Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 03)

Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik

افنان نے اسلام آباد اُسی یونی میں ایڈمیشن لیا تھا جہاں لاریب تھی

اور پِھر کچھ ہی دنوں بعد ارسل بھی اُس کے پیچھے چلا آیا تھا…

افنان ! نوٹس کاپی کروا دو . . لاریب پرنٹ کیے ہوئے نوٹس اسے پکڑاتے ہوئے بولی

سوری ہم لوگ اکاؤنٹنگ کی کلاس لاینے جا رہے ہیں ، افنان کی بجاۓ ارسل نے جواب دیا

تمھیں کَون کہہ رہا ہے ، لاریب نے غصہ کیا

اچھا کروا دیتا ہوں یار ، افنان نے اُس کے ہاتھ سے اوریجنل نوٹس پکڑتے ہوئے کہا .

تھینک یو ! افنان کا شکریہ ادا کرتے وَقت لاریب نے ارسل کو دیکھتے ہوئے وکٹری کا نشان بنایا .

ہونہ : / ارسل نے برا مناتے ہوئے بنوےسکیڑ لیں .

ارسل تُم کلاس لاینے جاؤ ، میں نوٹس کاپی کروا کے 10 منٹ تک بس آیا . افنان نے ارسل سے کہا

کمینے یہ لڑکی ماروائے گی تمھیں کسی دن ، میں جا رہا ہوں کلاس میں . ارسل نے غصے میں کہا

اوے سر کلاس میں آ گئے تو میرے بھی پَراکْسی لگا دینا ارسل ، افنان نے التجا کی

میں نہیں لگا رہا کسی کی پَراکْسی ، الیگل کام کے لئے میں ہی نظر اتا ہوں سب کو ، ارسل پاؤں پٹختے ہوئے وہاں سے چلا گیا .

* * *

عید کی چھٹیاں ہو رہی ہیں ، گھر جاؤ گے افنان یا ہاسٹل ؟ ؟ ؟ لاریب نے پوچھا تھا

میک تو عید تمھارے ساتھ کروں گا … افنان نے لاریب کو تنگ کرنا چاہا

شاپنگ کروای نہیں ہے اور عید میرے ساتھ کرنی ہے … لاریب نے شکوہ کیا تھا

کیا لینا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ میں لے اوون گا

میں ساتھ جاؤں گی … لاریب آنکھیں دکھا کے بولی

نا لے کے جاؤں تو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے بھی اس کے انداز میں جواب دیا

پِھر پیسے دے دو ، شاپنگ میں خود کر لوں گی … لاریب نے اسے مزید تپایا تھا

بازار میں بہت رش ہوتا ہے آج کل… . میں تمھیں ساتھ کہاں لیتا پھیروں گا …

اچھا ٹھیک ہے ! ! ! نہیں جا رہی کہیں بھی … . خُوش ؟ ؟

ہاں خُوش ہی خُوش جب تک تیرے ساتھ ہوں ? افنان نے اسکی ناک دبائی

پِھر پَکّا ہاسٹل ہی رہو گے ؟ ؟ ؟ ؟ لاریب نے ایک دافعہ پِھر پوچھا تھا

ہاں ! گھر دِل نہیں لگتا اب میرا… افنان نے دِل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اچھا میں نے آج گھر چلے جانا ہے یاسر کے ساتھ … تُم اپنا خیال ركھنا . لاریب نئے بیگ اٹھتے کہا

میرے بات سنو … یاسر سے دور رہا کرو ، مجھے اچھا نہیں لگتا جب تُم اسکا نام لیتی ہو . افنان نے مکا بنا کے دیوار پہ مارتے ہوئے کہا .

دیوار پہ جہاں افنان کا ہاتھ لگا تھا ، وہاں نوکیلا کیل تھا جو اُس کے ہاتھ کے پُشْت میں اندر تک چبا جہاں خون کا ایک پھوارانکلا تھا……

افنان ! ! خُون گر رہا ہے . . لاریب دَر گئی تھی

کچھ نہیں ہوا ، افنان نے ہاتھ کو جٹکا دے کے خُون کے قطرے نیچے گرائے تھے

اففی ! تُم پاگَل ہو… . دکھاؤں … . لاریب نے افنان کا ہاتھ پکڑ کے بیگ سے ٹشو نکلتے اور اُس کے ہاتھ کی پُشْت پہ رکھ کے خُون ٹشو میں جذب کر لیا تھا

تُم خود کو نقصان کیوں پہنچاتے ہو ؟ ؟ ؟ ؟ وہ جیسے بےبس سی ہو کر بولی تھی

تُم میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کسی اور کا ذکر کیوں کرتی ہو ؟ ؟ ؟ ؟ لاریب میں بتا رہا ہوں میں مر بھی سکتا ہوں … افنان نے جیسے اسے وارن کیا تھا-

افنان تُم مر بھی جاؤ گے نا تو اسلام آباد کی سڑکوں کے نام نہیں بدلے گے . . کسی کے باپ کا کچھ نہیں جائے گا . . میرے طرف سے بھاڑ میں جاؤ تم… افنان کی ایسے حرکتوں پہ واقعی لاریب اکثر ڈر جاتی تھی .

محبت لاریب کو بھی تھی ، اسے اِس جنونی شَخْص کے ساتھ وَقت گزارنا ، اسکی باتیں سنتے رہنا اچھا لگتا تھا مگر کبھی کبھی جانے کیوں وہ اِس جنونی کی حرکتوں سے خوف زدا بھی ہو جاتی تھی . لڑکیوں کے دِل تو بہت نازک ہوتے ہوں جو گولی کی آواز سن کے بی ڈر جاتے ہوں اور یہ شَخْص بات بات پہ مرنے کی دھمکی دیتا جو لاریب کے لئے واقعی تَشْوِیش ناک بات تھی . اِس وَقت بھی لاریب روتے ہوئے اُس کے پاس سے چلی گئی تھی اور افنان کو اسکی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگے تھے

. * * *

ہاتھ پہ کیا ہوا ہے ؟ ؟ ارسل نے نشان دیکھ کے پوچھا تھا

کچھ نہیں ، ایسے ہی ہاسٹل دڈ ور کے لاک میں آ گیا تھا… افنان نے جواب دیا

بینڈیج کرو اِس پہ ، بلیڈنگ ہو رہی ہے …

. ٹِھیک ہو جائے گا خود ہی . . افنان نے لاپروائی سے کہا

اتنی دیر میں ارسل فرسٹ ایڈ باکْس اٹھا لایا تھا اور پِھر زبردستی اس نے افنان کا ہاتھ پکڑ کےبینڈیج کر دی تھی .

پانی سے 2 ، 4 دن یہ ہاتھ بچا کے رکھنا … ارسل افنان کے جھوٹ کو سمجھ گیا تھا مگر اِس وَقت کوئی بھی بات اس سے پوچھنے کے موڈ میں نہیں تھا .

افنان نے رات کو لاریب کو منانے کے لئے کال کی تھی .

ہیلو ! ! ! کیوں کال کر رہے ہو بار بار ؟ ؟ ؟ لاریب نے کال پک کی تھی

تمہارا موبائل کس کے پاس تھا ؟ ؟ افنان نے پوچھا

نمبر بند تھا ، کیوں ؟ ؟ لاریب نے پوچھا

من نے کال کی ہے ، کوئی لڑکا بول رہا تھا اور پِھر بند کر دیا . . افنان نے اسے بتایا تھا

کَون لڑکا بول پڑہ ؟ ؟ لاریب کو حیرانی ہوئی کیوں کے اسکا موبائل تو اُس کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا تھا . یہ وہی موبائل تھا جو افنان نے اسکی برتھ ڈے پہ اسے گفٹ کیا تھا

نمبر جس نے ڈیوڑٹ پہ لگایا ہو ، اسکو پتا ہو . . افنان کو غصہ آ گیا تھا

میرا نمبر اوف ہوتا ہے افنان . لاریب نے وضاحت پیش کی تھی

میں جھوٹ نہیں بول رہا یار ، کچھ خدا کا خوف کیا کرو…

کس نے اٹھایا تھا ؟ ؟

اب یہ تجھے پتہ ہو کے تیرا فون کَون پک کر سکتا ہے … . افنان نے آہستگی سے کہا

میرا فون میرے پاس ہوتا ہے اور بند تھا . . اچھا میں ڈیورٹ کینسل کر کے دیکھتی ہوں ، کیا سین ہے . . یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کے لاریب اپنی غلطی مان لے-

اچھا سناؤ ؟ کیسے ہو ؟ ؟ ؟ لاریب کو حَال پوچھنا یاد آ گیا تھا

الحمداللہ ! ٹھیک تھاک ہوں . اللہ کا شکر ہے

چارجنگ پہ لگایا ہوا تھا فون ، پتا ہی نہیں چلا کال کب کی آپ نے .

لاریب نے موڈ کوخوشگوار کرنے کے لئے کہا

میں نے سوچا خیریت ہو ، میرا فون اٹھا نہیں رہی … افنان نے اپنی بے چینی اسے بتائی

خیریت ہی ہے … آپ میری آواز ریکارڑ کرتے ہو ؟ ؟ ؟ لاریب نے ایک دم سوال کیا تھا

ہاں تُم بولتی ہو تو میں ریکارڑ کر لایتا ہوں کبھی کبھی… . . افنان نے جواب دیا

کیوں ؟ ؟ ؟ لاریب نے وجہ پوچھی

بس میرے مرضی ……افنان نے اپنی دھونس جمائی

یہ کیا بات ہوئی … . تُم زونگ کی سیم کیوں نہیں لے لیٹے کال پکج کے لئے ؟ ؟ ؟ لاریب اسکی دیوانگی پہ مسکرا دی تھی

بیلنس میرا لگتا ہے تمھیں کیا مسلہ ہے … افنان نے پوچھا

کچھ نہیں … ہاتھ کیسا ہے ؟ ؟ ؟ بینڈیج کی تھی ؟ ؟ ؟ لاریب کو اب اسکی فکر ہوئی

ہاں ارسل نے بینڈیج کر دی تھی . ٹھیک ہے اب . افنان نے اسکی پریشانی کم کی

کال کیوں کی تھی ؟ ؟ لاریب نے لڑائی بھی کرنی تھی

ہاءے ! ! ! ! ! ! ! ! ! میں اور میری تنہائی …دونوں مس کر رہے تھے

کیسے ؟ ؟ ؟ لاریب نئے تجسس سے پوچھنا چاہا

خود کو ! ! ! میرے اکیلے پن کو… . ا

. اور میں اففی ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

میں اکیلا ہوں … . افنان نے کہا تھا اور لاریب جیسے کٹ کر رہ گئی تھی .

اور سناؤ ؟ ؟ ؟ ؟ تمھیں تو کوئی ٹینشن نہیں میری…… . . افنان نے شکوہ کیا تھا

فون کیوں کیا ہے پِھر ؟ ؟ ؟ ؟ وہ ناراض ہو گئی تھی

تھماری آواز سنی تھی ، نیند نہیں آتی یہ آواز سنے بغیر . افنان نے پیار سے مناتے ہوئے کہا تھا

. سن لی ہے نا ؟ میں بند کرنے لگی ہوں موبائل … لاریب ابھی تک غصے میں تھی

میں نے عید گفٹ بیجھا ہے پوسْٹ کے تھرو . . افنان نے اسے بتایا تھا

میں نے نہیں لینا کچھ بھی ! ! مجھے نہیں ضرورت کسی بھی گفٹ کی ، نا بیجھنا … . لاریب نے غصے میں کہا تھا

تُم نے خود عید کی شاپنگ کا کہا تھا اور لاریب میں نے بہت ایکسپینسف ڈریس لیا ہوا ہے . اب اسے پہن کے میں ڈانس کروں ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ افنان کو سخت غصہ آ گیا تھا

میرے لیے پرابلمز ہی کرئیٹ کرنا … . لاریب نے ظنز کیا تھا-

میں اب تمھارے گھر کے اڈریس پہ بھیج چکا ہوں ، میرے طرف سے جَلا دینا پِھر سارے گفٹس . . افنان نے غصے میں فون بند کر دیا تھا۔۔۔

بی ایس ائی ٹی کا لاسٹ سمیسٹر چل تھا . جہاں سبھی اسٹوڈنٹ گریجویٹ ہونے کی خوشی میں مسکرا رہے تھے ، وہی کچھ چہرے ایک دوسرے سے دور ہونے پہ اداس بھی نظر آ رہے تھے .

سر ! ہمارا لاسٹ سمیسٹر ہے . کہیں ٹور پہ چلتے ہیں . ارسل نے یونہی کلاس میں ایک نے شوشا چھوڑنے کے لئے کہہ دیا

سر پلززززز ہمارے آخری آخری دن ہیں یونیورسٹی میں ، مظہر نے ارسل کی رائے کی تعقید کی .

اوکے اسٹوڈنٹس آپ کے فائنل پَراجیکْٹ کی سب میشن سے پہلے ٹِرِپ کی بات میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ تک پہنچا دوں گا ، سر نواز اَحْمَد نے حامی بھر لی .

* * *

یونیورسٹی کا ٹِرِپ جا رہا ہے سوات ، لاریب تُم بھی ساتھ چلو گی ؟ افنان نے لاریب کے پاس کیفے میں بیٹھتے ہوئے پوچھا

موڈ نہیں ہے ، لاریب نے کولڈ ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے لاپروائی سے کہا

. بھی مان گئے ہیں HOD . تمھیں جانا چاہیے ، لائف میں کچھ تو چل ہو . ارسل نے اپنی طرف سے مشورہ دیا

تُم چل کرو نا ، تمھیں کَون منع کر رہا ہے . لاریب نے ارسل کو چھڑاتے ہوئے کہا .

لاریب پلیز میرے خاطر آ جاؤ . افنان نے منت بھرے لہجے میں کہا

کیوں ؟ ؟ ؟ تُم میرے کیا لگتے ہو جو تھمارے خاطر چلی جاؤں ؟ لاریب نے افنان کو مشکوک نظروں سے گھورا .

اوکے اگر تُم نہیں جاؤ گی تو پِھر میرا پروگرام بھی کینسل ہے . افنان ارسل کو دیکھتے ہوئے بولا

اوے ہیرو ! تو کس خوشی میں نہیں جائے گا ؟ ؟ ؟ ارسل نے افنان کا کالر پکڑتے ہوۓ کہا .

اچھا کافی کا بِل پے کردو افنان ، میں جا رہی ہوں اب گھر ، کل کنفرم بتا دونگی . لاریب اپنا بیگ اٹھتے ہوئی بولی .

ہاں ہاں ساری عمر بِل ہی پے کروائے گی بیٹا یہ تُجھ سے ، ارسل نے افنان کو غصے سے گھورا .

یہ کیا کہا ہے ارسل کے بچے نے ؟ لاریب نے پیچھے مڑ کر دیکھا

ارے کچھ نہیں ، جاؤ تُم . . میں بِل پے کردون گا . افنان نے بات سمیٹی .

یار ارسل تُم کچھ بھی بول دیتے ہو اُس کے سامنے ، افنان نے ارسل کی بات کا غصہ کیا

دیکھ افنان ! ، اِس لڑکی کی وجہ سے ہم دونوں کی دوستی میں فرق نہیں انا چاہیے . وہ ٹِرِپ پہ جائے یا نا جائے ، لیکن تمھیں لازمی جانا ھوگا . ارسل نے انگلی اٹھا کر افنان کو وارن کرتے ہوئے کہا

ارے ! تو تو جگر ہے میرا . تیرے بات میرے لیے حکم ہے ااقا ، افنان نے ارسل کا دِل بہلانے کے لئے اسکو گلے لگاتے ہوئے تھپکی دی .

لاریب ! تمھیں انا پڑے گا . لاریب افنان کا ٹیکسٹ پڑھتے ہوئے مسکرا دی

اچھا جی ! اگر نا اوں تو ؟ ؟ ؟ لاریب نے رپلائے کیا

آئی ایم ڈیم شیور تُم اوو گی . افنان نے ایک یقین کے ساتھ ٹیکسٹ کیا

سوات 3 ڈیز کا اسٹے ہے ، لاریب نئے فکرمندی سے کہا .

تو ؟ ؟ انسیکور ہو رہی ہو ؟ ؟ ؟ ؟ حیران ہوتے ہوئے افنان نے آگین ٹیکسٹ کیا

ارے ایک تیرے ساتھ ہی تو سیکیور فیل ہوتا ہے یار ، اچھا میں سوچوں گی . سو جاؤ اب . . لاریب نے گڈ نائٹ کہہ کر سیل فون بند کر دیا .

لبوں پہ مسکراہٹ ابھی بھی تھی . یہ سوچ دِل کو عجیب سا سکون دے رہی تھے کے کوئی اسکی خاطر اپنے پلانس ختم بھی کر سکتا ہے .

لاریب کو اپنی ذات کا چاہے جانے کا احساس بہت خوبصورت اور خوشگوار لگا تھا . انہی خوبصورت خوابوں کے ساتھ وہ نیند کی گہری آغوش میں چلی گئی .

گڈ نیوز ! ارسل نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے افنان کو بتایا .

ہاں بولو ؟ افنان نے سنجیدگی سے پوچھو

یار ہر وَقت سڑی ہوئی شکل لے کے کیوں گھومتا رہتا ہے رانجا ؟ ارسل نے افنان کو ستایا .

تھوڑی بَکْواس کیا کرو ارسل . گڈ نیوز بتا ؟ ؟ ؟ افنان نے دوبارہ پوچھا

تیری ہیر بھی جا رہی ہے ، ارسل نے اپنی طرف سے انفارم کیا

چلو اچھی بات ہے مگر میں نے تو تیرے ساتھ جانا ہی تھا ، چاہے وہ جاتی یا نا . . افنان نے انجان بنتے ہوئے کہا . کمینے میرے سامنے یہ لڑکیوں کی طرح ایکٹنگ نا کرو . جانتا ہوں کتنی قدر ہے تمھیں میری ، ارسل نے منه بسورتے ہوئے کہا

ارسل تو میری جان ہے ، دنیا اِدَھر کی اُدھر ہو جائے ، تیرے جگہ کوئی نہیں لے سکتا . افنان نے یقین دہانی کروای ارسل اپنی طبیعت میں لاپروائی کے باوجود افنان کے لئے بہت پوسیسیو تھا . دونوں ہی 2 دِل ایک جان تھے .

افنان ! میرا بیلنس 0 ہے ، اور اماں نے کہا تھا خریت سے پہنچ جاؤ تو کال کر دینا .لاریب نے افنان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا .

لو آ گئی تیری ہیر ، میں دیکھ کے اتا ہوں کتنے بجے تک بس روانہ ھوگی سوات کے لئے . ارسل نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا .

ہاں میں نے بھی 2 کارڈز لینے ہیں . راستے سے کسی پٹرول پَمْپ سے لے لیں گے . افنان نے لاریب کو تسلی دی . اور پِھر دونوں وہی بیٹھ کر ایک دوسری سے باتیں کرنے لگے .

اوے رانجا ! یہ گپ شپ کسی اور دن کر لینا ، فلحال بس بالکل ریڈی ہ اور آپ دونوں کا انتظار ہو رہا ہے . ارسل نے افنان کو چھیڑتے ہوئے دونوں کو انفارم کیا

. ہاں چلو ! ہم آ ہی رہے تھے بس کی طرف . افنان نے شَرْمِنْدَگی چھپاتے ہووے کہا

جی میں وہ تو دیکھ ہی رہا ہوں . لاریب ساتھ ہو تو تمھیں باقی جگ کی کوئی خبر نہیں ہوتی . ارسل نے ظنز کیا .

لاریب مسکراتے ہوئے بس میں بیٹھ گئی .

* * *

گریجویشن کمپلیٹ ہو چکی تھی… اور یونیورسٹی میں انکا آخری دن تھا جب لاریب اور افنان اسٹایرز پہ بیٹھ کر گئے دنوں کو یاد کر رہے تھے جہاں انہوں نے بہت سا وَقت اکٹھے گزارہ تھا… .

اب جدائی کا وَقت تھاا

. لاریب ان لڑکیوں میں سے تھی جو کالج یونیورسٹی کی دوستیاں وہی خَتْم کر کے آتی ہوں . اِس لیے ان لمحوں میں وہ افنان کو کوئی خاص بات بتانی کے لئے اِس طرف لے آئی تھی… .

افنان آج کے باد ہمارے راستے جدا جدا ہیں . میں نے تمھارے ساتھ 4 سال کا وَقت بہت اچھا گزارہ ہے مگر اب تُم میرے لیے صرف ایک خوبصورت یاد ہو … لاریب نئے بلا تمہید اصل بات که دی تھی .

لاریب ؟ ؟ افنان جیسے شاکڈ ہوا

مجھے میرے پورے نام سے پکارا کرو افنان . آئی ایم لاریب حیدر فروم نوو… بہت تَلْخی سے دِل پہ پَتَّھر رکھ کے وہ ضبط کی انتیحااپہ تھی کیوں کے محبت کے باوجود وہ اِس شَخْص کو کسی اُمید کا سہارا نہیں دینا چاہتی تھی .

کل تُم کہو گی مجھے پکارو مت… . افنان نے اُس کے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے پہ تپتے ہوئے ظنز کیا تھا .

تو پِھر شاید یہی بہتر ہے کے جب ہم اگلی بار ملیں تو اجنبیوں کی طرح ملیں . لاریب سفاکیت کی انتہا پہ تھی .

مجھے تُم سے کچھ بات کرنی ہے

ہاتھ بڑھانا چاہتا تھا کیوں کے یہ لڑکی وہ کسی بھی قیمت پہ کھو نہیں سکتا تھا .

اب کچھ بھی کہنے اور سننے کو باقی نہیں رہا … میرے شادی فکس ہو چکی ہے افنان…لاریب نے جیسے دھماکہ کیا تھا مگر افنان اسکی بات سن ہی کہاں رہا تھا .

من تمھارا لیے رِشْتَہ بھیجْنا چاہتا ہوں لاریب . . . افنان نے آج واضح بات کرنے کا —فیصلہ کر لیا تھا .

نہیں ، خدا کے لئے ایسا نہیں کرناا . . لاریب نے منت بھرے لہجے میں کہا

. کیوں ؟ ؟ تمھیں کس بات کا خوف ہے ؟ ؟ ؟ ؟ کیا تمھارے پیڑینٹس تُم سے محبت نہیں کرتے کے وہ تمھارے خواہش کا احترام نہیں کریں گے ؟ ؟ ؟ افنان نے غصے میں اسے پکڑ کے جنجور ڈالا تھا .

بات یہ نہیں کے وہ مُجھ سے محبت کرتے ہیں یا نہیں . . بات یہ ہے کے میں بھی ان سے کتنی محبت کرتی ہوں ، اِس لیے تو میں انکا اعتمار کبھی نہیں توڑنا چاہتی . لاریب نے اپنا موقف بیان کیا .

محبت کرنا یا پسند کی شادی کوئی جرم تو نہیں ؟ ؟ ؟ افنان ابھی بھو وہی اٹک گیا تھا .

لیکن زندگی پسند کی شادی پہ تو ختم نہیں ہو جاتی افنان . . کچھ رشتوں کا قرض اترنا ضروری ہوتا ہے … . لاریب اسے سمجھا رہی تھی .

اوہ اچھا وہ سارے رشتے ضروری ہیں اور میں ؟ ؟ ؟ ؟ میں کچھ بھی نہیں ؟ ؟ ؟ ؟ افنان کو اب لاریب کی باتوں میں اسکا اصل رنگ نظر آیا تھا

تُم ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ تُم تو ابھی کل آئے ہو میرے زندگی میں افنان اور وہ رشتے تو ہمیشہ سے ہوں . . . . پرانی محبتیں تو پہلے نباہ لوں . . . نئی کی خاطر اُنہیں کیسے چھوڑ دوں ! !لاریب کی آنکھوں میں آنسو تلماننے لگے تھے .

کبھی کبھی دِل کی خواہش کو مارنا خود کو قتل کرنے کے برابر ہوتا ہے . اور لاریب بھی اِس وَقت اسی قرب سے گزر رہی تھی

تمھاری زندگی پہ تمھارا حق بھی بنتا ہے . . . افنان نے ایک بار پِھر اسے اپنے ساتھ رہنے کی دلیل دی تھے

زندگی پہ پہلا حق انکا ہوتا ہے نا جو ہمیں زندگی دیتے ہیں . . . . . . . جو لوگ ہمیںچاہتے ہیں ، اُنہیں دکھ دے کر اپنے لیے محبت خریدی نہیں جا سکتی ۔ لاریب کا موقف افنان کی دلیل کے سامنے پھیکا پڑ رہا تھا

ہاں شاید تُم ٹھیک کہہ رہی ہو… افنان نے ہار مان لی تھی

مجھے بھول جاؤ افنان… . . گھر چلے جاو… لاریب سب کچھ لوٹانے والے سے اب کہہ رہی تھی جب اُس کے ہاتھ بالکل خالی ہو چکے تھے . افنان اِس لڑکی کی خاطر تو گھر والوں سے بھی لڑ کے یہاں تک آیا تھا . . اور یہ اب اسی گھر جانے کا مشورہ دے رہی تھی .

میں بھول نہیں سکتا ، ہاں راستے سے ضرور ہٹ جاتا ہوں ! ! مگر زندگی میں جب بھی میری ضرورت ہوئی ، آواز دے لینا ، میں تمھیں وہی ملوں گا جہاں چھوڑ کے جا رہی ہو … اللہ حافظ . . یہ کہہ کے افنان وہاں رکا نہیں تھا .

لاریب کی آنکھوں سے آنسو گرنیوالے تھے مگر اس نے پلکوں کو سختی سے بھینچ لیا تھا کیوں کے وہ اِس بات پہ یقین رکھتی تھے کے کچھ آنسو آنکھوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جانے چاہیے . کیوں کے وہ آنسو اگر پلکوں کی بار کراس کر لیتے تو شاید دِل محبت کے لئے موم ہو جاتا … . . عورتوں کے دِل تو قبرستان کی طرح ہوتے ہیں جن میں کئی راز دفن ہوتے ہیں۔ جنہیں کوئی جان نہیں سکتا . افنان کے لئے اسکی یہ محبت بھی ایک راز تھی جو ہمیشہ کے لئے آنکھوں میں دفن کر دی گئی تھی .

میرے ہر اُمید کا قاتل …… .

تیرا وہ اِک لفظ خدا حافظ ! ! !

محبتوں میں بیوفائی ہمیشہ مرد نہیں کیا کرتے ، کبھی کبھی عورَت سب کچھ جانتے ہوئے بھی مرد کو تپتے صحراؤں میں بیچ راستے میں چھوڑ اتی ہیں … یہی افنان کے ساتھ ہوا تھا . زندگی کی اُمید اور جینے کی امنگ ختم کر کے وہ محبت کے ان گمنام راستون پہ چل پڑہ تھا جہاں سے واپسی ناممکن تھی .

6 ماہ تک دن مسجد میں گزارتا اور رات قبرستانوں میں ! ای ٹی فیلڈ کا اکسپرٹ21vین سنچری کا رانجھا بنتے بنتے شاید وہ یہ بھول چکا تھا کے جو نصیبوں میں نا ہو ، وہ ہیریں رانجے سے نہیں ملا کرتی .

. سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

ورنہ اتنی تو مراسم تھے کے آتے جاتے ! ! !

کتنا آسان تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں

پِھر بھی اِک عمر لگی جان سے جاتے جاتے ! ! !

اسکی وہ جانے . . . اسے پاس وفا تھی کے نا تھی

تُم اپنی طرف سے تو نباتے جاتے ! ! ! !

پِھر لمحوں میں ایک —فیصلہ اُس کے دماغ نے کیا تھا کے یہ شہر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے گا . اسی شام لاریب نے جب راستے بدلے تھے تو افنان بھی اسلام آباد کی فضاؤں کو ہمیشہ کے لئے گڈ بائے کہہ آیا تھا . . 1 سال لاہور کی سڑکوں پہ آوارہ گردی کرتے کرتے بھی جب سکون نا ملا تو نہ امیدی اور مایوسی کی انتہا پہ آخری حَل موت نظر آیا تھا کے شاید اِس درد سے رہائی مل جائے جو لمحہ لمحہ تڑپا کے مار رہا تھا… . * * *

تیرے لیے میں چھوڑ دوں دنیا

تو جو کہے اے صنم

مختصر حَیات کر دے

تو میرے نجات کر دے

یا تو پِھر ملا دے یار سے ! ! !

او ربا وے ! ! !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *