Meri Zindagi by Ayat Fatima NovelR50592 Meri Zindagi (Episode 04)
Rate this Novel
Meri Zindagi (Episode 04)
Meri Zindagi by Ayat Fatima
وہ لوگ ابھی شہر پہنچے تھے۔ سارے راستے وہ تینوں خاموش رہے، عروش کے اسرار کرنے پر آیت کو مجبوراً فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا پڑا تھا۔ جبکہ گارڈذ کی ایک گاڑی اُن کے آگے تھی اور دوسری پیچھے۔
عالم شاہ نے پیکیجز مال کی پارکنگ میں گاڑی پارک کی اور اُن دونوں کو اترتا دیکھ بولا۔
“میں تم دونوں میں سے کسی کا بھی نقاب اُترا نا دیکھوں”
عالم شاہ نے تنبیہہ کی تو عروش سر ہلاتی اتر گئی۔ آیت ابھی کار کا دروازہ کھول ہی رہی تھی کے عالم شاہ نے اچانک اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور اُس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر لیا۔ آیت شاہ کی سانسیں تیزی سے اپنی سانسوں میں اتارتے پیچھے ہوا
“ایم سوری مائی لائف”
آیت جو گہرے گہرے سانس لیتی اپنا تنفس درست کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس کی سرگوشی پر اُسے دیکھا۔ پھر شرم سے سرخ پڑتی نظریں جھکا گئی اور تیزی سے باہر نکلی۔
تو وہ بھی باہر آیا اور اُنہیں ساتھ لیے آگے بڑھا اُس کی بائیں جانب عروش تھی اور دائیں جانب آیت۔ وہ دونوں ہی اُس کی ہمراہی میں خود کو بےپناہ محفوظ محسوس کر رہی تھیں۔
دونوں کو کسی کی پریشانی نہیں تھی کیونکہ اُن کا محرم اُن کے ساتھ تھا۔
وہ مال میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے عالم اُنہیں ایک لیڈیز کپڑوں کی شاپ میں لے گیا۔۔۔
اور پھر وہ دونوں آگے اگے تھیں اور عالم اُن کے پیچھے۔ دونوں نے جب ڈھیروں شاپنگ کر لی تو عالم نے اُنہیں ریسٹورینٹ سے کھانا کھلایا۔
ابھی وہ واپسی کے لیے نکل ہی رہے تھے کہ سمن شاہ کی کال دیکھ کے عالم نے اُنہیں گاڑی میں بیٹھنے کا کہا اور خود کال اٹينٹد کر کے سیل کان سے لگایا۔
” عالم بیٹا تمہاری بی جان کہہ رہی ہیں کے آج رات تم لوگ گاؤں کے لیے نہ نکلو دیکھو نا بچے اب ساڑھے گیارہ ہو رہے ہیں تم لوگ تھک بھی گئے ہو گے تو شہر میں اپنے بنگلے پر ہی رات گزار لو صبح واپس آ جانا”
اُنھوں نے عالم کو سمجھایا تو اُس نے دو چار اور باتیں کیں اور گاڑی میں آ بیٹھا۔ جب اُس نے اُن دونوں کو بتایا تو دونوں ہی اُداس ہو گئیں کیونکہ اُنہیں یوں اتنی دیر حویلی سے باہر رہنے کی عادت ہی کہاں تھی۔ لیکن مجبوری کےتحت دونوں خاموش ہو گئیں۔۔۔



بنگلہ کافی خوبصورت تھا اور کافی بڑا بھی۔ عالم شاہ نے حویلی کے علاوہ بھی دو بنگلے بنوا رکھے تھے۔ ایک یہاں لاہور میں اور دوسرا اسلاماباد کیونکہ اُسے اکثر ان دو شہروں میں رات گزارنی پڑتی تھی اور اُسے ہوٹلز میں رہنا پسند نہیں تھا۔
عالم شاہ نے ملازمہ کو اُن دونوں کو کمرے دکھانے کا کہا اور خود اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جب ملازمہ نے آیت کو اُس کا کمرہ دکھایا تو اُسے وہ بہت پسند آیا۔ وہ ڈارک گرے تھیم کا بڑا سا کمرہ تھا جس میں ایک جہازی سائز بیڈ اور ایک تھری سیٹر صوفے کے ساتھ ایک ٹیبل رکھی تھی اور سامنے دو چیئرز رکھی تھیں۔ ایک سائڈ پر ڈریسنگ ٹیبل تھی۔ جبکہ ایک دیوار پر ریکس بنے تھے جن میں خوبصورت ڈیکوریشن پیس پڑے تھے اور دیوار پر بڑے سائز کا ایل سی ڈی لگا تھا۔ آیت کو پہلی نظر میں ہی وہ کمرہ اتنا پسند آیا کے اُس نے حویلی میں اپنا کمرہ بلکل ایسا ہی بنوانے کا ارادہ کر لیا۔
فلحال وہ بہت تھک گئی تھی تو واشروم گئی اور منہ ہاتھ دھو کر بالوں میں برش کیا اور اے سی چلا کے بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اسے کچھ دیر میں ہی گہری نیند نے آن گھیرا۔
۔
۔
ابھی اسے سوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کے وہ ایک ڈراونے خواب سے ڈر کر اٹھ بیٹھی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ اُس کی نظر گھڑی پر گئی تو ابھی رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ اُسے یاد آیا کے وہ اپنی حویلی میں نہیں ہے تو بے ساختہ اُسے ایک نئے خوف نے آن گھیرا۔ ڈر کی وجہ سے اُس کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔ وہ باہر جانے سے بھی ڈر رہی تھی اور اند لیتی بھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ اُس نے ڈر کی وجہ سے کے کر خود پر کمفرٹر اچھے سے لپیٹ لیا جبکہ اتنی کولنگ نے بھی اُس کا جسم پسینے سے بھیگنے لگا۔۔۔ وہ بےتحاشا رونے لگی اور اچانک اٹھ کر باہر بھاگی اُس نے لمبی قطار میں بنے کمروں میں سے اپنے سامنے والے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے لوک تھا۔۔۔۔ وہ روتی ہوئی زور زور سے دروازہ کھٹکانے لگی۔
تبھی دروازہ کھلا اور سامنے کچی نیند سے جاگا عالم کھڑا تھا۔۔۔لیکن اُسے یوں روتا دیکھ عالم شاہ کی نیند بھک سے اڑی۔۔۔ابھی وہ کچھ سمجھتا کے آیت بغیر دوپٹے کے بھاگ کر اُس کی بانہوں میں سما گئی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تو عالم بھی سمجھ گیا کے وہ کسی خواب سے ڈری ہے۔
عالم شاہ نے اُس کے گرد حصار باندھا اور اُس کی کمر سہلانے لگا۔
“آیت بس میری زندگی۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوا میری طرف دیکھیں تو سہی”
عالم نے اُس کا ڈر دور کرنے کی خاطر پیار سے کہا اور اُسے خود سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ بس اُس سے چپکی روئے جا رہی تھی۔
“عا۔۔۔۔۔عالم۔۔۔۔پپ۔۔۔پلیز۔۔مم۔۔۔مجھے۔۔۔۔مم۔۔ماما۔۔۔پاس۔ج۔۔۔جانا۔ہے”
وہ بچوں کی طرح روتی ہوئی بولی تو عالم نے اُسے بازووں میں بھرا اور جا کر اپنے بیڈ پر لٹایا اور واپس آ کر دروازہ لوک کیا۔ پھر ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھرا اور اُس کی طرف بڑھا۔ عالم نے خاموشی سے گلاس اُس کے لبوں سے لگایا تو آیت نے بمشکل ایک گھونٹ بھر کر گلاس کو پرے کر دیا تو عالم گلاس رکھتا اس کے پاس آ بیٹھا اور اسے کھینچ کر اپنی بانہوں میں بھرا تو وہ اُس کے سینے پر سر رکھتی گہرے سانس لینے لگی۔
جبکہ اُس کی اتنی قربت پر عالم شاہ کو اپنا آپ بہکتا ہوا محسوس ہوا۔
اُس کا معصوم رویہ رویہ چہرہ عالم شاہ کو اپنی جانب راغب کرنے لگا۔ وہ جانتا تھا وہ بہت معصوم ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اُس کے کمرے میں آ گئی تھی۔ لیکن نجانے کیوں آج عالم شاہ کو اپنی جذبات پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا۔
ہاں عالم شاہ جو اپنے اصولوں کا بہت پکا تھا آج وہ اپنی بیوی کی معصومیت اور خوبصورتی پر بہک رہا تھا۔
عالم شاہ نے اچانک اُسے خود سے الگ کر کے تکیے پر گرایا تو آیت اُس کی آنکھوں میں خمار کی سرخی دیکھ کر گھبرا گئی۔ آیت نے اٹھنا چاہا تھا لیکن عالم شاہ نے اُسے دوبارہ سے واپس گرایا اور اُس اور مکمل قابض ہو گیا۔
عالم نے اُس کے کانپتے لبوں کو اپنے عنابی لبوں میں لیا اور اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں شدت سے انڈیلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ اُس نے ہونٹوں سے گردن تک کا سفر طے کیا۔ آیت بےتحاشا تڑپتی ہوئی اُسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ نازک جان اُس مضبوط شخص کو ایک انچ بھی نہ ہلا سکی۔ عالم شاہ نے اُس کی دونوں کلائیاں اپنے ہاتھ میں دبوچیں اور اسکی ٹانگیں اپنی ٹانگوں کے نیچے لاک كیں۔
عالم نے اُس کی گردن پر شدت سے ڈانٹ گاڑھے تو کمرے کی خاموش فضا میں آیت کی سسکیاں اُبھرنے لگیں۔
“عا۔۔۔۔۔عالم۔۔۔پیچھے۔۔۔ہٹ۔۔ہٹیں۔۔پلیز۔۔۔۔۔ابھی۔۔رخ۔۔۔رخصتی۔۔نن۔۔۔نہیں۔ہوئی۔۔۔پلیز۔۔۔عالم۔۔مم۔۔۔مجھے۔۔درد۔ہو۔۔رہا۔۔۔ہے”
وہ گڑگڑاتے ہوئے بولی لیکن عالم آج اُس کی سننے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا۔۔۔
اُس کے بعد عالم کی شیدتیں تھیں اور اُس کی نازک جان ۔۔۔وہ ساری رات تڑپتی رہی،روتی رہی اس کے آگے گڑگڑاتی رہی لیکن عالم شاہ نے نہیں رکنا تھا تو وہ نہ رکا۔



صبح عالم کی نیند اُس کی سسکیوں کی آواز سے کھلی۔ تو اُس کی نظر بے ساختہ گھڑی کی طرف اٹھی جو صبح کے سات بجا رہی تھی۔۔۔ابھی ڈیڑھ گھنٹے پہلے ہی تو وہ سویا تھا اور اُسے بھی سونے کا کہا تھا۔
اُسے ابھی تک یوں روتے دیکھ عالم شاہ کو ذرا سا دکھ ہوا۔۔۔وہ واقع رات میں اُس کے ساتھ کافی سختی سے پیش آیا تھا۔ حالانکہ جانتا تھا وہ نازک گڑیا اُس کی شدتیں نہیں سہ سکتی۔ وہ اُس کی بے رحمی پر ٹوٹ چکی تھی اب اُسے سمیٹنا بھی تو عالم شاہ نے ہی تھا۔
عالم شاہ نے اُس کی طرف دیکھا جو اسی کی پلین سیاہ ٹی شرٹ میں خود کو کمفرٹر میں سینے تک چھپائے پڑی تھی۔ جبکہ رات سے مسلسل رونے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ عالم شاہ کو اُس پر رحم آیا تو اٹھ کے اُس پر جھکا۔ اور اس کے بال چہرے سے سمیٹ کر پیچھے کیے جب عالم شاہ کی نظر اُس کی گردن پر موجود اپنی شدتوں سے دیئے گئے نشانوں پر پڑی تو اُسے مزید دکھ ہوا۔ پتہ نہیں اُس نے اتنی تکلیف کیسے برداشت کی ہو گی۔
ابھی وہ کچھ کہتا کے آیت نے شدت سے روتے ہوئے اُسے خود سے دور جھٹکا۔
“آپ۔۔بہت۔۔۔۔بر۔۔۔۔برے۔۔ہیں۔۔عالم۔۔شاہ۔۔۔بہت۔۔برے”
وہ اُس کے شرٹ لیس سینے پر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے مارتی ہوئی بولی تو عالم شاہ نے پیچھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی اور اُسے بھی سہارا دے کر زبردستی اپنے سینے سے لگایا۔۔۔تو وہ مزید ٹوٹتی زور زور سے رونے لگی۔
“شش بس میری جان کچھ بھی نہیں ہوا، تم نکاح میں ہو میرے تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا جو یوں رو رہی ہو۔۔۔اب بس ایک آنسو نا گرے نہیں تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۔۔۔”
عالم شاہ نے اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اور کرتے ہوئے پیار سے کہا اور اُس کے آنسو صاف کیے لیکن اُسے سٹل یونہی روتا دیکھ وہ تھوڑی سختی سے گویا ہوا تو آیت نے خود پر قابو پایا اور اس کے سینے میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
عالم شاہ نے مسکرا کر اُس کے بالوں پر لب رکھے۔۔۔لیکِن اپنے سینے پر پھر سے اُس کے آنسو محسوس کرتے عالم شاہ نے اُسے خود سے الگ کیا اور بیڈ سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھا وہاں سے ایک شرٹ اٹھا کر پہنی۔
پھر اُس کی طرف مڑا جو دوبارہ سے لیٹ چکی تھی۔۔۔تکلیف ہی اتنی تھی کے جسم ٹوٹ رہا تھا بیٹھنے سے۔۔۔
عالم شاہ اُس کی جانب آیا اور جھک کر اُس کی پیشانی چومی۔
“میں باہر جا رہا ہوں تم بھی اٹھنے کی کوشش کرو اور جلدی سے اپنی حالت ٹھیک کرو عروش اٹھنے ہی والی ہوگی تو تمہیں یوں دیکھ کر پریشان ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔”
وہ فکر سے بولا جبکہ آیت نے منہ پھیر لیا وہ اُس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“میں پانچ منت بعد روم میں اؤں گا اور اگر تم یونہی لیٹی ہوئی تو پھر دیکھنا میں کرتا کیا ہوں”
عالم شاہ نے لہجے میں سختی پیدا کرتے ہوئے کہا اور دروازہ باہر سے لوک کرتا چلا گیا۔۔۔
آیت کی آنکھوں سے پھر سے گرم سیال بہنے لگا کچھ دیر وہ عالم شاہ کا رات کا بھیانک سلوک یاد کر کے روتی رہی لیکن پھر اُس کی دھمکی یاد ائی تو اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر تکلیف کے باعث اُس سے اٹھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ آخر ہمت کر کے وہ صوفے سے اپنے کپڑے اٹھاتی واشروم کی طرف بڑھی۔۔۔
