Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik NovelR50693 Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 04)
Rate this Novel
Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 04)
Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik
افنان آ ئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا نمبر 1 اسٹوڈنٹ تھا . مگر ایک محبت کی خاطر اتنا رسوا ہو چکا تھا کے اپنا ہر ٹیلنٹ بھی محبت کے ساتھ ہی کہیں ویسٹ کر چکا تھا . آج لاہور کے ایک گمنام فلیٹ من اسکی آخری رات تھی . کسی زمانے میں وہ شووقیااسکیچنگ کرتا تھا . . آج سالوں بعد دِل نے خواہش کی تھی کے زندگی کا آخری سکیچ بنا لوں… اور پِھر وہ اسے خواہش کا احترام کرتے ہوئے 2 آنکھوں کا سکیچ فلیٹ کی دیوار پہ بنا رہا تھا جن میں اُمید کی کرن تھی . رات کی تنہائی میں اچانک کانوں میں اسے کسی کی سرگوشی سنائی دیتھی… .
“جن ماوں کے بچے بتائے بغیر گھر سے باہر راتیں گزارنے لگے نا ، ان ماوں کو نیند نہیں آیا کرتی” کانوں پہ ہاتھ رکھے وہ کسی کی سالوں پہلے کہی ہوئی بات بھولنا چاہتا تھا مگر ایک عجیب سا شور بڑتا چلا جا رہا تھا…
آنکھیں اس نے ہولے سے بند کی تو آنکھوں کے سامنے 2 روتی ہوئی آنکھیں اور التجا کرتی ماں کی شَبیں دکھائی دی تھی. . اور پِھر اس ایک لمحے میں منظر بَدَل چکا تھااا
… ادراک اور آگاہی کے ان لمحوں میں آنکھوں پہ بندھی پٹی کھل رہی تھی . ایک محبت وہ تھی جس کی خاطر اسے اپنی ذات کو ختم کرنا تھا اور ایک محبت وہ تھی جس کی خاطر اسے جینا تھا… . .
معاملا دونوں طرف محبت کا ہی تھا ، منزل تک پہنچنے کے لئے راستے کا انتیخاب اسے خود کرنا تھااا… .
دِل و دماغ کی ایک طویل جنگ بعد وہ فیصلہ کر چکا تھاا …
اسے جینا تھا مگر اپنے لیے نہیں ، ان لوگوں کی خاطر جو اس سے محبت کرتے تھے .
جن رشتوں کا قرض اتارنے کے لئے سالوں پہلے اسے اسکی محبت نے چھوڑ دیا تھا . وہ بھی آج اسکی طرح واپس اپنوں میں لوٹ رہا تھا جو اسکی واپسی کے منتظر تھے …
میرا افنان آیا ہے ، رِفْعَت بیگم نیند میں بول رہی تھی
سو جاؤ ، تمھارا افنان اب کبھی نہیں آئے گا . . شیرازی سب دکھ سے اپنی شریک حَیات پہ بلینکٹ کر رہے تھے شیرازی میں نے خواب دیکھا ہے ، ماوں کے خواب جھوٹے نہیں ہوا کرتے … . رِفْعَت بیگم بے خدی میں بول رہی تھی بیٹا تومیں کھو چکا ہوں ، لیکن تمھیں اِس کرب اور دکھ میں نہیں دیکھ سکتا . . پلیز رِفْعَت بیگم خود کو سنبھالوں . . شیراازی صاحب رقت امیز لہجے میں بولے .
وہ جھوٹی تسلی دے کر اپنی بِیوِی کے غم کو کم نہیں کرنا چاہتے تھے ، اِس لیے حقیقت پسند بُن کر سچائی بتا رہے تھے .
اگلی صبح بہت روشَن تھے . پرندے چہک رہے تھے ، جائے نماز پہ بیٹھی پاگَل ماں بیٹے کی خریت کی دُعا مانگ رہی تھی جب دروازہ ناک ہوا اور رِفْعَت بیگم بھاگتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی …
کَون … ایک اُمید سے پوچھا گیا . یوں جیسے ایک ماں کو اپنے وجود کے حصے کی خوشبو آئی تھی .
من افنان ہوں اماں . . خاموشی سے جواب دیا گیا
ماں کا خواب سچ ثابت ہوا تھا . .
اِس محبت میں اتنی طاقت تو تھی کے بیٹے کی آمَد کا الہام ہو گیا تھا
. ماں ! اندر آ سکتا ہوں . . وہ بے بس سا ہو کر ماں سے پوچھ رہا تھا
میرا افنان ! بیٹے اپنے گھر میں انے کے لئے تُم اِجازَت کیوں مانگ رہے ہو… . ماں تو جیسے پِھر سے جی اٹھے تھی…
شیراازی صاحب دیکھیں نہ ! کَون ایا ہے … افنان کا ماتھاا چومتے ہوئے وہ بے-ساختہ پکار رہی تھی ۔
سب کچھ ویسا ہی تو تھا ، کچھ بھی نہیں بَدْلا تھا ہاں مگر اسکو صرف ماں کے بالوں میں اترتی سفیدی اور باپ کی چال میں تھوڑی لڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی …
بابا ! ! آئی ایم سوری … . باپ کے گلے لگ کے رو دیا تھا
کوئی بات نہیں بیٹا ! ! سالوں پہلے کی گئے غلطی لمحے میں معاف کر دی گئی تھی
. یہ ظرف شاید اللہ نے صرف والدین میں رکھا ہوتا ہے . اولاد جتنی بھی غلطیاں کر لے ، لوٹ کے پلٹے تو والدین وہی اسی موڑ پہ انتظار کر رہے ہوتے ہیں
. دنیا کا واحد رِشْتَہ جو بغیر کوئی توقع رکھے اپناا سب کچھ لٹا دے ، وہ والدین کا ہوتا ہے . یہ بات آج افنان کو سمجھ آ گئی تھی .
اب زندگی بھر اسے ان بے-لوث رشتوں کی خاطر جینا تھا . .
کچھ ایسا کرنا تھا جس سے ان کے درد کم ہو جاتا …… . .
یہ بھی محبت ہی کا ایک رخ تھا ! !
* * *
اور پِھر وہ گھر تو آ چکا تھا مگر سکون اب بھی نہیں ملا تھا . کچھ یادیں کبھی خَتْم نہیں ہوتیں . . افنان نے ان یادوں سے چھٹکارا پانے کے لئے خود کو کمپیوٹر کی دنیا میں گم کر لیا تھا . اسکا وَقت مصروف تو گزرنے لگا مگر بیزاری اور لہجے کی تَلْخی اب بھی باقی تھی . کمپیوٹر کچھ دیر کے لئے تو اسکی اٹینشن ڈیورٹ کر سکتا تھا مگر اُس کے دماغ کی میموری کو کلیئر کرنے کی کمانڈ کمپیوٹر کے پاس بھی نہیں تھی .
شام کے سائے بڑھ رہے تھے . درختوں کی اوٹ مں دوبتا سورج اسے زندگی کے ختم ہونے کی نوید سنا رہا تھا . نگاہوں میں اداسی اور ناامیدی لیے وہ آج بھی وہی مسجد کی سیڑیوں پہ تھا جہاں اسے پچھلے کئی دنوں سے لوگ دیکھ رہے تھے . یہ اسکی عادت تھے کے جب دِل کی بے چینی بڑھتی تو مسجد چلا جاتا یا پِھر قبرستان اسکا دوسرا رُخ ہوتا تھا .
بیٹا ! گھر جاؤ . مسجد کے امام نے بہت پیار سے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا .
انکی شفقت بھرے لہجے پہ صرف اس نے خاموش نظروں سے سَر اٹھا کے دیکھا اور پِھر بغیر کچھ بولے اُس کے قدم قبرستان کی طرف بڑھنے لگے .
قبرستان کی خاموشیاں اسے اپنے دِل کی ویرانی جیسے لگی جس میںخود كو گُم كرنا چاہتا تھا مگر اتنی مں موبائل کی گھنٹی بجی .
رات کے آخری پہر جب وہ خود سے جنگ میں مصروف تھا ، اسی وقت اس کے لئے کوئی اور اسکا بہت اپنا اس کے لئےتڑپ رہا تھا
. افنان کدھر ہو ؟ ؟ ؟ ارسل پریشانی سے پوچھ رہا تھا
تمھارے پاس ہوں . افنان نے بات ٹالنے کی کوشیش کی کیوں کے وہ جانتا تھا کے اب اگر اسی بتا دوں تو ایک لیکچر ملے گا جو کے اِس وقت وہ سننے کے موڈ مں بالکل بھی نہیں تھا .
بکواس بند كرو افی ، رات کا 1 بج رہا ہے . کدھر ہو تُم ؟ ؟ ؟ ارسل نے تپتے ہوئے پوچھا .
جہاں سب کو انا ہے ایک دن ، افنان نے خاموشی سے جواب دیا .
او کے میرا انتظار كرو ، میں بھی وہی آ رہا ہوں . ارسل نے فوراََ بائیک نکالی اور قبرستان کی طرف چل دیا
. افنان سے اسکا خُون کا رِشْتَہ تو نہیں تھا مگر دوستیی کا رِشْتَہ ضرور تھا جس مں اتنی طاقت تھی کے بغیر کہے وہ اپنے دوست کی کہی ہوئی بات اور ہر لفظ کا مطلب سمجھ جاتا تھا .
اپنے دوست كو قبرستان میں بیٹھے دیکھ کے ارسل تڑپ ہی تو اٹھا تھا
. اففیییی ! ! ! یار زندگی اتنی سستی تو نہیں کے ایک لڑکی کی خاطر برباد كر لی جاۓ … . کرب سے ارسل اسے سمجھا رہا تھا .
ارسل پلیز اِس وقت میں کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں . افنان نے اسے ٹوک دیا .
اَچّھا اُٹھو ! کچھ کھانے کے لئے مارکیٹ چلتے ہیں . ارسل نے اسکا دھیان بٹانے کی ناکام کوشیش کی تھے
مجھے بھوک نہیں ، تُم جاؤ ارسل…
تمھیں پتہ ہے نا میں تمھارے بغیر یہاں سے کہیں نہیں جاوں گا . .
تُم کیا میرے منگیتر ہو جو ہر وقت سائے کی طرح میرے ساتھ رہتے ہو ؟ ؟ ؟
ہان یہی سمجھ لو… . چلو اُٹھو ! چلتے ہیں کہیں . . مجھے بھوک لگی ہے افییی
عجیب مصیبت ہو تُم بھی – افنان بیزار ہوا
تُم سدھر جاؤ اب ، ورنہ لوگ ہم پہ شک کرے گے کے میں رات کے اِس پہر تمھارے ساتھ کیا کر رہا ہوں : ارسل کی بات سن كر افنان اُداس نظروں سے مسکرا دیا .
اپنے چلبلے سے اندازِ میں ارسل کسی حد تک اسکا دھیان بٹا چکا تھا اور پِھر اسے چارو ناچار وہاں سے اٹھنا ہی پڑہ تھا کیوں کے وہ جانتا تھا یہ بلا ایسے سَر سے نہیں ٹلے گی… . كھانا ہوٹل سے كھا کے ارسل افنان كو اُس کے گھر ڈراپ كر آیا تھا۔۔
. صبح کے 4 بج رہے تھے جب گھر داخل ہوتے ہی اسے اپنی ماں جاۓ نماز پہ بیٹھی نظر آئی جنھیں دیکھ كر وہ ان سے نظریں نہیں ملا پایا تھا .
كھانا کھاؤ گے بیٹا ؟ ؟ بہت شَفْقَت سے انہوں نے پوچھ
ا اپ نے ابھی تک میرے انتظار میں کھانا نہیں کھایا ؟ ؟ افنان كو شرمندگی ہوئی تھی
نہیں . . تُم عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کہاں چلے گئے تھے . ماں پوچھ رہی تھے
میں نیکسٹ ٹائم نہیں جاوں گا کہیں بھی … آپکے پاس ہوں … افنان نے دُعا مانگتے ہوئے جاۓ نماز پہ بیٹھی ماں کی گود مں سَر رکھ کے اُنہیں یقین دلایا تھا
اَچّھا اُٹھو ! مں كھانا لگاتی ہوں . اُس کے بالوں میں ھاتھ پھیرتے ہوئے وہ کچھ دم كر کےپھونکنے لگی تھی
اپ كھانا لگائیں ، میں ھاتھ دھو كر اتا ہوں . افنان كھانا تو ارسل کے ساتھ کھا چکا تھا مگر جانتا تھا اگر وہ یہ بات ماں كو بتا دے تو اسکی ماں بھی اکیلی كھانا نہیں کھائے گی . اِس لیے انکا ساتھ دینے کے لئے وہ دوباہ انکی ساتھ ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھا چَنْد نوالے حق سےاتارنے لگا
. دودھ کا گلاس لو گے افنان ؟ ماں نے کھانےکے بَرْتَن سمیٹتے ہوئے کہا
. نہیں مما ! مجھے اب سونا ہے . . افنان اپنے کمرے میں چلا آیا .
شیرازی صاحب مسجد سے فجر کی نماز پڑھ کے آئے تو بیٹے کے کمرے کی طرف چلےدیے …
آ جائیں بابا ! افنان اُنہیں دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا …
بیٹھو مجھے تُم سے کچھ بات کرنی ہے . جیتے رہو . . وہ دُعا دیتے ہوئے افنان کے پاس چیئر پہ بیٹھ گئے .
جی بابا ؟ افنان نے نظریں زمین میں گاڑتے ہوئے تابیداری سے پوچا…
بیٹا میں اور تھمارے ماں حَج پہ جانا چاہتے ہیں . . انہوں نے بات کا آغاز کیا تھے
بہت خوشی کی بات ہے … وہ واقعی دِل سے خوش ہوا تھا کے اللہ اُس کےوالدین كو اپنے گھر بلا رہا تھا .
مں چاہتا ہوں تُم نہیں اپنا پاسپورٹ بنوالو . . اکٹھے چلے گے شیرازی صاحب نے گفتگوں جاری رکھتے ہوئے اسے کہا گ بابا ! میں صبح ہی اپنے پیپرز بنوانے کی کوشیش کرونگا … افنان نے انکی ساتھ جانے کی حامی بھر لی تھی…
بیت اللہ میں حاظری ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے مگر وہاں جانا کسی کسی كو نصیب ہوتا ہے . جن دلوں كو اللہ اپنی محبت کے لئے چُن لیتا ہے نا ، وہ دِل بہت پاکیزہ اور زمانے والوں سے کچھ الگ ہوتے ہیں . محبت کے سفر میں جب جِسَم ٹوٹتا ہے نا تو رُوح پہ شباب اتا ہے . اور حَج بھی ایسی ہی عبادت تھی جہاں جوانی میں اللہ بلا لے تو ایک مسلمان کے لئے اِس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ھوتی . . اور افنان کی یہ خواہش آج پوری ہونے جا رہی تھی .
اللہ ! میں تُجھ سے تیرے رحمت کا سوال كرتا ہوں . آج سے پہلے جیتنی غلطیاں كر چکا ہوں ، اُنہیں سدھارنا چاہتا ہوں . پلیز مجھے موقع دیں کے میں اپنے والدین کا ہر خواب پورا كر سکون… اللّه مجھے دلی سكون عطا فرما ! میرا دِل اپنی طرف پھیر دے . میں محبت کے سفر میں عشق کی حد تک گیا تھا مگر ہار کے سوا کچھ نہیں ملا . اب میرا دِل عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف پھیر دی… . مجھے اب زندگی میں کچھ نہیں چاہئے سواۓ سكون کے ! ! اللہ مجھے سكون عطا فرما . دنیا اور اخرت دونوں کی کامیابی میرے نصیب میں لکھ دی…… . صحن حرم میں کھڑا وہ اپنی ہی دھن مں مگن اللہ سے باتیں كر رہا تھا . سالوں بعد اپنے رب سے رابطہ كر رہا تھا . ایسے دَر پہ دِل کا حال بیان كر رہا تھا جہاں سے ہر کوئی بامراد ہو کے لوٹتا ہے . دِل کی باتیں جب شارگ سے زیادہ قریب رہنے والے رب سے کر لی جائیں نا تو سكون لازمی ملتا ہے .
وہ بھی جب دِل کی ہر بات سینوں کے بھید جاننے والے اللہ سے كر چکا تھا تو ایک سكون کی لپیٹ میں آ چکا تھا
. یہ احساس کتنا خوبصورت ہوتا ہے جب ہم اِنسان دِل کے راز اس ہستی سے شیئر کرتے ہیں جو پہلے سے ہی ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہوتا ہے …… .
