Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 02)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

آج وہ دونوں صبح سے بی جان کے لیکچر سن رہی تھیں۔ جنہوں نے صبح پانچ بجے ہی ملازمہ کو بھیج کر انہیں اٹھا دیا تھا۔نماز پڑھنے کے بعد بی جان ان دونوں کو لون میں لائی تھیں۔ اور تب سے لے کر ابھی تک وہ انہیں سمجھا رہی تھیں کے اچھی لڑکیاں کیسی ہوتی ہیں۔سارا دن ماؤں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہیں۔صبح سویرے اٹھتی ہیں۔ دوپٹہ سر سے اترنے ہی نہیں دیتیں اور پتہ نہیں کیا کیا۔عروش تو اب مرنے والی ہو رہی تھی۔

آخرکار نائلہ شاہ اور سمن شاہ کو لون میں آتا دیکھ دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔

“بی جان آپ ناشتے میں کیا لیں گی؟”

نائلہ شاہ نے کہتے ساتھ آیت کو دیکھا جو محترمہ بال کھلے ہی چھوڑ کر ائی بیٹھی تھی۔

بیشک سر کو اچھے سے ڈھانپ رکھا تھا مگر اُس کے بال لمبے ہونے کی وجہ سے دوپٹے سے نیچے تک نظر آتے تھے۔ اب بھی وہ کمر تک کھلے پڑے تھے۔

کئی دفعہ عالم شاہ سے ڈانٹ بھی سنی تھی اُس نے کے اُسے نہیں پسند اُس کا یوں بال کھول کے گھومنا۔ حالانکہ گھر میں سب ہی عورتیں تھیں اور وہ خود مرد تھا بھی تو اُس کا محرم۔

مگر گھر میں کافی مرد ملازم تھے۔ اسی لیے وہ احتیاط رکھتا تھا۔

لیکن آیت تو اُس کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی تھی۔

نائلہ شاہ نے اُس کی کرسی کے پیچھے آ کر دوپٹہ اُتار کر اُسے دیا اور خود اُس کے بالوں کی چٹیا بنانے لگیں۔

“آج تم دونوں ناشتہ ہرگز نہیں بناؤ گی، ان دونوں نے کیا ساری زندگی پھوہڑ ہی رہنا ہے، آج میں حبیبہ (ملازمہ) سے کہہ دیتی ہیں وہ انہیں بتاتی رہے گی ساتھ ساتھ، یہ دونوں ہی سب کا ناشتہ بنائیں گی”

بی جان میں تھوڑی سختی سے کہا تو سمن شاہ اور نائلہ شاہ نے پہلے ایک نظر ایک دوسرے پر ڈالی پھر سمن شاہ نے آگے بڑھ کر بی جان کا ہاتھ تھاما اور اُن کے پاس ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئیں۔

“بی جان ابھی سے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے، ہماری آیت نے تو ہمیشہ ہی یہیں رہنا ہے ہمارے پاس تو ہم دونوں ہیں نہ اور ہم نہ بھی رہیں تو یہ جو اتنے ملازم ہیں یہ اسی لیے تو ہیں کے ہماری پھول جیسی بچی کو کام نہ کرنے پڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بات رہی عروش کی تو انشاءاللہ اس کے نصیب بھی اللہ اچھے کرے گا ہاں۔۔تھوڑا بہت اِسے سکھا دیں گے تاکہ اگلے گھر کوئی مشکل نہ ہو اِسے باقی اللہ ہے نہ وہ بہتر کرے گا “

سمن شاہ نے آیت کوپیار کرتے ہوئے بی جان سے کہا تو آیت کے لبوں پر شرمگین مسکراہٹ پھیل گئی جبکہ عروش نے منہ بنایا۔

“میں بھی کہوں کہ یہ دونوں کچھ کرتی کیوں نہیں ہیں وہ تو اب پتہ چل رہا ہے کے یہ تم لوگوں کی دی ہوئی شہ پر سب کچھ ہو رہا ہے ان کہ کیا قصور جب مائیں ہی انہیں یہ سکھا رہی ہیں۔۔۔۔۔”

بی جان نے خفگی سے کہا تو وہ چاروں ہی مسکرانے لگیں۔

“اچھا میری پیاری بی جان اب بس کریں نا۔۔۔۔۔آپ پتہ نہیں کیوں لالہ کی باتوں کو سیریس لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔سب کو پتہ ہے اُنہیں تو بس غصّہ کرنے کی عادت ہے”

عروش اٹھ کر بی جان کے گلے میں بانہیں ڈالتی لاڈ سے بولی تو انہوں نے بھی اس کی پیشانی چومی۔ پھر وہ سب اٹھ کے اندر کی طرف بڑھ گئیں۔

🖤
🖤
🖤

رات کو آیت اپنے لیے کافی بنانے کچن میں ائی۔سب لوگ سو رہے تھے۔ اُسے پتہ نہیں کیوں اس وقت کافی کی کريوینگ ہوئی۔ ابھی اُس نے فرج سے دودھ کا جگ نکالا ہی تھا کے کھٹکے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ تو مانو سکتہ ہو گیا۔ عالم جو لون میں ایکسرسائز کر رہا تھا کچن سے آواز سن کر اس طرف آیا تو اتنے دونوں بعد اس دشمن جان کو اکیلا دیکھ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔

“و۔۔۔وہ۔م۔۔۔میں کافی۔۔ب۔۔بنانے۔۔۔ائی۔تھی”

آیت نے جلدی سے وضاحت دی کے کیا پتہ وہ بغیر کسی وجہ کے ہی ڈانٹ دے۔

جبکہ اُسے سنجیدگی سے اپنی جانب آتا دیکھ آیت کو انجانے سے خوف نے آن گھیرا۔

عالم شاہ نے قریب آ کر اُسے زور سے خود میں بھینچ لیا۔ اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔

“میری جان آپ نہیں جانتیں کے آپ کو خود میں سمانے کے لیے میں کتنا ٹرپ رہا تھا،۔۔۔۔۔اُس دن کہا تھا نا کے رات کو اپنے روم کا دروازہ لوک مت کیجئے گا۔۔۔میں آؤں گا۔۔۔۔۔۔تو پھر کس کی اجازت سے آپ نے دروازہ لوک کیا۔۔۔ہاں”

عالم شاہ نے پہلی بات نرمی سے کی ليکن پھر اس کی کچھ دن پہلے کی حرکت یاد ائی تو غصے سے بولا۔

وہ نازک جان جو پہلے ہی اس افتاد پر کانپ رہی تھی اُس کے غصہ کرنے پر ہچکیوں سے رونے لگی۔

“عالم۔۔۔۔۔عالم پلیز چھوڑیں۔۔۔۔مجھے”

آیت نے اپنے ناخن عالم شاہ کے کندھوں پر مارے اور ساتھ روتے ہوئے کہا۔ تو عالم شاہ نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور اُس کی گردن کو دانتوں میں دباتے پیچھے ہو گیا۔وہ جو اپنی ہوش و حواس کھونے لگی تھی اُس کے پیچھے ہوتے ہی اُسے کندھوں سے تھام لیا۔ تو عالم شاہ نے بھی اُس کی کمر گرد بازو لپیٹے اور اپنے سہارے پر کھڑا کیا۔ اور ایک ہاتھ سے اُس کی آنکھوں سے شفاف موٹی چنے جو باہر آنے کو بیتاب تھے۔

“اس مزاحمت اور رونے کی وجہ جان سکتا ہوں؟ ،جانِ عالم”

اُس کی آنکھوں میں دیکھتے کرخت لہجے میں کہا تو آیت نے ہے ساختہ اُس کی آنکھوں میں دیکھا لیکِن اُن آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر جلدی سے اپنی نظریں جھکا لیں۔ جبکہ ہچکیاں ابھی بھی جاری تھیں۔

“م۔۔مم۔مجھے۔۔۔آپ۔ سے ڈر۔۔۔ل۔۔۔۔لگتا۔۔ہے”

اُس نے منمناتے ہوئے کہا۔ آنکھیں پھر سے بھرنے لگیں تو عالم شاہ مسکرا دیا۔۔۔اور جھک کر اُس کی گلابی رخسار پر شدت سے اپنے لب رکھے۔

“میرا نازک سا ہے بی۔۔۔۔۔کیوں ڈر لگتا ہے مجھ سے ؟ میں تو آپ کو کچھ بھی نہیں کہتا”

عالم شاہ نے اسکے کانپتے لبوں اور انگوٹھا پھیرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔۔۔ آیت نے اپنے لبوں پر سے اُس کا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن عالم نے دوسرے ہاتھ سے اُس کی دونوں کلائیاں سختی سے پکڑ لیں۔

“آپ۔۔۔آپ ۔۔ہر وقت۔۔غُصّہ۔۔کرتے رہتے۔۔۔ہ۔۔ہیں۔۔اور مجھے ڈانٹتے۔۔۔بھ۔۔۔بھی۔۔ہیں۔۔۔اور مجھ سے باقی سب کی۔۔۔طرح ۔۔۔پیار بھی۔۔۔نھ۔۔نہیں کرتے”

آیت نے معصومیت سے شکوے کیے تو عالم شاہ کو اپنا آپ بے ایمان ہوتا نظر آیا۔ دل تو چاه رہا تھا اسی وقت اُس کو خود میں سمو لے۔۔۔

“اُووو میری جان کو اتنے شکوے ہیں اپنے شوہر سے۔۔۔میں ہر وقت کہاں غصّہ رہتا ہوں یار، سارا دن تو آفس ہوتا ہوں اور اگر غصّہ ہوتا بھی ہوں تو آپ کے فائدے کے لیے ہوتا ہیں چندہ۔۔۔آپ جانتی ہیں نہ لڑکیوں کے عزت کانچ جیسی ہوتی ہے کسی کی ایک بات کہہ دینے سے ہی داغدار ہو جاتی ہے،بس اسی لیے میں آپ دونوں پر تھوڑی سختی کرتا ہوں، بیشک ہمارے گھر میں کوئی غیر مرد نہیں ہی لیکن یہ ملازم بھی تو غیر ہیں نا۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کے آپ پر کسی کی بھی بری نظر پڑے۔۔لیکن آپ دونوں آرام سے بات سمجھتی ہی نہیں ہیں تو اس لیے تھوڑی سختی کرنی پڑتی ہے مجھے، اور جہاں تک بات ہے پیار کی تو بس یہ الیکشن ہو جائیں پھر بی جان سے رخصتی کے بات کرتا ہوں۔۔۔۔پھر جی بھر کر پیار کروں گا اپنے بیبی کو۔۔۔۔ہممم؟ “

عالم شاہ نے اپنے جذبات پر بندھ باندھتے ہوئے پیار سے اُسے سمجھایا اور آخری بات اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے کی تو آیت کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔پھر جب اپنی نازک کلائیاں اُس کی سخت گرفت میں دکھتی محسوس ہوئیں تو اس نے رونی صورت بنا کر اُس کی طرف دیکھا۔۔۔

“چھوڑیں نا مجھے درد ہو رہا ہے”

آیت نے بیچارگی سے کہا تو عالم شاہ نے اُس کے بازو چھوڑے اور اُس کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھتا اُس کی طرف دیکھنے لگا۔

“چندہ آپ تو کچھ زیادہ ہی نازک ہیں۔۔۔کیسے برداشت کریں گی میری شدتیں اپنے اس ملائم وجود پر۔۔۔۔۔۔۔خیراب کھایا پیا کریں اور اپنے آپ کو تیار کریں کیونکہ وہ وقت اب دور نہیں جب آپ میری پناہوں میں بے بس ہوں گی۔۔۔۔اور یاد رہے اُس دن میں یہ نازک مجازی ہرگز برداشت نہیں کروں گا سو بی ریڈی”

عالم شاہ نے سنجیدگی سے کہا تو آیت شرم سے مرنے والی ہو گئی ۔۔۔

وہ کرسی سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر کافی بھلائے کچن سے بھاگ گئی۔ تو عالم شاہ بھی مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔

🖤
🖤
🖤

“بی جان میں سوچ رہی تھی کے عالم سے بات کرتی ہوں کے آفس سے وقت نکال کر بچیوں کو شاپنگ پر لے جائے۔۔۔۔کافی ٹائم ہو گیا ہے دونوں کو گھر سے باہر نکلے۔ سارا سارا دن بیچاریں بور ہوتی رہتی ہیں، نہ کوئی پڑھائی،نہ سیل ہیں ان کے پاس, نہ ہی کسی دوست کے ہاں آنا جانا تو اچھا ہے کے ایک دفعہ عالم خود انہیں لے جائے، گھوم پھر بھی لیں گی اور شاپنگ بھی کر لیں گی دونوں”

سمن شاہ نے بی جان کے کمرے میں آ کر کہا تو نائلہ شاہ جو اُن کی ٹانگیں دبا رہی تھیں۔ انہوں نے بھی اس بات سے متفق ہو کر اثبات میں سر ہلایا۔

“کر کے دیکھ لو بات عالم سے مجھے تو نہیں لگتا لے جائے گا۔ ابھی کل ہی تو اُس نے حویلی پر مزید سکيورٹی بڑھائی ہے کے الیکشن کی وجہ سے اُس کے دشمن اُس کی بُو سونگھتے پھر رہے ہیں۔۔۔لیکن پھر بھی تم ایک دفعہ کوشش کر لو”

بی جان اٹھتے ہوئے بولیں اور اُنہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ بھی بیڈ کے پائنتی پر ٹک گئیں۔بی جان کچھ دیر سوچتی رہیں پھر ایک گہرا سانس لے کر اُن دونوں کی طرف سنجیدگی سے دیکھا۔

“تم لوگوں نے آیت کی رخصتی کے بارے میں کیا سوچا ہے”

بی جان نے نائلہ شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا سمن شاہ تو مسکرا دیں جبکہ نائلہ شاہ کو لگا ان کا دل ابھی بند ہو جائے گا۔ جتنا بھی ڈانٹ دپٹ لیتیں اکلوتی اولاد سے محبت بھی تو بہت تھی۔ بیشک اُس نے بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے جانا تھا پھر بھی یہ تکلیف ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے۔

حالانکہ وہ جانتی تھیں عالم سے بہتر لڑکا چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا۔ مگر بچپن سے اتنے لاڈوں سے پالا تھا تو اب خود سے الگ کرنے کا سوچ کر ہی اُن کی سانس رک رہی تھی۔

ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

“لیکن بی جان آیت ابھی بہت چھوٹی ہے یوں اچانک۔۔۔کیسے”

وہ بے بسی سے بولیں جب کے انکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔ تو سمن شاہ نے اُن کا دکھ سمجھتے اُنہیں خود سے لگایا۔

“بیٹا ماؤں کو تو اولاد ہمشہ چھوٹی ہی لگتی ہے۔۔۔۔ھممم۔۔۔۔۔۔۔لیکن کبھی نہ کبھی بیٹیوں کو رخصت کرنا تو ہوتا ہے نہ۔ اور ہماری آیت نے تو یہیں رہنا ہے تمہارے پاس اور عالم بھی اُس کا بہت خیال رکھے گا تم بے وجہ پریشان نہ ہو”

بی جان نے اُنہیں سمجھاتے ہوئے کہا تو اُنھوں نے اپنے آنسو صاف کیے ابھی وہ کچھ کہتیں کے دھڑام سے دروازہ کھلا اور وہ دونوں اندر داخل ہوئیں۔

“یہاں کون سا گول میز کانفرنس جاری ہے؟ ہم آپ لوگوں کو پوری حویلی میں تلاش کر رہی ہیں اور آپ تینوں یہاں بیٹھی ہیں”

عروش نے بیڈ پر چڑھتے بی جان کی گود میں سر رکھتے ہوۓ کہا۔ تو بی جان محبت سے اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔ جبکہ آیت صوفے پر بیٹھ گئی۔ نائلہ بیگم محبت لٹاتی نظروں سے آیت کو دیکھنے لگیں۔

سمن شاہ خاموشی سے اٹھیں اور آیت کے پاس جا کر بیٹھیں اور اُسے سینے سے لگا لیا۔ تو آیت نے بھی مسکرا کر اُن کے گرد باہیں پھیلآئیں۔

“ماما میں نوٹ کر رہی ہوں آپ آیت کو مجھ سے زیادہ پیار کرنے لگی ہیں میں تو سوتیلی ہوں نہ آپ کی”

عروش نے منہ بنا کے کہا تو سمن شاہ مسکرا دیں۔ ابھی اُنھوں نے لب کھولے ہی تھے کے اُن کی نظر نائلہ شاہ پر گئی جن کی آنکھوں سے آنسو ضبط کے باوجود پھر سے چھلک پڑے تھے۔ اُنہیں روتا دیکھ آیت فوراً اُن کی طرف بڑھی۔ کیونکہ اُس نے اُنہیں اس سے پہلے کبھی بھی روتا ہوا نہیں دیکھا تھا۔

“ماما کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔۔آپ کیوں رو رہی ہیں۔۔۔۔۔۔مجھے بتائیں نہ ماما جان”

آیت اُن کے آنسو صاف کرتی بولی تو انہوں نے آیت کی خود میں بھینچ لیا اور اُس کے منہ پر دیوانہ وار پیار کرنے لگیں۔ پھر اُس سے علیحدہ ہو کر اپنی آنسو صاف کیے اور نم آنکھوں سے مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا۔

“کچھ نہیں ہوا بیٹا،، بس دیکھ رہی تھی میری آیت کتنی بڑی ہو گئی ہے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا” وہ اُس کی گال سہلاتے ہوئے بولیں تو آیت نے حیرانگی سے اُن کی طرف دیکھا۔

“ماما اس میں رونے کی کیا بات ہے، اور ویسے بھی میں اتنی بڑی بھی نہیں ہوئی دیکھیں چھوٹی سی تو ہوں میں”

اُس نے آخر میں شرارت سے کہا تو وہ سب مسکرانے لگیں۔

🖤
🖤
🖤

وہ سب یونہی باتیں کر رہی تھیں کے ملازمہ نے آ کر عالم شاہ کی آمد کی اطلاع دی تو بی جان نے اُسے یہیں بلانے کا کہا۔ عروش جو ریلیکس سی لیٹی ہوئی تھی اپنے لالہ کے انے کا سن کر سیدھی ہو بیٹھی اور دوپٹہ ٹھیک کیا۔ جبکہ آیت بھی بیڈ پر چڑھ گئی کے اگر صوفے پر بیٹھتی تو وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ کیونکہ کمرے میں کوئی اور جگہ نہیں تھی بیٹھنے کی۔

“آیت یار تم تو صوفے پر ہی بیٹھ جاؤ نا یوں سب بیڈ پر بیٹھیں گی تو یہ نہ ہو بیڈ ٹوٹ ہی جائے”

عروش نے اُسے تنگ کرتے ہوئے کہا تو آیت نے اُسے کہنی ماری۔ بی جان بھی مسکرا دیں۔

عالم شاہ سلام کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو سب کو جمع دیکھ کر حیران ہوا۔اور آگے بڑھ کر بی جان کے آگے سر جھکایا تو اُنھوں نے اس کے ماتھے اور پیار کیا۔ آیت جو بلکل بی جان کے پاس بیٹھی تھی اُسے جھکتا دیکھ جلدی سے پیچھے ہوئی۔ پھر سب کو مسکراہٹ دباتے دیکھ خفگی سے سر جھکا گئی۔بی جان سے دعائیں لے کر وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھی سمن شاہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور بازو پر سے کوٹ اُتار کر صوفے کی پشت پر ڈالا۔ آیت نے ایک نظر بھر کر اُس کی جانب دیکھا جو اس وقت تھکن سے چور تھا لیکن بے تحاشا ہینڈسم لگ رہا تھا۔ بال ماتھے پر بکھرے تھے اور ٹائی ڈھیلی کی ہوئی تھی جبکہ آنکھوں میں تھکاوٹ صاف دکھ رہی تھی۔ آیت کو وہ اتنا پیارا لگا کے دل بے تحاشا دھڑکنے لگا۔

عالم جو کب سے اُس کی نظریں خود پر محسوس کر رہا تھا بال ٹھیک کرنے کے بہانے چہرے کے آگے ہاتھ کر کے آیت کی طرف مسکرا کر دیکھا اور ایک آنکھ ونک کی تو آیت شرم سے نظریں جھکا گئی۔

وہ بھی مسکراتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا اور بی جان کی جانب متوجہ ہوا۔

“کہیں بی جان آپ نے بلایا تھا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *