Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 06)

Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik

افنان آج آفیس چکر لگا لینا . . مجھے کچھ کام ہے … شیرازی سب نے آفس جاتے ہوئے اسے کہا تھا

جی بابا ! ! آ جاوں گا . . افنان نے تابیداری دکھائی تھی .

10 بجے کے قریب وہ آفیس جا رہا تھا . روڈ کراس کرتے ہوئے اسے ایک آواز سنائی دی تھی جسے کسی زمانے میں سننے کے لئے وہ تڑپتا تھا .

اے . باسِط بیٹا گر جاؤ گے ! ! انگلی پکڑے وہ شاید بچے كو اُٹھانا چاہ رہی تھی مگر 4 ، 5 سال کا وہ چھوٹا سا بچہ خود روڈ کراس کی ضد كر رہا تھا .

گاڈری کے شیشے افنان نے نیچے کیے تھے . بیک مرر سے اسے وہ چہرہ دکھائی دیا تھا جسے کبھی نا دیکھنے کی دِل نے ٹھان لی تھی…

یہ آواز تو لاکھوں انسانوں کے کاروڈ میں بھی لمحے کےہزاروے حصے میں پہچان سکتا تھا .

گاڑی اشارے پہ رُکی . افنان کی آنکھوں پہ سن گلاسس تھے جب وہ عورَت اُس کے پاس آئی تھی .

ایکسیوز می! میرا بیٹا بھالو لینے کی ضد كر رہا ہے . . میرا والٹ ابھی مارکیٹ میں کسی نے چھین لیا ہے . پلیز ایک بھالو پرچیس كر دیجئے گا. وہ عورَت افنان سے التجا كر رہی تھی اور افنان كو یوں لگا تھا جیسے تقدیر اسے آج پِھر ایک بار تپتے ہوے صحرا مں لا کھڑا کیا ہو .

یہ عورَت تو افنان کی محبت تھی ، جس پہ کسی کی نظر تک پَڑْنا اسے گوارہ نا تھا ، آج روڈ پہ بے یارو و مدد گار کھڑی تھی .

لاریب حیدر ! ! ! ! ! ! افنان نے آنکھوں سے گلاسس اتارے تھے اور آج سالوں بعد اسے اُس کے نام سے پکارا تھا افیی…………… . لاریب كو لگا تھا وقت جیسے تھم سا گیا ہو .

وہ محبت جسے خون کے رشتوں کی خاطر اس نے ٹھکرایا تھا ، تَقْدِیر ایک بار پِھر اسی کے سامنے لے آئی تھی .

اوو بیٹھو ! ! افنان نے گاڑی کا دروازہ اس کے لئے کھولا تھا اور پِھر اسے قریبی پارک میں لے آیا تھا

.کسی ؟ ؟ ؟ افنان نے حال پوچھا تھا

میں ٹھیک ہوں . . تُم سناؤ ؟ ؟ ؟

میں بھی زندہ ہوں ? تمھارا بیٹا پیارا ہے . . افنان نے پِیار سے عبدل باسِط کے گال پہ چٹکی کاٹی تھی .

کیا کر رہے ہو آج كل ! ! لاریب نے ایک اور سوال کیا تھا

کچھ خاص نہیں ، کمپیوٹر … میں اور میری تنہائی ! ! تُم سناؤ کیسی گزر رہی ہے لائف ؟ ؟ ؟ ؟

افنان میں ڈائی وورس لے چکی ہوں . . اس نے ایک اور انکشاف کیا تھا

اوھو آئی ایم سوری ! ایسا کیوں کیا تھا ؟ افنان نے پوچھا

بہت ہی شکی مزاج تھا ! !

اور بیٹا ؟ ؟ ؟ اسکو لینے وہ نہیں آئے گا ؟ ؟ ؟

بیٹا تو وہ اپنی اولاد مانتا ہی نہیں … لاریب دُکھ سے سانس بھرتے ہوئے بولی تھی اورافنان كو یوں لگا تھا جیسے کسی نے اُس کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی ہو .

وہ مشرقی لڑکی جس نے اپنے والدیین کی عزت کی خاطر اپنی محبت تک قربان کردی تھی ، اسکا کردار اِتْنا غلیظ کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا جیتنی اس شَخْص کی سوچ تھی .

اِتْنا تو افناان كو لاریب کے کردار پہ یقین تھا… . .

آج كل کہاں رہ رہی ہو ؟ ؟ ؟ افنان نے اس سے پوچھا تھا

جہاں ٹھکانہ مل جاۓ … .

اوو میرے ساتھ ! گھر چلتے ہیں . افنان اسے گھر لے آیا تھا

یہ کَون ہے ؟ ؟ ؟ فاطمہ كو افنان کے ساتھ لڑکی اور ایک بچہ دیکھ کے حیرت ہوئے تھے

. امی یہ لاریب ہے ، میری یونی فیلو ، گیسٹ ہے 1 ، 2 دن تک یہی رہے گی … . . افنان نے تعارف کروایا تھا .

اَچّھا اوو بیٹا ! . . . رِفْعَت بیگم اُس کے سامنے تو خوش دلی کا مظاہرہ كر رہی تھی مگر دِل میں یہ باتاُنہیں چبھ رہی تھے . وہ اتنی بھی آزاد خیال عورَت نہیں تھی کے بیٹے کی فیمیل دوستوں كو گھر مں برداشت كر لیتی . . لیکن مصلحت کے تَحْت وہ اِس وقت خوش مزاجی کا مظاہرہ كر رہی تھی .

اچھی سی چائے بنا کے لاؤ ان کے لئے ، افنان کچن مں آیا تھا… اور آتے ہی حُکْم سادر کیا تھا

یہ کَون ہے ؟ ؟ ؟ ؟ آپکے ساتھ کیوں آئی ہے ؟ ؟ ؟ ؟ فاطمہ نے ایک ساتھ کئی سوال کیا تھے . .

عورَت چاہے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایجوکیٹڈ پریکٹیکل ویمن ہو یا پِھر عام سی ان ایجوکیٹڈ ہاؤس وائف ، جب اسکا شوہر کسی اور عورَت کی طرف نگاہ اٹھا کے دیکھے بھی سہی ، تو عورَت کی سکس سینس اسے اپنے مرد کی ان نظروں کا ہر سگنل دے دیتی ہے . .

اِس وقت فاطمہ بھی اِس اجنبی عورَت کی ماجودگی سے انسیکور ہو رہی تھی

. تمھاری سوتن لایا ہوں ! ! افنان بھی اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا تھا

. جی ! ! ! ! ! ! فاطمہ نے بے-یقینی سے اپنے مجازی خُدا کی طرف دیکھا تھا… .

اور کچن سے جانے لگی تھی . افناان نے دیوار کے ساتھ لگا کے فوراََ اُس کے مفرور کی راہیں مسدود كر دی تھی . کیوں ؟ ؟ ؟ مُجھ سے محبت ہو گئی ہے کیا ؟ ؟ ؟ افنان اسکی آنکھوں مں دیکھتے ہوئے سوال كر رہا تھا ،

افنان كو اِس وقت اس پتا نہیں کیوں اپنی ہمسفر پہ بےتحاشا پیار اینے لگا تھا .

فاطمہ بیٹا ! تمھارے گیسٹ آئے ہیں اور تُم کچن مں بیٹھ ہی گئی ہو… . . اماں نے ایک بار پِھر آواز لگائی تھی

جی آ رہی ہوں . . افنان فوراََ پیچھے ہٹا تھا ، اور وہ باہر آ گئے جہاں اماں لاریب سے حال پوچھ رہی تھیں

اسلام علیکم ! ! فاطمہ نے شائستگی سے سلام کیا تھا . .

وعلیکم السلام … آپکی تَعْرِیف ؟ ؟

یہ فاطمہ ہے … افنان نے جلدی سے تعارف کروایا تھا

جی میں فاطمہ افنان ہوں … اپ چائے لیں گی یا کچھ ٹھنڈا لائوں ؟ ؟ ؟ فاطمہ نے بھی اپناتعارف مکمل کروانا ضروری سمجھا تا کے مقابل کے دِل میں کوئی خوش فہمی پیدا نا ہو . .

اُس کے تعارف کروانے پہ لاریب کے چہرے پہ ایک تاریک سایہ آ کے گزر گیا تھا .

وہ افنان کے ساتھ اس کے گھر اِس لیے آئی تھی کے شاید محبت کے سفر مں واپسی کی گنجائش ہو… .

اوو اندر چلتے ہیں ، آپکو لیپ ٹاپ پہ گیم پلے كر کے دیتا ہوں . افنان عبدلباسِط كو اٹھائے اپنے کمرے میں چالا گیا تھا… .

لاریب فاطمہ کے ساتھ کچن میں ہی آ گئی تھی اور ماں جی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی .

کتنا عرصہ ہوا ہے شادی كو ؟ ؟ ؟ لاریب فاطمہ سے سوال كر رہی تھے

2 منتھس ہو گئے ہیں … . فاطمہ نے چائے کا پانی برنر پہ رکھتے ہوئے لاریب کی طرف دیکھے بغیر کہا جب کے لاریب اسکا تنقیدی نظروں سے جائِزَہ لینے میں مصروف تھی ۔

اوہ ابھی تو تُم نئی نویلی دلہن ہو ! ! پِھر یہ تمہاری خوبصورتی اتنی سوگوار سی کیوں ہے ؟ ؟ ؟ . . . . لاریب نے اس کے کپڑوں کی طرف اِشارَہ کیا تھا جو میلے سے لگ رہے تھے . .

وہ ایکچولی کچن مں کم كر رہی تھے نا تو اِس لیے ڈریس ابھی چینْج نہیں کیا . . فاطمہ نے وضاحت پیش کی تھی . اب وہ اسی کیا بتاتی کے جب دیکھنے والا ہی مُجھ مں انٹرسٹڈ نہیں تو پِھر سجنے سنورنے کا کیا فائدہ ! ! عورَت کے سارے سنگھار تو اپنے مرد کی وجہ سے ہوتے ہیں . .

کوئی گڈ نیوز ؟ ؟ ؟ لاریب كو لگ رہا تھا جیسے افنان كو اِس میں اتنی خاص دلچسپی نہیں ہوگی کیوں وہ تو نفاست اور پاکِیزگی کا اِتْنا دلدا تھا کے وہ تو رف حلیے میں کسی کی طرف دیکھنا گوارا نہیں كرتا تھا… پِھر اسکی اپنی بِیوِی اتنی رف حلیے میں کیسے ہو سكتی تھی ، فاطمہ كو ایسے دیکھ کے لاریب کے ذہن مں کئی سوال اٹھے تھی…

ابھی تک نہیں ! ! اپ دُعا کریں نا میرے لیے … فاطمہ نے افسردگی سے کہا تھا

اوہ آئی سی ! آئی فورگیٹ اولاد تو تب ہوتی ہے نا جب مرد عورَت کے حسن كو خراج تَحْسِین پیش کریں ! ! اور مجھے تمھارے کسی اندآز سے ایسا نہیں لگ رہا کے تم سہاگن ہو… . لاریب نے طنز کیا تھا …

افنان کچن سے چائے لاینے آ رہا تھا جب اسے لاریب کی یہ بات سنائی دی…

وہ کچن مں آیا تو فاطمہ نے شکوہ بھری نظروں سے عجیب اندازِ میں اسے دیکھا تھا اور آنکھیں صاف کرتے ہوئے کچن سے باہر چلی گئی .

اس پل افنان کے دِل نے خواہش کی تھی کاش زمین پھٹتی اور وہ اس میں سما جاۓ …

وہ خود جتنا مرضی فاطمہ كو تنگ كرتا مگر کسی اور کے منه سے اپنی ہمسفر کے لئے ایسے الفاظ کبھی بھی نہیں سن سکتا تھا…

* * *

لاریب تمہارا بیٹا سو گیا ہے … میں نے اسے اماں کے کمرے مں سلاء دیا ہے . . افنان اسے بتا کے کچن سے جانے لگا تھا جب لاریب نے چائے کپ میں ڈال کے دی تھی .

افنان او نہ چاۓ پیتے ہیں ! ! تھماری بِیوِی تو لگتا ہے مہمان نوازی کا سلیقہ نہیں جانتی . . لاریب نے طنز کیا تھا

آئی ایم سوری ! وہ ایکچولی تھوڑے اپ سیٹ ہے … افنان نے لاریب سے معذرت کی تھی مگر دِل مں اسے لاریب کا بات کرنے کا اندآز بہت برا لگا تھا… کب تک تُم یہاں ہو ؟ ؟

کیوں ؟ اتنی جلدی تنگ پر گئے ہو ؟ تُم نے تو کہا تھا کے لائف میں جب بھی واپس آؤں گی ، تُم مجھے وہی ملو گے جہاں چھوڑ کے گئی تھی………

اور یاد ہے لاریب تُم نے بھی کہا تھا ، جو اپنا ہو . . وہ کبھی چھوڑ کے نہیں جاتا… مگر تُم تو مجھے بیچ چوراہے چھوڑ گئی تھی نا ؟ ؟ مطلب تُم تو کبھی بھی میری تھی ہی نہیں . میں خوامخا ایک سیراب کے پیچھے اپنی زندگی تباہ کرنے چلا تھا… .افنان نے اسے بھی اسکا ماضی یاد کروایا تھا

آئی ایم سوری افنان ! ! ! ! مجھے سے غلطی ہو گئی تھی اس وقت ، اپنی محبت كو اپنےہاتھوں گنوا دیا تھا…پلیز اب مجھے اپناالو… وہ اسکا ھاتھ پکڑے التجا کرتے ہوئے رو پڑی تھے .

یہ عورَت افنان كو ہر دن کنٹرول کرنے کا فن جانتی تھی . .

زندگی ایک بار پِھر افنان كو اس موڑ پہ لے آئی تھی جہاں اسے محبت اور محرم رشتوں میں سے کسی کا انتخاب کرنا تھا ! ! !

قدرت نے عجیب موڑ پہ لا کھڑا کیا تھا جہاں دِل اور دماغ کی جنگ شروع ہو چکی تھی… اس رات افنان اپنے کمرے میں آ کے. بہت سوچا تھا اور پِھر ایک فیصلہ كر لیا تھا

محبت اور محرم رشتوں میں سے اس نے اپنی ذات سے جڑے رشتوں کا انتخاب کیاتھا… کچھ سال پہلے خونی رشتوں کی خاطر محبت کا قتل لاریب نے کیا تھا اور آج زندگی کے اِس موڑ پہ افنان نے دِل کی خواہش كو مار دیا تھا .

. وہ ان مردوں میں سے تھا جو ھاتھ پکڑتے ہیں تو پِھر ساری زندگی نبھانا بھی جانتے ہیں …

افنان نے بھی رشتوں کا پاس وفا رکھا تھا .

لاریب ! میں تمھارے اسلام آباد کے ٹکٹس كروا آیا ہوں … كل تمھیں جانا ہے . اماں کے کمرے میں وہ اسے بتانے آیا تھا . اور پِھر لاریب كو اسکا انکار بھی پتا چل گیا تھا………. .

·

افنان کمرے میں آیا تو دیکھا فاطمہ ابھی تک رونے کے شغل میں مصروف تھی…

اُس کے کمرے مں داخل ہوتے ہی زخمی شیرنی کی طرح اس پہ جپٹ پڑی تھی……… .

افنان ! ! ! بہت برے ہیں آ پ ، کیا قصور ہوا ہے مُجھ سے جو سب کے سامنے میرے ذات سوال بُن کے رہ گئی ہے ؟ ؟ ؟ …… اسکا گریبان پکڑے سرخ آنکھوں کے ساتھ روتے ہوئے وہ سوال كر رہی تھی . .

ارے یار ! اندر تو آ نے دو ، بہت بری بِیوِی ہو . . افنان نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا اور اسکی بے اختیاری پہ مسکرا دیا تھا . .

عورَت بھی کتنی پاگَل ہوتی ہے نا ، جو زخم دیتا ہے ، مرہم بھی اس سے لگوانا چاہتی ہے …. جو اسے رولا دیتا ہے ، اس کے سینے لگ کے خود بھی رو دیتی ہے ۔۔ فاطمہ بھی کرب کے انہی لمحوں سے گزر رہی تھی

کیوں کہ جانتی تھی دوا بھی اسی شَخْص کے پاس ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے …

کبھی اپنے لفظوں سے اور کبھی اپنے لہجے کی کڑواہٹ سے

رونا بند كرو … افنان نے اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی روم لاک کیا تھا

آپکی کیا لگتی ہے وہ ؟ ؟ ؟ ؟

کَون ؟ ؟ ؟ ؟

لاریب جس كو گھر ہی اٹھا لائے ہیں …

وہ صبح اسلام آباد واپس جا رہی ہے ! !

میری تو سب کچھ اب تُم ہی لگتی ہو… افنان نے رومانٹک لہجے میں اُس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی

تبھی فاطمہ كو اپنی پوذیشن کا احساس ہوا تھا .

ا فنان کے اتنے قریب ہونے پہ اسے ڈھیروں شَرْم نے آ گھیرا تھا . .

فوراََ افنان سے دور ہونا چاہا تھا…

اونہوو… . اب تو میں نے قید كر لیا ہے ، …… . افنان نے اُس کے گرد بازوں کا حِصار مزید تنگ كر دیا تھا… میں نے بہت صبر كر لیااہے ! ! ! ! ! آج تو دِل كر رہا ہے اپنی دلہن كو سہاگن بننے کا شَرْف عطا كر ہی دوں … افنان نے سرگوشی کی تھی-

یہ بھی محبت کا ہی ایک رُخ تھا… . جائِز اور محرم محبتیں ہمیشہ پُر سكون ہوا کرتی ہیں ۔۔

افنان ایک لمبے عرصے بعد آج سكون کی نیند اپنی ہمسفر کے پہلو مں سویا تھا… . .

خونی رشتوں سے وفاداری کرتے کرتے مشرقی مرد اکثر زندگی کی الجھنون کو سلجھاتے سلجھاتے عمر گزار دیتے ہیں … اپنی ذات تو کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے ! ! افنان کا شمار بھی انہیں مردوں میں تھا جو اپنی محبت تو حاصِل نہیں كر سکاتھا مگر خود سے جڑے سارے رشتوں كو خوشیاں دے رہا تھا……… . . دِل کے کسی کونے اپنی محبت کی یاد باقی ضرور تھی مگر وہ خود جس کرب سے گزرا تھا ، یہ دَرْد وہ اپنی ہمسفر کے حصے میں آ تا نہیں دیکھ سکتا تھا ، اِس لیے اسے معتبر كر دیاتھا………… محبت مکمل ہو گئی تھی اور اگلی صبح کا سورج ان دونوں کےخوبصورت ملن پہ بہت سی خوشیوں کی نوید لایا تھا . زندگی کی خوبصورتی اب افنان كو بھی سمجھ آئی تھی جس مں اپنی ذات سے جڑے رشتوں کے لئے صرف وفا ہی وفا تھی… . . چار سو محبت ہی محبت تھی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *