Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik NovelR50693 Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 05)
Rate this Novel
Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 05)
Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik
حَج ادا کرنے کے بعد اسکی زندگی مں ایک ٹھہراؤ آ چکا تھا…
. افنان ! ! ! ! ! ! ! ! ! ! میں شادی كرنا چاہتی ہوں تمھاری… ماں نے ایک دن بیٹھے بیٹھے اس سے کہا تھا
اچھا… . ! ! وہ ہولے سے ہنس دیا .
میں مذاق کے موڈ مں نہیں ہوں بیٹا … رِفْعَت بیگم نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا
کس سے کرنی ہے شادی ؟ ؟ ڈیٹ بتا دیجئے مجھے . . میں آ جاوں گا … . افنان نے گویا بات ہی ختم كر دی تھی
فاطمہ سے ! ! ! وہ تیرے بابا کے دوست ہیں نہ جہانگیر صاحب ، انکی بیٹی ہے … . رِفْعَت بیگم اسے تَفْصِیل بتا رہے تھی جسے سننے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی .
ماں کی بات سن کے کمرے مں آ کے لیٹ گیا تھا .
فاطمہ کَون تھی ، کیسی تھی …یہ سب جاننےکا ذرا سا شوق بھی دِل مں پیدا نہیں ہوا تھا . اگر وہ لاریب نہیں تھی ، تو اِس چِیز سے اسے فرق نہیں پرتا تھا کے کوئی بھی ہو . صرف والدین کا خواب پوراکرنا تھا…
سہرا سَر پہ سجانا تھا کیوں کے وہ خود سے جڑے رشتوں كو خوش رکھنا چاہتا تھا .
محرم رشتوں سے وفا كر رہا تھا . . یہ بھی محبت ہی کا ایک رُخ تھا… .
. شادی کی تَقْرِیب مں کچھ قریب کے رشتے دار شامل ہوئے تھے کیوں کے افنان كو ہنگامے اور شور شرابے سے الجھن تھی ۔ اِس لیے یہاں اسکی بات مان لی گئی تھی اور چَنْد لوگوں كو انویٹیشن دیا گیا تھا .
کمرے میں ہر طرف پُھول بکھرے ہوئے تھے . کمرے کی سیٹنگ مکین کے مزاج کی نفاست كو ظاہر كر رہی تھی . نکاح سادگی سے طے پایا تھا اور پِھر دلہن كو اُس کے کمرے میں پہنچا دیا گیا . اِس موقع پہ رونے کی روایت اکثر مشرقی لڑکیوں کی ہوا کرتی ہے مگر آج تاریخ بدلی تھی اور ایک مشرقی مرد لان میں تنہا بیٹھا سگریٹ کے کش لگاتا ہوا خاموش نگاہوں سے رو رہا تھا مگر اُس کے آنْسُو کسی كو دکھائی ہی نہیں دے رہے تھے . ماں باپ کی خوشی کی خاطر نکاح کے پیپرز پہ سائن تو وہ كر چکا تھا لیکن اب اسکی آنکھوں میں چبن ہو رہی تھے
. کچھ خواب ٹوٹے تھے ، کچھ ارمانوں کا خُون ہوا تھا… دِل میں دبی خواہشوں كو مارتے ہوے اندر ہی اندر وہ کہیں مر رہا تھا .
افنان ! ! ! تمھیں اِس وقت اپنے روم مں ہونا چاہیے . ارسل اسے ڈھونڈتے ہوئے لان مں آیا تھا
جانے لگا ہوں یار…افنان نے انگلیوں میں دبی سگریٹ بجھا دی تھی…
افنان ! تیرے ساتھ مسلہ کیا ہے یار ؟ ؟ ؟ کیوں ہر دن تمھیں اپنی خوشیوں کا گلا گھوٹنا ہوتا ہے کسی بے وفا کی خاطر جسے اب تُم یاد بھی نہیں ہوگے … ارسل اسے سمجھا رہا تھا .
کوئی مسلہ نہیں ہے میرے ساتھ … ٹھیک ہوں میں ! ! زُبان سے تو افنان کہہ رہا تھا مگر دِل کے کونے میں کچھ ٹوٹا تھا . شاید کانچ کا خواب تھا جسکی کرچیاں سمیٹنے کی آج آخری رات تھے .
اَچّھا اُٹھو . . کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا – ارسل نے تقربیاً دھکیلتے ہوئے اسے اپنے کمرے میں بیجھا …
اسلام و علیکم ! کمرے مں داخل ہوتے ہی افنان نے سلام كرنا ضروری سمجھا
وعلیکم سلام ! فاطمہ نے آہستگی سے سَر ہلاتے ہوئے جواب دیا .
یہ اماں نے دیئے تھے تمھارے لیے ، دراز سے گولڈ کے 2 کنگن نکال کے افنان نے بیڈ پہ اس کے پاس رکھ دیئے . تھینک یو ! فاطمہ نے چپکے سے کنگن اٹھا لیے
اپ چینْج كر سکتی ہیں ۔۔ ڈریسنگ روم اس طرف ہے . . افنان نے انگلی سے اِشارَہ كر کے بتایا .
چَنْد گھنٹوں کی دلہن جسکی آنکھوں مں کئی دیپ تھے ، افنان کے اِس ایک فقرے نے پل بھر میں وہ بجھا دیئے تھے . آنْسُو کے 2 قطرے آنکھوں سے گر کے گال پہ ا ٹپکے تھے جنھیں فاطمہ نے کمال کی اداکاری سے اپنی مسکراہٹ مں چھپا لیا تھا…
جی ! میں چینْج کرتی ہوں . فاطمہ فوراََ بیڈ سے اٹھ کے دوسری کمرے کی طرف چلی گئی .
جب تک اِنسان خود خوش نا ہو ، وہ کسی اور كو بھی خوش نہیں رکھ سکتا… یہاں اِس جگہ ، اِس ماحول میں خیالوں ہی خیالوں مں افنان نے اپنے ساتھ ہمیشہ کسی اور کا چہرہ اور وجود تصور کِیا تھا . مگر وہ سب صرف ایک وہم و خیال تھا…
اسے وہ نہیں ملی تھی جس کے لئے اس نے تڑپ کے دعائیں مانگی تھی ،
رب سے التجھائیں کی تھی… .
اِس لیے کے وہ اسکا نصیب نہیں تھی ! !
اسکا نصیب اب یہ لڑکی تھے جسکی ساتھ اسے اِک عمر گزرنی تھی …
10 منٹ کے بعد وہ کپڑے تَبْدِیل كر کے دوباہ اُس کےپاس آ چکی تھے .
مں افنان شیرازی تمھیں اپنے کمرے اور اپنی زندگی میں ویلکم کہتا ہوں . افنان نے مسکراتے ہوئے اسکا ھاتھ پکڑا تھینک یو ! فاطمہ ججکتے ہوئے اپنا ہاتھ چھوڑانے کی کوشیش کرنے لگی .
فاطمہ میں ایک پریکٹیکل سا اِنسان ہوں . رسمی باتوں اور تکلف میں پڑنے والا اِنسان نہیں ہوں . میرے ساتھ زندگی گزارنا تھوڑا مشکل ہے . میں اپنی طرف سے کوشیش کرونگا آپکو یہاں کوئی تکلیف نا ہو . مجھے شاید تھوڑا وقت لگے گا کچھ حقیقتیںتَسلِیم کرنے میں . . آئی ہوپ اپ میرا ساتھ دیں گی . افنان نے پہلی رات ہی اپنی شَرِیک حَیات پہ سب واضح كر دیا تھا…
اماں ابا کی یاد کے ساتھ ساتھ ہمسفر کی لاپروائی پہ کڑھتے ہوئے وہ پٹا نہیں کب نیند کی وادئِ مں اُتر چکی تھی ۔
صبح اسکی انکھ کھلی تو فجر کی اَذان ہو رہی تھے .
افنان اپنا بازو سَر کے نیچی رکھے گہری نیند سو رہا تھا
. گندمی رنگت ، ہلکی ہلکی بیئرڈ ، بند آنکھیں ، کھڑی ناک اور معصومیت کے ساتھ ساتھ سنجیدگی نیند میں بھی اُس کے چہرے پہ نظر آرھی تھی ۔ سویا ہوا یہ شَخْص اِس وقت معصومیت کی انتہا پہ تھا مگر جب بات كرتا تھا تو سامنے والے كو اسکی اوقات یاد دلا دیتا .
شاید وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا یا پِھر اس کے لئے ایسا ہے . فاطمہ دِل میں سوچتے ہوئے پہلی بار اسے فرصت میں دیکھ رہی تھے .
اَذان کی آواز ایک بار پِھر کسی مسجد سے سنائی دی تھے اور وہ اٹھ کے نماز پڑھنےچلی گئی .
* * *
افنان چائے پئے گے ؟ کپ ھاتھ میں پکڑے وہ اسے کمپیوٹر میں مگن دیکھ رہی تھے
نہیں … افنان نے انکار مں سَر ہلایا تھا
ایک بات پوچھوں ! ! ایک اور سوال ہوا تھا
مں کام كر رہا ہوں ، نظر نہیں آ رہا ؟ ؟ ؟ ہو سکے تو کچھ دیر کے لئے یہاں سے چلی جائیں . افنان نے ماتھے پہ بَل چڑھاتے ہوئے نہ گواری سے کہا تھا .
او کے آئی ایم سوری ! ! وہ فوراََ وہاں سے اٹھ کے دوسری کمرے میں چلی گئی تھی .
پلکوں پہ ٹھہرے 2 آنْسُو گالوں پہ گر گئے تھے جسے جلدی سے اس نے ھاتھ کی پُشْت سے پونچ لیا تھا… . فاطمہ کی رات روتے ہوئے گزر گئی تھی ، مگر دِل نے فیصلہ کیا تھا آج کے بعد افنان کے کمرے میں نہیں جائے گی
… افنان کام كر کے فارغ ہوا ، کلاک پہ نظر پَڑی تو دیکھا رات کے 2 بج رہے تھے . آنکھیں بند كر کے چیئر کی بیک سے ٹیک لگا کے آنکھیں بند كر لیں تو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کے فاطمہ کو ڈانٹا ہے ……
چائے وہی ٹیبل پہ پڑے پڑے ٹھنڈی ہو چکی تھی . . وہ اٹھ کے بیڈ تک آیا تھا اور بے سُدھ ہو کے سو گیا تھا… .
فاطمہ روتے روتے وہی ساتھ والے کمرے مں سو گئی تھی اور اب صبح پھر اذان کی آواز کے ساتھ انکھ کھلی تو یاد آیا کے وہ تو ابھی چَنْد دنوں کی دلہن ہے .
اگر گھر کے کسی فَرد نے اسے دوسری کمرے سے نکلتے دیکھا تو کیا سوچیں گے ! ! دوپٹہ سَر پہ لیتے ہوئے افنان کے کمرے میں چلی گئی…
وضو كر کے نماز ادا کی اور وہی اس سنگدل کے پاس لیٹ گئے جسے ھوش تک نہیں تھا . .
پِھر پتا ہی نہیں چلا تھا اور فاطمہ کی انکھ لگ گئی تھی .
احساس تب ہوا جب وہ سنگدل اسے جنجوڑ رہا تھا… اٹھو ! ! ناشتہ بنا کے دو… یہاں سونے کے لئے نہیں آئی ہو اپ میڈم ! ! افنان نہ جانے کیوں اِس کے ساتھ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو جاتا تھا
اَچّھا ! لا دیتی ہوں . فاطمہ آنکھیں ملتے ہوئے فوراََ اٹھ بیٹھی …
. کچن مں آئی ، ایک برنر پہ چائے رکھی اور دوسرے پہ توا رکھ کے وہ پراٹھا بنانے لگی . .
املییٹ کا سامان تیار فریج مں پڑہ تھا ، صرف فریپین میں ڈال کے انڈے پھینت كر فاطمہ نے مکس کیئے تھےاور ساتھ ہی چولہے پے چڑھا دئے ساتھ ہی جوس بھی تیار كر لیا تھا . افنان کا ناشتہ لے كر وہ اُس کے کمرے میں آئی تھی… کمرے مں داخل ہوتے ہی دیکھا وہ جینز پہ صرف بنیان پہنے مرر کے سامنے کھڑا اپنے بال سٹ كر رہا تھا . . اِس حلیے میں دیکھ كر فاطمہ كو خومخا اپنی جگہ حیا آئی تھی کیوں کے شرعی رِشْتَہ ہونے کے باوجود ابھی تک افنان اس سے فاصلے پہ تھا .
ناشتے کی ٹرے بیڈ پہ رکھنے کے بعد وہ نظریں جکا فوراََ پلٹی تھی مگر مرر میں افنان اسکی حَرْکَت نوٹ كر چکا تھا . . کیا ہوا ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے فاطمہ کی بازو پکڑ لیا تھے
کچھ نہیں … فاطمہ نے بَمُشْکِل اُس کے سامنے اپنے دِل پہ قابُو پایا ہوا تھا . .
تمہارا محرم ہوں . . چھپ کے کیوں دیکھ رہی تھی ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے اسکی چوری پکڑے جانے پہ جیسے شرمندہ کیا تھا…
افنان پلیز ! وہ جیسے روہانسی ہو کے بولی تھے
یہ شادی میرے پیڑینٹس کی مرضی پہ ہوئی ہے . مجھے اپنے ساتھ کے لئے کسی عورَت کی ضرورت نہیں تھی مگر خیر اب ہو ہی چکی ہے تو تُم صرف باہر کی حد تک میری بِیوِی رہنا . کمرے میں آ کے اِس ایکٹنگ کی ضرورت نہیں … افنان لفظ نہیں ، زُبان سے زہر اگل رہا تھا مگر اس وقت شاید اسے اپنے لفظوں کی سنگینی کا اندازا نہیں تھ
ا اور ہان ایک بات اور ! ! ! افنان نے فاطمہ كو مزید اپنے قریب كر کے جٹکا دیا تھا … . . تمھیں اپنا شرعی حق جس دن چاہئے ہوا ، مجھے بتا دینا … . میں ادا كر دوگا ! ! ! ! ! ! یہ اسکی نسوانیت پہ آخری وار تھا-
بس كر دیں افنان ، اپ………… . ! ! ! فاطمہ نے روتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی تھی اور افنان کے سینے پہ ھاتھ رکھتے ہؤئے زور سے داکھا دیا تھا اور کمرے سے باہر آ گئی تھی… .
اس لمحے افنان كو فاطمہ کی آنکھوں مں اپنے لیے نَفرت کے انگارے دکھائی دیئے تھے .
وہ دن فاطمہ کے رونے کا آخری دن تھا ! ! !
اِس سنگ دِل شَخْص سے وہ ہر قسم کی امید ختم کر چکی تھی… .
* * *
اس دن کے بعد فاطمہ کا زندگی جینے کا اندآز بَدَل چکا تھا . اب بھی وہ افنان کے سارے کام پہلے کی طرح كر دیتی تھی مگر فرق صرف اِتْنا آیا تھا کے اس نے افنان سے بات كرنا بالکل چھوڑ دیا تھااا…
عورَت بہت بولتی ہے اکثر جب خاموش ہوتی ہے تو پِھر دنیا مں سب سے مہنگی چِیز اسکی آواز لگنے لگتی ہے … فاطمہ بھی افنان كو خاموشی کی بھینٹ مار رہی تھی .
وہ لاکھ لا پروا سہی مگر چاہتا تھا کے یہ خود سے میرے ساتھ بات کریں . . اِس لیے بہانے بہانے سے اسے بلانے لگا…
افنان پانی پینے کچن مں آیا تو دیکھا فاطمہ سلاد کاٹ رہی تھی ۔
تمھارے ھاتھ پہ کیا ہوا ہے ؟ ؟ ؟ افنان کی نظر اچانک اُس کے ھاتھ کے پشت کی طرف گئی تھے جہاں ابلا بنا ہوا تھا . فاطمہ نے کوئی جواب نا دیا… افنان نے اسکا ھاتھ پکڑا اور کچن سے باہر لے آیا . اچانک افنان کے موبائل کی بیل بجی تو ایک ھاتھ سے اس نے کال پک کی تھی اور دوسرے ھاتھ سے فاطمہ کے ھاتھ پہ مرہم لگا رہا تھا .
نا کیا کریں اتنی مہربانیاں ! فاطمہ كو غصہ بھی تھا اور اپنے لیے اسکی فکرمندی دیکھ کے پتہ نہیں کیوں دِل خوشفہم بھی ہوا تھا . فاطمہ نے ھاتھ چھوڑانے کی کوشیش کی تھی
، دھیان سے کام کیا کرو… مجھے لاپروا لڑکیاں زہر لگتی ہیں . افنان نے ایک مینٹ میں دِل کی سارے خوش گمانی ختم كر دی تھے .
اور مرہم لگا کے ھاتھ چھوڑ بھی دیا تھا .
کچھ گیسٹ آ رہے ہیں اج میرے ڈنر پہ ، کچھ بازار سے منگوا لوں گا اور کچھ گھر مں ہی تیار كر لینا … افنان نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پِھر مخاطب کیا . .
فاطمہ نے شام کے ڈنر کے لئے بھرپور تیاری کی تھی ۔ جب سارے كاموں سے فارغ ہوئی تو رِفْعَت بیگم نےاسے اَچّھا سا تیار ہونے كو کہا .
فاطمہ ! بیٹی بِلَیک ساڑی پہن لینا جو مں تمھارے لیے لائی تھے . رِفْعَت بیگم کی دور اندیش نظروں نے اندازا لگا لیا تھا کے افنان اور فاطمہ دونوں ایک دوسری كو وقت نہیں دے رہے تھے . ایک میں اکڑ تھی ، تو دوسرے میں اپنی انا کا غرور تھا . جن رشتوں کے آغاز میں ہی انّا اڑے انے لگے ، وہ رشتے زیادہ دیر چل نہیں پاتے . مگر یہ بات وہ دونوں نہیں سمجھ پا رہے تھے ا-
َچّھا اماں ! پہن لیتی ہوں … . فاطمہ نے انکا دِل رکھنے کے لئے کہہ دیا تھا ،
افنان کے ساتھ اسکا جو بھی تعلق تھا ، اسکی خبر وہ کسی دوسرے كو نہیں ہونے دے سکتی تھی اِس لیے دِل لگا کے تیار ہوئی تھی ۔
افنان بھابی بہت خوبصورت ہیں ماشاء اللّه ! ! زیب نے کمنٹ پاس کیا تھا .
دیکھ لو ! میرے ماں کی چوائس جو ہے …… افنان مسکراتے ہوئے دوست كو بتا رہا تھا .
صرف بھابی نہیں ، کپل خوبصورت ہے … ارسل نے پَلیٹ میں سے فرائس اٹھتے ہوے بات مکمل کی تھے
. . جی بالکل ! میں بھی یہی تو کہہ رہا تھا… .
كھانا سب کو سرو کرنے کے بعد فاطمہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی .
لان میں بیٹھے ہوئے دوستوں کے ساتھ رات دیر تک محفل چلی تھی
، اسے دوراان آج فاطمہ كو اپنے مجازی خدا کی ایک اور بات پتہ چلی تھے کے وہ سنگ دِل شَخْص مسکراتا بھی ہے . افنان دوستون كو رُخْصَت کرنے کے بعد کمرے مں آ گیا تھا . . بیڈ پہ بیٹھ کے موبائل پہ یونہی نظریں جمائے بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا مگر دھیان مرر کی طرف تھا جہاں فاطمہ بالوں كو کیچر کی قید سے آزاد كر رہی تھی .
افنان اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اُس کے پیچھے آ کھڑا ہوا . .
مرر میں دونوں کا عکس ایک آئیڈیل کپل کی طرح تھا مگر دِل جب فاصلے پہ ہوں تو قربتوں کے یہ لمحے کوئی معانی نہیں رکھتے
. رات کے حسین لمحوں اور تنہائی میں جب محرم ساتھ ہو ، موڈ خوشگوار ہو تو کبھی کبھی دِل جذبات کی رُو مں آ كر بہک ہی جاتا ہے .
افنان نے فاطمہ کے قریب ہو کے اُس کے کانوں سے گولڈ کے جمکے خود اتارے تھے ، مگر رات کے اِس پہر وہ اپنی ہمسفرکے جتنے قریب تھا ، اس کی سانسوں کی تاپاش فاطمہ كو کنفیوز كر رہی تھی .
کچھ لمحوں کے لئے دِل نے اپنے مجازی خُدا کے قربت کی خواہش ضرور کی تھی مگر اگلے ہی لمحے دماغ نے دلیل دی تھی ابھی نہیں . .
بِیوِی ہو تو بِیوِی ہی بُن کے رہو . . مجھے ادائیں دکھا کے اٹریکٹ کرنے والی عورَت زہر لگتی ہے . . . . . . . . . . . . . . افنان فاطمہ کے کندھے پہ سَر رکھے کان میں سرگوشی کر رہا تھا-
ابھی سے ہار گئے ہو ؟ ؟ تُم نے تو کہا تھا بہت مظبوط مرد ہو . اپنے اعصاب اور نفس پہ قابُو رکھنا اتا ہے پِھر اپنی ہی بِیوِی سے ڈر رہے ہو . . . سو اسٹرینج مسڑ افنان ! فاطمہ فوراََ اسکی بکواس سن كر دو قدم فاصلے پہ ہوئی تھی . مجھے چیلنج كر رہی ہو ؟ ؟ ؟ مہنگا پڑے گا تمھیں ! ! ! ! وارننگ دینے والا کوئی اور نہیں ، اسکا اپنا مجازی خُدا تھا . نہیں تمھیں صرف یہ بتا رہی ہوں کے بِیوِی کوئی بازاری عورَت کی طرح نہیں ہوتی جسے شوہر كو اٹریکٹ کرنے کے لئے اداؤں کی ضرورت پڑے – اور ہاں تمھارے ان سو کالڈ گیسٹ کے سامنے میرا خود كو اپ -ٹو ڈیٹ رکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کے آپ کی نام نہاد اِس کمرے سے باہر ” عزت ” قائم رہے . . . . . . . فاطمہ كو افنان کے لہجے اور لفظوں کے انتیخاب پہ سخت غصہ آیا تھا .
افنان کہیں نا کہیں اپنی ذات سے جڑے ماضی کا بدلہ اپنی محرم سے لے رہا تھا .
پہلے وہ خود كو اذیت دیتا تھا ، اب اسے ایک عدد بِیوِی مل چکی تھے جسے تنگ کرنے میں اسے مزا اتا تھا .
مُجھ سے دور بھی بھاگتی ہو ، اور میری عزت کا خیال بھی ، مان گیا تھمارے ڈبل اسٹینڈرڈ پرسنیلیٹی وائفی ! ! ! افنان نے اسکو بہت غور سے دیکھتے ہوئے اُس کے اندآز پہ طنز کیا تھا
پلیز خُدا کے لئے میرا ضبظ نا آزماؤ افنان . . . میں نہیں جانتی کس کی بے وفائی کا بدلا مُجھ سے لے رہے ہو اپ… میں 24 آورز تمھارے گرد چَکَّر کاٹنے والی کوئی تھرڈ کلاس لڑکی نہیں ، بِیوِی ہوں آپکی افنان . دور کیوں رہنا پسند کروں گی اپ سے ؟ ؟ ؟ اپکے لائفاسٹائل سے مجھے مسلہ ہے ، آپکی ذات سے نہیں . . . . . . جس دن خود كو میرے قابل بنا لو ، موسٹ ویلکم ان مائی لائف میرے محرماں ! ! ! ! ! ! یہ سب کہ کے وہ وہاں رُکی نہیں تھی
. کیوں کے مزید اگر رکتی تو شاید آنْسُو پلکوں کی چِلْمَن سے گر جاتے اور فاطمہ اِس شَخْص کے سامنے کمزور نہیں پَڑْنا چاہتی تھی .
