Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik NovelR50693 Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 02)
Rate this Novel
Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 02)
Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik
رات کو لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ چھت پہ واک کرنے آیا تھا . .
اور پِھر یونہی بے خیالی من نمبر ملا دیا گیا … .
ہی ہیلو ؟
آپ کَون … فوراََ پوچھا گیا
افنان بات کر رہا ہوں … .
افنان ہو یا حنان ، مجھے کیا لگے ؟ مکمل لا تعلقی کا اظہار کیا گیا
بات کرنے کی اِجازَت چاہتا ہوں اور کال کرنے کے لئے معذرت چاہتا ہوں . .
کَون ہو ؟ سیدھی طرح بتاؤ … لاریب نے اِس مودب اور شریف سے اندازِ پہ اسے تنگ کرنا چاہا
جسے آپ نے آج اپنا نمبر دیا تھا . افنان نے مسکراتے ہوئے کہا
انٹرسٹنگ ! ! آئی ایم امپریسڈ . . دوسرے طرف سے بہت اداا سے بولا گیا
آپکی آواز اچھی ہے . افنان نے تَعْرِیف کی
تھینک یو ! میسج پہ بات کرتے ہیں
نہیں ، مجھے تمھارے آواز سننی ہے … . التجا کی تھی
کیوں ؟ ؟ ؟ میرے آواز میں کیا رکھا ہے ؟ ؟ ؟ فوراََ تَعَجُّب سے پوچھا گیا
بس اچھی لگی ہے کانوں کو ! ! !
کیا بات کروں ؟ ؟ وہ جیسے کنفیوز سی ہو کر بولی
کچھ بھی سنا دو… .
اے بی سی سناؤں یا 123 ؟ ؟ ؟ ؟
ہاہاہا ! ! !
الف بے سنائیں … .
کیوں کال کی ہے ؟ ؟ ؟ میں نے نمبر اِس لیے مانگا تھا کے ضرورت پڑنے پہ بات کرونگی … لاریب نے سنجیدگی سے کہا
دوستی کرنا چاہتا ہوں . افنان نے گھما پھرا کے بات کرنے کی بجائے ڈائریکٹ کہا تھا
سوچ لو ایک بار ! ! ! دوستی میں بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے … .
جان بھی د ے سکتا ہوں . . افنان نے جذبات کی رُو میں آ کے کہہ دیا تھا .
کچھ بھی کر لو گے دوستی میں ؟ ؟ ؟ ؟
ہاں میں دوستی میں صرف دینا جانتا ہوں ، لینے کی امید نہیں رکھتا . افنان نے جواب دیا
رات بہت ہو چکی ہے . . صبح سناؤں گی … بائے . . یہ کہتے ہوئے اُس نے فون بند کر دیا تھا
کبھی کبھی آواز کی اٹریکشن چہروں سے زیادہ خوبصورت ہوا کرتی ہے … جہاں بن دیکھے بھی اِنسان ایک عجیب سے حصار میں جکڑنے لگتا ہے . آواز کی خوبصورتی کا جادو افنان پہ اثر کرنے لگا تھا اور پِھر وہ رات اُس نے جاگتے ہوئے گزر دی تھی . دِل ایک نئی دھن پہ لہرا رہا تھا کیوں کے افنان کی سماعتوں کو آواز بھلی لگی تھے . دوسرے طرف لاریب کا بھی حال کچھ مختلف نہیں تھا مگر وہ اِس سے پہلے بھی ایک تلخ تجربے سے گزر چکی تھی اِس لیے اب کی بار دوستی کو آزمانا چاہتی تھے . پِھر کالز اور میسجز کا نا ختم ہونی والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا .
ایڈمیشن انسٹالمنٹ کروانی ہے . . روپے . / 5000 دے سکتے ہو ؟ ؟ ؟
کہاں بھیجوں ؟ ؟ ؟ ؟ اور پِھر بنا سوچے سمجھے افنان نے فوراََ پیسے بھیج دیئے تھے
کسی حد تک لاریب کو اندازہ ہو چکا تھا کے اِس پہ اعتبار کیا جا سکتا ہے . کیوں کے وہ بنا مطلب کے دوستی رکھنی کا راوادار تھا . .
دونوں کی طرف سے اجنبیت سے دوستی تک کا سفر بن دیکھے طے کر لیا گیاتھا……
* * *
افنان کہاں غائب رہتے ہو آج كل ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ارسل نے اُس سے پوچھا
کہیں بی نہیں ،ادھر ہی ہوتا ہوں . . میں نے کہاں جانا ہے … . افنان نے جواب دیا
یہ جو تھمارے فنگرز 24 آورز موبائیل ٹیکسٹنگ پہ ہوتی ہیں نا ، سب نظر آرہا ہے مجھے بیٹا ! کن چکروں میں ہو ؟ ؟ ؟ ؟ کچھ نہیں یار ، ایسے ہی ایک فیس بک فرینڈ ہے … افنان نے بات گول مول کرنا چاہی مگر وہ ارسل ہی کیا جو کسی بات کا پیچا چھوڑ دے …
کَون ہے ؟ ؟ ؟ کہاں رہتی ہے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ تُم سے اتنی کیوں فرینک ہے ؟ ؟ ؟ ارسل نے اُس کے ہاتھ سے موبائیل چھینتے ہوئے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے
افنان نے الف سے لے کر ے تک ساری داستان اپنے جگری یار کے گوش گزر کردی تھے .
افنان اتنا زیادہ سریس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، لائف پارٹنر کا انتیخاب کرنے تک سوچ لیا ہے اور ماما بابا سے ذکر ہی نہیں کیا . کب سے چل رہا ہے یہ سلسلہ ؟ ؟ ؟ ارسل نے کوریدنا چاہا
ارے ! بھابی بنے گی تیری بہت جلد …اواز کا دیوانہ بن کے بغیر دیکھے ہی افنان خیالوں میں لانگ ٹَرْم پلاننگ کر رہا تھا .
تجھے پتہ ہے نا انکل ارینج میرجز کے حق میں ہیں . ارسل نے سمجھانا چاہا
لیکن میرا دِل کسی کی جاگیر تو نہیں ارسل جہاں کوئی اور فیصلہ کریں گا کے یہاں کس کو بسانا ہے ، کس کو نهی . افنان نے آنکھ مرتے ہوئے ارسل کو اپنے ارادوں سے با خبر کیا . .
* * *
پولیٹکس میں انٹرسٹ ہے ؟ ایک دن یونہی لاریب نے میسج کر کے پوچھا
پہلے نہیں تھا ، اب انٹرسٹ ہونے لگا ہے . افنان نے جواب دیا
اب کیوں ؟ ؟ ؟ فوراََ سوال کیا گیا
پولیٹکس میں مسٹر . خان کی انٹری جو ہو چکی ہے ! ! ! افنان نے جواب دیا
ارے واہ ! ! ! pti کے سپوٹر ہو ؟ ؟ ؟
ہاں جی ! تمھارا ووٹ کس پارٹی کے لئے ہے ؟ ؟ ؟
میں بھی pti کی دیوانی ہوں . . اچھا عمران خان تو اِسْلام اباد آرہا تم اؤ گے ؟ ؟ ؟
مجھے دوسری سٹی جانے کی اِجازَت نہیں ہے . اور ویسے بھی میرا lums میں ٹَیسْٹ ہے . افنان نے بتایا …
عجیب انسان ہو . . آئی تھنک تمہیں اپنے لیڈر کو سپورٹ کرنے انا چاہیے ؟ ؟ ؟ ؟
چلو دیکھتا ہوں !
مُجھ سے ملنے ہی آ جاؤ اسلام آباد …… لاریب نے آزمائش کے لئے کہہ دیا
تُم سے ملنے تو آ سکتا ہوں ، بولو کہاں ملو گی ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے فوراََ جواب دیا تھا
یونیورسٹی ، اولڈ کیمپس ! ! Bs بلوک ……… لاریب نے آزمانے کے لئے ایسے ہی میسج کر دیا۔۔
* * *
افنان میں لاہور تمہیں چھوڑنے خود جاؤں گا . . شیرازی صاحب اُس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہنے لگے
جی بابا ! میں ٹیسٹ کی تیاری ہی کر رہا تھا . افنان نے موبائل تکیے کے نیچے چھپاتے کہا .
ریسٹ کر لو تھوڑا سا… پِھر صبح جلدی اٹھا نہیں جائے گا جی جاتے ہوئے میرے کمرے کی لائٹ بند کر دیجئے گا . افنان نے باپ سے کہا
افنان دودھ کا گلاس پی کر سونا بیٹا ! رِفْعَت بیگم کمرے میں آئیں
یہ رِفْعَت بیگم کی شروع سے رَوٹِیْن تھے جتنی دیر بیٹے کے کمرے کی لائٹ جلتی رہتی ، وہ جاگتی رہتی تھی .
مانیں شاید بیٹوں کےلئے اتنی ہی پوزیسو ہوا کرتی ہوں . ا
گلے دن شیرازی صاحب اسے لاہور چھوڑ آئے تھے .
میں آ رہا ہوں اسلام آباد … افنان نے یونیورسٹی پہنچ کے لاریب کو میسج کیا تھا .
ارے ! تُم پاگَل ہو ؟ ؟ ؟ ؟ میں نے ایسے ہی مذاق کیا تھا تُم سے … لاریب کو واقعی حیرانی ہوئے تھے .
اگلے 4 گھنٹوں میں وہ سچ مچ لاریب کے پاس اسکی یونیورسٹی میں پہنچ چکا تھاا .
وہ ان مردوں میں سے نہیں تھا جو وعدہ کر کے نبھانا بھول جاتے ہوں . افنان ان لوگوں کی لسٹ من سے تھا جو بات کر کے ثابت بھی کرتے ہیں …
افنان تمھارا ٹیسٹ تھا … لاریب نے میں یاد کروایا
محبت اور اسٹیڈز دونوں کا ٹیسٹ ایٹ دی سیم ٹائِم تھا ، میں نے محبت کا ٹیسٹ چوز کر لیاا. . افنان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے جواب دیا تھا
تُم مختلف ہو افنان… . لاریب نے اقرار کیا تھا
ایسا ہی ہوں میں تو ! ! !آپکے ہاں گیسٹ کو چائے پانی پوچھنے کا کوئی رواج ہے … افنان نے جیسے اسے شرمندہ کرنا چاہا . .
اُوں میں بھول گئی تھی . اوو کافے چلتے ہوں . لاریب اسے کیفٹریا میں لے آئی تھی
چائے پیو گے یا کافی ؟ ؟ ؟
میں ناشتہ کرونگا لائٹ سا… . .
کیا اِرادَہ ہے … لاریب آرڈر دے کے چیئر پہ اُس کے پا س بیٹھ گئ تھی
یہ تو اب تُم بتاؤ گی مجھے کیا اِرادَہ ہے تمہارا ؟ ؟ ؟ میں تو حاضِر ہوں آپکی خدمت میں . . افنان نے لاریب کو آنکھوں سے اشارا کرتے ہوئے کہا . .
مجھے تُم سے دَر لگ رہا ہے … لاریب نے اپنا خَدْشَہ ظاہر کیا
آہاں کیوں ؟ ؟ ؟ ؟ میں انسانوں کو نہیں کھاتا ، -بے فکر رہو … افنان نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا .
. اتنے میں ناشتہ آ چکا تھا
کوئی کام تھا اسلام آباد ؟ ؟ ؟ لاریب کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا
ا ہاں تُم سے ملنا تھااا… . . تھماری لائیو سننا چاحتاا تھا ،
افنان پراٹھے کا نوالہ منه من ڈالتے ہوئے بولا
یار تُم پاگَل تو نہیں ہو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
پاگل نہیں ، جنونی ہوں … . محبت میں جان دے بھی سکتا ہوں اور کوئی تیسرا انٹر ہوا تو جان لے بھی سکتا ہون … افنان نے اٹھتے ہوئے اسے دبے دبے لفظوں میں وارن کیا تھا-
ایک خوشگوار سا دن اپنی محبت کے ساتھ گزار کے وہ واپس تو لاہور آ چکا تھا مگر دِل تو وہی کہی اسلام آباد کی رومینٹک فضاؤں میں گم کر آیا تھا .
* * *
اوئے ٹیسٹ کیسا ہوا ؟ ؟ ؟ ارسل کا میسج آیا تھا
کَون سا ٹیسٹ ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے رپلائے کیا
انٹری ٹیسٹ ! !
انٹری ٹیسٹ نہیں دیا میں نے ارسل… افنان ارسل سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا تھا
واٹ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ انکل تمھیں خود چھوڑ کے آئے تھے نا افنان ؟ ؟ ؟ ارسل کو شا ک لگا تھا افنان کا میسج پڑھ کر-
میں اسلام آباد چلا گیا تھا- و
ہاں کس ماں سے ملنے گیا تھا ؟ ؟ ؟ ؟ ارسل کا دماغ واقعی گھوم گیا
اپنے فیوچر کے بچوں کی ماں سے … . افنان نے بات مذاق میں کی
کَون ؟ ؟ وہ فب والی لڑکی جس کا تُم نے ذکر کیا تھا ؟ ؟ ارسل کو تَشْوِیش ہوئے
ہاں اس نے مجھے اسلام آباد بلایا تھا… پِھر افنان نے سارے بات ارسل کے گوشگزار کر دی
سااالے ! تو مارے گا انکل کے ہاتھوں . . اب خیر منا اپنی بیٹا … . ارسل نے اسے ڈرانا چاہا
محبت ہو گئے ہے مجھے ارسل اس سے … . اور تجھے پتہ ہے نا محبت انسان کو بے-خوف کر دیتے ہے … افنان نے حَال دِل اپنے جگری یار کو سنایا تھا
افنان کمینے ! سارے زندگی پڑی ہے ان كاموں کے لئے … فن کی حد تک بات کر لینا ٹھیک ہے ، اِتْنا سریس نا ہو … . ارسل نے سمجھانا چاحا…
تو میرا دوست کم ، ڈیڈی زیادہ ہے ارسل… افنان غصے میں بولا
گٹ ریڈی میرے جان ! یہ جو نیلی پیلی شرٹس پہن کے تو عاشقیاں کرتا پھرتا ہے نا ، انکل سکھاۓ گے تمھیں سارے گر جب اُنہیں پتا چلے گا کے جس بیٹے کو پڑھنے کے لئے لاہور بھیجا ہے ، وہ لڑکیوں سے اگلے 10 سالوں کی کمٹ منٹ کرتا پھرتا ہے … ارسل نے اچھی خاصی اسکی کلاس لی تھی
دیکھی جائے گی … اچھا اب میں شاور لینے جا رہا ہوں . بائے… باقی لیکچر بِریک کےبعد … افنان نے جواب دیا تھا .
* * *
اور پِھر ارسل کی بات سچ ثابت ہو چکی تھے . بابا جان کو پتا چل چکا تھا کے اس نے ٹیسٹ نہیں دیا . اگلے دن وہ باپ کی عدالت میں تھا-
بابا ! مجھے لاہور میں نہیں پڑھنا … .
کیوں ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ایک زور دار تھپڑ پڑا تھا
اسلام آباد کی کسی بھی یونی میں ایڈمیشن کروا دیں …
میں دیکھتا ہوں ، تُم کیسے نہیں پڑھتے … . .
زندگی میں پہلی بار اپنے باپ سے ٹھیک ٹھاک قِسَم کی ٹھوکائی کروا چکا تھا
پہلی بار کسی لڑکی کی خاطر مار کھا رہا تھا اور اِس مار کی بھی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی . کیوں کے وہ افنان ہی کیا جو کچھ کرنے کی ٹھان لے اور پِھر کسی کی مانی……….
آخر کار جوان بیٹے کے سامنے باپ ہار گیا تھاا اور اسے اُس کے حال پہ چھوڑ دیا تھا…
اب باپ کا کام صرف ATM مشین کا رہ گیا تھا جسے صرف بیٹے کے ایکپینسس برداشت کرنے تھے ، کیش دینا تھا . . کوئی سوال جواب نہیں کرنا تھا . … .
باپ بیٹے کے رشتے میں ایک عجیب سی خَلِش آ چکی تھے .
اور ایسے میں رِفْعَت بیگم رونے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھیں …
ماوں کا یہی تو کام ہوتا ہے . . سارے زندگی اولاد ر ہمسفر میں پیسس کے رہ جاتی ہیں …
اور پِھر وہ واقعی سب کو بیچ چھوڑ کے اسلام آباد جا چکا تھا .
