Pehchan by Hadia Naveed NovelR50768 Pehchan by Hadia Naveed Episode03
No Download Link
788.3K
7
Rate this Novel
Pehchan by Hadia Naveed Episode03
Pehchan by Hadia Naveed Episode03
رات کے دو بج رہے تھے کمرے میں سبز زیرو بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔پورے گھر میں سناٹا تھا۔نور رائٹنگ ٹیبل کے سامنے کرسی پر ٹانگیں اوپر کر کے بیٹھی تھی اور شہادت کی انگلی ماتھے پر پھیر رہی تھی۔اسکی نظروں کے سامنے وہ رات آرہی تھی جب اس کے بھائی کا فیصلہ ہوا تھا۔وہ نیہا کو بلانے گئی تھی کے کمرے کے اندر سے آتی آوازوں نے اس کے قدم روک لیے۔۔۔”نیہا میں نے بہت سوچا ہے میں عمر کو تمہارے ساتھ باہر نہیں بھیج سکتا۔میں اتنا خرچہ نہیں اٹھا سکتا اور نا ہی تمہارے یا اپنے بیٹے کے بغیر رہ سکتا ہوں۔اس لیے میں نے بیچ کا راستہ نکالا ہے۔ہم اسکو گھر نہیں رکھ سکتے خاندان محلہ لوگ سکون نہیں لینے دینے دیگے۔میں نے اسلام آباد میں ایک جگہ ڈھونڈی ہے عمر کے لیے۔تم پاگل ہوگے ہو؟ نیہا چیخی میرا بیٹا سڑکوں پر مجرے کریگا؟تم اسکو بھیک مانگنے کے لیے چھوڑدو گے ؟ میں تمہیں اسکی اجازت نہیں دونگی۔میں لیکر جارہی ہو اسکو یہاں سے۔نیہا کھڑے ہوتے ہوے بولی۔نیہا میری بات مکمل نہیں ہوئی زین نے بامشکل غصہ ضبط کیا۔نہیں سننی کوئ بات تماشا بنا دیا ہے میرے بیٹے کا۔ اسکو اتنی دور بھیج رہے ہو۔نہیں بھیج رہا ہوں دور میں اپنا ٹرانسفر کروا رہا ہوں اسلام آباد زین چیخ کر بولا .ہم بھی اسلام آباد جاے گے؟ نیہا نے چونک کر پوچھا “ہاں اگر تم سکون سے سن لو۔ہم عمر کو اسی ہفتے چھوڑ آے گے اماں کو یہی پتا ہوگا کے عمر کراچی میں ہیں اور ہم اگلے مہینے اسلام آباد جاۓ گے۔تا کے عمر کے قریب رہ سکے۔۔اسکی پڑھائی نہیں رکے گی۔تم یا نور ویڈیو کال پر پڑھا دینا پرائیویٹ امتحان دے سکتا ہے وہ۔گرو جی سے بات کی ہے وہ اس سے اپنی برادری والا کوئی کام نہیں کرواے گے۔وہ تو خوش ہوے تھے کے ہم اپنے بیٹے کو لاوارث نہیں چھوڑ رہے۔” زین تم سچ کہہ رہے ہو؟مجھے یقین نہیں آرہا۔۔ ” نور کیا ہوا سو کیوں نہیں رہی ماہا کی آواز نور کو حال میں واپس لے آئ۔ہاں بس سونے لگی ہوں نور نے کہا اور کرسی سے اٹھ کر بستر کی طرف بڑھ گئی۔
***
عمر چھت پر چارپائی پر لیٹا آسمان پر موجود تاروں گن رہا تھا۔اس کو یہاں آے ہوے دو ہفتے ہوگے تھے۔اور دو ہفتوں میں پہلی بار اس نے آج ڈھنگ سے کھانا کھایا تھا۔یہاں آتے ہوے زین نے موبائل فون اور لیپ ٹاپ ساتھ دیا تھا۔وہ روز گھر بات کرتا تھا۔رات کو جب سب گھر میں موجود ہوتے تو وہ ویڈیو کال پر بھی بات کرتا تھا۔شروع میں وہ بہت تنگ کرتا تھا وہ نیہا کو یہاں سے لیکر جانے کا کہتا اسکو یہاں ڈر لگتا تھا۔میک اپ سے لتہڑے چہروں سے گھن آتی تھی۔لیکن گرو جی کے بے تحاشا پیار اور نیہا کے سمجھانے پر وہ یہاں دل لگا رہا تھا۔نور نے اسکو کہ دیا تھا کے وہ کل سے شام سات بجے اسکو پڑھاے گی اسکی چھٹیاں اب ختم۔گرو جی کی گھر میں گرو جی کی علاوہ صرف چاندنی رہتی تھی۔جس نے پہلے دن دروازہ کھولا تھا۔چاندنی جی شاید مجھے پسند نہیں کر تی عمر نے سوچا۔پر کیوں یہی سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔
***
گرو جی اپنے زمانے میں بڑے مشہور تھے۔فنکشنز میں انکی بڑی ڈیمانڈ تھی۔خوب پیسا کمایا اور تعلقات کا استمعال کر کے بازار میں کچھ دکانیں اور ایک گھر خرید لیا اب اسے کے کرایوں پر گھر کا خرچ احسن طریقے سے چل رہا تھا۔گرو جی کی اپنی کمیونٹی میں ایک خاص مقام تھا۔وہ کافی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔چاندنی کے والدین بھی اسکو رات کے اندھیرے میں گرو جی کے پاس چھوڑ گے تھے۔تب سے چاندنی گرو جی کے ساتھ تھا۔گرو جی اب تو نا ہی فنکشن پر جاتے تھے نا ہی بچے رکھتے تھے۔لیکن چاندنی اپنا وقت گزارنے کے لیے اکثر شادیوں پر چلی جاتی تھی۔عمر کو لینے کی وجہ زین کی شرطیں تھی وہ عمر کو پڑھانا چاہتا تھا اسکو اس گندگی کا حصّہ نہیں بنانا چاہتا تھا اس لیے گرو جی نے اسکا ساتھ دینے کی ٹھانی۔انہوں نے بہت کم ایسے والدین دیکھے تھے۔ان کے تو اپنے والدین ایسا چھوڑ کر گے کے مڑ کر نہیں دیکھا۔وہ زین اور نیہا کے جذبے کی قدر کرتے تھے۔
***
ہاں بے کاکے ماں سے بات کر کے آرہا ہے ؟ چاندنی نے عمر سے پوچھا۔جی۔یہاں بیٹھ جا میرے پاس گرو جی بولے جی عمر بیٹھ گیا۔ ۔۔چار دن کی اداسیاں ہیں پھر نہیں اتے گھر سے فون تم بھی سمجھ جا کاکے چاندی ترشی سے بولا اور کمرے سے نکل گیا۔عمر کی آنکھوں میں آنسوں آگے۔نا میرا پتر دل نا چھوٹا کر۔اس چاندنی کا تو اپنا دل بڑا دکھا ہوا ہے گھروالوں نے شروع میں تو رابطہ رکھا پھر ختم کردیا اسکو تیری صورت میں اپنا آپ نظر آرہا ہے۔سب ٹھیک ہوجاے گا ترے ماں باپ چھوڑ گے تو میں تجھے بڑا آدمی بناونگی۔تو فکر نا کر گرو جی نے عمر کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
***
عمر آہستہ آہستہ دل لگنے کی کوشش کرہا تھا۔اسکو حوصلہ ہوگیا تھا کے اس کے گھر والے جلد ہی اس کے قریب آجائے گے۔اسکی روٹین آہستہ آہستہ سیٹ ہورہی تھی۔وہ شام میں نور سے اپنی کورس بکس پڑھتا اور دن میں گرو جی سے قران لیکن عمر کو ابھی بھی میکپ زدہ چہروں سے خوف آتا تھا۔گرو جی کا تو وہ عادی ہوگیا تھا۔چاندنی کم ہی گھر پر پائی جاتی تھی عمر گھر سے باہر جاتا نہیں تھا۔لیکن اگر کوئی گرو جی سے ملنے آجاتا تو وہ چھت پر چلا جاتا ان کے اتنا اونچا بولنے سے چڑتا تھا۔وہ سوچتا تھا کے اللہ نے ان کے گلوں میں سپیکر فٹ کیے ہوئے ہیں جیسے ماما ماہا آپی کو کہا کرتی تھی۔ گرو جی نے عمر کے کھانے پینے سے لیکر پہنے اوڑھنے تک عمر کی پسند کا خیال رکھا۔جو نیہا لکھ کر دے گئی تھی اس کو دیکھ لیتے یا اکثر زین سے ہی پوچھ لیتے۔ جب بھی باہر جاتے عمر کے لیے کچھ لیکر آتے ایک چیز جسکا وہ بے تحاشا دھیان رکھتے تھے وہ تھی عمر کی پڑھائی دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے عمر نور سے سبق لیے بغیر نہیں سو سکتا تھا۔ اکثر نور سے جب عمر ویڈیو کال پر پڑ رہا ہوتا تھا تو وہ نور سے پوچھتے صحیح پڑھ رہا ہے نا؟ شروع میں تو نور ہچکچاتی تھی پھر اسکو عادت ہوگئی تھی۔ وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر رہا تھا۔
****
گرو جی آج عمر کے لیے نوڈلز نگٹس لائے تھے جوعمر نے زین کے ذریع کہلوایا تھا گرو جی کو۔وہ اب بھی ان سے بات کرنے سے جھجکتا تھا۔گرو جی کچن میں ان سب چیزوں کا جائزہ لے رہے تھے کے چاندنی کچن میں داخل ہوئ۔لاڈ اٹھائے جارہے ہے لاٹ صاحب کے۔ میرے مانو اسکو ابھی سے کام سکھانا شروع کردو۔اپنا بوجھ تو اٹھا سکے۔ابھی سے سیکھنا شروع کرے گا تو ماہر ہوگا میں آج ہی اسکو اپنے ساتھ لے جاتی ہوں۔چاندنی گرو جی نے ضبط سے کہا آج تو یہ بات کردی ہے آیندہ دماغ میں بھی مت لانا۔ہاں ہاں تم چڑھاو سر پر آگئی نا اس کی ماں باپ کی باتوں میں جب چکمہ دیکر نکل جائے گے تو پچھتانا۔دفع ہوجا تو یہاں سے گرو جی غصے سے چلائے۔چاندنی منہ بناتی کچن سے نکل گئی۔اور گرو جی نوڈلز کا جائزہ لینے لگے جو انکو بے رنگ سویاں لگ رہے تھے۔
***
چاندنی کا رویہ ترش ہوتا جارہا تھا عمر کے ساتھ وہ اس پر طنز کا کوئی موقع نہیں جانے دیتی تھی۔شاید وہ عمر کو اپنے ماں باپ سے جو امیدیں تھی وہ توڑنا چاہتی تھی۔انہی سب میں چاندنی کی سالگرہ کا دن آگیا۔ چاندنی اور اسکی دوستوں نے پولیس سے اجازت نامہ لینے کی کوشش شروع کردی۔عمر کو اتنا اندازہ تو ہوگیا تھا خواجہ سرا کی سب سے بڑی دشمن پولیس ہے ۔انکی کمائی چھین لینا تشدد کرنا سب روز کا معمول تھا۔سالگرہ کو منانے کے لیے یا کسی بھی فنکشن کے لیے پولیس کا اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا تھا۔جو کے حسب روایت پولیس نے نہیں دیا اور اب اسکی سہلیاں گھر کے صحن میں کرنا چاہ رہی تھی اور اسکی پلاننگ زوروشور سے جاری تھی۔انکی کمیونٹی کی یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھی جو وہ آپس میں منا لیتے ہیں۔ چاندنی آج کل کافی خوش تھی جس کی وجہ سے عمر بھی چاندنی کے عتاب سے بچا ہوا تھا۔
***
ماما کل چاندنی کی برتھڈے ہیں میں نہیں جاؤنگا وہ ڈانٹتی ہے مجھے۔عمر نیہا سے فون پر بات کرتے ہوے بولا۔بہت بری بات عمر وہ بڑی ہے ڈانٹ سکتی ہے۔آپ ضرور جاؤگے گھر میں ہی ہے تو اچھا نہیں لگتا نا۔ پر میں اسکو گفٹ کیا دونگا ؟ ایسا کرنا آپ اسکو کارڈ بنا کر دے دینا اور جب میں وہاں آونگی تو گفٹ لے آونگی۔۔ٹھیک ہے ماما ڈن ہوگیا۔اور بیٹا وہ بلیک والی شرٹ پہنا اور تنگ تو نہیں کرتے نا وہاں سبکو۔ماما آپ کی ایڈوائس شروع ہوگئی ہے میں سونے جارہا بائے ۔
***
اگلے دن گرو جی کے صحن کو غباروں اور رنگ برنگی جھھنڈیوں سے سجا دیا تھا۔سب تیار ہوکر آئے ہوے تھے اور کافی خوش تھے۔ غبارے پھولانے میں عمر پیش پیش تھا۔اس سب میں اسکی کافی دوستیاں بھی ہوچکی تھی ۔سب اسکو عمر بابا کہ رہے تھے۔چاندنی نے خوب تصویریں بنوایں اور کیک کاٹا۔کیک کاٹنے کے بعد سب چاندنی کو گفٹ دینے لگے جس میں زیادہ تر مکیپ کا سامان تھا۔کیوں کہ چاندنی کو مکیپ بہت پسند تھا۔جب سب گفٹ دے چکے تو گرو جی بولے کے اب عمر اپنا گفٹ دیگا سبکی نظریں عمر پر جمی تھی چاندنی بھی اسکو دیکھ رہی تھی عمر اتنی ساری نظروں کی وجہ سے کنفیوز ہوگیا تھا۔وہ شرماتا ہوا دونوں چاندنی کی طرف بڑھا اور کارڈ چاندنی کو پکڑا کر نیچے دیکھنے لگا۔سب کارڈ دیکھنے کے لیے چاندنی کے گرد اکھٹے ہوگے۔کارڈ ریڈ چارٹ پیپر کا بنا ہوا تھا جس پر عمر نے اپنے اسٹارز والے سٹیکر لگاے ہوے تھے۔اور کلر پنسل سے ہیپی برتھڈے چاندنی آپی لکھا ہوا تھا۔وہ نور اور ماہا کو بھی آپی کہا کرتا تھا۔چاندنی نے کارڈ سامنے موجود ٹیبل پر رکھا اور عمر کو گھوری دی۔عمر شرمندہ سا پلٹنے لگا تھا کے چاندنی نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عمر کو گلے سے لگا لیا اور سسکنے لگی وہاں موجود ہر نفس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔وہاں موجود ہر شخص صرف
بہانہ ڈھونڈتا تھا اپنے غم کو آنسو کی شکل میں بہانے کا۔اس رات چاندنی کے گلے لگے ہوئے عمر کے دل سے مکیپ سے لتھڑے چہروں کا ڈڑ نکل گیا تھا۔
وہ رات ابتدا تھی چاندنی اور عمر کے تعلقات کی۔یہ الگ بات ہے کہ عمر نے کبھی چاندنی کو آپی بلایا نہیں تھا وہ اسکو چاندنی ہی کہتا تھا۔
جاری ہے
آج آپ سب سے درخواست ہے کے میری تحریر کی خامیوں سے مجھے آگاہ کرے شکریہ۔
جاری ہے
