Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat K Rung Apno K Sung (Last Episode)

Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik

صبح آنکھ کھلی تو دیکھا افنان ابھی تک سویا ہوا تھا… افنان کی بند آئی لیشیز ہمیشہ سے فاطمہ کو پسند تھی اور آج وہ اتنا قریب تھا تو بے اختیار فاطمہ نے اپنے ہونٹ اسکی آنکھوں پہ رکھ دیئے تھے .

افنان نیند من ذرا سا کسماسیا تھا … برڈ کی جگہ تو کانٹے اگا رکھے ہیں افنان… .شرارت کے لئے فاطمہ افنان کی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے موچھوں کے بال اکھڑرنےلگی . .

ایک دفعہ تو افنان نے کروٹ بدل لی تھی مگر فاطمہ نے دوبارہ یہ حرکت دوہرائی تو افنان نے اسکا بازو پکڑ لیا ،اور اٹھ کے اُس پہ جھک گیا ……

کیا مسئلہ ہے تمھیں ؟ ؟ ؟ سونے کیوں نہیں دیتی ؟ افنان نے غصہ دکھاتے ہوئے گھورا تھا

وه … میں … . . فاطمہ ڈر کے ہکلانےلگی .

کیا میں میں لگا رکھی ہے ؟ ؟ ؟ میرے بیئرڈ کی جگہ کانٹے اگے ہوئے ہیں ، ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے جاں بوجھ کر گال فاطمہ کے گال سے لگاے

آر فاطمہ کو اسکی بیئرڈ چھبنےلگی …

اسی 3 ڈے سٹیبل بیئرڈ کہتے ہیں … افنان نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا تھا

. افنان اپ مجھے اتنا تنگ کرتے ہیں اور اپنی دفعہ غصہ کر جاتے ہیں …

تمھیں مجھ پہ جاگتے ہوئے پیار کیوں نہیں اتا فاطی ؟ ؟ ؟ یہ سارے لاڈ تب ہی کیوں سوجتے ہیں جب میں سو رہا ہوتا ہوں ؟ ؟ … . افنان نے سوال کیا تھا

اپ جاگ رہے ہوں تو آپکی نظریں کنفیوز کرتی ہوں مجھے … . فاطمہ ہنس دی تھی

، اور میں سو رہا ہوں تو کسی کی جرأت نہیں ہوتی مجھے جگا بھی سکے اور تمھیں سارے شرارتیں تبھی سوجتی ہیں جب میں نیند میں ہوتا ہوں … . افنان نے اسے پیار سے دیکھتے ہوئے اپنی نیند ڈسٹرب نا کرنے کی التجا کی تھی… اَچّھا اٹھیں اب… آج واپسی بھی ہے ! ! ! اسے لمحے بیل بجی تھے اور اماں کا فون آگیا تھا

افنان کیسے ہو بیٹا ؟ ؟ ؟ رِفعت بیگم نے بیٹے کی خیریت پوچھی

ٹھیک ہوں اماں ، اپ سنائے؟ ؟ افنان فون پہ بات کر رہا تھا

میں بھی ٹھیک ہوں . میرے بہو کیسی ہے ؟ ؟ ؟

میرے نیندیں حرام کی ہوئی ہیں آپکی بہو نے … . فاطمہ نے افنان کو گھورا

اَچّھا میری بات کرواو…رفعت بیگم نے بات کرنا چاہے اور افنان نے موبائل فاطمہ کو پکڑا دیا تھا .

اسلام و علیکم ! ! اماں کیسی ہیں اپ ، فاطمہ اٹھنا چاہ رہی تھے مگر افنان نے اُس پہ بازو رکھتے ہوئے اٹھنے نہیں دیا… . . میں ٹھیک ہوں ، تم کیسی ہو ؟ ؟ افنان کا کیا حال ہے …

. جی وہ بھی ٹھیک ہیں … فاطمہ افنان کے بازو خود پر سے ہٹا رہی تھی . افی اٹھنے دیں مجھے … . اچانک فاطمہ بولی اور فون کے اُس پار رِفعت بیگم کے کانوں تک آواز پہنچ چکی تھی .

اَچّھا بیٹا میں بَعْد میں کال کرتی ہوں ، تم افنان کو سنبھالوں … رِفعت بیگم مسکرا دی تھی اور کال کٹ کر دی تھی… کوئی حیا کر لیتے ہیں تھوڑی سی ، اماں نے فون بند کر دیا ہے … . فاطمہ نے افنان کو مصنوعی غصے سے گھورا میں نے کیا کیا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ معصوم سا سوال کیا تھا

کچھ نہیں … . اب اٹھنے دیں مجھے … فاطمہ مسکرا دی

اٹھو ، میں نے منع کیا ہوا ہے … . افنان نے فاطمہ کی کمر پہ ہاتھ بھی رکھا ہوا تھا ، اٹھنے بھی نہیں دے رہا تھا اور زُبان سے کہہ بھی رہا تھا اٹھ جاو…

شرارتوں بھری خوبصورت سی صبح کا آغاز ہوا تھا . . .

اسی دن شام کو واپسی تھی ، افنان دوبارہ فاطمہ کو شاپنگ کروانے لایا تھا اور ہر چیز اسکی پسند سے خرید کے دی تھی… آج افنان کا دِل مطمئن تھا . خوبصورت دن گزار کے وہ گھر واپس آ چکے تھے .

کچھ دنوں سے اب فاطمہ کی طبیعت نا-ساز تھی . رِفعت بیگم اسکا چیک اپ کروانے لائیں تو ڈاکٹر نے اُنہیں دادی بننے کی خوشخبری سنائی تھی…

فاطمہ جب سے چیک اَپ کروا کے آئی تھی ، کمرے میں آ کے روئے جا رہی تھی .

لیپ ٹاپ پہ کام کرتے کرتے اچانک افنان کی نظر اُس پہ پڑی تھی .

کیا ہوا فاطی ؟ ؟ افنان فوراََ لیپ ٹاپ بند کر کے اُس کے پاس آیا تھا .

تم اور اماں تو ڈاکٹر کے پاس گئی تھی نا ؟ ڈاکٹر نے کیا بتایا ؟ ؟ کچھ سریس اشو ہے ؟ ؟ ؟ ؟ اوو اسپتال چلتے ہوں . افنان ایک دم پریشان ہو گیا تھا

افففففی ! ! !

جی جاں افی ؟ ؟ ؟ آج مدتوں بَعْد اسے کسی نے اِس نام سے پکارا تھا .

آئی ایم پریگنٹ … . فاطمہ منه پہ ہاتھ رکھے رَو دی . .

ریلی ؟ ؟ ؟ ؟ افنان تو جیسے خوشی سے پاگل ہوا تھا . تو اُس میں رونے والی کیا بات ہے ؟ ؟ ؟ تم پاگل ہو فاطی … افنان نے اپنی شریک حیات کو گلے لگا لیا تھا اور اُس کے معصومانہ انداز پہ ہنس دیا تھا .

مجھے لٹل فاطی چاہیے ، افنان نے کان میں سرگوشی کی تھی

مجھے لٹل افی چاہیے ، فاطمہ روتے روتے مسکرا دی . .

دُعا کرو پِھر دونوں مل جائیں … افنان نے اسے چھیڑا تھا اور فاطمہ نے شرما کے خود کو افنان کے حصار میں چھپا لیا تھا .

آج محبت مکمل ہو چکی تھی . افنان کو جس سکون کی تلاش سالوں سے تھی ، وہ سکون فاطمہ کی صورت میں مل چکا تھا…

محبت محرم رشتوں میں مل جائے تو زندگیاں سنور جاتی ہیں … افنان کی زندگی بھی سنور چکی تھی اور ایک روشن مستقبل اسے زندگی کی طرف لے آیا تھا جہاں خوشیاں ہی خوشیاں تھی ۔۔۔۔۔۔۔!!!

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *