سیدھی ہوکر بیٹھی ایک بات بتائے ایمان سے دل پر ہاتھ رکھ کر کیا میری ماں کو اس فراڈ کا پتا ہوگا؟ کیا اس نے روکا نہیں ہوگا کیا اسکو میری یاد نہیں آتی ؟ بس کردے چاندنی تیری کوئ ماں ہوتی تو تو یہاں نا ہوتی۔ہم سب کی ماؤں کی مامتا ہمیں یہاں بھیجتے ہی مر گئی تھی۔اب تو بھی سمجھ جا۔۔۔۔اور چاندنی کی سیسکیاں اونچی ہونے لگی جیسے آج ہی اس کے گھر والے اسکو یہاں چھوڑ کر گئے ہو ۔
****
عمر بے دلی سے صحن میں پش اپس لگا رہا تھا۔چاندنی اتنے دنوں کے بعد بھی نہیں سنبھلی تھی۔کبھی سارا دن کمرے میں بند رہتی۔کبھی صبح کی نکلتی رات کو آتی کوئی نہیں جانتا تھا وہ کہاں جاتی تھی۔عمر سے بھی خاص بات نہیں کرتی تھی۔مکیپ اور تصویریں بھی چھوڑدی تھی۔عمر یہ سب سوچ رہا تھا کے رانی گھر میں داخل ہوئی۔عمر بابا چاندنی کدھر ہے؟۔اپنے کمرے میں ہے۔چل میں دیکھتی ہوں بڑے دنوں سے ملی نہیں۔رانی کمرے کی طرف بڑھی اور تھوڑی دیر بعد ہی مایوس لوٹ آئی۔وہ تو دروازہ ہی نہیں کھول رہی رانی عمر کے پاس پڑی چارپائی پر بیٹھتے بولی۔آگ لگے مردود ماں باپ کو فساد ڈال گئے ۔بس کردے رانی ایسے مت کہا کر۔۔۔عمر بولا۔۔اچھا نہیں کہتی تو بتا سنا ہے تیرے انگریز دوست نے بال رنگوا لیے ہے؟نا تو اسکو سمجھاتا نہیں ہے؟اس کے ماں باپ نہیں ہے؟اسکو سمجھا ہماری برادری کو بدنام نا کرے تو میری بات کرانا میں سمجھاونگی ۔۔۔اور عمر کا پش اپ مس ہوا اور وہ زمین پر اوندھے منہ لیٹا سوچ رہا تھا کہ شکر ہے واٹسن یہاں نہیں ہے ورنہ وہ اب تک گنجا ہوچکا ہوتا ۔۔
***
اسلام آباد کے چھوٹے سے کیفے میں نور کچن میں شیلف کے سامنے روہانسی کھڑی پیاز کو گھور رہی تھی۔ٹھیک ہے وہ شیف بن رہی تھی اسکا مطلب یہ تو نہیں کے اسکو پیاز بھی کاٹنا آتا ہو۔اس کے حصے کا پیاز اسکی دوست کاٹ کر دیتی تھی پر آج وہ اپنے انسٹیٹیوٹ کے بجائے کسی اور جگہ پریکٹیکل دینے آئی تھی اور اب رونے والی ہورہی تھی۔کسی سے مدد تو مانگ سکتی تھی پر جھجک رہی تھی اس سے پہلے وہ کچھ کرتی سامنے ایک سٹوڈنٹ لڑکے نے کٹی پیاز کا بول انچارج کی نظر سے بچا کر نور کے سامنے رکھ دیا۔نور نے اسکو دیکھا نظروں ہی میں شکریہ ادا کیا اور کام میں مصروف ہوگئی۔بعد میں اسکو وہ لڑکا نظر نہیں آیا اور نور اپنے محسن کو نہیں دیکھ سکی۔
***
چاندنی اپنی ہی سوچ میں مگن پراندہ لہراتی گھر کی طرف جا رہی تھی کے پیچھے سے رانی کی آواز نے روک دیا۔۔کیا ہے؟ چاندنی نے پوچھا وہ تجھ سے عمر کے بارے میں بات کرنی تھی۔ہاں بول وہ نا میں نے کل عمر کو سیگریٹ پیتے دیکھا تھا۔مجھے دیکھتے ہی اس نے چھپا لیا ۔۔۔پر اگر تجھے سوگ سے فرصت مل گئی ہو تو بچے پر بھی دھیان دے دے۔خراب ہورا ہے ۔۔بڑا مان ہے نا اس پر کہیں وہ ٹوٹ ہی نا جائے ۔۔۔رانی چاندنی کو بھڑکاتے ہوے بولی۔۔۔۔چاندنی چپ چاپ گھر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
****
چاندنی باجی چاندنی باجی جلدی چلے عمر بھائی ابھی پیچھے کی طرف سٹا لگا رہے ہے جلدی چلے۔۔۔چاندنی نے محلے کا ایک بچہ عمر کی نگرانی پر لگا دیا تھا۔اب وہ رپورٹ پیش کرہا تھا ۔۔۔چل اب تو کٹ لے واپس آکر تجھے کمیشن دیتی ہوں چاندنی جلدی جلدی چھاپا مارنے نکل گئی۔۔
***
عمر نے ابھی سیگریٹ کا پہلا کش لیا ہی تھا کے چاندنی کی آواز آئی کمینے بے غیرت ۔۔۔۔اور اپنی چپل اتار کر عمر کو مارنے لگی۔۔۔ہماری امیدوں کو تو سٹے میں دھواں کرہا ہے۔ بے شرم ترے باپ کو بتاوں ؟ اچھا نام روشن کرہا ہے ہماری تربیت کا۔۔چاندنی سناتی جارہی تھی اور عمر کو جوتا مارتی۔ جارہی تھی۔۔چاندنی پاگل ہوگئی ہے چھوڑ جوان بچہ ہے . . گرو جی بھی ہانپتے کانپتے پہنچ کر چاندنی کو پیچھے کرنے لگے لیکن چاندنی کا ہاتھ رک ہی نہیں رہا تھا۔۔چھوڑ دے گرو جی آج اسکو اپنا غصہ نکل لینے دے۔ ۔۔۔عمر بولا
میں غصّہ نکل رہی ہوں؟ اپنے کرتوت دیکھ انگریزوں سے دوستیاں کر کے یہ سیکھا ہے چاندنی نے۔ عمر کے کان کھینچے
بس کردے چاندنی دو تین لوگ نے اسکو پیچھے کیا۔ادھر دے چاندنی نے عمر کے ہاتھ سے سیگریٹ کی ڈبی کھینچی ماچس بھی دو۔۔۔چاندنی عمر کی جیب ٹٹولنے لگی اور لائٹر برآمد کیا۔لائٹر ہاتھ میں لیتے ہی چاندنی نے چونک کر عمر کو دیکھا۔اور الٹے قدموں مڑ گئی۔۔۔کیا ہوا چاندنی اور نہیں مارنا کیا؟ بہت شوق ہے نا تمہیں ہم سے جان چھڑانے کا۔عمر کی آواز گونجی۔۔پورا مجمع حیران سا تماشا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اور چاندنی چور بنی کھڑی تھی۔ ۔۔جو راحت تمہیں اس نشے سے ملتی ہے وہ مجھے بھی لینے دو نا۔۔ایک ہی دکھ ہے نا ہم سبکا تو علاج بھی ایک ہی ہوگا لاؤ دو ہم اکھٹے یہ کام کرتے ہے۔۔۔کیا میری اور گرو جی کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ ہمارا پیار کافی نہیں تھا جو اپنے پچھلوں کے لیے ہمیں تکلیف دے رہی ہو۔۔کیا کرتی پھر رہی ہے چاندنی گرو جی نے کہا۔۔۔معاف کردے گرو جی غلطی ہوگئی۔۔۔تو نے نشہ شروع کردیا وہ تو معاف کردونگی لیکن میرے بچے کو بغیر غلطی کے مارا ہے وہ نہیں بخشوں گی۔۔۔۔چاندنی نے عمر کو شرمندہ نظروں سے دیکھا وقت ایک بار پھر پیچھے گیا تھا۔۔۔وہ رات واپس آئی تھی ایک پل کے لیے اور اب کی بار عمر نے چاندنی کو خود سے لگا لیا تھا ۔۔۔۔اس بار چاندنی کو جھکنا نہیں پڑا تھا عمر اس سے بھی اونچا ہوگیا تھا اور اب رانی سبکو اپنے اور عمر کی سکیم کا بتا رہی تھی کے کیسے انہوں نے چاندنی کو پکڑا ۔۔۔
اگلے روز صبح چاندنی کے کمرے سے گانوں کی آواز آرہی تھی جسکا مطلب تھا چاندنی موو اون کر چکی ہے۔عمر اور گرو جی نے سکھ کا سانس لیا تھا
***
زندگی معمول کے مطابق گزرتی چلی جا رہی تھی۔عمر نے انٹر کے امتحان دیے تھے اور بستی کے بچوں کو پڑھا بھی رہا تھا اور ماہا کے مشورہ کے مطابق فری لانسینگ بھی کرہا تھا۔حالات بہت بدل گے تھے بستی کے۔خواجہ سروں نے اپنی عزت خود کرنی شروع کردی تھی اور مختلف کاروبار سے منسلک ہونا شروع ہوگے تھے۔عمر نے مختلف یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجنیئرنگ میں اپللاکیا تھا اور اب اپنے رزلٹ کا انتظار کرہا تھا۔
***
مس نور آج آپ کے ساتھ مسٹر موحد بھی انٹرنشپ سٹارٹ کرے گے۔انکا ویٹ کر لیتے ہے پھر ایک ساتھ ہی انسٹرکشنز دونگا۔سر طلحہ نے کہا جو ریسٹورنٹ کے مینیجر تھے۔سر میں آسکتا ہوں اندر ایک لڑکے نے دروازے سے جھانکتے ہوے کہا۔یس پلیز آیے مسٹر موحد یہ ہے مس نور ،مس نور یہ ہے مسٹر موحد۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔اوہ یہ تو وہی ہے جس نے پیاز کاٹ کر دی تھی۔نور نے سوچا۔ارے یہ اس لڑکی کو تو پیاز بھی کاٹنا نہیں اتا اس کے ساتھ کیا کام کرونگا موحد نے دل میں کہا۔۔اوکے سو آپ دونوں ابھی پاکستانی فوڈ کے سیکشن میں ٹرین ھوگے اس کے بعد آپ کو ڈفرنٹ sections میں شفٹ کردیگے اب ے میں آپکو آپکا کچن دکھاتا ہوں شیف عنایت آپکو ٹرین کرے گے
دونوں سر طلحہ کے پیچھے چل رہے تھے۔اس دن کے لیے تھنکس نور بولی۔۔۔نو پرابلم ای ہوپ آپکو پیاز کتنا اگیا ہوگا۔۔۔۔۔موحد نے سوالیہ نظروں سے نور کو دیکھا۔۔۔نور نے سر انکار میں ہلا دیا تو شیف کیوں بنی ہے آپ ؟ موحد نے چڑ کر کہا نور چلتے چلتے رکی موحد کو گھور کر دیکھا اور بنا جواب دیے اگے بڑھ گئی۔
***
زین لیپ ٹاپ پر مصروف تھا کے نیہا نے پکارا زین نور کی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے ؟ سوچنا کیا ہے تم کوئی اچھا رشتہ دیکھو۔۔۔پر زین عمر کے بارے میں کیا بتاے گے لوگوں کو؟ جو سچ ہے زین نے جواب دیا لوگ رشتہ نہیں دیگے۔۔۔۔دنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہیں زین لیپ ٹاپ بند کرتا بولا چلے پھر میں بات چلاتی ہوں۔۔ نیہا نے جواب دیا۔۔
***
نور اور موحد مہارانا طریقے سے کباب سیخ پر لگا رہے تھے دونوں کا تیسرا دن تھا۔دونوں نے آپس میں کوئی بات نہیں کی تھی اس دن کے بعد. کتنی روڈ ہے موحد نور کو دیکھتے ہوے سوچ رہا تھا ۔۔۔اوچ موحد چلایا کیا ہوا نور نے مڑ کر دیکھا تو سیخ کی نوک نے عمر کے سیدھے ہاتھ کو زخمی کردیا تھا۔ اور اب خون بہہ رہا تھا۔شیف عنایت نے موحد کے زخم پر پٹی کردی تھی اب وہ نور کے پاس بیٹھا اسکو دیکھ رہا تھا اور نور اس کے حصّے کے کباب سیخ پر لگا رہی تھی۔۔۔ویسے تم اتنی بری نہیں ہو جتنا میں سمجھتا تھا موحد نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔نور نے اسکو ابرو اچکا کر دیکھا۔۔۔فرینڈز ؟ موحد دوبارہ بولا۔۔۔نو نور نے جواب دیا اور پلٹ گئی۔
***
گرو جی چاندنی کہاں ہو سارے عمر چلاتا ہوا سب کو بلا رہا تھا۔۔کیا ہوگیا ہے چاندنی پراندہ لہراتے ہوئے بولی گرو جی عمر گرو جی کی طرف بڑھا۔۔گرو جی میرے پیمنٹ آگئی ہے وہ بھی ڈالر میں عمر خوشی سے چہچہاتا بولا۔ ہے میں صدقے گرو جی عمر کی بلایں لیتے ہوے بولے چاندنی اب تو دیگوں کا آرڈر دیدے آج پوری بستی کو میں کھانا کھلاآونگا ۔وہ سب بعد میں عمر بولا ابھی آپ سب کو میرے ساتھ باہر چلنا ہے میں آپ سبکو کھانا کھلاآونگا۔
نہیں پتر گرو جی بولے میں تو نہیں جاسکتی لیکن تم چاندنی کو لے جاؤ میرے تو گھٹنے ہی جواب دیگائے ہے۔ٹھیک ہے اور چاندنی تم آج برقع نہیں پہنوگی تم ایسے ہی چلوگی اب جلدی سے تیار ہوجاؤ میں آپی کو کہ دوں۔۔۔ٹھیک ہے میں ریڈ ہیل پہنوں گی عمر نے دھیان نہیں دیا اور فون ملانے لگا
***
نور ماہا عمر چاندنی ایک معروف ہوٹل میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے سب انکو مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے چاندنی کی وجہ سے۔
I am so proud of you umer
نور نے کہا آپی آپ سب کی وجہ سے ہے یہ سب۔تمہاری بھی محنت ہے بےبی نور مسکراتے ہوے بولی آپ بتاے آپ کی انٹرنشپ کیسی جارہی ہے۔۔۔عمر نے پوچھا ایسا کرو تم لوگ بیٹھو میں گری میں ویٹ کرلیتی ہوں چاندنی لوگوں کی نظروں سے پریشن ہوتی بولی۔۔۔ارے نہیں ماہا بولی ہم سب اکھٹے چلتے ہے ۔۔۔آپ سب جے میں بل دیکر اتا ہوں
چاندنی ماہا اور نور کار کے پاس کھڑے عمر کا ویٹ کرے تھے کے ایک لڑکوں کا گروپ چاندنی کو ہراساں کرنے لگا۔ایک لڑکے نے چاندنی کا پراندہ ہی پکڑ لیا۔چھوڑو اسے نور اسکو چھڑانے لگی ماہا نے سیکورٹی گارڈ کو آواز دی لیکن وہ ایک کھسرے کا گارڈ نہیں تھا اسکی عزت کا محافظ نہیں تھا تبھی تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔۔۔لڑکے چاندنی کی طرف بڑھ رہے تھے چاندنی آہستہ آہستہ قدم پیچھے کی طرف کر رہی تھی۔۔۔عمر نے ریسٹورنٹ سے نکلتے ہوے چاندنی کو دیکھا تھا اور چلایا تھا چاندنی رک جاؤ نور اور ماہا چاندنی کو سائیڈ پر کرنے کے لیے بھاگے تھے لیکن بہت دیر ہوچکی تھی سوزوکی چاندنی کو ٹکر مار کر جا چکی تھی۔۔۔ عمر چاندنی کی طرف بھاگا تھا وقت تھم گیا تھا چاندنی کی ہیل سڑک پر پڑی تھی نور کی ماہا کی چیخیں گونج رہی تھی۔اور عمر ساکت رہ گیا تھا۔ساکت۔
***
آپ انکو یہاں سے لے جائے ہم انکا علاج نہیں کر سکتے ہمیں اجازت نہیں ہیں۔۔ڈاکٹر نے زین سے کہا پلیز ڈاکٹر خون بہت بہہ رہا آپ پلیز ICU میں شفٹ کر لے بہت دیر ہوچکی ہے پہلے ہی انسانیت کی خاطر زین نے ڈاکٹر کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔ٹھیک ہے ہم شفٹ کرلیتے ہے ICU میں اس کے بعد آپ انکو یہاں سے لے جاۓ گے جی ٹھیک ہے ڈاکٹر زین نے کہا ڈاکٹر چاندنی کی طرف بڑھا جہاں عمر نے چاندنی کا ہاتھ سختی سے پکڑا ہوا تھا۔ ۔ ۔ اور تب تک نہیں چھوڑا جب تک چاندنی آپریشن روم میں نہیں چلی گئی تھی
***
دو گھنٹوں بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے تھے ۔گرو جی زین رانی ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔عمر ان سب سے بہت دور کھڑا تھا اسکو ڈاکٹر کے ہلتے لب نظر آرہے تھے اور کانوں میں آواز چاندنی کی آرہی تھی ۔۔۔
جاری ہے 
