Muhabbat K Rung Apno K Sung by Kashmala Malik

عید کی چھٹیاں ہو رہی ہیں ، گھر جاؤ گے افنان یا ہاسٹل ؟ ؟ ؟ لاریب نے پوچھا تھا
میک تو عید تمھارے ساتھ کروں گا … افنان نے لاریب کو تنگ کرنا چاہا
شاپنگ کروای نہیں ہے اور عید میرے ساتھ کرنی ہے … لاریب نے شکوہ کیا تھا
کیا لینا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ میں لے اوون گا
میں ساتھ جاؤں گی … لاریب آنکھیں دکھا کے بولی
نا لے کے جاؤں تو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ افنان نے بھی اس کے انداز میں جواب دیا
پِھر پیسے دے دو ، شاپنگ میں خود کر لوں گی … لاریب نے اسے مزید تپایا تھا
بازار میں بہت رش ہوتا ہے آج کل… . میں تمھیں ساتھ کہاں لیتا پھیروں گا …
اچھا ٹھیک ہے ! ! ! نہیں جا رہی کہیں بھی … . خُوش ؟ ؟
ہاں خُوش ہی خُوش جب تک تیرے ساتھ ہوں ? افنان نے اسکی ناک دبائی
پِھر پَکّا ہاسٹل ہی رہو گے ؟ ؟ ؟ ؟ لاریب نے ایک دافعہ پِھر پوچھا تھا
ہاں ! گھر دِل نہیں لگتا اب میرا… افنان نے دِل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اچھا میں نے آج گھر چلے جانا ہے یاسر کے ساتھ … تُم اپنا خیال ركھنا . لاریب نئے بیگ اٹھتے کہا
میرے بات سنو … یاسر سے دور رہا کرو ، مجھے اچھا نہیں لگتا جب تُم اسکا نام لیتی ہو . افنان نے مکا بنا کے دیوار پہ مارتے ہوئے کہا .
دیوار پہ جہاں افنان کا ہاتھ لگا تھا ، وہاں نوکیلا کیل تھا جو اُس کے ہاتھ کے پُشْت میں اندر تک چبا جہاں خون کا ایک پھوارانکلا تھا……
افنان ! ! خُون گر رہا ہے . . لاریب دَر گئی تھی
کچھ نہیں ہوا ، افنان نے ہاتھ کو جٹکا دے کے خُون کے قطرے نیچے گرائے تھے
اففی ! تُم پاگَل ہو… . دکھاؤں … . لاریب نے افنان کا ہاتھ پکڑ کے بیگ سے ٹشو نکلتے اور اُس کے ہاتھ کی پُشْت پہ رکھ کے خُون ٹشو میں جذب کر لیا تھا
تُم خود کو نقصان کیوں پہنچاتے ہو ؟ ؟ ؟ ؟ وہ جیسے بےبس سی ہو کر بولی تھی
تُم میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کسی اور کا ذکر کیوں کرتی ہو ؟ ؟ ؟ ؟ لاریب میں بتا رہا ہوں میں مر بھی سکتا ہوں … افنان نے جیسے اسے وارن کیا تھا-
افنان تُم مر بھی جاؤ گے نا تو اسلام آباد کی سڑکوں کے نام نہیں بدلے گے . . کسی کے باپ کا کچھ نہیں جائے گا . . میرے طرف سے بھاڑ میں جاؤ تم… افنان کی ایسے حرکتوں پہ واقعی لاریب اکثر ڈر جاتی تھی .
محبت لاریب کو بھی تھی ، اسے اِس جنونی شَخْص کے ساتھ وَقت گزارنا ، اسکی باتیں سنتے رہنا اچھا لگتا تھا مگر کبھی کبھی جانے کیوں وہ اِس جنونی کی حرکتوں سے خوف زدا بھی ہو جاتی تھی . لڑکیوں کے دِل تو بہت نازک ہوتے ہوں جو گولی کی آواز سن کے بی ڈر جاتے ہوں اور یہ شَخْص بات بات پہ مرنے کی دھمکی دیتا جو لاریب کے لئے واقعی تَشْوِیش ناک بات تھی . اِس وَقت بھی لاریب روتے ہوئے اُس کے پاس سے چلی گئی تھی اور افنان کو اسکی آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگے تھے

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Contemporary Fiction Emotional / Love Story Family Life Fiction Innocent heroin based novels Love Story Based Romantic Urdu Novel Romentic Love Story Social Issues BAsed Social Romantic Novel urdu novels
Tags: family issues Family Life Fiction love story based Romantic Urdu Novels Social Issues Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *