Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik NovelR50693 Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 07)
Rate this Novel
Muhabbat K Rung Apno K Sung (Episode 07)
Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik
صبح کے 5 بج رہے تھے جب فاطمہ کی آنکھ کھلی تو خود کو افنان کی باہوں میں قید پایا .دور کہیں سے اذان کی آواز آ رہی تھی . فاطمہ نے بے اختیار افنان کی ماتھے کی لکیروں کو دانتوں سے کاٹا تھا… آہ …افنان کو یوں لگا تھا جیسے کسی کیڑے نے کاٹا ہو مگر تبھی فاطمہ نے اپنے ہاتھ سے اسکا بازو ہلایا تھا اٹھیں ! میں نے نماز پڑھنی ہے . میرا دوپٹہ …… . فاطمہ نے افنان کو اشارہ کیا تھا کے دوپٹہ اُس کے نیچے ہے ، کروٹ بدلی تا کے وہ اپنا دوپٹہ لے سکے . . جنگلی بلی ہو تُم پوری ، … . افنان آنکھیں ملتا ہوا اٹھا تھا . اور ماتھے پہ ہاتھ رکھا جہاں فاطمہ نے کاٹا تھا . نماز پڑھ لیں آپ بھی … فاطمہ نے دوپٹہ سر پہ کرتے ہوئے کہا . یار اتنی صبح شاور کون لے… . افنان نے منه بنایا تھا اور فاطمہ اسکی بات سمجھ کے شرم سے کٹ گئ تھی . افنان… . . فاطمہ نے ہولے سے پکارا تھا جی فاطمہ ؟ افنان ہمہ تن گوش ہوا تھا میرا نام آپ فاطمہ افنان لیا کریں … معصوم سی خواہش کا اظہار ہوا تھا یس مسز . افنان بولیں ! ! افنان نے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے تابیداری کا مظاہرہ کیا تھا… کچھ نہیں … نماز پڑھ لیں نا… . فاطمہ مسکرا دی . اَچّھا اٹھتا ہوں 10 منٹ تک … افنان پِھر لیٹ گیا تھا اور فاطمہ شاور لینے چلی گئی . . اللہ ! میں تیرا شکر ادا کرتی ہوں ہر اُس چیز کے لئے جو تو نے مجھے عطا کی . میرے زندگی کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہی ہے کے میرا مجازی خدا کا دِل میرے طرف پھر دیا میں نہیں جانتی انکا ماضی کیسا تھا مگر میں اب چاہتی ہوں وہ ہر لمحہ میرے ساتھ زندگی کے سفر میں خوشیاںسمیٹے … مجھے تکلیف ہوتی ہے جب راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتا ہے … مجھے دَرْد ہوتا ہے جب وہ سکون کے لئے سلپینگ پیلز کا سہارا لیتا ہے . مجھے ہر اُس لمحے میں تکلیف ہوتی ہے جب میرا شوہر سیگرٹ کے دواں میں اپنی ذات کا دکھ مٹانے کی کوشش کرتا ہے . اللہ ! مجھے اُس کے سکون کی وجہ بنا دے . رات کا آخری پہر چل رہا تھا جس میں رب آسمان دنیا پہ ہوتا ہے . اُس وَقت فاطمہ ہاتھ اٹھائے اپنے مجازی خدا کے دِل کا سکون اور ہمیشہ کا ساتھ مانگ رہی تھی… اور پِھر شاہ رگ سے زیادہ قریب رہنے والے رب سے رابطے ہونے لگے تو منزل مل ہی جاتے ہے . دعا مانگ كر فاطمہ کو سکون ملا تھا . لان من آ کے کھلی فضا من کچھ لمحے پَرِندوں کی خوبصورت بولیاں سنی اور پِھر کچن میں آ کے ناشتہ بنانی لگی… فریج سے کباب نکالے اور ساتھ ساتھ چائے کے لئے پانی رکھ دیا . جتنی دیر میں چائے بنی ، کباب فرائی كر لیے اور ساتھ پراٹھے بنا لیے . نیمکو اور بسکٹس ٹِرے میں رکھے ، اور ناشتہ لیے اماں کے کمرے کی طرف آ گئ، جہاں لاریب بیٹے کو اٹھائے جانے کے لئے تیاری تھی ۔ ارے ناشتہ تو كر کے جائیں آپ . ہماری مہمان ہو ، مجھے اَچّھا نہیں لگے گا . فاطمہ نے اسے ناشتے پہ روکنے کے لئے اصرار کیا . . نہیں بہت شکریہ ! ایک دن پناہ دینے کے لئے … لاریب نے ایک دفعہ پِھر طنز کیا تھا . میں چھوڑ اتا ہوں ایئرپورٹ تک … افنان نے فوراََ اُس سے بیٹا لے لیا ساتھ کھڑی فاطمہ نے اُس کے بازو پہ چٹکی کاٹی تھی … لاریب ! میں دوست ہوں تمھارا ، پیسوں کی یا کسی چیز کی ضرورت ہو تو میں حاضِر ہوں . مگر شاید اِس اِس سے زیادہ میں تمھیں کچھ نہیں دے سکتا… . . افنان نے راستے میں اُس سے معذرت كر لی تھی . کوئی بات نہیں افنان… کچھ سال پہلے میں نے تمھارے ساتھ بے وفائی کی تھے . اب تُم بھی کر سکتے ہو ، وَقت تمھارا ساتھ دے رہا ہے … . . لاریب طنزیہ اندازِ میں عجیب بہکی بہکی باتیں كر رہی تھے . . خدا حافظ … . افنان اسے چھوڑ کے واپس جا رہا تھا … . . قدم بوجھل تھے ، دِل بار بار اُس کے ساتھ کی خواہش كر رہا تھا… . اِس لیے کے اسکی محبت خالص تھی . اسے محبت اِس لڑکی سے بہت کم عمری میں ہوئی تھی اور بغیر کسی غرض کے ہوئی تھی . دِل آج بھی وہی اٹکا ہوا تھا… وَقت پر لگا کے اڑر چکا تھا ، مگر یادیں ابھی بھی تازہ تھیں . محبت کبھی نہیں مرتی کیوں کے یادیں محبت کو کبھی مرنے ہی نہیں دیتی .
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے ! مر جائیں گے،
ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
تم ہی سوچو ذر
ا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو!!!!!
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
***
دِل محبت کا ساتھ چاہتا تھا ، مگر دِل کی اِس آواز کو وہ مار چکا تھا . جو راستہ اس نے چنا تھا ، وہاں وفا تھی . اور وفا کرنے والوں کے ساتھ تو بیوفائی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا… فاطمہ کی تہجد میں کی گئ دعائیں رنگ لے آئی تھی . اسکا مجازی خدا اسکی خاطر واپس لوٹ آیا تھا… . . ناشتہ ملے گا آج …… . . افنان نے گھر اینٹر ہوتے ہی کہا تھا جی کمرے میں لے آؤں یا کچن میں ہی کھاۓ گے ؟ ؟ فاطمہ نے پوچھا لے او اندر ہی … . . افنان کمرے میں آ گیا تھا . چھوڑ آئے ہو اسے ؟ كھانا افنان کے سامنے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے فاطمہ نے پوچھا تھا . كھانا کھاؤ گی میرے ساتھ ؟ ؟ ؟ افنان نے بازو سے پاکر کے پاس بٹھا لیا تھا افنان نے بہت آسانی سے بات بدل دی تھی کیوں کے وہ اِس وَقت اپنے اور فاطمہ کے درمیان کسی ٹھرد پرسن کا ذکر نہیں چاہتا تھا آپ کھاۓ افنان ، مجھے بھوک نہیں ہے … فاطمہ نے اٹھنا چاہا ، اصل میں وہ افنان کی جانچتی نظروں کا سامنا وہ نہیں کر پا رہی تھی خیر ہے نا پارٹنر ؟ ؟ ؟ مجھ سے حیا کیوں آ رہی ہے آپکو ؟ ؟ افنان نے لقمہ توڑ کے اُس کے منه میں ڈالا تھا . افنان… . ایک بات پوچھوں ، وہ جیسے روہانسی ہو کر بولی تھی نہیں ، چُپ چاپ كھانا کھاؤ … افنان تھا اُس کے ذہن میں ابرتے ہر سوال کو جانتا تھا مگر اِس وَقت جواب دینے کے موڈ میں نہیں تھا . ناشتہ کرنے کے بَعْد وہ کمپیوٹر پہ اپنا کام کرنے لگا… اور فاطمہ گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئ۔ مجھے اسلام آباد جانا ہے . شام کو ماں کے سرہانے بیٹھا وہ انکی گود میں سَر رکھے ان کو بتا رہا تھا . کیوں ؟ ؟ رِفعت بیگم کو تَشْوِیش ہوئے . ایک بار جو ماں دنیا کے اِس ہجوم میں اپنے بیٹے کو کھو دے ، وہ شاید ہمیشہ بے اعتبار ہی رہتی ہے . کئی سال گزر چکے تھے جب افنان گھر سے گیا تھا مگر ماں کا دِل اب بھی دھڑکتا تھا کے شاید افنان دوبارہ کوئی ویسی حماقت نا کر بیٹھے جس میں وہ مجھ سے دور چلا جائے . کام کے سلسلے میں جانا ہے … افنان نے وضاحت دی تھی اچھا فاطمہ بھی تمھارے ساتھ آ جاۓ گے . . انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا تھا اماں! میں کام کے لئے جا رہا ہوں ، ہنی مون پہ نہیں . . وہ چڑ گیا تھا افنان جب سے شادی ہوئی ہے ، تُم اسے کہیں بھی نہیں لے کر گئے ، بیٹا ! وہ اب ذمہ داری ہے تمھاری . . جہاں تُم جاؤ گے ، تمھارے ساتھ ہو گی … رِفعت بیگم نے گویہ بات ہی ختم کر دی تھی جی ٹھیک ہے . افنان کی زندگی میں واحد عورت ماں تھی جنکی کوئی بھی بات وہ ٹال نہیں سکتا تھا . شام کے کھانے کے برتن سمیٹ کر ، کچن دھو کر جب تک فاطمہ کمرے میں آئی تھے ، افنان سو چکا تھا . سویا ہوا افنان ہمیشہ اس کے لئے بہت ایٹراکشن رکھتا تھا . اب بھی جب وہ اسکی پاس آئی تو بیساختہ اسکی پیشانی پہ ہاتھ رکھا تھا… . . آج وہ افنان سے ہر بات پوچھنا چاہتی تھے ، ہر وہ سوال کرنا چاتی تھی جو لاریب سے متعلق تھا . دِل کی ساری پریشانیان اپنے مجازی خدا سے شئیر کرنا چاھتی تھی مگر وہ دشمن جان تو گہری نیند سو چکا تھا…
* *
اٹھو فاطی . . اسلام آباد جانا ہے مجھے ایک میٹنگ کے سلسلے میں … . 6 بجے افنان نے فاطمہ کو اٹھایا
آپ نے مجھے رات کو کیوں نہیں بتایا ؟ میں آپ کے ایک دو ڈریس پِیک کر دیتی . . فاطمہ نے اٹھتے ہی شکوہ کیاتھا میرے ساتھ او گی ؟ ؟
کہاں ؟
جہاں لے جاؤں … افنان مسکرایا
اماں جان اکیلی ہو جائیں گی … اور ویسے بھی آپ نے میٹنگ کے سلسلے میں جانا ہے تو میرا کیا کام وہاں … . . فاطمہ نے عقلمندی کا ثبوت دیا تھا
ایک ویک کا اسٹے بھی کر لئے اگر تُم ساتھ ہوئی تو… میرے شکایت لگاتی ہو کے اماں ! افنان کہیں لے کے نہیں جاتا مجھے اور اب میرے سامنے معصوم بُن رہی ہو … افنان نے اسے تنگ کرنا چاہا
نہیں تو … میں نے کبھی آپکی شکایت نہیں لگائی افنان کسی سی بھی … . وہ جیسے ڈر گئی تھی
جانتا ہوں ، میرے وائف بہت اچھی ہے . . اب جانا ہے یا نہیں ؟ ؟ ؟ افنان نے اپنی ہمسفر کے گل پہ چٹکی کٹی تھے افنان میرے کپڑے … . . میں چینج کر لوں ؟ ؟ ؟ ؟
تُم مجھے دیر کرواؤ گی … افنان کو ہمیشہ سے خواتیں کے ان چونچلو سے چڑ تھی مگر وہ فاطمہ کا انتظار کر سکتا تھا…
اگلے 10 منٹ میں فاطمہ تیار ہو کر افنان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی . رستہ وہی تھا ، کچھ بھی نہیں بدلہ تھا سواۓ وَقت کے … . وہی روڈز ، وہی لمحے ایک بار پِھر افنان کو ماضی تک لے جانا چاہتے تھے . یادیں بہت تلخ ہوا کرتی ہیں ، آج افنان کو ان راستوں سے گزرتے ہوئے احساس ہو رہا تھا…… .
. 5 گھنٹوں کے بَعْد گاڑی ایک ہوٹل کے سامنے رُکی تھی جہاں افنان کو اسٹے کرنا تھا .
تُم فریش ہو جاؤ ، پِھر كھانا کھاتے ہیں . افنان نے ہوٹل کے کمرے میں سامان رکھتے ہوے فاطمہ سے کہا
آپ نے میٹنگ کے لئے کب جانا ہے . فاطمہ نے پوچھا
وہ تو شام کو 7 بجے ہے جی … فل حال ریسٹ کرنا ہے … . افنان ارا ترچھا ہو کے وہی صوفے پہ لیٹ گیا تھا . . اسلام آباد کا سفر تو ہمیشہ اسے فریش کر دیتا تھا مگر آج سالوں بَعْد جب وہ دوبارہ اِس شہر میں آیا تھا تو راستوں نے تھکا دیا تھا . یا پھر کچھ یادیں ایسی تھی جنہوں نے اس کے ذہن کو تھکا دیا تھا… . .
آنکھیں بند کیے وہ ان یادوں کو سوچ رہا تھا تو لبوں پہ مسکراہٹ تھی اور چہرے پہ ایک کرب تھا… . .
کس کو یاد کیا جا رہا ہے اتنی فرصت سے ، فاطمہ فریش ہونی کے بَعْد افنان کے فیس پہ جھکی سرگوشی کر رہی تھے
، اسکی بند آئی لیشز پہ بہت سا پیار آیا تھا مگر حیا کے کچھ تقاضے تھے اِس لیے باوجود دِل چاہنے کے بھی ان آنکھوں کا دَرْد تب تک نہیں سمیٹنا چاہتی تھی جب تک کے اسکا ہمسفر اسے اپنے دِل کی ہر بات خود نا بتا دے . تمھیں یاد کر رہا تھا… افنان مسکراتے ہوئے اٹھ گیا تھا اور بات ٹال دی
. آج شاپنگ کرنے چلیں گے . . کیوں کے پِھر ٹائم نہیں ملے گا . . افنان اس سے کہہ رہا تھا
مجھے کچھ بھی نہیں لینا ہے … میرے پاس پہلے ہی اتنی ڈریس ہیں افنان ، ابھی پہن کے دیکھے ہی نہیں …… . . فاطمہ پتہ نہیں کس مٹی سے بنی تھی ، کبھی کچھ نہیں مانگنا تھا … .
میں اپنی مرضی کے کچھ ڈریسز لے کے دینا چاہتا ہوں … افنان نے اپنی شریک حیات کے چہرے پہ ابھرتی مسکراہٹ دیکھنا چاہی …
اچھا ٹھیک ہے ، پِھر میٹنگ کے بَعْد جب آپ آئیں گے ، تب چلیں گے . فاطمہ نے رائے پیش کی
. او کے ، ، افنان كھانا آرڈر کرنے کے لئے اٹھ گیا تھا…
. شام 7 بجے افنان میٹنگ کر کے واپس ہوٹل آ چکا تھا . .
اوو تمھیں شاپنگ کروا لاؤں … افنان تھکا ہوا تھا مگر اسے اپنے ذمہ داری کا بھی احساس تھا .
چلیں ، افنان کا بازو پکڑے وہ تیار کھڑی تھی
. بارگینگ نا کرنا کہیں بھی پلیز ، ورنہ میں ادھر ہی چھوڑ کے آ جاؤں گا …
آپ مجھے لے کر ہی نا جائیں ، جو پسند آئے لے انا… . فاطمہ برا مان گئی ۔۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا … افنان ہنس دیا
ٹھیک ہے ، جائیں آپ . . فاطمہ ناراض ہو گئی
دیکھ لو… . یہ ساتھ شاپنگ کے لئے جانے والی آفر میں نے لائف من آج سے پہلے کبھی کسی کو نہیں کی… آ جاؤ نا … . پیار سے منا ہی لیا تھا ..
یہ چیک کرو فاطمہ … لائٹ پنک کلر کا ڈریس افنان فاطمہ کے ساتھ لگا کے اسے دکھا رہا تھا جب اچانک نظر اٹھی تھی اور آنکھیں ایک چہرے سے ملی تھی… وہ کوئی اور نہیں ، لاریب تھی . پتہ نہیں کیوں جس لڑکی کا سامنا وہ زندگی بھر نہیں کرنا چاہتا تھا ، قدرت بار بار اُس کے سامنے کیوں لا رہی تھی .
او فاطمہ ہم کہیں اور چلتے ہیں … افنان نے فاطمہ کا بازو پکڑتے ہوئے کہا
فاطمہ کی نظروں نے اپنے مجازی خدا کی نظروں کا تعاقب کیا تھا اور پِھر بغیر کوئی سوال کیے وہ اُس کے ساتھ وہاں سے چل دی .
میرے سَر میں دَرْد ہو رہا ہے فاطی … . . افنان ہوٹل میں آ کے لیٹ گیا تھا
سَر دبا دوں ؟ ؟ پاس بیٹھے ہوئے وہ بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
تم بھی کیا سوچو گی یار کے کیسا شوہر ملا ہے جو شاپنگ کروانے لے تو گیا مگر شاپنگ کروائے بغیر ہی واپس بھی لے ایا… . . افنان نے اٹھتے ہوئے بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا لی
افنان ! ! ! میں کوئی بچی نہیں ہوں کے آپکی نظروں کا مطلب نا سمجھوں . . میں نہیں جانتی کے آپکا اُس لاریب سے کیا رشتہ ہے . مجھے آپ کے ماضی میں کوئی انٹرسٹ نہیں مگر مجھے یہ بات شادی کے شروع دنوں میں ہی پتہ چل چکی تھی کے میں آپکی پسند نہیں ہوں . پتہ ہے افنان من ہمیشہ سوچتی تھی کے پیار سب کچھ ہوتا ہے . محبت ہر دَرْد کی دوا ہوتی ہے ، ہر مشکل کا حَل ، اندھیرے میں امید … . . پیار تو فتح عالم ہوتا ہے مگر میری محبتیں شاید کافی نہیں ہیں آپ کے درد مٹانے کے لئے … . آپکو پتہ ہے آج خود سے لڑتے لڑتے من ہار گئی ہوں ……… افنان کے کندھے پہ سَر رکھ کے آج اسکی ہمسفر اُس کے سامنے رَو دی تھی
. تم کافی ہو فاطی میرے لئے … . اچھا آج جو پوچھنا ہے ، تم پوچھ سکتی ہو ! ! ! ! ! ! افنان نے آج اُس کے سارے سوالوں کا جواب دینا چاہتا تھا
آپ لاریب سے محبت کرتے ہیں ؟ ؟ ؟
یس ! ! !
اُس سے شادی کرنا چاہتے ہیں ؟ ؟ ؟ ضبط کے آخری مرحلے پہ کھڑی وہ اپنے ہمسفر سے ایک ایسا بیوقوفانہ سوال کر رہی تھے جسکا اندازہ ابھی اسے خود بھی نہیں تھا .
فاطمہ تمھیں پتہ ہے تم بہت بیوقوف ہو… اچھا میں اب ایک بات پوچھوں ؟ ؟ ؟ فاطمہ کی آنکھوں میں جلملاتے آنسو دیکھ کے افنان نے سوال کیا . .
منه سے کچھ بولے بغیر فاطمہ نے سَر ہلایا تھا . .
محبت کرتی ہو مجھ سے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
اففی آپ شادی کر لیں اُس سے … میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی ، مگر پلیز مُجھ سے اپنا نام کبھی مت چھنیئے گا …فاطمہ نے روتے ہوئے خود كو افنان کے سینے میں چھپا لیا تھا .
پہلی مشرقی لڑکی دیکھی ہے جو اپنے ہمسفر كو خود شادی کا مشورہ دے رہی ہے . . اچھا پِھر تم کہاں رہو گی ؟ ؟ ؟ اسے گلے سے لگاے افنان اُس کے لمبے بالوں كو انگلی پہ لپیٹ رہا تھا… . اپنی ہمسفر کے دَرْد سمیٹے ہوے بھی اسے تنگ کر رہا تھا .
آپ واقعی دوسرے شادی کر لیں گے ؟ ؟ ؟ ؟ فاطمہ بے یقین سی ہو کر اُس سے پیچھے ہٹی۔
کبھی بھی نہیں … اسکی بے یقین نظروں كو دیکھ کر افنان کا دِل جیسے ڈوبا تھا .
اسے تو فاطمہ کی آنکھوں میں ہمیشہ محبت کے روشن دیپ دکھائی دیئے تھے … آج وہ امید افنان کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ، یہ تو افنان كو کبھی بھی گوارہ نا تھا .
محبت کے دَرْد تو جییتے جاگتے اِنسان كو ما ر دیتے ہیں ، اور وہ اپنی ہمسفر كو یہ دَرْد دینے کا حَوصَلَہ نہیں ركھتا تھا .
جس پہ بیت چکی ہو ، یہ دَرْد وہی سمجھ سکتا ہے … . افنان كو اُس لمحے اپنی ہمسفر کے روپ میں اپنا آپ نظر آیا تھا جیسے تاریخ خود كو دوہرا رہی ہو ،
سالوں پہلے وہ خود اِس نا امیدی کے موڑ پہ تھا .
فاطی کچھ یادیں کبھی نہیں مرتی ، میں لاریب سے محبت کرتا تھا ، شادی بھی کرنا چاہتا تھا مگر تمھیں پتہ ہے جب محبت اور عزت مد مقابل آ جائیں تو مشرقی لڑکیاں اكثر عزت كو محبت پہ ترجیح دیتی ہیں کیوں کے عزتوں سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہوتا . لاریب نے بھی بالکل ایسا ہی کیا تھا . مجھے موت کے دہانے پہ لا کر ہاتھ چھوڑ دیا تھا . کیوں کے اسے محبت نہیں ، خاندان کی زبان کا مان رکھنا تھ
ا . یہ سوسائٹی کے رواج کے مطابق اسے اپنی ذات اور برادری میں سے وہ ہمسفر منتخب کرنا تھا جو اُس کے پیڑینٹس نے اس کے لئے چنا تھا .
مجھے نہیں پتہ میرا گناہ کیا تھا جس کے بدلے مجھے راستوں کی دھول چھاننی پڑی . عمر کا ایک حصہ نا امیدی میں گزارنا پڑا . . شاید یہی گناہ تھا کے میں اسکی ذات سسٹم سے میچ نہیں کرتا تھا . سالوں گزر چکے ہیں اِس بات كو ، میں قسمت\ مقدر پہ یقین رکھتا ہوں . بھولنا چاہتا ہوں اسے مگر یادیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی ہیں . افنان اپنی شرٹ کے کف سے فاطمہ کے آنسو پونچتے ہوئے اسے اپنی داستان عشق سنا رہا تھا .
ایک اور سچ بتاؤں ؟ ؟ ؟ افنان نے اپنی ہمسفر كو بازوں کے حصار میں قید کر لیا تھا .
لاریب سے محببت کی تھی اور میں تم سے تو عشق کرتا ہوں . . افنان نے فاطمہ کے لبوں پہ لب رکھ دیئے . .
محبت مجھے تم سے اس دن ہو گئی تھی جب تم چائے کا کپ میرے لیے بنا کے لائی تھی…
یا پِھر شاید تب ہوئی تھی جب تم نے بلیک ساڑی پہنی تھی
عشق تم سے اُس دن ہوا تھا جب بارش میں تمھیں مسکراتے دیکھا تھا… . .
رات ڈھل رہی تھی ، افنان آج اپنے دِل کی داستان اپنی شریک حیات سے بیان کر رہا تھا .
فاطمہ کو سارے سوالوں کے جواب مل چکے تھے اور وہ اپنے ہمسفر کی بانہوں من پرسکون نیند سو چکی تھی…… .
