Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehchan by Hadia Naveed Episode02

Pehchan by Hadia Naveed Episode02

وہ میرا بھی کچھ لگتا ہے تم واقعی اسکو جہیز میں نہیں لائی تھی۔میں نے فیصلہ کیا ہے کے میں ایک کے پیچھے باقی سبکو نہیں خراب کرسکتا۔عمر کو یہاں سے بھیجنا پڑیگا ہمیں۔۔۔ٹھیک ہے تو پھر میں بھی عمر کے ساتھ جاوں گی۔اور ہماری بیٹیاں ؟ زین نے غصے سے پوچھا۔نیہا تم چپ کر کے میری ایک دفعہ بات تو سن لو۔پھر اپنی بیوقوفی جھاڑ لینا۔
****
عمر یہاں اؤ۔نیہا نے عمر کو بلایا۔اس نے عمر کو غور سے دیکھا اسکا شہزادوں جیسا بیٹا کچھ دن میں ہی کملا گیا تھا۔اس کے دل میں ٹیس اٹھی ۔عمر آپ کے لیے نوڈلز بناے ہے کھالو۔بیچارہ بچہ جو اتنے دنوں سے نظر انداز ہورہا تھا فوراً ہی ماں کے پاس بیٹھ کر نوڈلز کھانے لگا اس بات سے بے فکر کے اب وہ اس گھر سے در بدر ہونے والا ہے۔اس گھر میں اب اس کی کوئ جگہ نہیں رہی۔۔۔
***
زین میں عمر سے بات نہیں کر سکتی تم خود کرو۔ٹھیک ہیں اسکو تیار کردو میں اسکو باہر لیکر جاتا ہوں۔تم نے ٹرانسفر کے لیے اپلائے کردیا؟ ہاں کردیا ہے ہفتہ لگے گا سارے معاملات میں تم پیکنگ شروع کردو۔ تمہاری امی کو کیا کہے گے؟ ان سے میں بات کر لونگا۔زین نیہا اس کے پاس بیٹھ کر بولی تم بھی مجھے قصور وار سمجھتے ہو؟ تم اور میں الگ ہے نیہا؟ بس یہی مشکل وقت ہم نے ساتھ گزارنا ہیں۔زین نیہا کو ساتھ لگاتے ہوے بولا۔
****
عمر اور زین پارک کے بینچ پر بیٹھے تھے۔عمر کے ہاتھ میں ڈھیر سارے غبارے تھے۔عمر؟بابا کو آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔جی بابا کیا آپ مجھے سائیکل لیکر دینے والےہیں؟ نو بیٹا۔بات یہ ہے کے آپ کو پتا ہے اللہ نے ایک تھرڈ جینڈر بھی بنایا ہے۔مرد اور عورت کے علاوہ۔جو ان دونوں کا مکسچر ہوتا ہے اور ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔لیکن باہر کے ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ بیٹا تم بھی transgender ہو .اور آپ کو ہم آپ کے جیسے لوگوں کے پاس بھیج رہے ہیں۔زین آنسو روکتے ہوے بولا۔عمر کے ہاتھ سے غبارے چھوٹ کر آسمان کی طرف جارہے تھے۔ وہ ساکت اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔بابا عمر کی آواز گونجی میں کہیں نہیں جانا چاہتا مجھے آپ سب کے ساتھ رہنا ہے۔آپ میرے بہادر بیٹے نہیں ہو عمر؟ بابا۔۔ عمر رونے لگا تھا ۔زین نے اپنے بیٹے کو ساتھ لگا لیا اور آنسو کو بہہ جانے دیا۔
اماں ہم نے عمر کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بہت اچھا کیا اب تو میری ٹکٹ کر ادے میں مزید اس ماحول میں نہیں رہ سکتی۔۔۔ ٹھیک ہیں اماں۔۔۔زین نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
***
نیہا عمر کا سامان پیک کرہی تھی۔دل دکھ اور درد سے پھٹا جارہا تھا۔زین نے کل عمر کو اسلام آباد میں ایک خواجہ سرا کی رہایش پر چھوڑنے جانا تھا۔کراچی سے اسلام آباد بہت دور تھا۔لیکن اللہ کو شاید یہ ہی منظور تھا۔زین کمرے میں داخل ہوا تو نیہا آنسو صاف کرتے ہوے بولی میں بھی جاؤنگی عمر کو چھوڑنے۔تم رہنے دو تم کمزور پڑ جاونگی۔ میں جاونگی اور بچیاں اماں کے پاس رک جاۓگی ۔۔اچھا ٹھیک ہے ۔
***
عمر اپنے کمرے میں اپنے کھلونوں کے پاس بیٹھا تھا۔اب وہ ان سے کھیلتا نہیں تھا لیکن یہ سب اس کے دل کے بہت قریب تھے۔وہ اداسی سے کمرے میں نظریں گھما رہا تھا۔یہ کمرہ اس نے اور زین نے ملکر سجایا تھا۔اتنے میں اسکی دونوں بہنیں کمرے میں داخل ہوئی۔نور اور ماہا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی عمر کو گلے سے لگا لیا۔تینوں کی سیسکیاں کمرے میں گونج رہی تھی۔وہ انکا اکلوتا لاڈلا بھائی تھا وہ اپنی حصّے کی چیز بھی اسکو دے دیتی تھی۔تو اب تو بھائی ہی خود سے جدا کرنا پڑ رہا تھا ۔ عمر نور نے بات شروع کی میری بات غور سے سنو۔تم ہمارے بھائی ہو یہ دنیا کچھ بھی کہے۔تمہیں ہم کبھی نہیں چھوڑے گے ۔۔چاہے ہمارے درمیان کتنے ہی فاصلے کیوں نا آجائے۔ تم یہ مت سمجھنا کے تم چلے گے تو تمہاری جان چھوٹ جاۓگی۔آپی ۔۔عمر نور کے گلے لگ گیا۔ مجھے نہیں جانا۔میں اسکول رہ جایگا اور شام کو دودھ لینے کون جایگا؟تم لوگوں کی چیز کون لاے گا ؟ آپی میں کسی کو تنگ نہیں کرونگا میں گھر سے باہر بھی نہیں جاؤنگا کوئی پھر کچھ نہیں کہیگا پلیز آپی۔عمر ہم بہت جلد تمھارے پاس اے گے تم یقین رکھو۔ مجھے باقیوں کا نہیں پتا لیکن نور تمہاری بہن تمہارے لیے ہمیشہ لڑے گی یاد رکھنا۔۔۔۔اس رات گھر میں کوئی نہیں سویا تھا۔
***
اگلے روز عمر کی ریوانگی کے وقت گھر میں کھرام مچا ہوا تھا ۔ لیکن اماں نے کمرے سے جھانکنا بھی پسند نہیں کیا اور جب عمر ملنے گیا تو سوتی بن گئی یہ وہی دادی تھی جس نے عمر کا نام رکھا تھا وہ ان کے لیے شیر تھا لاڈلا تھا ۔اور اب ۔۔۔۔
گھر سے اسلام آباد کا سفر خاموشی سے گزرا تھا تینوں نفوس اپنے اپنے خیالوں میں مصروف تھے۔
***
اسلام آباد میں پہنچ کر وہ لوگ اپنی منزل کی طرف چل پڑے تھے۔گاڑی ایک پوش اور خوبصورت علاقے کی کچی بستی کے سامنے رک گئی تھی۔وہ تینوں گاڑی سے اتر کر پیدل ہی چلنے لگے۔ تنگ و تاریک سی گلیاں کچرے کے ڈھیر،عجیب سے انسان ۔نیہا کا دل لرز رہا تھا۔وہ کیسے اپنے جگر کے ٹکڑے کو وہاں چھوڑ دیتی؟ عمر زین کا ہاتھ پکڑ کر چل رہا تھا وہ اپنے آنسو روکے ہوے تھا ۔ وہ اپنے باپ کا بہادر بیٹا بنے کی کوشش کرہا تھا۔ زین ایک قدرے پکے گھر کے سامنے روکا اور دروازہ بجایا۔تھوڑی دیر بعد ایک میک اپ سے لٹھرے چہرے نے دروازہ کھول کر بیزاری سے جائزہ لیا۔کہو؟وہ گرو جی سے ملنا ہے زین ہوں کراچی سے۔اچھا اندر آجاؤ۔
گھر کے اندر تو جیسے الگ ہی دنیا تھی۔وہی بندہ انکو گرو جی تک لے گیا تھا۔گرو جی ایک لمبے سے بھاری جسامت کے مالک تھے ۔ وہ بڑے جوش سے ملے۔جی صاحب؟ہم بس بچہ چھوڑنے اے تھے باقی معاملات تو طے ہوگے تھے۔ زین بولا۔ ٹھیک ہے صاحب اپکا بچہ ہمارا بچہ ایک ہی بات ہے۔
نیہا اس سب سے بے نیاز گھر کا جائزہ لائی رہی تھی نا کوئی بیڈ تھا اور گرمی بے تحاشا تھی۔ کمرے میں ایک ٹیبل پر دو نمبر میک اپ پڑا تھا اور پاس ہی گرو جی کی جوانی کے تصویر۔ یا اللہ میرا بچہ یہاں کیسے رہیگا۔مدد فرما۔
نیہا زین نے بلایا جی وہ چونکی میں اور عمر گاڑی سے سمان لینے جارہے ہیں۔تم یہاں بیٹھو۔جی ٹھیک ہے۔
اب کمرے میں نیہا اور گرو جی بیٹھے تھے۔میں نے عمر کو بہت لاڈ سے پالا ہے۔نیہا آنسو صاف کرتے ہوے بولی۔اسکو کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچای۔کبھی مارا بھی نہیں۔میرے بیٹے کا بہت خیال رکھیے گا۔”ماں نہیں ہوں پتر،لیکن مامتا ہیں میرے میں۔تیرا بیٹا اب میرا بیٹا ہے۔جان سے بڑھ کر رکھونگی” اپکا بہت شکریہ . یہ لے نیہا نے کاغذ بڑھایا اس میں عمر کی پسند نا پسند لکھی ہے۔گرو جی نے وہ کاغذ پکڑ لیا ۔
اتنے میں زین کمرے میں داخل ہوا چلو نیہا۔اچھا گرو جی اب اجازت ہے۔اللہ کے حوالے گرو جی نے کہا۔
نیہا عمر سے ملی اسکو گلے لگایا اور گیٹ سے نکلنے لگی کے عمر نے اسکا دوپٹہ پکڑ لیا۔جسکو زین نے سختی سے چھڑوایا اور نیہا کو پکڑ کر لے گیا۔پیچھے عمر نے بھاگنے کی کوشش کی جو گرو جی نے ناکام بنادی وہ سختی سے عمر کو پکڑے ہوے تھے۔بابا۔ ۔۔۔۔۔۔عمر کی چیخیں گونج رہی تھی۔گرو جی اسکو سںنبھالنے کی کوشش کرہے تھے۔
***
واپسی کا سارا راستہ ایک مجبور باپ اور ماں نے روتے ہوے گزارا ۔اتنے بڑے مرد کو روتا دیکھ کر سب مسافر اپس می چہ مگویاں کر رہے تھے۔دونوں کا رونا دیکھ کر بہت سی سے لوگوں کی انکھوں میں آنسو آگے تھے انہوں نے تسلی بھی دی سبکا خیال تھا کے دونوں کسی جنازے پر جارہے ہیں۔دونوں جنازہ تو پڑھ آے تھے انسانیت کا۔۔۔۔۔
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *