Pehchan by Hadia Naveed NovelR50768 Pehchan by Hadia Naveed Episode06
No Download Link
788.3K
7
Rate this Novel
Pehchan by Hadia Naveed Episode06
Pehchan by Hadia Naveed Episode06
دو گھنٹوں بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے تھے ۔گرو جی زین رانی ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔عمر ان سب سے بہت دور کھڑا تھا اسکو ڈاکٹر کے ہلتے لب نظر آرہے تھے اور کانوں میں آواز چاندنی کی آرہی تھی ۔۔۔۔
میں تم لوگوں کا گاڑی میں ویٹ کر لیتی ہوں ۔۔۔چاندنی رک جاؤ۔عمر کے لب ہلے تھے۔ڈاکٹر نے پتا نہیں کیا کہا تھا کے زین نے عمر کی طرف دیکھا تھا۔
اور پھر آپریشن تھیٹر سے چاندنی کا بے جان اور سستا وجود لایا گیا تھا۔رانی اور گرو جی کی چیخیں بلند ہورہی تھی۔عمر اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا اسکا ایک آنسو بھی نہیں بہا تھا۔وہ ساکت تھا۔ساکت۔
****
گرو جی کے صحن کے بیچ میں چاندنی کا جنازہ پڑا تھا۔گرو جی بےبس سے اسکے پاس بیٹھے تھے۔کے رانی گرو جی کے پاس بولی گرو جی چاندنی کے گھر اطلاع کردی ہے وہ آرہے ہیں۔چلو شکر ہے جس گھر کبھی زندہ نا گئی وہاں مر کر تو جارہی ہے نا۔۔
لوگ پاس بیٹھے ڈاکٹر کو کوس رہے تھے جس نے اتنی دیر لگادی تھی اور چاندنی کو بچایا نہیں بس اپنے ہسپتال کی پڑی تھی۔
***
رات کافی ہوگئی تھی۔کافی لوگ اپنے گھروں کو جا چکے تھے گرو جی کمرے میں لیٹ گئے تھے۔عمر چاندنی کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔چاندنی عمر کے لب ہلے تھے لیکن آواز نہیں آئ تھی۔زندگی میں پہلی موت دیکھ رہا ہوں وہ بھی تمہاری۔چاندنی ایک بات تو بتاؤ کیا میرا جنازہ بھی ایسا ہوگا؟کیا میرا جنازہ بھی گھر والوں کے انتظار میں رکھ دیا جایگا؟بتاؤ نا چاندنی۔عمر نے چاندنی کو ہلایا تھا۔عمر زین نے عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کے دروازہ بجنے لگا۔کون ہے رانی نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھا تھا۔چاندنی کے بھائی۔عمر نے بے اختیار چاندنی کی طرف دیکھا تھا کے وہ خوشی سے اٹھ تو نہیں گئی۔دو آدمی گھر کے اندر داخل ہوے تھے۔گرو جی بھی صحن میں آگے تھے۔دونوں میت کے پاس گے چہرے پر ایک نظر ماری اور گرو جی سے کہنے لگے اب ہم نکلتے ہے آپ نے جو کرنا ہے اسکا کرلے اور ایک آدمی نے گرو جی کے ہاتھ میں چند نوٹ پکڑا دیے ۔۔۔۔گرو جی کے سامنے سجدے میں پڑی چاندنی آگئی جو بھائی کے صرف فون کرنے پر سجدے میں گر گئی تھی اپنی کمائی لوٹا گئی تھی۔بھائی صاحب فردوس نے چاندنی کے بھائیوں کا رستہ کاٹا ۔دیکھیے ہمیں لگا آپ چاندنی کی میت ساتھ لیکر جائے وہ تو آپ لیکر نہیں جارہے پر جنازہ تو پڑھاتے جائے مولوی ہمارےجنازہ نہیں پڑھاتے دیکھو ان میں سے ایک آدمی بولا ہم شریف لوگ۔۔فردوس زین کی آواز آئ چاندنی وصیت کر کے مری تھی کے اسکا جنازہ عمر پڑھاے گا تم دروازہ بند کردو ۔عمر بیٹا نماز پڑھاو۔نہیں بابا فجر ہونے والی ہے اس کے بعد۔کیا کہ رہا ہے عمر ہم جیسوں کے جنازے رات کے اندھیروں میں اٹھٹے ہے رانی روتے ہوے بولی۔۔۔پر چاندنی کا جنازہ میں خود دن کی روشنی میں پڑھاآونگا۔عمر فیصلہ کن لہجے میں کہتا کمرے میں چلا گیا۔۔گرو جی کے ہاتھوں میں دیے گے نوٹ زمین پر گرے تھے۔ہماری انسانیت کی طرح۔
***
عمر چھت پر بیٹھا صبح اٹھنے کی دعا یاد کرہا تھا کے چاندنی گرو جی سے بولی اسکو سب سے پہلے جنازے کی دعا یاد کروادے کوئی تو ہو ہمارا جنازہ پڑھانے والا مولوی تو پڑھاتا نہیں ہے۔۔۔بکواس نا کر چاندنی سچ کہ رہی ہوں گرو جی۔۔۔۔عمر ماضی میں کھویا تھا کے فجر کی اذان شروع ہوگئی اور وہ باہر چلا گیا
***
چاندنی کا جنازہ قبرستان کی جانب جارہا تھا۔چاندنی میں بھی رونا چاہتا ہوں پر مجھے پہلے فیصلہ کرنے دو کے تمہارے مرنے پر رو انسانیت کے مرنے پر بین کروں یا اپنا انجام سوچ کر آنسو بہاوں ۔پر رکو چاندنی میں تو مردوں کی طرح رہ رہا ہوں۔ اور مرد تو نہیں روتے نا۔۔۔میں نہیں روسکتا۔۔۔انہیں سوچوں میں عمر چاندنی کو دفنا کر واپس آگیا تھا
***
چاندنی کے ختم میں نیہا ماہم اور نور نے بھی شرکت کی تھی۔ماہا اور نور ابھی تک ذہنی طور پر ڈسٹرب تھی۔انہوں نے اپنی نظروں کے سامنے چاندنی کو مرتے دیکھا تھا۔واپسی پر انہوں نے عمر کو بھی چلنے کو کہا تھا مگر اس نے انکار کردیا تھا۔
***
عمر لیپ ٹاپ کے سامنے آکر بیٹھا تھا واٹسن ویڈیو کال پر موجود تھا۔عمر کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہورہی تھی۔عمر سر جھکاے بیٹھا تھا۔عمر وہ بہتر جگہ پر گئی ہے۔ریلیکس۔واٹسن بولا تھا۔
LOCkTHE door umer
عمر نے اٹھ کر دروازہ بند کیا تھا۔
TurN of the light.
واٹسن پھر سے بولا تھا عمر نے لائٹ بھی بند کردی اور سوفے . . سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔تھوڑی دیر میں کمرے میں عمر کی سسکیاں گونج رہی تھی۔چاندنی عمر آہستہ سے اسکو پکارنے لگا۔۔۔آہستہ آہستہ عمر کی سسکیاں بلند ہوتی جارہی تھی اب وہ دھاڑے مار مار کر رو رہا تھا۔ وہ مرد نہیں تھا وہ عورت بھی نہیں تھا۔وہ وکٹم تھا۔وہ سترہ سال کا انسان اب تکلیف کی آخری حد پر تھا کمرے میں صرف لیپ ٹاپ کی روشنی تھی۔۔۔عمر نے کمرے کی چیزیں اٹھا کر پھینکنا شروع کردی تھی۔۔۔وہ چیخ رہا تھا۔۔۔۔رو رہا تھا۔۔۔واٹسن سکرین کے پار بیٹھا ہونٹ بھینچے عمر کو دیکھ رہا تھا۔باہر گرو جی دروازہ پیٹ رہے تھے عمر میرے بچے مت پریشان کر مجھے۔
***
زین عمر کو زبردستی گھر لے آئے تھے۔چاندنی کو مرے پانچ دن ہوگئے تھے۔پر عمر نہیں سنبھلا تھا۔نیہا اسکی حالت دیکھ کر بہت پریشان تھی۔اس نے زین سے کہ دیا تھا کے وہ عمر کو واپس نہیں بھیجے گی۔چاندنی کے سوئم والے دن عمر کا رزلٹ بھی آگیا تھا۔عمر نے نوے فیصد نمبر لیے تھے۔لیکن اسکی خوشی منانے کے لیے چاندنی نہیں رہی تھی
***
بابا نور نے زین کو پکارا جو گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا۔جی؟ بابا عمر نے جن جن یونیورسٹی میں اپلائی کیا تھا میرٹ کے باوجود عمر کا نام نہیں آیا میں نے کال کر کے پوچھا تو وہ کہتے کے ایسے بچوں کو وہ لاسٹ میں کنسیڈر کرتے ہے تا کے یونی کا ماحول نا خراب ہو ۔۔۔۔اچھا بیٹا میں واپس آکر اسکو دیکھتا ہوں زین نے کہا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
نور اور موحد کی انٹرنشپ ختم ہونے میں تین دن رہ گئے تھے۔نور تیز تیز قدم اٹھاتی کچن کی طرف بڑھ رہی تھی زین سے بات کرنے کی وجہ سے وہ لیٹ ہوگئی تھی۔ابھی وہ کچن کا دروازہ کھول ہی رہی تھی کے موحد کی آواز آئی سر طلحہ نے کیا سوچ کر نور کو ہائیر کرہے ہےوہ جونیئر ہے مجھ سے۔پیاز تک سے تو allergy ہے۔اور سر اسکو رکھ رہے میں نظر نہیں آیا ؟روڈ سی تو وہ ہے۔سہی ہے بھئ لڑکی ہونا ہی سب سے بڑا پلس پائنٹ ہے۔بولتے بولتے موحد مڑا تھا اور اسکی نظر نور پر پڑی تھی جو آنکھوں میں چبھن لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ارے بھائی اب تم زیادتی کرہے ہو اچھی خاصی سلیقہ مند بچی ہے۔شیف عنایت نور کی موجودگی سے بے خبر بول رہے تھے۔نور نے افسوس سے سر ہلایا اور واپس پلٹ گئی۔
***
عمر تمہارا کسی لسٹ میں نام نہیں آیا میرٹ بہت ہائی تھا۔اب بتاؤ کیا کرنا ہے؟زین نے رات کے کھانے کے وقت عمر سے پوچھا تھا۔بابا مجھے بھی پتہ ہے نام کیوں نہیں آیا۔عمر نے پلیٹ پیچھے کی اور اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔اب کیا ہوگا بابا ؟ ماہا پریشانی سے بولی تھی۔دیکھتے ہے بیٹا۔۔۔۔سب کے چہرے پر پریشانی واضح تھی لگ رہا تھا ساری محنت ضایع جانے والی ہے۔
***
ماما ماما زین درد سے دہرا ہوتا جارہا تھا۔پلیز ڈاکٹر آپ اسکو ایڈمٹ کر لے اسکی حالت بہت خراب ہورہی ہے زین نے receptionist کی منت کی تھی۔دیکھے سر جب تک ڈاکٹر نہیں آجاتے ہمیں نہیں پتا انکو زنانہ وارڈ میں ڈالنا ہے یا مردانہ۔۔۔اب صبر کرے
ماما۔کچھ کرے مجھے چاندنی کی طرح نہیں مرنا عمر نے اونچا رونا شروع کردیا تھا۔۔ عمر میرے بچے اٹھو کیا ہوا ہے نیہا عمر کو ہلا رہی تھی سب اس کے رونے کی آواز سنکر کمرے میں آگے تھے عمر نیند سے اٹھا تھا۔اور اٹھتے ہی زین کے گلے لگ کر رونے لگا تھا۔بابا یہ سب مجھے مار دیگے۔بابا مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز بابا۔۔ مجھے یہاں سے بھیج دے۔۔ریلیکس بیٹا جیسا آپ کہو گے ویسا ہی ہوگا۔۔۔عمر کے آنسو نہیں تھم رہے تھے۔اور اسکو دیکھ کر اس کے گھر والوں کا دل باہر آرہا تھا۔۔۔
***
عمر نے واٹسن کی مدد سے california کی اچھی یونی سے لیکر بیکار یونی تک کی ڈیٹس نوٹ کرلی تھی داخلے کی۔ زین نے ویزا کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی تھی۔عمر واپس گرو جی کے پاس چلا گیا تھا اس نے گرو جی کو کچھ نہیں بتایا تھا کے کہیں وہ اسکو روک نا لے۔
***
افففف کیا تھا اس لڑکی میں جو بار بار وہ میری نظروں کے سامنے آرہی ہے۔موحد کروٹ بدلتے ہویے بولا۔ ۔ ۔ اور کچھ سوچتے ہوے نور کا نمبر ملانے لگا..آگے سے کال کاٹ دی گئی تھی۔شٹ موحد نے فون پھینکا تھا۔
***
نور رکو میری بات سنو۔۔۔نور آج اپنا انٹرنشپ سرٹیفکیٹ لینے ای تھی کے واپسی پر موحد نے نور کا رستہ روکا تھا۔کہو نور نے بے رخی سے کہا تھا سوری فور ایوریتھنگ موحد نے شرمندگی سے کہا تھا۔اٹس اوکے۔۔۔۔نور بولی پلیز ایک کپ کافی پی لو میرے ساتھ اوکے نور نے پتہ نہیں کیا سوچ کر کہا تھا ۔
***
نور اور موحد اپنی اپنی کافی سامنے رکھے خاموش بیٹھے تھے کے موحد گلہ کہنکارتے ہوے بولا اگے کیا ارادے ہے پیاز کاٹنا سیکھونگی نور نے سادگی سے کہا تھا۔نور میں نے معافی مانگی ہے نا۔۔ٹائم کیا ہورہا ہے گوٹ کی ایپیسوڈ آنی ہے نور نے کہا۔تم گوٹ دیکھتی ہو؟ موحد نے چونک کر پوچھا ہاں۔۔۔اور تم ہاں نا میں ڈای ہارٹ فین ہوں
اگلے دو گھنٹے دونوں صرف گوٹ ڈسکسس کرتے رہے تھے۔
***
نور اور موحد کی دوستی پسندیدگی میں بدلتی جارہی تھی۔جس سے ماہا اور عمر بھی واقف تھے۔عمرکا داخلہ california کی بہتر یونی میں انجینرنگ میں ہوگیا تھا۔۔۔اور بہت خوش تھا۔ اسکو بھیجنے کا دل تو کسی کا نہیں تھا پر اب اپنے پاس روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
***
نور میری امی تمہارے گھر آنا چاہتی ہے۔موحد اور نور مارگلہ کی پہاڑیوں سے اتر رہے تھے کہ موحد بولا۔۔۔تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟نور کے چہرے پڑ ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔دونوں اب آمنے سامنے کھڑے تھے۔اندھیرا پھیل رہا تھا۔موحد نور نے سر جھکاے بولا تھا۔میری زندگی کے ایک چھپے سچ سے تم نا واقف ہو اور اگر میں نے تمہیں وہ بتا دیا تو آنٹی تو کیا تم بھی نہیں ملنا پسند کروگے مجھ سے۔۔۔
کیوں تم القاعدہ سے تعلق رکھتی ہو؟ موحد نے مسکراتے ہوے کہا۔
MOHID umer is not a boy.
موحد چونک گیا تھا۔
YOU mean …???
موحد نے الفاظ ادھورے چھورتے ہوے پوچھا
YEs
نور نے سر اٹھا کر جواب دیا۔
اوکے نور میں پھر ملتا ہوں تم سے۔۔۔موحد تیزی سے پارکنگ کی طرف گیا تھا اور کچھ ہی سیکنڈز بعد اسکی گاڑی تیزی سے گزری تھی۔
نور کے آنسو تیزی سے بہے تھے۔رات کا اندھیرا تیزی سے پھیلتا جارہا تھا لیکن ویرانی نور کے اندر اترتی جارہی تھی۔بڑی مشکل سے نور گاڑی تک گئی تھی۔گاڑی میں بیٹھتے ہی نور رونے لگی۔۔۔۔آج پھر وہ تنہا کھڑی تھی اس قصور کے باعث جو اسکا تھا ہی نہیں۔۔۔۔اور جو قصور تھا بھی نہیں۔
***
آپی حد ہے میں جارہا تھا نا تو کیا ضرورت تھی اسکو بتانے کی؟ عمر اور ماہا نور کو گھیرے بیٹھے تھے۔
I dont care baby
نور لا پرواہی سے بولی۔ آپی۔۔۔عمر کچھ بولنے ہی والا تھا کے نور بولی عمر تم میرے باپ مت بنو۔تم دس سال کے تھے تو ہم الگ ھوگے تھے اگر میں وہ سہہ گئی ہوں نا۔ تو یہ چار دن کی رشتے داری کچھ نہیں ہے۔کل کو میری اولاد میں کوئی کمی رہ گئی تو تب بھی یہ آدمی چھوڑ جاتا۔مجھے بزدل مرد نہیں چاہیے۔
اس نے چھوڑنے کی کوئی بات نہیں کی نور وہ واپس آسکتا ہے ماہا بولی تھی۔۔۔۔
نور کوئی جواب دیے بغیر کمرے سے نکل گئی تھی۔
***
گرو جی عمر گرو جی کے قدموں میں بیٹھتا بولا۔۔۔۔بول میرے بچے۔۔۔اجازت چاہئے۔۔۔۔باہر جارہا ہوں۔۔عمر آہستہ سے بولا
عمر گرو جی شاک سے بولے تھے تو بھی جارہا ہے؟
جاری ہے 
