Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 06)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

عالم شاہ نے اُسے اپنے کمرے میں لا کر بیڈ پر پٹخا۔ واپس مڑ کر دروازہ لوک کیا۔ آیت روتی ہوئی تکیے میں منہ چھپا گئی۔مگر عالم اُسے اُس کے حال پر چھوڑتا الماری سے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا۔

وہ شاور لیتا شرٹ لیس باہر آیا۔ آیت کو ابھی تک روتا دیکھ وہ اس کی طرف بڑھا۔ عالم بیڈ پر اُس کے پاس لیٹا اور ایک ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنی جانب کھینچ لیا۔

“ایم سوری فور ایوری تھنگ مائی لو”

وہ اُسے خود میں چھپاتا محبت سے چور لہجے میں بولا۔ لیکن آیت نے اُسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی تو عالم شاہ نے مسکرا کر اپنی گرفت تنگ کی۔

“اب سوری کا کیا فائدہ اب تو آپ نے جو کرنا تھا کر لیا عالم شاہ۔۔۔۔آپ نے مجھے برباد کر دیا ہے عالم میرے پاس کچھ نہیں چھوڑا آپ نے۔۔۔”

وہ مزاحمت کرتی ہوئی بے بسی سے چیخی تو عالم شاہ نے اُسے سختی سے جکڑا۔

“آں ہاں۔۔۔۔میری آیت پر اتنا غصّہ سوٹ نہیں کرتا یار۔۔۔ویسے آج میرا لڑائی کر کے اپنی اسپیشل مومینٹس کو ضائع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔تو تم بھی یہ فضول کے گلے شکوے چھوڑو اور میرا ساتھ دو۔۔”

عالم شاہ نے اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو آیت نے ناراضگی و بے بسی سے اسے دیکھا۔

“آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔اگر آج بھی آپ نے میری بات نہ مانی تو سچ میں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی”

آیت نے اُسے اپنی دھمکی سے ڈرانا چاہا تو عالم شاہ نے قہقہہ لگایا۔

“جاناں بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی فلحال تم واقعی مجھ سے کوئی بات نا کرو”

عالم شاہ نے اُسے تنگ کرتے ہوئے کہا۔ تو آیت نے برا سا منہ بنایا۔

“دیکھیں میں کتنی اچھی ہوں آپ کے اتنا ڈانٹنے کے باوجود بھی آپ سے ناراضگی ختم کر چکی ہوں۔۔۔لیکن ایک آپ ہیں جو کبھی میری کوئ بات نہیں مانتے”

وہ دکھی لہجے میں بولی لیکن عالم شاہ نے بغیر کوئ جواب دیئے اس پر جھک گیا۔ اُس نے آیت کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لاک کیا۔

آیت نے رحم طلب نظروں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا لیکن وہ عالم شاہ اب اُس کی خوبصورتی میں بہکا ہوا عالم شاہ لگ رہا تھا۔ اُس کی جذبے لٹاتی نظروں سے گھبرا کر آیت نے اپنی آنکھیں جھکا لیں۔ عالم شاہ اُس کی حرکت پر مسکرایا پھر اُس کی آنکھوں کو لبوں سے چوما۔۔۔اور آہستہ آہستہ نیچے کی طرف بڑھنے لگا۔ آج اُس کے لمس میں نرمی تھی جسے محسوس کر کے آیت نے بھی اپنی بے ضرر سی مزاحمت ترک کرتے اسے اپنا آپ سونپ دیا۔

عالم شاہ نے اُس کے نازک وجود کو خود میں سمیٹ لیا اور آہستہ آہستہ اُسے اپنی محبت کی بارش میں بھگونے لگا۔

آخر جب صبح کے ساڑھے پانچ بجے تو آیت نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔

“عالم پلیز بس کریں نہ مجھے سونا بھی ہے پلیز”

اُس نے بیچارگی سے عالم شاہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

عالم بھی اسے رونے کی تیاری کرتے دیکھ اُس پر رحم کھاتا ایک طرف لیٹ گیا اور اُسے بھی اپنی بانہیں میں بھر لیا۔

آیت شرمائی لجائی سے اُس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔ عالم نے اُس کی پیشانی پر اپنی مہر ثبت کرتے دونوں پر کمبل ٹھیک کیا اور مطمئین ہوتا انکھیں موند گیا۔ آخر کار اُس نے اپنی محبت سے آیت کو ناراضگی بھلا ہی دی تھی۔

صبح دس بجے عالم کی آنکھ کھلی تو اُس نے چاہت سے آیت کی طرف دیکھا۔ جو ایک ہاتھ چہرے کے نیچے رکھے اُس کی طرف کروٹ لیے ہوئے گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی۔

“آیت میری جان اٹھو نیچے چلیں”

عالم شاہ نے اُس کی گال تھپتھپاتے ہوئے کہا تو آیت نے کسمسا کر آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔

“سونے دیں نا تھوڑی دیر۔۔۔۔مجھے ابھی بہت نیند ائی ہے”

وہ التجایہ لہجے میں بولی تو عالم شاہ نے مسکرا کر اُس کی طرف دیکھا۔

“میرے آفیس جانے کے بعد اپنی نیند پوری کر لینا آیت۔۔۔چلو شاباش ابھی اٹھو۔۔ نیچے سب انتظار کر رہے ہوں گے نا میری زندگی”

عالم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو آیت نے شرما کر اُسے دیکھا۔

“پہلے آپ باہر نکلیں گے کمرے سے پھر ہی میں واشروم جا سکوں گی نا”

وہ اپنی حالت کے پیشِ نظر بولی تو عالم شاہ نے معنی خیزی سے اُس کے وجود کو گہری نظروں سے دیکھا۔

“اچھا ایک کس کرو پھر ہی جاؤں گا”

وہ سنجیدہ ہوتا بولا تو آیت نے حیران کن نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

“یہ کیا بات ہوئی بھلا۔۔۔میں ہرگز ایسا کچھ نہیں کر رہی”

وہ بوکھلائے ہوئے بولی تو عالم شاہ نے اسی گھورا۔ ابھی وہ کچھ کہتا کے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ عالم نے پیچھے ہوتے دروازے کی طرف دیکھا۔

“کون”

“عالم بیٹا میں ہوں۔۔۔”

سمن شاہ نے کہا تو عالم نے آیت کو واشروم جانے کہ اشارہ کیا اور خود شرٹ لیس ہی جا کر دروازہ کھولا۔سمن شاہ اسی بغیر شرٹ کے دیکھ کر سارا معاملہ سمجھ کر مسکرائیں۔

“آیت کہاں ہے؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اسکی”

اُن کے سوال پر عالم نے اُن کی طرف دیکھا۔

“جی ماما وہ ٹھیک ہے بلکل اور ابھی واشروم گئی ہے شاور لینے”

عالم شاہ نے سنجیدگی سے جواب دیا تو سمن شاہ اُسے ناشتے پر انے کا کہتیں نیچے چلی گئیں۔

وہ لوگ کب سے اُن کا انتظار کر رہی تھیں۔ آخر بی جان نے تنگ آ کر دوبارہ ملازمہ کو اُنہیں بلانے بھیجا ہی تھا کہ وہ دونوں نیچے اترتے دکھے۔ عالم شاہ کے پہلو میں شرمائی سی آیت چہرہ جھکا کر اُن کی طرف ہی آ رہی تھی۔

وہ قریب ائی اور سب سے مل کر نائلہ کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے ہی لگی تھی کہ عالم نے اُس کا ہاتھ تھام کے اپنے ساتھ بیٹھایا۔ تو وہ شرم سے سرخ پڑتی نظریں زمین پر جما گئی۔ اُس کا یوں شرمانا ، ہچکچانہ سب پر صاف ظاہر کر رہا تھا کے اُن کے بیچ سب ٹھیک ہے۔ آیت نے بیٹھتے ساتھ ہی سب سے اپنے رویے کی معافی مانگی تھی۔ سب نے خوشدلی سے اُسے معاف کر دیا اور ہلکی پھلکی باتیں کرتے ناشتہ کرنے لگے۔

🖤
🖤
🖤

دو ماہ بعد۔۔۔۔۔

صبح عالم کی آنکھ کھلی تو آیت اُس کے پہلو میں نہیں تھی۔ عالم بھی اُسے موجود نہ پا کر اٹھ بیٹھا۔ تبھی اُس کی نظر واشروم کے کھلے دروازے پر پڑی۔ سامنے ہی آیت بیسن پر جھکی وومٹ کر رہی تھی۔ عالم شاہ اُس کی حالت دیکھتا تیزی سے واشروم کی طرف گیا۔ آیت نے منہ تولیہ سے پونچھا اور پیچھے مڑی ہی تھی کے اُسے زور دار چکر آیا وہ چیخ مارتی ہوئی نیچے گرنے ہی لگی تھی کے عالم شاہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر اُسے اپنی بانہوں میں تھاما۔

“کیا ہو گیا ہے میری جان۔۔۔۔آرام سے”

ابھی وہ مزید کچھ کہتا کے آیت اُس کے سینے پر سر ٹیکاتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

عا۔۔۔۔عالم۔۔۔مم۔۔۔میں۔۔صبح۔۔۔۔س۔۔۔سے۔۔وومٹ کر رہی۔۔ہ۔۔ہوں۔۔۔ا۔۔اور۔۔م۔مجھے۔۔۔چکر۔۔۔بھی۔۔۔آ۔۔رہے۔۔ہیں”

اُس نے روتے ہوئے اسے اپنی حالت کے بارے میں بتایا۔

عالم شاہ اُسے بانہوں میں اٹھا کر صوفے پر لایا۔

“شش۔۔چپ میری جان بس۔۔۔اٹھو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں”

عالم فکرمندی سے بولا مگر آیت نے روتے ہوئی نفی میں سے ہلایا۔

“مم۔۔مجھے۔۔ڈ۔۔ڈاکٹر۔۔۔پاس۔۔۔نن۔۔نہیں۔جانا۔۔مجھے۔۔۔ڈر۔۔لگ۔لگتا۔ہے”

اُس کی بات پر عالم نے افسوس سے اُسے دیکھا۔

پھر نائلہ شاہ کو کال کر کے اُس کی حالت کا بتاتے اوپر بلایا تو وہ سب جلدی سے اُن کے روم میں داخل ہوئیں۔

سمن شاہ اور نائلہ شاہ آیت کو روتا دیکھ اُسے چپ کروانے لگیں۔ تبھی عالم نے ڈرائیور کو کال ملائی۔

“عامر جلدی سے قریبی ہسپتال سے کسی لیڈی ڈاکٹر کو لے آؤ فوراً”

اُس نے فون ٹیبل پر رکھ کے آیت پر نظر ڈالی۔ تو اُس نے شکوہ کناه نظروں سے عالم کو دیکھا۔۔۔عالم نے اُسے ایک گھوری سے نوازا۔ ابھی آیت نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ اُس کا جی متلایا تو وہ فوراً اٹھ کر دوبارہ واشروم میں بھاگی۔بی جان کو تو اُس کی حالت صاف سمجھ آ رہی تھی لیکن ابھی خاموش رہیں۔

کچھ ہی دیر میں ملازمہ ڈاکٹر کو لائی تو اُنھوں نے ان سب کو باہر جانے کا کہا اور خود اُس کا تفصیلی چیک اپ کیا۔

دس منٹ بعد ڈاکٹر باہر نکلیں اور اُن سب کو بےچینی سے کھڑے دیکھ مسکرائیں۔

“آپ سب کو مبارک ہو ۔۔۔آیت پریگننٹ ہیں میں نے کچھ دوائیں لکھ دی ہیں کچھ دن دیتے رہیں یوں انہیں پریگنینسی میں زیادہ مسلہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔شکریہ اب میں چلتی ہوں”

ڈاکٹر تو عالم کے ہاتھ میں پرچی پکڑاتی چلی گئیں۔پیچھے وہ سب آیت کے پاس آ گئیں تو عالم بھی اپنے کمرے میں آیا۔ جہاں آیت اب بھی لا علم پڑی تھی۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے”

آیت نے پریشانی سے سوال کیا تو عروش بھاگ کر اُس کے گلے لگی۔ جبکہ عالم شاہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔

“تھینک یو آیت یار تم مجھے اتنی جلدی پھپھو بنانے والی ہو”

اُس نے محبت سے کہا تو آیت کو حیرت سے اچھو لگا۔۔۔نائلہ شاہ نے آگے بڑھ کر اُس کی پیٹھ سہلائی۔

“کک ۔۔۔کیا مطلب ہے تمہاری بات کا “

آیت نے نہ سمجھی سے دوبارہ پوچھا تو اس دفعہ بی جان خوشی سے اُس سے مخاطب ہوئیں۔

“آیت میری بچی اللہ کے کرم سے تم اُمیدِ سے ہو”

بی جان کی بات پر آیت کو ڈھیروں شرم نے آن گھیرا وہ دھیما سے مسکراتی ہوئی سر جھکا گئی۔ جبکہ چہرہ گلاب کی طرح کھل اٹھا تھا۔

عالم شاہ تو اس منظر پر ایک بار پھر سے دل ہار بیٹھا۔ باقی سب بھی اُسے شرماتے دیکھ اُسے پیار کرتیں۔۔ دعائیں دیتیں باہر نکلیں تو آیت کا دل کیا اُن کے ساتھ بھاگ نکلے۔ لیکن عالم شاه کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ وہ جلدی سے خود کو کمبل میں چھپا گئی۔

عالم شاہ اُس کی معصومانہ حرکت پر دل سے مسکرایا اور آگے بڑھ کر اُس سے کمبل کھینچ کر الگ کیا ۔ تو آیت آنکھیں سختی سے بھینچ گئی۔

“آنکھیں کھولو آیت میں تمہاری آنکھوں میں وہ خوشی کے رنگ دیکھنا چاہتا ہوں جو اس وقت تم چھپا رہی ہو”

وہ سنجیدہ سا بولا تو آیت نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔ لیکن شرم کی وجہ سے آنکھیں جھکا گئی تو عالم نے جھک کر اس کی آنکھیں چومی۔۔پھر اُس کے دونوں رخساروں پر ڈانت گاڑھے اور نرمی سے اُس کے لب چھو کر پیچھے ہوا تو آیت شرما کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔

“کیا ک۔۔۔کر رہے۔۔ہیں۔۔عالم”

آیت بمشکل بولی تو عالم شاہ نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا۔

“اب میری کچھ باتیں کان کھول کر سن لو آئندہ تم نہ اچھلو کودو گی نہ ہی تیزی سے سٹیرز اُترو گی ، اپنا بہت خیال رکھو گی۔۔۔۔اور کسی بھی وقت کا کھانا تو ہرگز سکپ نہیں کرنا تم نے۔۔۔نہیں تو مجھے تو تم جانتی ہی ہو”

عالم شاہ نے سختی سے اُسے نصیحتیں کیں تو آیت نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا۔

“لیکن آپ بھی پرومس کریں آئندہ مجھے بلاوجہ سب کے سامنے نہیں ڈانٹیں گے”

آیت نے تیزی سے اپنی شرط بتائی تو عالم بھی مسکرا دیا۔

“ہمم میں بھی تمہیں بلاوجہ نہیں ڈانٹوں گا لیکن اگر تم نے دوبارہ سے کوئی غلطی کی تو پھر مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا”

عالم نے اُسے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے اٹھایا۔

“چلو کچھ دیر نیچے بیٹھ جاؤ سب کے ساتھ”

عالم نے اُسے سہارا دیا اور دونوں نیچے آئے۔

بی جان تو ملازمین سے مٹھائیاں بٹوانے کے مطلق بات کر رہی تھیں۔ عروش شاید اپنے روم میں تھی جبکہ سمن شاہ نائلہ شاہ سے صوفے پر بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں۔ اُن دونوں کو آتا دیکھ مسکرائیں۔ تو آیت بھی آرام سے چلتی ہوئی اُن کے درمیان جا بیٹھی۔

“اب طبیعت کیسی ہے میری بیٹی کی”

سمن شاہ نے پیار سے اُسے دیکھ کر کہا۔

“تائی اب بہتر ہوں۔۔۔اُس کے بعد وومٹ بھی نہیں ہوئی”

اُس نے اُنہیں تسلی سے بتایا تبھی سمن شاہ کچھ یاد آنے پر عالم کی جانب مڑیں جو دوسرے صوفے پر سیل کان سے لگائے بیٹھا کسی سے بات کر رہا تھا۔ اُس کی کال ختم ہوتے ہی سمن شاہ نے اُسے مخاطب کیا۔

“عالم بیٹا زرار کچھ دنوں کے لیے حویلی آ رہا ہے۔۔۔ شائستہ کا دل ہے کے وہ بھی اب بزنس سنبھالے تو میں نے کہہ دیا اُسے یہاں بھیج دو عالم اُسے کچھ دن اپنے ساتھ لے جائے گا آفس تو وہ بھی بزنس سے واقف ہو جائے گا۔۔۔۔اسی لیے شام کو پہنچ رہا ہے”

سمن شاہ نے اپنے بھانجے اور بہن کا ذکر کیا جو ساہیوال قائم پزیر تھے۔

“ماما کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ آپ کو پتہ بھی ہے میری مصروفیات کا۔۔۔اور زرار تو مجھے پہلے ہی نہیں پسند”

عالم نے کوفت سے کہا تو سمن شاہ نے اُسے گھورا۔

“کیوں نہیں پسند وہ آپ کو؟…عالم بیٹا وہ آ رہا ہے نا اب تو آپ بھی اُس کا خیال رکھنا بچہ پہلی دفعہ حویلی آ رہا ہے”

سمن شاہ نے اُسے سمجھایا تو عالم اثبات میں سر ہلاتا اٹھا۔

“جی بہتر میں ارحم سے کہہ دیتا ہوں وہ مردان خانے میں کمرہ سیٹ کروا دے “

عالم کی بات پر سمن شاہ نے اُسے روکا۔

“عالم کیا ہو گیا ہے آپ کو زرار گھر کا بچہ ہے وہ کیوں رہنے لگا مردان خانے اور ویسے بھی میں نے حویلی میں ہی اُس کا کمرہ سیٹ کروا دیا ہے”

عالم کو اچانک غصّہ آیا۔

“وہ کیسے رہ سکتا ہے حویلی۔۔۔آپ کے علاوہ وہ یہاں سب کے لیے غیر محرم ہے۔۔۔تو بہتر ہے وہ مردان خانے میں ہی رہے۔۔۔”

عالم سختی سے بولا تو بی جان اُس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“کیسی باتیں کے رہے ہو تم عالم کیا ہو گیا جو بچہ کچھ دونوں کے لیے حویلی رہ لے وہ کوئی غیر تو نہیں ہے۔۔۔۔اب میں تمہیں یہ بات کرتے نہ سنوں”

بی جان نے اُسے ٹوکا تو عالم کب سے خاموش بیٹھی آیت کی دیکھتا مزید برہم ہوا۔

“چلیں جو دل میں ائے آپ لوگ وہی کریں میری تو یہاں سننی کسی نے نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔لیکن تم اُس سے پردہ کرو گی۔۔۔اگر اُس نے تمہارا چہرہ ایک دفع بھی دیکھا نہ تو اُس کی آنکھیں نکالنے سے پہلے تمہارا چہرہ تن سے اکھاڑ دوں گا۔۔تو خیال رکھنا”

وہ آخر میں آیت پر چلایا تو آیت نے خوفزدہ نظروں سے اُسے دیکھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے اُس نے وعدہ کیا تھا وہ آیت کو بلاوجہ نہیں ڈانٹے گا لیکن اُس نے باہر آتے ہی اپنا وعدہ توڑ دیا تھا۔

“جّ۔۔جی۔۔۔مم۔۔میں۔۔خیال۔۔رکھوں۔۔گی”

اُس نے گھبرا کے جواب دیا اور پاس بیٹھی نائلہ شاہ کے کندھے میں چہرہ چھپایا۔ جبکہ آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں۔

عالم شاہ غصے سے اُسے یونہی چھوڑتا باہر نکلا تھا۔۔۔ اُس کے باہر جاتے ہی آیت نے کب کی روکی ہوئی سسکی لی تو سمن شاہ نے دکھ سے اُسے دیکھا جس بیچاری پر عالم شاہ نے اپنا غصّہ نکالا تھا۔۔۔

“آیت کچھ نہیں ہوتا بیٹا خود کو تھوڑا مضبوط کرو ۔۔۔ شوہر تو بیویوں کو ڈانٹ دیا کرتے ہیں لیکن اس طرح رویا تو نہیں جاتا نہ میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو اپنا نہیں تو اپنے وجود میں پلتی اُس چھوٹی سی جان کا ہی سوچ لو”

نائلہ شاہ نے اُسے احساس دلایا تو آیت نے دوبارہ سے سسکی لی۔

“مم۔۔ماما۔۔۔وہ۔۔ہمیشہ۔۔۔۔میرے۔۔ساتھ۔۔ایسا۔کیوں۔۔کر۔۔کرتے۔۔ہیں۔۔آج۔تو۔۔میں۔ن۔۔نے۔۔کچھ۔کیا۔۔۔بھی۔نہ۔۔۔نہیں۔۔نا”

وہ روتی ہوئی بولی تو سمن شاہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“آیت بس اب میں تمہیں روتا نہ دیکھوں یہ کیا بات ہوئی بھلا یوں تم روتی رہی تو بچے پر اثر ہو گا ۔۔۔ اور عالم کو انے دو میں اُس سے بات کرتی ہوں میری بیٹی سے آرام سے بات کیا کرے”

سمن شاہ نے اُسے تسلی دی اور کچن میں اُس کے لیے جوس لینے گئیں۔ پیچھے نائلہ شاہ اور بی جان نے اُسے سمبھالا۔

🖤
🖤
🖤

اُسے عروش ابھی کچھ دیر پہلے کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔جبکہ اُس کی زد تھی اُسے اپنے پرانے کمرے میں جانا ہے۔ لیکن نائلہ شاہ نے اُسے ہلکا سا ڈانٹا تھا کے تھوڑی سی بات پر اتنا تماشا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو وہ بھی انسو بہاتی کمرے میں آ گئی تھی۔ بیشک عالم شاہ نے اُسے صرف ایک بات کہی تھی لیکن وہ اُس کا لہجہ سوچ کے دکھی ہو رہی تھی۔ آج تو اُس کی کوئی غلطی نہیں تھی عالم نے یونہی اسے ڈانٹ دیا تھا۔ آیت کو لگا تھا اُس نے آج اُسے اتنی بڑی خوشی دی ہے تو اب وہ اسے کچھ نہیں کہے گا۔

ابھی وہ سوچوں میں گم تھی کہ دروازہ کھلا اور وہ سنجیدہ سا چہرہ لیے اندر داخل ہوا۔ آیت کو ایگنور کیے وہ الماری کی طرف گیا اور اپنی کوئ فائل ڈھونڈنے لگا۔۔ آیت جسے لگا تھا وہ اسے منانے آیا ہے اُس کی حرکت پر بے آواز رونے لگی۔

عالم جانتا تھا اُسے آیت سے یوں بات نہیں کرنی چاہیے تھی وہ بھی اس حالت میں تو ہرگز نہیں۔وہ یہی بات اُسے ارّام سے بھی سمجھا سکتا تھا لیکن اُس نے اپنا غصّہ بھی تو کسی پر نکالنا تھا نا۔

مگر اب آیت کو پھر سے روتا دیکھ وہ فائل كو ترک کرتا اُس کی جانب آیا۔

آہستہ سے اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے اپنے سینے میں بھینچا۔ تو آیت خاموش ہوتی اُسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

عالم نے اُس کی آنکھیں صاف کیں۔

“ایم سوری ۔۔۔۔میں تمہیں ڈانٹنا نہیں چاہتا تھا آیت۔۔بس پتہ نہیں کیوں غصّہ آیا تو تم پر نکال دیا۔۔۔ایم ریلی سوری میری جان”

عالم نے بوجھل لہجے میں کہا تو آیت بھی اُس کی فکر دیکھتی پچھلی بات بھول گئی۔

“اچھا نا اب آپ یوں بھی مت کہیں۔۔۔لیکن آج مجھے بہت برا لگا عالم آپ نے مجھے کیوں ڈانٹا”

آیت کی بات پر عالم نے سنجیدگی سے اُسے خود سے الگ کیا۔

“مجھے یوں زرار کا یہاں رہنا مناسب نہیں لگ رہا۔۔۔جو بھی ہو وہ تمہارے لیئے غیر ہے تو تم اُس کے سامنے ہرگز نہیں جاؤ گی اور اگر جانا بھی پڑا تو چہرہ ڈھانپ کر جانا۔۔۔میں نہیں چاہتا کوئی بھی میری بیوی کو دیکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر یہ بتاؤ میرا بے بی تنگ نہیں کر رہا میری معصوم سے جان کو”

عالم شاہ نے پہلے اُسے سنجیدگی سے سمجھایا لیکن پھر شرارت سے اُس کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ آخری بات کی تو آیت شرما دی۔

“صرف آپ کا نہیں یہ میرا بھی تو بے بی ہے نا”

آیت نے ناراضگی سے منہ پھلا کر کہا تو عالم شاہ کو اس پہ شدت سے پیار آیا۔

“ہمم ہے تو تمہارا بھی لیکن اسے لانے میں محنت تو ساری میں نے کی ہے آیت عالم شاہ۔۔۔تم نے تو بس رونے میں ہی ٹائم ویسٹ کیا ہے”

عالم اُس کی گال پر لب رکھتا بولا تو آیت شرما کر تکیے میں منہ چھپا گئی۔

عالم بھی لیمپ بند کرتا اُس کے پاس لیٹا۔ پاؤں سے کمبل کھینچ کے دونوں پر ٹھیک کیا اور آیت کو اپنی بانہوں میں لیا۔

“ویسے تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو۔۔۔۔جب بھی غصے سے دیکھوں رونا شروع کر دیتی ہو”

عالم نے پیار سے پوچھا۔

“مُجھسے آپ کا غصّہ دیکھا نہیں جاتا مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے بہت۔۔۔آپ غصے میں سب بھول جاتے ہیں اور مجھے اتنا زیادہ ڈانٹتے بھی ہیں”

آیت نے شکوہ کیا تو عالم اُسے مزید خود میں بھینچ گیا۔

“میں صرف تمھارے فائدے کے لیے ڈانٹتا ہوں آیت۔۔۔لیکن اب کوشش کروں گا نہ ڈانٹوں۔۔چلو اب خاموش ہو جاؤ اور مجھے میرا کام کرنے دو”

عالم نے کہتے ساتھ ہی اُس کے لب اپنے لبوں میں لیے اور اپنے ہاتھ اُس کی کمر پے لے جا کر اس کی کرتی کی زپ کھولی۔ آیت نے اُس کے ہاتھ پکڑنا چاہے لیکن وہ اب اس کی شرٹ نیچے کھسکاتا اس کے ملائم جسم پر اپنی شدتیں دکھانے لگا۔ آیت کو تکلیف ہوئی تو اُس نے آنکھیں بھینچ لیں۔

پھر عالم شاہ اپنے کام میں مصروف رہا جبکہ آیت سسکیاں بھرتی مزاحمت کرتی رہی کیونکہ آج بھی عالم شاہ کی قربت میں نرمی کی جگہ شدت تھی۔

🖤
🖤
🖤

آخر شام کے سات بجے عالم نے آیت کو خود سے الگ کیا۔ تو آیت ناراضگی دیکھاتی چہرہ پھیر گئی۔ عالم آنکھیں موند گیا تو آیت بھی سونے کی کوشش کرنے لگی۔

جب عالم کو اُس کی گہری سانسیں محسوس ہوئیں تو اُس نے آنکھیں کھولیں اور آیت کو سیدھا کر کہ لٹایا۔ تبھی اُس کا فون بجنے لگا تو اس نے اٹینڈ کر کے کان سے لگایا۔ ارحم تھا جو اسے زرار کے پہنچ جانے کی اطلاع دے رہا تھا۔ اس نے بات کر کے سیل ایک طرف رکھا اور آیت کے کپڑے اٹھا کر اُسے پہنائے جب اُس کا حلیہ ٹھیک کر لیا تو اُس کا ماتھا چومتا شاور لیتا باہر کی طرف بڑھا۔

وہ لاؤنج میں آیا تو سب زرار سے مل چکے تھے وہ بھی آگے بڑھ کر اُس کے گلے ملا پھر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔

سب ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے۔ زرار نے اُسے آیت کے پریگننٹ ہونے کی مبارک بھی دی۔ زرار آج تک آیت سے نہیں ملا تھا کیونکہ پہلے ہمیشہ سمن شاہ اپنے بچوں کے ساتھ خود ہی اُن کے ہاں جاتی تھیں کبھی وہ یہاں نہیں آئے تھے۔

“اپنی وائف سے نہیں ملواؤ گے مجھے”

وہ مسکرا کر بولا تو عالم شاہ کو غصّہ آیا

“نہیں میں اُسے مردوں سے نہیں ملوایا کرتا۔۔۔اور ویسے بھی تم یہاں کام سے آئے ہو نہ کے کسی سے ملنے ملانے۔۔۔تو بہتر ہوگا کل سے میری ساتھ آفیس چلو اور سب کچھ سمجھ کر اپنے بزنس کو سمبھالو”

عالم سختی سے بولا تو سمن شاہ نے اسے گھورا۔

جبکہ زرار اُس کے لہجے پر خاموش رہا۔

سمن شاہ نے اُسے آرام کرنے اُس کے کمرے میں بھیجا اور عالم بھی کسی کام سے باہر نکل گیا۔

🖤
🖤
🖤

شام کا وقت تھا عروش اپنے کسی کام میں مصروف تھی جبکہ عالم شاہ بھی ابھی تک آفیس سے نہیں لوٹا تھا۔ وo لون میں ننگے پاؤں واک کر رہی تھی کے تبھی سامنے گیٹ سے زرار لون کی طرف آتا دکھائی دیا۔ آیت نے فوراً اپنا چہرہ دوپٹے کے پلو سے ڈھکا اور اُس سے رخ پھیر کر کھڑی ہو گئی۔ زرار کمینگی سے مسکراتا اُس کی طرف آیا۔

“اف یار بھابھی اتنا بھی کیا شرمانا ذرا ادھر تو دیکھیں میں بھی تو دیکھوں عالم شاہ نے کون سا خزانہ لوٹا ہے”

وہ بدتمیزی سے بولا تو آیت پیچھے مڑی اور اندر کی طرف بھاگنے ہی لگی تھی کے زرار نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اُسے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔تو آیت خوف سے پھڑپھڑانے لگی۔

“ارے یار اتنی بھی کیا جلدی ہے دیدار تو کراتی جاؤ”

وہ خباثت سے اُسے دیکھتا بولا۔پھر اچانک اُس کا دوپٹہ کھینچ کر اُس سے الگ کیا تو آیت کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

“ز۔۔زرار بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ پلیز میرا دوپٹہ واپس کریں۔۔۔”

وہ ہمت کرتی بولی جبکہ زرار تو اُس کے خوبصورت چہرے اور سراپے میں کھو چکا تھا۔

“آج سمجھ آیا خالہ جان امی کو کیوں کہتی تھیں عالم کی بیوی بہت خوبصورت ہے”

وہ کہتا اُس کا بازو چھوڑ کے کمر میں ہاتھ ڈالنے ہی لگا تھا کے اندر سے عروش آیت کو پکارتی باہر ائی۔ وہ جلدی سے اُس سے دور ہوا اور دوپٹہ اس کی طرف اچھالا تو آیت نے دوپٹہ لے کر خود پر اوڑھا اور عروش کی طرف بڑھی جو پورچ کی سٹیرز اتر کر لون میں آ رہی تھی۔ آیت نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور اپنی کپکپاہٹ پر قابو پایا۔

“اف آیت تم یہاں تھی اور میں تمہیں ساری حویلی میں ڈھونڈ رہی تھی یہ پکڑو اب ماما کا فون لالہ کب سے کال کر رہے ہیں تم سے کوئ پرسنل بات کرنی ہے شاید”

عروش نے آخری بات اُسے چھیڑتے ہوئے کہی اور مسکراتی ہوئی واپس پلٹ گئی آیت بھی فون تھامتی اُس کے پیچھے بھاگی وہ لاؤنج سے گزر کر اسٹیرز چڑھ ہی رہی تھی کے لاؤنج میں بیٹھی نائلہ شاہ نے اُسے واپس بلایا۔آیت آ کر اُن کے پاس صوفے پر بیٹھی۔

“یہ کیا طریقہ ہے آیت تم کم از کم اپنی حالت کا ہی سوچ لو ۔۔۔کتنی دفعہ کہا ہے کے لڑکیاں اس حال میں نہیں بھاگتیں کوئی بھی نقصان ہی سکتا ہے لیکن تمہیں تو سمجھ ہی نہیں آتی نا ہماری”

وہ سختی سے بولیں تو آیت انسو چھوپاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“سوری ماما میں آئندہ خیال رکھوں گی”

آیت کہہ کے اپنے روم میں ائی اُس نے ابھی فون کی طرف دیکھا ہی تھا کے سکرین پر نظر پڑتے اُس کی جان نکلی۔وہاں چھ منٹ اور کچھ سیکنڈ ہو چکے تھے کال تو اٹینڈ کیے اُسے تو لگا تھا کے عروش نے کہا ہے خود ہی کال کر لو مگر کال تو الریڈی چل رہی تھی۔ آیت نے لبوں پر زبان پھیرتے موبائل کان سے لگایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *