Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehchan by Hadia Naveed Episode04

Pehchan by Hadia Naveed Episode04

چار سال بعد
کنے کنے جانا اے
کنے کنے جانا اے
بلو دے گھر
آسان تے جانا ے بلو دے گھر
پورا گھر اس گانے سے گونج رہا تھا۔۔عمر بیڈ پر کڑوٹیں لے رہا تھا۔اور تکیہ کانوں پر رکھ کر سونے کی کوشش کرہا تھا۔لیکن اتنے شور میں کوئی بہرا ہی سو سکتا تھا۔چاندنی۔۔۔ سونے دووو یاررر۔۔۔پر چاندنی تو ریمبو کے سٹیپس کاپی کرنے میں مگن تھی۔مجبوراً عمر اٹھا اور صحن میں گیا جہاں چاندنی اپنے فن کا مظاہرہ کرہی تھی۔آس پاس کی چھتوں پر سب کھڑے چاندنی کو داد دے رہے تھے۔ عمر چاندنی کو کچھ کہتا کہ ابرار کے ساتھ ساتھ سب عمر کی طرف دیکھ کر چلانے لگے
بھنگڑے تے بھنگڑا پا منڈیاں ۔۔۔۔
چاندنی عمر کو بھی کھینچ کر اپنے ساتھ شامل کر چکی تھی اور اب وہ اپنے باہر آنے کا مقصد بھول کر کسی ماہر ہیرو کی طرح سٹیپ کرہا تھا۔وہ ہیرو ھی تو تھا اپنی بستی کا۔اپنی برادری کا۔ گانے کے اختتام تک آس پاس کے رنگین لوگ بھی شامل ہو چکے تھے۔اب عمر گرو جی کا ہاتھ پکڑ کر انکو گول گول گھما رہا تھا۔میرے گھر کی رونق گرو جی نے عمر کا ماتھا چوما تھا۔۔۔۔گرو جی چاندنی کو سمجھا دے میری نیند نا خراب کیا کرے۔سب کے واپس جانے کے بعد عمر نے شکایت کی۔تو اب سوجا تو چاندنی بولی۔ ۔۔۔اب نہیں آتی نیند مجھے ناشتہ لاکر دو ناچنے کے علاوہ بھی کر لیا کر کچھ۔۔۔آج تو اتنا اچھا ناچا ہے میرا دل خوش کردیا ہے آج کچھ نہیں کہونگی لاتی ہوں ناشتہ چاندنی اپنا پراندہ لہرا کر چلی گئی۔
****
عمر کو گرو جی کے پاس آئے ہوئے چار سال ہوگئے تھے۔چار سالوں میں عمر بستی کا ایک حصّہ بن گیا تھا گرو جی کا لاڈلہ ہونے کے باعث وہ باقیوں کا بھی لاڈلا تھا۔اسکی شخصیت ایسی تھی کے وہ سب کا پسندیدہ تھا۔اور کیوں نا ہوتا اسکی تربیت دو ماوں کے ساے تلے ہورہی تھی ایک سگی تھی اور دوسری بھی سگی سے کم نہیں تھی۔اسکو پیار کرنے والے کم نہیں تھے۔اس پر سب کی امیدوں کا بڑا بوجھ تھا۔پوری بستی کی نظریں تھی اس پر کے عمر بابا کچھ کر جایگا۔کیوں اس کے پیچھے اسکا خاندان اور پوری بستی ہے اور وہ خوش نصیب ہے جو اسکو اتنی محبتیں نصیب ہوئی ہے۔
خلاف توقع زین اور نیہا عمر کو بھولے نہیں تھے۔وہ عمر سے ملنے آتے تھے اکثر عمر بھی رہنے چلا جاتا۔انہوں نے اپنے گھر میں عمر کا کمرہ بھی سیٹ کیا تھا۔بلکہ وہ تو چاندنی اور گرو جی کو بھی گھر لیکر گے تھے۔ عمر دیکھنے میں لڑکا تھا۔چاندنی نے اسکی چال ڈھال پر بڑی محنت کی تھی اور اب اسکو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ مرد نہیں ہے۔چاندنی چن کر اس کے لیے کپڑے لاتی تھی اسکو ہیرو کی طرح سجا کر رکھتی تھی۔عمر اکثر اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر سے باہر بھی گھومنے جاتا تھا۔ہاں وہ بولتا کم تھا تاکہ اسکی آواز اس کے گھر والوں کے لیے شرمندگی کا باعث نا بنے۔نور اور ماہا کی جان تھی عمر میں وہ دونوں بولڈ اور بہادر تھی۔نیہا اکثر پریشان ہوتی تھی کے لوگوں کو عمر کے حوالے سے کیا جواب دیگی لیکن نور نے خود ہی ایک دن ایک عورت کے پوچھنے پر کہ دیا کے عمر اسکا کزن ہے۔ اور وہ یہاں ہوسٹل میں رہتا ہے پڑھائی کی غرض سے۔نور نے کسی شیف کے کورس میں داخلہ لیا تھا اور ماہا نے سافٹ ویئر انجینرنگ میں داخلہ لیا تھا۔دونوں کی چاندنی سے بیحد دوستی تھی۔تینوں مکیپ سے لیکر کپڑے ایک دوسرے کے مشورے سے بنواتی تھی۔زندگی مکمل نہیں تھی لیکن بہتر ضرور تھی۔
***
عمر کا داخلہ نویں جماعت میں ایک اسکول کے ذریع بھیجا تھا اس شرط پر کے وہ اسکول نہیں آیگا وہ ابھی تک نور سے پڑھتا تھا۔ابھی وہ انسٹاگرام پر اپنی پروفائل بنا رہا تھا اور جب جینڈر کا نام آیا تو وہ الجھ گیا اسکی ذات کا ادھورا پن سر اٹھانے لگا۔اس نے انسٹا پر جینڈر پر تو other کردیا لیکن وو خود الجھ گیا میں کیا ہوں ؟ مرد ؟ عورت ؟ ایک مرد کی طرح رہ رہا ہوں لیکن میں کیا ہوں؟ میں اندر سے نامکمل ہوں میں کیسکو بتاؤ یہ بات۔کس کے پاس ہے میرے سوالوں کا جواب۔؟عمر نے بے دلی سے موبائل سائیڈ پر پھینکا اور سونے لیٹ گیا ۔
***
صبح عمر معمول کے مطابق اٹھا تھا۔اٹھٹے ہی فون چیک کیا۔اور جب فالو ریکویسٹ دیکھی تو کسی لڑکے نے ریکویسٹ بھیجی ہوئی تھی۔یہ کون ہے عمر بڑبڑایا اور اسکی پروفائل کھولی اور کھولتے ہی حیرت میں ڈوب گیا۔دنیا میں یہ سب بھی ہوتا ہے ؟ کیا ہوتا ہے چاندنی نے پوچھا چاندنی یہ دیکھو عمر نے فون اس کے سامنے کیا۔یہ تو کوئی سوہنا انگریز منڈا ہے۔ منڈا نہیں ہے چاندنی یہ بھی میری طرح ہے اور دیکھو اسکی تصویریں اور یہ دیکھو اس نے پروفائل پر لکھا ہے
PROUD TRANS
مطلب اسکو ہجڑہ ہونے پر فخر ہے۔کیا مطلب چاندنی بولی۔پاگل ہے یہ۔عمر نے کوئی جواب نہیں دیا اور فون پر انگلیاں چلانے لگا
***
گرو جی میں سچ کہ رہا ہوں میں نے خود دیکھا ہے۔دنیا میں ہمارے جیسوں کی بہت عزت ہے۔باقی ملکوں میں انکو الگ نہیں سمجھتے بلکہ یہ بھی باقیوں کی طرح ایک ساتھ ہی پڑھتے ہے
ایک ہی جگہ سے علاج کراتے ہے۔عمر شام کی چائے کے وقت گرو جی کو اپنے پورے دن کی ریسرچ دکھا رہا تھا۔گرو جی حیرت سے اب ویڈیو دیکھ رہے تھے جو ایک انگریز خواجہ سرا کی تھی جو گاڑی چلا رہی تھی۔انکو سرکار اجازت دے دیتی ہے چاندنی حیرت سے بولی۔ہاں نا عمر بولا۔اور یہ دیکھو یہ بندہ سرجری کرا کر لڑکی بنا ہے اور اس کے آس پاس کے لوگوں نے اسکو سپورٹ کیا ہے۔یہ سب کیا ہے عمر پتر گرو جی کی مری مری سی آواز آئ ۔اسی غلط جگہ پیدا ہوگے نے چاندنی دکھ سے بولی.
عمر کا آج کل صرف ایک کم رہ گیا تھا انسٹاگرام اور فیس بک پر ٹرانس جینڈرز کو تلاش کرنا۔ان سے بات کرنا ان کے بارے میں جاننا۔اسکو اتنا تو پتا چل گیا تھا کے ترقی یافتہ ملکوں میں جنس کی بنیاد پر حقوق نہیں ملتے ان کے گھر والے انکو چھوڑ نہیں دیتے۔ہاں انکا بھی لوگ مذاق اڑاتے ہے ماں باپ چھوڑ بھی دیتے ہے لیکن پاکستان میں خواجہ سرا کے حالت کے سامنے انکی تعداد بہت کم ہے۔ اس سب میں عمر کی ایک ٹرانس جینڈر لڑکے سے دوستی ہوگئی تھی جو california میں رہتا تھا۔وہ بیس سال کا تھا اور شوقیہ ماڈلنگ اور فیشن ڈیزائنر تھا۔اسکی عمر سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی بلکہ وہ تو عمر سے پاکستان میں ٹرانس کے حالت سنکر پریشان ہوگیا تھا کے عمر کس دنیا میں رہتا ہے۔اس نے عمر کو سمجھایا تھا کے وہ نا تو مرد ہے اور نا ہی عورت وہ ٹرانس جینڈر ہے اسکو۔مرد۔ یا عورت نہیں بننا وہ ویسے ہی خوبصورت ہے۔وہ ویسے ہی مکمل ہے۔پوری دنیا میں مرد اور عورتیں اپنے حقوق کی بہتری کے لیے لڑتے ہیں ۔مسائل تو ہر جنس کے ہے کہی feminism کہی مرد خوش نہیں ہوتے۔ جسم فروشی صرف خواجہ سرا کی نہیں ہوتی۔ مردوں بچوں اور عورتوں کی بھی ہوتی ہے۔جاہلیت جنس نہیں دیکھتی۔ واٹسن کی انہی باتوں کی وجہ سے عمر اپنی پہچان کو تسلیم کرہا تھا۔واٹسن کے ساتھ دوستی نے عمر پر مثبت اثرات مرتب کیے تھے ۔
***
آج گرو جی سے ملنے کچھ پڑوس سے لوگ آئے تھے۔اور آتے ہی انہوں نے عمر کو گھیر لیا سنا ہے عمر بابا آپ کی انگریز کھسروں سے دوستی ہوگئی ہے۔ وہ گاڑیاں چلاتے ہے عام انسانوں کی طرح رہتے ہے۔ ہمیں بھی انکی تصویریں دیکھاو نا عمر ہکا بکا انکے چہریں دیکھ رہا تھا۔آپ سبکو کس نے بتایا یہ سب؟ ارے چاندنی نے بتایا ہے۔چل اب دیکھا نا شرما کیوں رہا ہے۔عمر دل ہی دل میں چاندنی کو کوستا انکو تصویریں دکھانے لگا اور ان کے حیرت زدہ سوالوں کے جواب دینے لگا
***
چاندنی تم سے کوئی بات نہیں رکھی جاتی؟کیا ضرورت تھی سبکو بتانے کی بچے کو پریشان کردیا۔گرو جی چاندنی کو ڈانٹ رہے تھے۔پاس ہی عمر منہ بسورے بیٹھا تھا۔اچھا نا اب تو بتادیا نا ایسا کر تو مجھے بھی یہ بنادے پھر تجھے کوئی کچھ نہیں کہیگا۔گرو جی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گے اور عمر اسکو صرف گھور کر رہ گیا
***
چاندنی سن نا۔۔hmm بولو چاندنی مسلسل فون پر لگی ہوئی تھی۔عمر نے اسکی ضد پر اسکو انسٹاگرام بنا دیا تھا اب وہ ہر وقت تصویریں دیکھنے اور اپنی ڈالنے پر لگی رہتی اسکی دیکھا دیکھی بستی کے مزید لوگ اس وبا میں شامل ہوگے تھے ۔چاندنی سن لے ورنہ نیٹ بند کرہا ہوں۔ہاں بول چاندنی فورا الرٹ ہوکر بولی ۔۔وہ نا واٹسن کے پاس بلی ہے تو ہم بھی رکھ لے؟ تو گرو جی سے بات کر نا۔۔۔ابھی عمر نے اتنا ہی کہا تھا کے چاندنی کا فون بجنے لگا۔ایک منٹ چاندنی نے فون اٹھایا اور اگلے کی آواز سنتے ہی سفید پڑگئی۔۔۔کسکا فون ہے عمر نے پوچھا لیکن چاندنی فون سنتی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔تھوڑی دیر تک جب وہ باہر نہیں آئ تو عمر گرو جی کو لیکر اس کے کمرے میں گیا وہاں چاندنی سجدے میں پڑی رو رہی تھی ۔۔کیا ہوا ؟گرو جی پریشانی سے بولے گرو جی چاندنی سجدے سے اٹھی میرے بھائی کا فون آیا وہ مجھے چھوٹی بہن کی شادی پر بلا رہا ہے۔گرو جی اتنے سالوں بعد میں گھر جاؤنگی چاندنی گول گول گھومنے لگی آپ دونوں بھی تیاری کر لے آپکو ساتھ لیکر جاؤنگی۔۔
***
گرو جی یہ دیکھے واٹسن نے ڈائی کراے ہے بال۔Purple کلر کے۔۔میں بھی کراونگی ایسے چاندنی کمرے میں داخل ہوتی بولی عمر اور گرو جی کی نظریں ملی اور دونوں ہنسی روکنے میں مصروف ہوگئے۔نا تو کیوں کراے گی؟گرو جی بولے۔تا کہ میرے حسن کو چار چاند لگ جاے ۔نا پتر یہاں کے پینڈوں کو ان گریزوں کے فیشن کا کیا پتا سب تیرا مذاق اڑاے گے پھر مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔صحیح کہ رہے ہے نہیں کرتی پھر پینڈوں میں رہنا جو ہے۔عمر ہنسی روکتے ہوے اٹھا میں ماما کو فون کر کے آتا ہوں اور باہر نکل کر قہقہے لگنے لگا .
۔۔گرو جی آپ سے بات کرنی تھی ۔وہ نا جو میں نے پیسے آپ کے پاس رکھواے تھے وہ چاہیے ہیں۔خیریت گرو جی بولے۔نہیں وہ چھوٹی کے سسرال والوں نے جہیز میں گاڑی مانگی ہے تو بھائی نے چھ لاکھ ادھار مانگا ہے 3 لاکھ آپ کے پاس پڑا ہے باقی میں جما کر لونگی۔گرو جی کچھ بولتے بولتے رک گے وہ چاندنی کا دل نہیں توڑنا چاھتے تھے ….
***
چاندنی تیار ہوجاؤ آپی آرہی ہے تمہیں شوپنگ پر لیکر جانا ہے۔کون سی شوپنگ؟ وہی جو ساڑی لینی تھی شادی کے لیے نور آپی کہ رہی تم اپنی پسند کی لو۔اچھا پر میں کیسے جاسکتی۔۔آپی کہ رہی ہے کے انہوں نے انتظام کرلےا ہے تم تیار ہوجاؤ۔عمر بولا۔
***
وہ چاروں اس وقت مونال میں ڈنر کرھے تھے۔چاندنی کو برقع پہنا کر وہ اسے centarus لے گے تھے اور اسکی پسند کی شاپنگ کروائی تھی۔اب وہ کھانا کھاتے ہوے اپنے کرنامے پر ہنس رہے تھے۔ماما کو آج کے واقعے کا کوئی نہیں بتاے گا اوکے؟ عمر اور چاندنی نے سر ہلا دیئے بول تو وو سکتے نہیں تھے۔چلو اب واپس چلے نور بولی ۔
****
آخر وہ دن آگیا جب چاندنی نے اپنے گھر جانا تھا جو کہ فیصل آباد میں تھا۔اس کے ساتھ صرف عمر جارہا تھا گرو جی نے معذرت کرلی تھی لیکن دلہن کا تحفہ دیا تھا جو چاندنی نے پیسوں کے ساتھ ہی بھجوا دیا تھا۔پورا محلہ چاندنی کو رخصت کرنے آیا تھا سب اسکو رشک سے دیکھ رہے تھے کے اسکے گھر والوں نے اسکو بلایا ہے۔اب چلو چاندنی ٹرین چھوٹ جاۓ گی عمر بولا۔ ایک سیکنڈ بھائ سے گھر کا پتہ پوچھ لوں کہ رہے تھے نکلنے سے پہلے پوچھ لینا چاندنی فون کانوں کے ساتھ لگاتے ہو ے بولی۔۔۔جی بھائ پتہ بتا دے میں نکل رہی ہوں۔جی کیا لیکن وہ تو دو دن بعد تھی۔۔۔۔۔جی اور فون چاندنی کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔کیا ہوا سب نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔میری بہن پچھلے ہفتے ہی رخصت ہوگئی تھی سسرال بھائی کہ رہا ہے آیندہ فون مت کرنا چاندنی روتے ہوے بولی گرو جی کا ہاتھ سینے پر چلا گیا۔یہ کیسے اپنے ہے گرو جی جنکو صرف پیسے چاہیے ہیں اور اپنے نہیں؟ گرو جی اور باقی سب اسکی طرف بڑھے دلاسا دینے کے لیے لیکن وھ بھاگ کر کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کردیا۔۔۔پیچھے عمر سر جھکائے کھڑا سوچ رہا تھا یہ کیسے اپنے ہے ؟
جاری ہے ۔۔۔🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *