Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehchan by Hadia Naveed Episode01

Pehchan by Hadia Naveed Episode01

میں نے تمہارے لیے اتنا کچھ کیا ہے زین تمہاری ماں کی باتیں برداشت کی خود کو مکمل بدل لیا۔تمہاری بچیاں تمہارا گھر سنبھالا۔میں نے ہر طرح کے حالات میں تمہارا ساتھ دیا ہے زین۔۔۔۔اور آج میں جب تم سے کچھ مانگ رہی ہوں تو تم مجھے مایوس کر رہےہو۔پلیز زین وہ تمہاری بھی اولاد ہے میں جہیز میں نہیں لائ تھی۔مت کرو اسطرح میں اسکو لیکر چلی جاؤنگی تم سب کی زندگیوں سے دور۔مان جاو۔۔۔زین نے اسکو ملامتی نظروں سے دیکھا اور کمرے سے نکل گیا۔کمرے میں صرف نیہا کی سسکیاں بچی تھی۔
***
ماسٹرز کے بعد نیہا کی زین سے شادی ہوگئ شادی کے روایتی پندرہ سالوں میں میں ہلچل تب ہوئ جب جڑواں بیٹیوں نور اور ماہا کے بعد انکا بیٹا عمر پیدا ہوا۔جیسے عمر بڑا ہو رہا تھا نیہا اس میں غیر معمولی تبدیلیاں محسوس کرہی تھی عمر زنانہ چیزوں کی طرف زیادہ مائل تھا پہلے تو زین اور نیہا بہنوں کی صحبت کا اثر سمجھتے رہے لیکن آہستہ آہستہ عمر بڑاہورہا تھا زین اور نیہا کے بدترین خدشہ صحیح ثابت ہوتا محسوس ہو رہا تھا
****
عمر کھانا کھانے کے لیے بیٹھا تھا اسکول سے اکر۔۔ امی میں کل سے اسکول نہیں جاؤنگا۔۔کیوں کیا تکلیف ہے تمہیںی؟نہا نے غصے سے پوچھا امی بچے میرا مذاق اڑاتے ہے کہ تم لڑکیوں کی طرح بولتے ہو اور چلتے ہو۔ ۔۔میں نہیں جاؤنگا بس۔نیہا عمر کا صرف منہ دیکھتے رہ گئی۔ کل ساتھ والی باجی نے بھی یہی کہا تھا مطلب لوگوں کی نظروں میں وہ سب آرہا تھا آرہا تھا جو زین اور نیہا نے خود سے بھی چھپایا تھا
****
نیہا زین نے پکارا میں چاہ رہا تھا کے عمر کو کسی اچھے سی physician کو دیکھادے کیا پتا جو ہم سوچ رہے ہے ایسا نا۔ہو ہمارا وہم ہو۔ ۔۔۔اور اگر وہم نا ہوا تو؟ دعا کرو زین نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔کیا دعا کروں میں زین؟ یہ کیسی تکلیف ہے؟ ہم دنیا کو کیسے منہ دیکھائے گے ۔ہم کیسے پالے گے اسکو۔ہم کیا کرے گے؟ نیہا نے رونا شروع کردیا۔ ۔۔کل عمر کو تیار رکھنا ڈاکٹر کے لے جاونگا اسکول مت بھیجنا اس کو زین نے بات بدلی۔
****
امی کھسرا کیا ہوتا ہے؟ ؟؟ عمر نے معصومیت سے پوچھا جو اپنی۔ ماں کی بازو پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا نیہا کی روح تک کانپ گئی یہ کہا سے سنا ہے تم نے؟ امی پارک کھیلنے گیا تھا تو وہاں عامر کی کزن نے کہا تھا بیٹا ایسا کچھ نہیں ہوتا سوجاؤ ۔۔۔عمر تو سوچ می ڈوبا آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا
لیکن نیہا آنے والے کل کے طوفان کا سوچ رہی تھی
۔۔۔۔
نیہا کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی وہ کسی سے دل کا حال بھی نہیں کہ سکتی تھی کہ اپنا پیٹ ننگا کرنے والی بات تھی۔ آخر فجر کے قریب اس نے مصلہ بچھایا اور اللہ‎ کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنے لگی “اللہ‎ میں تو اپنی نمازوں کی بھی پکی نہیں ہوں میں نے بغیر مطلب کبھی آپ کو یاد نہیں کیا میں جانتی ہوں یہ تکلیف میرے اپنے اعمال کی ہے میری اپنی کوتاہیاں ہیں یا اللہ‎ پلیز مجھے معاف کردے میری اولاد کو نا تکلیف میں ڈال اللہ‎ پلیز جو ہم سمجھ رہے ہے۔ ویسا کچھ نا ہو” نیہا روتے روتے مصلے پر ہی سوگئی تھی۔ ۔۔
***
اگلے دن جب زین اور عمر ڈاکٹر کے پاس سے اے تو گھر میں کہرام مچ گیا۔نیہا نے تو ڈھاڑے مار مار کر رونا شروع کر دیا۔اللہ‎ نے انکو ایک ایسے انسان کی پرورش سونپ دی تھی جسکو معاشرہ ہیجڑا کہتا ہے۔ نیہا کی آواز اونچی ہوتی جارہی تھی۔زین نے گھر کے دروازے اچھی طرح بند کیے کہ گھر سے باہر آواز نا جائے اور خود گھر سے نکل گیا۔بچیوں نے جب گھر کا ماحول دیکھا تو چپ کر کے بستر میں دبک گئی۔عمر ان کے پاس ایا تو اسکو غصے سے ایسے گھوریاں دی کہ دیکھو تمھاری وجہ سے کیا ہورا ہے۔بیچارہ شرمندہ ہوکر چھت پر چلا گیا۔
***
دس سالہ عمر چھت کے کونے میں بیٹھا رو رہا تھا یا اللہ‎ ڈاکٹر نے ایسا کیا کہا ہے کہ امی رو رہی ہے آپیاں غصے سے دیکھ رہی ہیں۔ میں نے کیا کیا ہے اب تو میں homework بھی ٹائم پر کرتا ہوں ۔تنگ بھی نہیں کرتا پھر سب کیوں ایسے کرہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہی میری پٹائی تو نہیں ہونے والی۔۔۔اتنے میں نیہا کے آواز آئی جو عمر کو ڈوھندڈ رہی تھی۔
***
عمر بیٹا کھانا کھالو امی بھوک نہیں ہے مجھے نیہا نے بغیر کچھ کہے نوالہ عمر کے منہ میں ڈالا اور عمر نے چپ کر کے کھا لیا۔ اسی طرح سارا کھانا کھانے کے بعد عمر سوگیا ۔ اس رات صرف عمر نے ہی کھانا کھایا تھا۔
***
دو دن گزر گے نیہا اور زین نے کوئی بات نہیں کی۔زین صبح آفس جاتا اور رات کو لیٹ ْتا۔تنگ اکر آخر
اس نے زین سے خود ہی بات کرنے کا سوچا۔زین کیا سوچا ہے عمر کے بارے میں؟ کچھ نہیں اماں کو بلایا ہیں وہ آیگی تو سوچتے ہیں تب تک زین کو اسکول مت بھیجو۔نیہا نے افسردگی سے اسکو دیکھا اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔
***
آخر کچھ دنوں بعد زین کی اماں سعودی عرب سے آگئی ۔ وہ اپنے بڑے بیٹے کے پاس رہتی تھی۔ آتے ہی انہوں نی اتنی ایمرجنسی میں بلانے کی وجہ پوچھی زین نے ٹالنے کی کوشش کی لیکن وہ ابھی کے ابھی ہی ماجرا سننا چاہتی تھی۔زین نے انکو ساری بات بتادی۔ ۔
***
بات کو سننے سمجھنے کے بعد وہ کمرے سے نکلی اور نیہا پر برسنے لگی۔ ۔۔کون سے گند کی پوٹلی ہمارے سر منڈھ دی تم نے ۔۔۔گندا خون تمہارا میرے بیٹے کی نسل خراب کر گیا میں کہتی ہوں زین اس کو طلاق دے میں تیری دوسری شادی کرادونگی تو نکال اس کو گندی نسل سمیت .بچے سہم کے سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔
زین تو سن نہیں رہا۔۔۔امی آپ اندر چلے نہ نیہا کہیں جاۓگی نا ہی بچے۔آپ اندر چلے۔
***
امی میں نے آپ کو اس لیے بلایا تھا کے آپ حکمت سے مسلہ حل کرے۔آپ تو بات بڑھا رہی ہے اس گھر سے میری بیوی اور بچے کہیں نہیں جائے گے۔ ۔بیٹا میری بات سمجھ تجھے یہ معاشرہ نہیں رکھنے دیگا تیری بیٹیاں ہیں کون رشتہ دیگا؟ لوگ طعنے مارے گے میری مان اور اسکو چھوڑ آ جہاں ایسی برادری کے لوگ رہتے ہیں ۔یہاں تو لوگ اسکا جینا حرام کرے گے ۔باہر نہیں نکل سکے گا ۔خاندان والے چھوڑ دے گے تجھے۔تو سمجھ رہا ہے نا؟ جی اماں زین نے کمزور آواز میں کہا۔جتنا جلدی ہو اسکو نکال یہاں سے خس کم جہاں پاک۔۔زین نے سر ہلا دیا۔
**
زین کمرے میں گیا تو نیہا سہمی سی بیٹھی تھی زین تم گھر سے نکال رہے ہو ؟ نہیں نیہا کیسی باتیں کر رہی ہو؟ کوئی کہیں نہیں جارہا تم کھانا لگاؤ اور بچوں کو بلاؤ۔نیہا سر ہلاتی کمرے سے نکل گئ۔
***
نیہا امی چاہتی ہے کے عمر کو وہاں چھوڑ اے۔کہاں ؟ نیہا نے سہم کے پوچھا جہاں ایسے لوگ رہتے ہکں۔کیسے لوگ زین؟ کیسا ہے ہمارا بیٹا؟نیہا ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا آج نہیں تو کل تو بہتر ہے تم جتنا جلدی سمجھ جاؤ۔ زین میرے بیٹے کو مجھ سے دور مت کرو زین۔ نیہا اس کے بغیر کوی چارا نہیں ہے۔میں نے تمہارے لیے اتنا کچھ کیا ہے زین تمہاری ماں کی باتیں برداشت کی خود کو مکمل بدل لیا۔تمہاری بچیاں تمہارا گھر سنبھالا۔میں نے ہر طرح کے حالات میں تمہارا ساتھ دیا ہے زین۔۔۔۔اور آج میں جب تم سے کچھ مانگ رہی ہوں تو تم مجھے مایوس کر رہےہو۔پلیز زین وہ تمہاری بھی اولاد ہے میں جہیز میں نہیں لائ تھی۔مت کرو اسطرح میں اسکو لیکر چلی جاؤنگی تم سب کی زندگیوں سے دور۔مان جاو۔۔۔زین نے اسکو ملامتی نظروں سے دیکھا اور کمرے سے نکل گیا۔کمرے میں صرف نیہا کی سسکیاں بچی تھی۔
***
***
رات کے نا جانے کونسا پہر تھا۔زین مصلے پر سجدہ ریز آنسو بہا رہا تھا ۔کون کہتا ہے کے مرد نہیں روتا۔کیا مرد کو تکلیف نہیں ہوتی؟ ہاں شاید مرد کو تکلیف نہیں ہوتی لیکن ایک باپ کو تو ہوسکتی ہے نا؟ باپ تو رو سکتا ہے نا ؟جب معاشرہ اسکی اولاد کو ذلیل کرے انسان نا سمجھے اسکو دور پھینک آنے کا کہے کیسے کیسے خواب دیکھے تھے زین نے بھی اپنے بیٹے کے لیے لیکن یہ معاشرہ؟ ؟؟ ایک خواجہ سرا گالی نہیں ہے یہ معاشرہ گالی ہے ۔یا اللّه ! میں مرد ہوں فیصلے کا حق میرے پاس ہے اللّه مجھ سے اپنی اولاد کے لیے صحیح فیصلہ کروا لے۔میرے بیٹے کو مجھ سے دور نا کر۔ میرے لیے آسان کردے اللہ!!!۔
***
نیہا میں نے فیصلہ کرلیا ہے اور تمہیں میرا فیصلہ ماننا ہوگا میں کچھ نہیں سنو گا۔۔سوری زین اگر تمہا را فیصلہ میری اولاد کو مجھ سے دور کریگا تو میں نہیں مانو گی نیہا نے مضبوط لہجے میں کہا جو ایک ماں کا ہونا چاہیے
جاری ہے ۔۔۔🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *