Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 08)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

آٹھ ماہ بعد۔۔۔۔۔

عالم آفیس سے ابھی واپس آیا تھا۔ وہ ابھی کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کے آیت بیڈ پر لیٹی رو رہی تھی۔ عالم اُسے روتا دیکھ پریشان ہوا کیونکہ کافی مہینوں سے اُس نے آیت کو بلکل نہیں رونے دیا تھا۔ اب اُسے یوں روتا دیکھ عالم جلدی سے اُس کے پاس گیا۔

“کیا ہوا آیت کیوں رو رہی ہو”

عالم اُس کے بھرے بھرے وجود کو دیکھتا بولا تھا۔ آیت پر ٹوٹ کر نکھار آیا تھا۔۔وہ اس وقت روتی ہوئی اتنی پیاری لگ رہی تھی کے عالم شاہ کا دل کیا وقت یہیں تھم جائے۔

“عالم۔۔بی۔۔بی جان نے۔۔ماما۔سے۔کہا ہے۔۔کہ اُنہیں لگ رہا ہے میری۔۔۔نارمل ڈیلیوری ہو جائے گی۔۔۔تو۔۔ہم۔ہم۔۔نارمل ہی کرائیں۔۔۔لیکن۔آپ کو پتہ ہے نا۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے”

وہ روتی ہوئی اُسے بی جان کی بات بتاتی ہوئی بولی۔ تو عالم شاہ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔

اس نے بی جان کو کہا بھی تھا کے وہ آیت سے یہ بات مت کریں کیونکہ وہ آلریڈی بہت چڑچڑی ہو رہی تھی۔

“تو اس میں رونے والی کیا بات ہے آیت تم چلو میرے ساتھ ہم ابھی بی جان کو کہہ دیتے ہیں کہ وہ تمھیں یہ بات مت کہا کریں۔”

عالم اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔ آیت کا لاسٹ منتھ چل رہا تھا۔ الٹراساؤنڈ کے بعد اُنہیں معلوم ہوا تھا کے اللہ اُنہیں بیٹے سے نواز رہا تھا۔ اُن دونوں نے بے بی کے لئے کافی ساری شاپنگ بھی کر لی تھی۔

چونکہ اب آیت کے آخری دن چل رہے تھے تو بی جان کا کہنا تھاکہ اُس کی ڈیلیوری نارمل ہو جبکہ باقی سب چاہتے تھے کہ آپریشن کے ذریعے ہو۔

عالم نے آیت کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اٹھایا اور آہستگی سے نیچے اترے ۔ سب لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں انہیں آتے دیکھ مسکرائیں۔ تو وہ دونوں بھی ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔

“بی جان آیت کو کیا کہا ہے آپ نے کب سے روئے جا رہی ہے”

عالم نے بات شروع کی تو بی جان اُس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“یہی کہا ہے میں نے کہ جب نارمل ہو سکتا ہے تو کیا ضرورت ہے اتنا خون ضائع کرنے کی پہلے ہی کمزور سی ہے۔۔۔پھر یہ تو بستر پر لام لیٹ ہو جاۓ گی تو بچہ تم سمبھالو گے”

بی جان نے سختی سے کہا تو آیت پھر سے دکھی ہوئی۔

“بی جان آج کل کی بچیاں کہاں برداشت کر سکتی ہیں کتنی تکلیف چھوڑیں نہ آپ نارمل کو”

سمن شاہ بھی اُنہیں سمجھآتی ہوئی بولیں مگر بی جان نے کسی کو بھی سنجیدہ نہ لیا۔تو آیت رونے لگی۔

“بی جان پلیز ایسے مت کہیں مجھے ڈر لگتا ہے”

اُس کی بات اور بی جان نے افسوس سے اُسے دیکھا۔

“تمہیں تو ہر چیز سے ہی ڈر لگتا ہے بیٹا۔۔۔میری مانو یہی بہتر طریقہ ہے”

بی جان کی بات پر آیت نے بے بسی سے عالم کو دیکھا۔

“بی جان میں جانتا ہوں نہ آیت کو یہ بہت نازک ہے ي اتنی تکلیف ہرگز برداشت نہیں کر پائے گی”

عالم کی بات پر بی جان نے اُسے گھورا تو وہ خاموش ہو گیا۔

پھر سب باتوں میں لگ گئے مگر آیت بیچاری اسی ٹینشن میں رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آہ۔۔۔۔اه”

عالم جو گہری نیند میں سویا ہوا تھا آیت کی آہیں سنتا جلدی سے اٹھا۔ آیت جسے پتہ چل چکا تھا وقت اب آ گیا ہے تو اُس نے آنسوؤں بھری نظروں سے عالم کو دیکھا۔

“مجھے۔۔۔ہاسپٹل۔۔۔لے۔۔جائیں عالم۔۔جل۔۔جلدی”

وہ پھولی سانسوں کے درمیان بمشکل بولی تو عالم نے پہلے سمن شاہ اور نائلہ شاہ کو فون کر کے باہر نکلنے کا کہا۔

پھر آیت کو بانہوں میں بھرتا وہ نیچے آیا۔ درد کی وجہ سے آیت کی چیخیں عروج پر تھیں عالم کی تو اپنی حالت خراب ہو رہی تھی اُسے یوں چیختا دیکھ۔

تبھی بی جان جن کا کمرہ نیچے ہی تھا باہر نکلیں۔

“کہاں لے جا رہے ہو اُسے تم لوگ دیکھ نہیں رہے اُس کی حالت اسے میرے کمرے میں لٹاؤ اور کسی کو بھیج کر کواٹر سے حبیبہ کو بلاؤ جلدی”

بی جان کی بات پر آیت نے اس حالت میں بھی عالم کی گود میں نفی میں سر ہلایا تو عالم بی بسی سے اُسے زبردستی بی جان کے روم میں کے آیا۔ سمن شاہ تو حبیبہ کو لینے گئی تھیں۔

اِدھر آیت بیڈ پر لیٹی چیخیں ہی مارتی جا رہی تھی اُس نے عالم کا ہاتھ سختی سے اپنی ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔

حبیبہ جلدی سے اندر ائی تو آیت کی حالت دیکھ کر عالم سے بولی۔

“صاحب آپ جلدی باہر جائیں اُن کی حالت خراب ہو رہی ہے جلدی کرنی چاہیے”

حبیبہ کی بات اور عالم نے اُس سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر آیت نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے روکا۔ تو بی جان اُس کی حالت کے پیش نظر حبیبہ سے مخاطب ہوئیں۔

“عالم کو یہیں رہنے دو تم بس جلدی سے اپنا کام کرو”

بی جان کی بات پر عالم نے آنکھیں بھینچ کی تھیں جبکہ آیت روئے جا رہی تھی اور عالم کے ہاتھ کو بہت زور سے پکڑ رکھا تھا کے شاید تکلیف کم ہو مگر وہ تو ہونی ہی تھی۔ سمن شاہ اور نائلہ شاہ حبیبہ کی مدد کر رہی تھیں جبکہ بی جان اور عالم آیت کو سمبھال رہے تھے جو درد سے بلبلا رہی تھی۔

اُس کی اس قدر دلخراش چیخیں عالم سے برداشت ہی نہیں ہو رہی تھیں اُس کا دل کیا کہ حبیبہ کو منع کر دے مگر پھر اچانک آیت کی آخری دردناک چیخ نکلی اور کسی نازک جان کے رونے کی تھوڑی ٹھوڑی آواز ائی تو کمرے میں اچانک ماحول تبدیل ہوا تھا اور ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

حبیبہ بچے کو واشروم سے نہلا کر باہر لائی اور اُسے عالم کے ہاتھوں میں تھما دیا۔ تو عالم اُس چھوٹی سی جان کو دیکھ کر نم انکھوں سے مسکرایا۔۔۔اور جھک کر اُسکی پیشانی چومی عالم شاہ کا ایک آنسو پلکوں کی دہلیز پار کرتا بچے کی ناک پر گرا تو اُس نے بند انکھوں سے ہی برا سا منہ بنایا تو سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

آیت اب نڈھال سے تکیے پر آنکھیں موندے لیٹی تھی۔ سمن شاہ نے بچہ عالم سے لیا اور وہ سب لاؤنج میں چلی گئیں تو عالم بھی آنکھیں صاف کرتا آیت کے پاس آیا۔

عالم نے ایک ہاتھ سے اُس کا ہاتھ تھاما جبکہ دوسرا ہاتھ اُس کی گال پر رکھا۔

“آیت بہت شکریہ میری جان مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لئے”

عالم نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو آیت نے بمشکل آنکھیں کھول کر اسے دیکھا پھر دھیما سا مسکرائی۔

“آپ کو ہمارا بے بی کیسا لگا”

آیت نے تجسس سے پوچھا تو وہ اس کا ہاتھ چومتا ہوا بولا۔

“بہت پیارا مگر میری بیوی سے تھوڑا سا کم”

عالم کی بات پر آیت سکون سے آنکھیں بند کر گئی۔

عالم اٹھ کر دونوں بازو بیڈ پر آیت کے گرد رکھتا اُس پر جھکا اور شدت سے اُس کے دونوں گال چوم کر ابھی پیچھے ہوا ہی تھا کے عروش بھاگتی ہوئی ائی اور آیت سے چپک گئی۔

“آیت یار اتنا کیوٹ بھتیجا دیا ہے تم نے مجھے میرا تو دل کرتا ہے اُسے کھا جاؤں”

عروش کی بات پر عالم مسکراتا ہوا صوفے پر بیٹھا۔ جبکہ آیت کے لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

“تم نے بے بی دیکھا”

عروش کے سوال پر آیت نے نفی میں سر ہلایا۔

تبھی روم میں سمن شاہ اور نائلہ شاہ داخل ہوئیں۔ نائلہ شاہ نے بچے کو اپنی گود میں لے رکھا تھا۔

اُنھوں نے آگے آ کر بے بی آیت کی گود میں رکھا تو آیت نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ چھوٹا سا گلابی رنگ کا پھول جیسا بے بی آیت کو بہت پیارا لگا۔ محبت اور ممتا کہ احساس سے اُس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔

آیت اُس پر جھکتی دیوانہ وار اُسے چومنے لگی۔

وہ بھی ماں کا پیار پاتا خوشی سے ہاتھ پاؤں مارنے لگا تو سب مسکرا دیئے۔

“کوئ نام سوچا ہے تم دونوں نے”

بی جان کے سوال پر عالم نے اثبات میں سر ہلایا۔

“میرے بیٹے کا نام شاہ ویر عالم شاہ ہے”

عالم بے بی کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ سب کو ہی اس کا نام بہت پسند آیا تھا۔

“بہت پیارا نام ہے ماشاللہ۔۔۔۔اللہ لمبی عمر کرے میرے بچے کی”

سمن شاہ نے اُسے دعا دی۔ آیت اب مسکراتی ہوئی شاہ ویر کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی جبکہ عروش اُس کے پاس جڑ کر بیٹھی شاہ ویر کے ننھے ننھے ہاتھ چوم رہی تھی۔

“آیت بیٹا اب اسے فیڈ کروا دو۔۔۔۔بھوک لگی ہو گی اسے”

نائلہ شاہ نے آیت کو کہا تو وہ پھر سے شرما دی۔ لیکن پھر اٹھ کے رخ موڑ کر بیٹھی۔ سمن شاہ نے اُس کے گرد شال لپیٹ دی تو آیت نے شاہ ویر کو گود میں رکھا۔

آخر آیت کی محنت مشقت کے بعد شاہ ویر اب سکون سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر رہا تھا۔

دو تین منٹ بعد ہی اس ننھی جان کا پیٹ بھر گیا تو آیت بھی اپنی حالت ٹھیک کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔

اب وہ سب شاہ ویر کو پیار کرنے میں لگیں تھیں جبکہ عالم بیٹھا فرصت سے آیت کو نہار رہا تھا۔

اس وقت رات کے تین بج رہے تھے مگر وہ سب اپنی خوشی میں وقت بھلا چکے تھے۔

آخر چار بجے بی جان کے کہنے پر عالم شاہ آیت کو اٹھا کر روم میں لایا اور پھر دوبارہ نیچے کا کر شاہ ویر کو بھی اوپر لایا تو آیت اُس کی ذمےداری بڑھنے پر مسکرا دی۔

عالم نے شاہ ویر آیت کو پکڑایا اور خود واشروم کی طرف بڑھا۔

جب وہ فریش ہو کر صرف بلیک ٹراوزر میں واپس آیا تو آیت ابھی بھی بیٹھی اُسے پیار کرنے میں مصروف تھی۔

عالم نے پاس آ کر شاہ ویر کو اُس کی گود سے لیا تو وہ جو اپنی ماما کی گود میں آرام سے پڑا تھا عالم کے پاس آتے ہی اُس نے بلکل آیت کی طرح ہونٹ باہر نکالے تو آیت نے جلدی سے اُسے عالم سے لی کر اُس کے ہونٹوں کو چومہ۔

عالم جو ابھی صدمے میں بیٹھا تھا آیت کی حرکت پر اُسے گھورا۔

“آیت ڈونٹ ڈو دس ادر وائز آئی ول ٹیک ہیم بیک”

عالم نے بھڑک کر کہا تو آیت نے مسکراہٹ چھپائی۔

عالم اسے مسکراہٹ چھپاتے دیکھ غصے سے اپنی سائڈ لیٹتا لائٹ آف کر گیا۔

تبھی شاہ ویر کے رونے کی ہلکی پھلکی آواز پر عالم نے جلدی سے اٹھ کر لائٹ آن کی۔ آیت نے اُسے خود سے لگایا اور اس کا سر تھپکنے لگی۔

کچھ ہی دیر بعد وہ سو گیا تو آیت نے اسے درمیان میں لٹایا اور خود ایک سائڈ پر لیٹ گئی۔

مگر عالم نے سوئے ہوئے شاہ ویر کو اٹھا کر اپنے سینے پر لٹایا اور ایک بازو آیت کے سر کے نیچے رکھا۔

آیت بھی خاموشی سے سے آنکھیں موند گئی۔۔۔

ابھی اُنہیں سوئے کچھ وقت ہی ہوا تھا کہ شاہ ویر کے رونے کی آواز پر دونوں اٹھ بیٹھے۔

آیت نے اُسے اٹھا کر سینے سے لگایا۔لیکن اُسے چپ ہوتے نہ دیکھ آیت بھی رونے والی ہو گئی۔

“شاید اسے بھوک لگی ہو گی آیت “

عالم نے کہا تو آیت بھی اُسے گود میں لٹاتی اس تک اُس کی ضرورت پہنچانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ پہنچ ہی نہیں رہا تھا پہلے بھی نائلہ شاہ اور سمن شاہ نے اُس کی مدد کی تھی۔ اُسے رو رو کر ہلکان ہوتے دیکھ آیت آیت نے عالم کو دیکھا جو لیٹ چکا تھا۔

“عالم دیکھیں نہ پلیز مجھ سے نہیں ہو رہا اور یہ روئے جا رہا ہے”

آیت نے ہے بسی سے عالم کا بازو ہلاتے کہا تو وہ بھی اٹھا۔

عالم نے آیت کے گھٹنے کے نیچے تکیہ سیٹ کیا

پھر تھوڑی دیر بعد ہی آیت نے اُسے فیڈ کروا کر سائڈ پر لٹایا لیکن اُس کے سونے کے کوئی ارادے نہ دیکھ کر آیت بھی اُس کے ساتھ جاگتی رہی تھی جبکہ عالم صاحب آرام سے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح عالم اٹھا تو وہ دونوں سو رہے تھے عالم محبت سے دونوں کو دیکھا اور باری باری دونوں کی پیشانی چوم کر پیچھے ہوا۔

آیت کے چہرے سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے وہ کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی۔

عالم اُس کے آرام کا خیال کرتے بغیر کسی شور کے اٹھ کر آفس کے لئے تیار ہونے لگا۔

ابھی وہ باہر نکل ہی رہا تھا کے اُس کی نظر شاہ ویر پر پڑی جو آنکھیں کھولے چھت کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ ہاتھوں اور پیروں کی ایکسرسائز جاری تھی۔

عالم محبت سے مسکراتا اُس کے پاس آیا اور اُسے اٹھا کر کمرے سے باہر نکلا تاکہ آیت کچھ دیر آرام کر سکے۔

وہ نیچے آیا تو صرف نائلہ شاہ اور عروش ہی کچن میں مصروف تھیں۔

عالم کی گود میں شاہ ویر کو دیکھ کر دونوں مسکرا کر باہر آئیں۔

“اٹھ گئے تم دونوں”

نائلہ شاہ نے عالم کو کہا جبکہ عروش نے جلدی سے شاہ ویر کو اپنی گود میں لیا۔

“جی چچی ہم اٹھ گئے ہیں۔۔۔آیت کو اِس نے جگائے رکھا تھا تو وہ اب سوئی ہے۔۔۔میں ناشتہ کر کے آفیس کے لئے نکلوں گا آپ بھی شاہ ویر کو آیت کے پاس مت جانے دیجئے گا تھوڑی دیر آرام کر لے وہ”

عالم کہتا ہوا بی جان کے کمرے میں چلا گیا۔

نائلہ شاہ بھی ملازمہ کو ناشتے کا کہتیں عروش کے پاس آ بیٹھیں اور شاہ ویر کو پیار کرنے لگیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *