Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 01)

Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik

آپ کبھی کبھی مجھے اتنی غور سے دیکھتے ہوں تو لگتا ہے مُجھ میں کسی اور کو ڈھونڈ رہے ہوں . بازو پہ سَر رکھ کے لیٹے ہوئے وہ اپنے شریک حیات سے شکوہ كر رہی تھے .

آہہہہ … . کس کو دیکھتا ہوں پارٹنر ؟ افنان نے واچ اتارتی ہوئے آہ بھری

یہ جو آپ لمبی لمبی سانس لیتے ہوں نا ، یہ کسی حسرت یا یاد کا سائن ہوا کرتے ہیں … ایک بار پِھر وہ دِل کی بات زُبان پہ لے آئی تھی…

تم اچھی لگ رہی ہو اوف وائٹ کلر میں ، افنان نے اُس کے پاس لیٹے ہوئے اُس کے بالوں کی لٹ کو انگلی پہ لپیٹتے ہوئے کہا .

آپ بات بَدَل رہے ہو . . محبت کی تھی کبھی ؟ ؟ ؟ وہ ناراض ہو کے ذرا سی فاصلے پہ ہوئی تھی

۔ یار بِیوِی ہو تم میری ! ہبی سے ایسے سوال نہیں کیا کرتے . . . افنان نے ہنستے ہوئے اسے تنگ کرنا چاہا .

پِھر بھی مجھے اچھا لگے گا اگر آپ اپنی کوئی حسرت میرے ساتھ شیئر کرے گے تو ! ! ! وہ ایک بار پِھر ضد کرنے لگی .

افنان کو اُس وَقت اپنی ہمسفر بالکل اُس معصوم بچے کی طرح لگی جو سونے سے پہلے کوئی پریوں کی اسٹوری سننا چاہتا ہو .

کوئی حسرت نہیں ہے ، بس میں چاہتا ہوں تمھیں خُوش رکھ سکوں . خُوش ہو میرے ساتھ ؟ ؟ اپنی شریک حیات کی پییشانی پہ اپنے پیار کی مہر سبت کرتے ہوئے افنان نے پوچھا

آپ بہت اچھےہیں افنان…… . فاطمہ نے اقرار کیا تھا . .

تم بھی بہت اچھی ہو فاطی . افنان نے بھی جواب میں کہا تھا .

لیکن مجھے انتظار رہے گا کے کبھی آپ کہیں ” محبت ب ہے ہم دونوں میں ” ایک بار پِھر وہ پٹڑی سے اُتَر چکی تھی ، اور اِس لمحے افنان کو اپنی ہمسفر کے لہجے کی افسردگی اور آنکھوں میں چھپی نمی کا احساس ہوا .

فاطی ! ! ! محبت کا پتہ نہیں لیکن میں دنیا میں مو جود 2 عورتوں کی بہت ریسپیکٹ کرتا ہوں ، ایک میری ماں ہے اور دوسری جو اِس وقت میرے پہلو میں ہے -میں بہت برا ہو سکتا ہوں لیکن رشتوں میں منافقت کا عادی نہیں ہوں … . . کچھ لفظ تھے جو وہ اپنی ہمسفر کو منانے کے لئے ااستعمال کر رہا تھا . اور ان کچھ لفظوں میں خوبصورت اظہار سن کر فاطمہ کو یوں لگا جیسے وہ ایک محفوظ حصار میں ہے . .

اسکا ہمسفر محبت کریں یا نا کریں ، ایک مضبوط قلعے کی طرح اسکی ذات کا تحفظ کرنا جانتا ہے . .

یہی تو چاہتی ہے ہر عورت ! ! زندگی گزرنے کے لئے ہر مقام پہ عورت کو محبت نہیں ، عزت چاہیے ہوتی ہے … محبت ایک ایکسٹرا بونس تو ہو سکتا ہے لیکن عزت لازمی اور پہلی چیز ہے جو اسکا شوہر بن مانگے اسکی جھولی میں ڈال رہا تھا .

اور پِھر فاطمہ تو سو گئی تھی لیکن افنان کی نیند کسی بھولی بسری یاد کی نظر ہو چکی تھے

وہ ایک سادہ بڑا مجذوب سا شخص

لوگوں سے گفتگو کا سلیقہ جانتا تھا

بہت ہنسنے ہنسانے والا وہ زندہ دل انسان

زخم دل میں لیئے ہنر مسکرانے کا جانتا تھا

اب محسوس ہوتا تھا بہت ٹوٹا ہوا ہو جیسے

پیار محبت کی باتوں سے وہ بہت اکتایا ہوا تھا

بہت قسمیں بہت وعدےاس نے ٹوٹتے دیکھے

بس اب خواہشوں کی لاشوں کو دفنانا باقی تھا

اسے مارا تھا انجان منزلوں کے راستوں نے

اُسکی ہر کسی پہ یقین کرنے کی عادت نے

کسی نے نفرت کی تو وہی سچا لگا اس کو

کسی نے پیار سے بولا تو پھر آنکھ بھر آئی

کیوں ہوتا کوئی غم میں پریشاں اس کے ساتھ

اس کی قسمت میں ہی لکھی تھی جب رسوائی

وہ اسی شہرکا اب اک تنہا مسافر ہے

جہاں فقط اب چند ضروری کام ہیں اس کو

جن کے ختم ہوتے ہی اسے لوٹ جانا ہے

منزل کیا ہے اب بھی نہیں معلوم ہے اس کو….!!

*

تھینک یو . فب لوگ ان کرتے کسی لڑکی کا ٹیکسٹ آیا تھا

کس لیے ؟ ؟ ؟ ؟ . . افنان حیران ہوا

وہ آپ نے گروپ میں میری فیور کی . . دوسرے طرف سے دوبارہ میسج کر بتایا گیا

اٹس او کے . . افنان نے رپلائے کیا .

وہ لڑکے بدتمیزی کر رہے تھے . اُس نے بات کی وضاحت دینا چاھی .

میں نے ہینڈل کر تو لیا تھا سارا معاملہ… افنان نے فوراََ ٹیکسٹ کا جواب دیا

آئی ایم لاریب ، آپکا نام ؟ ؟ ؟ اُس لڑکی نے اپنا تعارف کروایا تھا

پروفائل میں دیکھ لو . افنان نے فوراََ رپلائے کیا

ریئل نام ہے ؟ ؟ پوچھا گیا

کوئی شک ؟ ؟ ؟ جواب دینے کی بجائے افنان نے اُلٹا سوال کر دیا

نہیں ایسے ہی پوچھا . . آپ نے DP ایکٹر کی لگائی ہوئے ہے نا تو میں نے سوچا شاید نام بھی فیک ہو

نہیں ، ریئل انفارمیشن

لڑکیوں پرائیویسی تو سمجھ آتی ہے ، تُم نے اپنی پک کیوں نہیں لگائی ہوئے ؟ ؟ ؟ وہ آپ سے تُم پہ ای …

ایسے ہی بس ! ! دِل نہیں کرتاا اپنی پروفائل لگانے کو… افنان نے جواب دیا

ارے کیوں ؟ ؟

حیا آتی ہے ، کوئی پسند ہی نا کر لے……

یہ تو لڑکیوں کا ڈیپارٹمنٹ نہیں ؟ ؟ تصویر دکھاؤ اپنی اف یو ڈونٹ مائنڈ . . وہ لڑکی خماکھا فری ہو رہی تھے

اچھا دکھاتا ہوں . . افنان نے اپنی پروفیشنل پاس پورْٹ سائز کی پک سینڈ کر دی

ارے اچھے خاصے ہنڈسم ہو ، اپنی DP لگائو . مفت کا مشورہ دیا گیا

لگا لوں گا … افنان نے ایسے ہی رپلائے کر دیا… .

اور پِھر یہ سلسلہ روزز چلنے لگا .

نمبر مل سکتا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ لڑکی کچھ زیادہ ہی لفٹ کروانی لگی تھے

کیوں ؟ ؟ ؟ نمبر کا کیا کرنا ہے ؟ ؟ افنان اتنی جلدی کسی سے فری نہیں ہوتا تھا مگر اِس لڑکی میں کچھ ایسا ضرور تھا جو اسے اپنی طرف کھینچتا تھا

. یونہی . . میں نے سوچا کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے … اُس نے رپلائے کیا تھا

03 * * * * * * * * * * * * افنان نے کچھ دیر سوچا اور پِھر اپنا نمبر سینڈ کر دیا . .

اپنا بھی نمبر دو . . افنان نے میسج کیا

ہاں کرتی ہوں سینڈ . . دونوں میں نمبرز ایکسچینج ہو چکے تھے

* * *

بارش ہو رہی ہے … . فاطمہ نے کمپیوٹر من مگن اپنے ہمسفر کی توجہ حسین موسم کی طرف دلائی –

ہاں جی زمین پہ گرتے قطروں کی آواز بتا رہی ہے بارش ہو رہی ہے . افنان نے مصروفیت سے انگلیاں کی بورڈ پر چلاتے ہوئے کہا –

میرے ساتھ بارش میں واک کریں گے ؟ ؟ وہ پوچھ رہی تھی –

مجھے اپنا کام ختم کرنا ہے . افنان نے اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا -آپ اپنا لیپ ٹاپ چھت پہ لے آئیں پلیز ، میرے پاس سٹیرز پہ بیٹھ کے کام کرتے رہیے گا اور میں بارش میں نہا لوں گی … . فاطمہ نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے بچوں کی طرح ضِد کی-

تُم مجھے کام نہیں کرنے دیتی ، افنان اسکا بازو پکڑ کے اسے لان میں لے آیا تھ-ا افنان ! آپ ہمیشہ میرے ساتھ ایسے ہی رہیے گا … . افنان کا بازو پکڑے بے-خودی میں وہ اُس سے مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی .

بارش کے گرتے قطرے ، اور فاطمہ بےساختہ قہقوں نے ایک خواب ناک ماحول بنا دیا تھا .

ان لمحوں میں افنان کو دنیا کی سب سے مہنگی چیز اپنی شریک حَیات کی مسکراہٹ لگی تھی اور وہ دِل دِل میں اللہ سے اسکی دائمی خوشیاں مانگنے کی دعا کرنے لگا-

. . مگر دِل کی کسی دریچے میں ایک اور یاد کے کھڑکی کھولی تھی .

عفی ! مجھے بارش اچھی لگتی ہے

. . کانوں میں رس گھولتی ایک آواز سنائی دی تھی

اور مجھے تُم اچھی لگتی ہو ! !

اور مجھے تھمارے باتیں اچھی لگتی ہیں .

. عفی پتہ ہے دِل چاہتا ہے تُم بولتے رہو اور میں سنتی رہوں-

میں تو اتنی باتیں کرتا ہوں ، کبھی کچھ تُم بھی سنا دیا کرو………

… وہ جسے بارش پسند نہ تھی

آج دیر تک دسمبر کی بارش میں بیگتا رہا !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *