Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 07)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

“اسلام و علیکم”

وہ خود پر ضبط پاتی ہوئی بولی۔ جبکہ دوسری جانب خاموشی ہی قائم تھی۔ آیت کو دل ہی دل میں خوشی ہوئی کہ شاید اِس نے کچھ نہیں سنا۔

مگر اچانک فون میں اِس کی سخت آواز گونجی۔

“کیوں بھاگ رہی تھی تم”

اُس کی تیز آواز پر آیت نے لبوں پر زبان پھیری۔

“میں بس جلدی سے آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھی”

آیت نے جھوٹ گھڑا۔ مگر سامنے بھی عالم شاہ تھا۔ اُس کے لہجے سے ہی اُس کا جھوٹ جان گیا۔

“آیت مجھے سچ بتاؤ۔۔۔کیوں بھاگ رہی تھی تم کسی نے کچھ کہا ہے کیا میری جان کو”

عالم فکرمندی سے بولا۔ پتہ نہیں کیوں آج اُس کا دل آیت کی جانب سے گھبرا رہا تھا۔

“نہیں عالم مجھے کسی نے کیوں کچھ کہنا ہے۔۔۔اور میں سچ ہی بول رہی ہُوں”

اُس کی بات پر عالم نے گہرا سانس بھرا۔ خود کو پرسکون کرنے کے بعد وہ اُس سے مخاطب ہوا۔

“طبیعت کیسی ہے “

آیت اُس کی محبت پر آسودگی سے مسکرائی۔

“بلکل ٹھیک ہوں”

آیت نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا لیکن عالم ابھی بھی مطمئین نہ ہوا۔

“لنچ کیا تھا تم نے”

اب کہ آیت اُس کے سوال پر گڑبگڑائی تھی کیونکہ آج نیند کے باعث وہ دوپہر میں ہی سو گئی تھی تو لنچ مس ہو گیا تھا۔

“نن۔۔نہیں وہ مجھے نیند آ گئی تھی تو لنچ نہیں کر سکی”

عالم اچانک بھڑکا تھا۔

“دماغ سیٹ ہے تمہارا۔۔۔کتنی دفعہ سمجھایا ہے کے کسی بھی ٹائم کا کھانا سکیپ مت کیا کرو۔۔تم جانتی بھی ہو تم اتنی ہیلدی نہیں ہو کے اس حالت میں بغیر کھانے کے سروایو کر سکو۔۔۔پھر کیوں سوئی تم”

عالم کو غُصہ کرتے دیکھ آیت خاموش ہی رہی۔

“اب جاؤ شاباش جا کر کچھ ہلکا پھلکا سا کھا لو میں گھر آ جاؤں گا تھوڑی دیر میں پھر سب مل کر کھانا کھائیں گے”

عالم خود پر قابو پاتا پیار سے بولا تو آیت پھر سے مسکرائی اور اُسے اللہ حافظ بول کے موبائل سائڈ پر رکھا۔

کچھ دیر پہلے کا واقع ذہن میں آیا تو آیت کا دل بھر آیا۔ اُسے یاد آیا کے عالم ہمیشہ کہتا تھا کہ اُسے نہیں پسند کوئی بھی آیت کی طرف دیکھے بھی۔ مگر آج تو ایک غیر محرم نے اسے بغیر دوپٹے کے دیکھا تھا اور اسے غلاظت سے چھوا بھی تھا۔ اُس کی بھوکی نظریں یاد کرتے آیت کو اپنا آپ نہ پاک لگا۔۔۔آیت بے ساختہ گھٹنوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔ کیسے برداشت کرتی وہ یہ تکلیف۔ کسی کو بتانے سے بھی ڈر لگ رہا تھا۔

جبکہ زرار کا بھی ابھی حویلی سے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

آیت نے بمشکل خود کو کنٹرول کیا اور اپنی حالت ٹھیک کرتی باہر ائی۔ کیونکہ اب اُسے بھوک سے چکر آ رہے تھے۔

ابھی وہ کچن کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کے اُس کا جی متلایا۔ وہ تیزی لاؤنج کے پاس بنے واشروم میں بھاگی۔ پیچھے وہ سب اُس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوئیں۔ وہ ابھی الٹی کر کہ باہر آ کر ڈایںنگ پر بیٹھی ہی تھی کے مین دروازے سے عالم شاہ اور زرار لاؤنج میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔

آیت زرار کو دیکھتی منہ چھپا گئی اِس کی حرکت پر عالم شاہ کو خوشی ہوئی۔

چلو آیت نے اس کی کوئ بات تو مانی تھی۔ جبکہ وہیں آیت کی حرکت پر زرار کو کوفت ہوئی تھی۔

عالم سب کو سلام کرتا آیت کے پاس بیٹھا۔ نائلہ شاہ نے ملازماؤں کو کھانا لگانے کا اشارہ کیا تو وہ کھانا لگانے لگیں۔

عالم نے ٹیبل کے نیچے سے آیت کا ہاتھ تھام کر سہلانا شروع کیا تو آیت نے گڑبڑاہ کر سب کی طرف دیکھا مگر کسی کو اپنی طرف متوجہ نہ پا کر اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا مگر عالم نے اُس کا ہاتھ نہیں چھوڑا اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے لگا۔

“کھانا کیوں نہیں کہا رہی تم”

اُسے یونہی بیٹھا دیکھ عالم اُس کی طرف متوجہ ہوتا آہستہ آواز میں بولا۔

“آپ نے ہی تو کہا تھا کہ انہیں چہرہ نہیں دکھانا تو میں کیسے کھاؤں”

آیت نے لہجے میں دنیا جہاں کی مضلوميت سموتے ہوئے کہا۔

عالم نے اُس کے دوپٹے کا ایک پلو اٹھا کر ایک طرف سے چہرے کے سامنے کر دیا اب زرار اُسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔

“اب کھاؤ”

عالم نے کہا تو آیت نے پلیٹ میں تھوڑے سے چاول نکالے مگر اُس نے پہلا چمچ ہی لیا تھا کہ اُسے پھر سے وومٹ ہوئی وہ دوبارہ سے واشروم بھاگی۔

عالم پریشانی سے واشروم کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اُسے ڈاکٹر نے سختی سے کہا تھا کہ آیت کھانا ہرگز سکیپ مت کرے اُس کی پریگنینسی ارلی ایج ہے تو اُسے خیال رکھنا چاہیے۔ اگر اُس نے کھانا سکیپ کیا تو اسے وومٹس ہوتی رہیں گی اور طبیعت سنبھلنے میں بھی وقت لگے گا۔

آیت کو مسلسل بیسن پر جھکے دیکھ سب کھانا چھوڑ چکے تھے۔

“یہ تھوڑی دیر پہلے بھی وومٹ کر کے ائی ہے۔۔ اب دوبارہ سے پھر کر رہی ہے “

سمن شاہ نے عالم کو بتایا تو وہ مزید فکرِمند ہوتا اُس کے پیچھے گیا۔

آیت جو منہ صاف کر کے واپس آ رہی تھی پھر سے چکرائی تو عالم نے اُسے بانہوں میں بھرا۔

“میں اسے روم میں لے جا رہا ہوں آپ کھانا اوپر ہی بھجوا دیں”

عالم نے اُسے اٹھاتے ہوئے کہا تو آیت شرمائی۔

“عالم نیچے اتاریں ناں۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں”

آیت دونوں ہاتھ اُس کے کندھوں پر رکھتی چہرہ اُس کی گردن میں چھپاتی ہوئی بولی مگر عالم شاہ اُسے یونہی لیے اوپر آیا۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں کھانا کھا کر بیڈ کی طرف ائے۔

آیت اب سمبھل گئی تھی۔

وہ دونوں اپنی اپنی جگہ لیٹ گئے تو عالم نے اے سی کی سپیڈ کم کی اور لیمپ آف کر دیا۔

پھر اُس نے خاموش لیٹی آیت کا ہاتھ تھام کر اپنی جانب کیا تو آیت نے اُس کی طرف دیکھا۔

“عالم پلیز آج رہنے دیں ناں۔۔۔”

آیت رونی صورت بنا کر بولی مگر عالم اس معاملے میں اُس کی سنتا کہاں تھا۔

“شش۔۔اب مجھے تمہاری آواز نہ ائے”

عالم اُس کے ماتھے پر لب رکھتا شدت سے بولا تو آیت بھی خاموش ہو گئی۔ دن بہ دن عالم کا جنون اُس کے لیے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

عالم نے اُس کے ہاتھ پیچھے کرتے چہرہ اُس کے سینے میں چھپایا تو آیت شرماتی ہوئی آنکھیں بند کر گئی۔

عالم اُس کے سینے سے ہٹا اور اُس کی گردن پر گہرے سانس چھوڑے جبکہ آیت اُس کی سانسوں کی تپش سے خود کو جھلستا محسوس کرنے لگی۔ جب اُس نے آیت کے ہونٹوں پر کفل لگاتے اپنے دونوں ہاتھ اُس کی شرٹ میں ڈالتے پیٹ پر رکھے تو آیت نے اُس کے ہاتھوں کو اپنے جسم پر حرکت کرتے دیکھ اس کے ہاتھ تھامنا چاہے۔

عالم نے اُس کی مزاحمت پر غصے سے اُس کے لبوں کو اپنے دانتوں میں دبایا اور اُنہیں اپنے ہونٹوں سے جدا کیا تو آیت نے سسکی بھری۔

“آئیندہ میرے سامنے مزاحمت کی تو میں یہ بھی بھول جاؤں گا کے تم میرے بچے کی ماں بننے والی ہو۔۔۔ہمم”

عالم اُس کے کان میں سرگوشی کرتا پھر سے اُس پر جھک آیا تو آیت بھی خاموشی سے اُس کی شدتیں سہنے لگی۔

لیکن پتہ نہیں عالم کی قربت میں ایسا کیا تھا کے کچھ دیر بعد وہ بھی اِس کی قربت کے نشے میں بہکتی اُس کا ساتھ دینے لگی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ماہ بعد ۔۔۔۔۔۔

یونہی آیت کے دن عالم کے ساتھ میں خوبصورتی سے گزرتے چلے گئے۔ اب عالم اُس پر غصّہ بھی کم ہونے لگا تھا کیونکہ آیت اب اُسے ناراض ہونے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی۔

ان دنوں میں صرف ایک خاص بات ہوئی تھی کے عروش کے لیے سمن شاہ کے بھتیجے کا رشتہ آیا تھا۔ حدید نہ صرف اچھی صورت کا مالک تھا بلکہ اُس کا مزاج بھی بہت ٹھہرا ہوا تھا۔

عالم شاہ تو اُس سے پہلے سے ہی واقف تھا اسی لیے مزید جانچ پڑتال نہیں کرنی پڑی۔ عروش سے پوچھا تو اُس نے بھی جیسی آپ کی مرضی کہہ دیا۔ سمن شاہ کو اپنی تربیت پر فخر محسوس ہوا۔ اُنھوں نے سب کی رضامندی سے اپنے بھائی شاہ نواز کو ہاں کہہ دی۔

ابھی وہ لوگ دو دن پہلے ہی منگنی کی رسم ادا کر گئے تھے۔ جبکہ شادی ایک سال بعد کرنے کہ فیصلہ ہوا تھا تاکہ تب تک آیت کی ڈیلیوری بھی ہو جائے تو وہ بھی شادی ٹھیک سے انجوائے کر سکے۔

ہاں البتہ زرار ابھی تک واپس نہیں گیا تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ ایک دفعہ ہی سب کچھ سمجھ کر جائے گا تاکہ پھر دوبارہ نہ آنا پڑے۔

ان دنوں عالم آیت کے ساتھ ہی رہا تھا تو زرار نے بھی آیت سے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی ہاں اُس کی غلیظ نظریں ہی تھیں جو آیت کو برداشت کرنی پڑ رہی تھیں ۔

منگنی کی رات ہی عالم شاہ کسی ضروری کام سے تین دنوں کے لیے کراچی چلا گیا تھا۔

تب سے آیت نائلہ شاہ کے پاس اُن کے روم میں شفٹ ہو گئی تھی کیونکہ سب کا کہنا تھا اس حال میں لڑکیاں اکیلے کمرے میں نہ رہیں۔

آج عالم شاہ کی واپسی تھی تو آیت صبح سے ہی خوشی سے جھومتی پھر رہی تھی۔ عالم نے شام تک ہی پہنچنا تھا تو آیت عصر کے وقت سے ہی اپنے روم میں آ گئی تھی کیونکہ آج اُس کا دل تھا وہ عالم کے لیے اسپیشل تیار ہو تاکہ عالم اُس کی پیش قدمی پر خوش ہو۔

اُس نے الماری کھولی تاکہ کوئی پیارا سا فینسی ڈریس ڈھونڈ سکے لیکن اُسے کوئی بھی ڈریس اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

آخر اُس کی نظر ایک بند پیکٹ پر پڑی تو آیت اُسے بیڈ پر لائی جیسے ہی اُس نے وہ پیکٹ کھولا آیت خوشی سے سرشار ہو گئی۔

اُس پیکٹ میں ایک ڈارک گرین سلک کی سیمپل مگر فینسی ساڑی تھی۔ آیت کو وہ بے حد پسند آئی۔

لیکن جب اُس نے پھر سے پیکٹ میں جھانکا تو اُس میں سے بلاؤز بھی نکالا وہ بلیک کلر کا چھوٹا سا بلاؤز تھا جو بمشکل ہی اُس کے سینے کے ابھار کو ہی کور کر پاتا۔ لیکن اصل خوبصورتی تو تھی ہی اُسی میں کِیُونکہ اُس پر بلیک ہی ستاروں کا کام ہوا تھا۔

آیت نے جلدی سے اٹھ کر سٹیم ائرن سے ساڑی کو پریس کر کے بیڈ پر رکھا اور روم کا دروازہ اندر سے لوک کرتی واشروم کی طرف بڑھ گئی ۔

بیس منٹ بعد وہ آفٹر باتھ گاؤن میں باہر نکلی اور شیشے کے سامنے آئی۔ اُس نے خود کا اچھے سے جائزہ لیا اور پھر شکر ادا کیا کہ ابھی وہ بلکل بھی موٹی نہیں ہوئی تھی آیت مطمئن ہوتی بیڈ سے ساڑی اٹھا کر ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی۔

آج اُس نے پہلی دفعہ ساڑی پہنی تھی مگر وہ کامیاب رہی تھی۔

وہ پھر سے باہر آئی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے ڈرائر اٹھا کر اپنے بال اچھے سے ڈرائے کیے۔ پھر نیچے سے ہلکے لوز کرل کیے اور دو لیٹیں نکال کر باقی بال پیچھے کھلے چھوڑ دیے۔

پھر اُس کی نظر گھڑی پر پڑی جو سات بجا رہی تھی مطلب اُس کے پاس تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ آیت نے جلدی سے لائٹ سا میک اپ کیا اور آخر میں اورنج لپسٹک لگا کر اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیا۔

پھر ایک باریک سی سلور چین گلے میں ڈالی اور سلور ہی ایئر رنگز کانوں میں ڈالے آخر میں وہ دو تین انگوٹھیاں پہنتی اپنی بلیک ہیلز اٹھاتی صوفے پر آ بیٹھی۔ جھک کر سٹریپ بند کیے اور تھکن کے باعث کمر صوفے کی پشت پر ٹیکا لی جبکہ دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھتی مسکرانے لگی۔

“آپ کو پتہ ہے ماما نے بابا کو خوش کرنے کے لئے اتنی محنت کی ہے اب بس میری دعا ہے کہ آپ کے بابا جلدی سے خود ہی روم میں آ جائیں۔۔۔۔پھر ہم تینوں مل کر بہت انجوائے کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آپ تو رات کو ماما کو تنگ کرتے ہو ناں۔۔۔۔ لگتا ہے آپ سے بھی ماما کی طرح بابا کا جنون دیکھا نہیں جاتا تو آپ بھی ماما کے ساتھ روتے ہو ہے ناں۔۔۔۔لیکن آپ پریشان نہ ہو جب آپ ہمارے پاس آ جاؤ گے نا تو ہم دونوں مل کر بابا کو بہت سارا تنگ کیا کریں گے”

آیت معصومیت سے اپنے وجود میں پلتے اپنے بچے سے باتیں کرنے لگی۔

کُچھ دیر بعد آیت کو محسوس ہوا باہر کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُسے لگا عالم ہو گا کیونکہ صرف وہی روم کی ڈپلیکیٹ کی اپنے پاس رکھتا تھا۔

آیت مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تبھی اندر داخل ہونے والے کو دیکھ کر آیت غصے سے آگے بڑھی۔

زرار جو دروازہ اندر سے لوک کرتا پیچھے پلٹا تھا آیت کے ہوش ربا حسن پر نظریں ٹیکا گیا۔جو اس وقت بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔

“زرار بھائی یہ کیا بدتمیزی ہے آپ کو مینرز نہیں ہیں کے کسی کے بیڈ روم میں یوں داخل نہیں ہوتے اور دروازہ کیوں لوک کیا آپ نے ۔۔۔۔ابھی کے ابھی دروازہ کھولیں”

آیت اُس کی ہوس بھری نظریں خود پر گڑھے دیکھ ہمت کرتی ہوئی بولی۔

“میری بلبل لگتا ہے تم بھی خود کو سجا کر میرا ہی اِنتظار کر رہی تھی”

زرار بے شرمی سے کہتا آگے بڑھا تو آیت واشروم کی طرف بھاگی۔

لیکن اس درندے نے اُس کا بازو تھاما اور اسے کھینچ کر بیڈ پر پٹخا۔ تو آیت نے بیڈ سے اُٹھنا چاہا مگر وہ آگے بڑھا اور اس کے دونوں ہاتھ باندھنے کے بعد اُس کے منہ پر بھی پٹی باندھ دی تو آیت اب چیخ بھی نہیں پا رہی تھی۔

وہ گھٹیا انسان تیزی سے بیڈ پر آیا اور بغیر کسی دیر کے آیت کی ساڑی کا پلو کندھے سے کھینچ کر اُتارا تو آیت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ دل ہی دل میں اللہ تعالٰی سے اپنی عزت محفوظ رہنے کی دعا کرنے لگی۔

زرار اب آیت کا شفاف جسم اب اچھے سے دیکھ سکتا تھا اب اُس کے پیٹ پر کوئ کپڑا نہیں تھا بس سینے پر بلاؤز ہی بچھا تھا۔

ابھی اُس نے بلاؤز اتارنے کے لیے پکڑا ہی تھا کہ دھاڑ سے دروازہ کھلا۔

تو زرار تیزی سے بیڈ سے اُترا۔

اُس کی نظر جیسے ہی دروازے پر گئی تو سامنے عالم شاہ سرخ چہرے کے ساتھ آنکھیں میچے کھڑا تھا غصے کی وجہ سے گردن اور بازووں کی رگیں تنی ہوئی تھیں وہ مٹھیاں زور سے بھینچتا زرار کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ آیت پلو کندھے پر ڈالتی بھاگ کر اُس کے سینے سے آ لگی۔ جبکہ اُس کے پیچھے وہ سب کھڑیں اُس کی حالت دیکھ کر پریشان ہوئیں۔

{عالم شاہ کو حویلی ائے پندرہ منٹ ہو گئے تھے وہ سب کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا تھا کے اُس نے آیت کے بارے میں پوچھا تو نائلہ شاہ نے اُس کے کمرے میں ہونے کا بتایا۔ کچھ دیر بعد جب عالم نے زرار کا پوچھا تو سب نے کہا اُنہیں نہیں معلوم تبھی ملازمہ نے آ کر بتایا کے اُس نے زرار کو اوپر جاتے دیکھا ہے۔ عالم کے دماغ میں کھٹکا ہوا کیونکہ زرار کا روم نیچے تھا تو وہ اوپر کیا لینے گیا تھا عالم تیزی سے اوپر کی جانب بھاگا تو وہ سب بھی اس کے پیچھے آئیں۔ عالم نے جب آیت کی سسکیاں سنی تو جلدی سے ڈپلیکیٹ کی نکالی اور دروازہ کھولا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا خون خول اٹھا تھا۔]

آیت بے تحاشہ روتی ہوئی اُس کے سینے سے چپکی کھڑی تھی۔ جبکہ عالم شاہ خون آشام نظروں سے سامنے کھڑے زرار کو گھورتا اُس کی پیٹھ سہلا کر اُسے پر سکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مگر اُسے خاموش ہوتے نہ دیکھ عالم نے اُسے نائلہ شاہ کو تھمایا تو وہ اُن سے لگی مزید تیزی سے رونے لگی۔

اُس کے رونے کی آواز عالم کو مزید غصّہ دلّا رہی تھی وہ لمبے ڈگ بھرتا زرار کے پاس پہنچا اور اُسے کالر سے گھسیٹ کر باہر نکلا۔

عالم نے سيڑيهوں کے پاس لا کر زور دار دھکا دیا ۔۔۔تو وہ بل کھاتا نیچے لاؤنج کے فلور پر جا گرا۔ اُس کے ماتھے اور ناک سے خون نکلنے لگا۔

مگر عالم شاہ طوفان بنا خود بھی نیچے آیا اور اُس پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کر دی۔

“الو کے پٹھے تیری ہمت بھی کیسے ہوئی میری عزت کی طرف آنکھ بھی اٹھانے کی۔۔۔۔۔اب جو تمہارے ساتھ میں کروں گا نہ تیری سات نسلیں یاد رکھیں گی کہ دوسروں کی ماں بہنوں کو کیسے دیکھا جاتا ہے”

عالم شاہ اُسے آخری لات مارتا ہوا چیخا تھا۔ زرار اب ادھ موا ہو چکا تھا۔ مگر عالم شاہ اُسے بازو سے پکڑتا گھسیٹ کر باہر لایا۔

باہر کھڑے ارحم کو اشارہ کر کے پاس بلایا۔

“اِس کی دونوں آنکھیں نکال کر دریا میں بہا دو اور بایاں ہاتھ اور ٹانگ بھی ناکارہ کر دو۔ “

عالم شاہ نفرت سے اُسے دیکھتا ہوا ارحم کو کہتا واپس مڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس نے جیسے ہی اوپر والے پورشن پر قدم رکھا آیت کی چیخیں اس کے کانوں میں پڑیں تو وہ وہیں رک گیا۔

آج پہلی دفعہ عالم شاہ کی آنکھوں میں آنسو ائے تھے عالم نے آستین سے آنکھیں صاف کیں اور اپنے کمرے میں داخل ہوا۔

سامنے ہی آیت بی جان کی گود میں سر رکھے چیخ رہی تھی۔ جبکہ بی جان اُس اور کچھ پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں۔ سمن شاہ بھی شرمندہ سیں بیڈ کے پاس کھڑیں آیت کو تڑپتے دیکھ رہی تھیں اور نائلہ شاہ صوفے اور بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں جبکہ عروش اُنہیں سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔

عالم کو آتا دیکھ آیت تکلیف اور شرمندگی سے آنکھیں بند کر گئی تو عالم بھی پریشان ہوتا بیڈ پر اُس کے پاس آ بیٹھا۔ عالم نے آیت کا سر بی جان کی گود سے اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا اور خود بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔

“بس میری جان یوں رو کر مجھے شرمندہ تو مت کرو”

عالم بے بسی سے اُس کے بال سہلاتا بولا۔ جبکہ آیت ابھی بھی اُس کے سینے سے لگی رو رہی تھی۔

“عا۔۔۔۔عالم۔۔۔اُن۔۔۔انھوں۔۔نے۔۔۔میر۔۔میرے۔۔۔ساتھ۔۔”

ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ عالم نے اُس کی بات کاٹی۔

“کچھ۔۔کچھ بھی نہیں کیا اُس نے تمہارے ساتھ۔۔کچھ بھی نہیں۔ تم اب بھی اتنی ہی پاک ہو جیسے میں تمھیں چھوڑ کر گیا تھا”

عالم شاہ نے محبت سے اُسے سمجھاتے ہوئے خوف سے الگ کیا۔

سمن شاہ تیزی سے اُس کے پاس آئیں۔ جگ سے پانی کا گلاس بھر کر آیت کے لبوں سے لگایا تو آیت کانپتی ہوئی پانی پینے لگی۔

“آیت بچے تمہیں پیٹ یا کمر میں درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔”

بی جان نے خدشے کے تحت سوال کیا تو سب نے آیت کی جانب دیکھا۔ آیت کی کمر واقعی تب سے دکھ رہی تھی جب سے زرار نے اُسے بیڈ پر دھکا دیا تھا اور اُسے اپنا بھاگنا ياد آیا تو بے ساختہ اُس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر گیا۔

“بی۔۔۔بی جان میرا۔میرا بے بی ٹھیک ہو گا ناں “

وہ بی جان کو دیکھتی صدمے سے بولی تو نائلہ شاہ تیزی سے اُس کے پاس آئیں۔

“آیت بتاؤ تو سہی کہیں تکلیف تو نہیں ہے تمہیں” نائلہ شاہ فکرمندی سے بولیں تو آیت نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

اور وہیں عالم کو لگا کسی نے اُس کی روح ضبط کر لی ہو۔

“کہاں درد ہے”

نائلہ شاہ کے سوال پر آیت رونے لگی۔

“ماما میری ۔۔۔ک۔۔کمر۔۔میں۔۔دردہے”

آیت کی بات پر سب خواتین نے ایک دوسرےکو دیکھا۔

“مم۔۔میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں ابھی آپ لوگ پریشان مت ہوں”

عالم شاہ نے ڈاکٹر کا نمبر ملا کر اُسے انے کا کہا اور خود آیت کے پاس آ کر بیٹھا۔

“آیت انشاءاللہ کچھ نہیں ہوا ہوگا میری زندگی۔۔تم تو رونا بند کرو”

عالم نے اُس کے آنسو صاف کیے تو آیت بھی اثبات میں سے ہلاتی خاموش ہو گئی۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکڑ نے آ کر بچے کے ٹھیک ہونے کا بتایا اور آیت کی حالت کی وجہ سے اسے انجکشن لگایا تھا۔ جہاں آیت اپنے بے بی کے ٹھیک ہونے کا سن کر خوش ہوئی تھی وہیں انجکشن کا سن کر پریشان ہوئی تھی مگر عالم نے زبردستی اُسے پکڑ کر انجکشن لگوایا تو آیت تب سے منہ پھلائے بیٹھی تھی۔

اُس نے کھانا کھانے سے بھی انکار کیا تو نائلہ اور سمن شاہ نے اُسے پیار سے سمجھا بجھا کر کھانا کھلا ہی دیا تھا۔

پھر وہ سب بھی اُسے پیار کرتیں اپنے کمروں میں سونے چلی گئیں جبکہ سمن شاہ بیڈ پر اُس کے پاس بیٹھیں۔

“مجھے معاف کر دینا بیٹا۔۔۔مجھے پتہ ہوتا زرار ایسا ہے تو میں کبھی اسے حویلی نہ رہنے دیتی”

سمن شاہ نے آیت سے معافی مانگی تو آیت اٹھ کر اُن کے گلے میں بانہیں ڈال گئی۔

“تائی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کو نہیں پتہ تھا اُن کا۔۔۔بھلا مائیں بھی بیٹیوں سے معافی مانگتی ہیں”

آیت احترام سے بولی تو وہ اُس کی پیشانی چوم کر باہر نکلیں۔

تبھی عالم شاہ صرف بلیک ٹراوزر میں واشروم سے شاور لے کر نکلا۔ آیت اُسے دیکھ کر منہ پھیر گئی تو وہ مسکرا کر اس کے پاس آیا۔

آیت کو لگا وہ اسے منائے گا مگر وہ مسکراہٹ چھپاتا سائڈ ٹیبل سے اُس کی میڈیسن نکالتا پانی کا گلاس لے کر اُس کے سامنے بیٹھا۔

“آپ مجھے مت منائيں اچھا۔۔۔پہلے مجھے انجکشن لگوا لیا ہے اور اب منانے پہنچ گئے ہیں”

آیت بغیر اُسے دیکھے بولی تو عالم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“تمہیں منا بھی کون رہا ہے آیت میں تو بس یہ میڈیسن دے رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔اب جلدی سے یہ کھاؤ پھر مجھے سونا بھی ہے”

عالم شاہ سنجیدگی سے بولا جبکہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ آیت جو بڑی ہواؤں میں اڑ رہی تھی عالم کی اس بات نے اُسے زمین پر آ پٹخا۔ صدمے سے آیت کا منہ ہی کھل گیا مطلب اُس کی اتنی نہ قدری ۔۔۔۔

“ہنہ۔۔۔میں بھی کوئی مری نہیں جا رہی آپ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔اورآپ یہ میڈیسن دینے والا احسان بھی مت کریں مجھ پر میں خود کے سکتی ہُوں”

آیت غصے سے بولی تو عالم نے اُسے سنجیدگی سے گھور کر دیکھا جانتا تھا اس کا گھورنا ہی آیت کے لیئے کافی ہو گا اور ہوا بھی یہی تھا آیت نے خاموشی سے اس کے ہاتھ سے میڈیسن لے کر منہ میں رکھی پھر پانی پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔

“ہمم تو تم مری نہیں جا رہی مجھ سے بات کرنے کے لئے ہے ناں۔۔۔۔۔لیکن میں اپنے دل کا کیا کروں جو تم سے بات کرنے کے لیے ٹرپ رہا ہے”

عالم بیڈ پر ایک طرف لیٹتا ہوا بولا تو آیت بھی اُس کے پاس کھسک آئی۔

“آپ۔۔آپ کو پتہ ہے۔۔میں سپیشل۔۔آپ کے لئے تیار ہوئی تھی آج۔۔۔لیکن سب ۔۔۔سب خراب ہو گیا “

آیت دکھ سے بولی تو عالم نے اُسے خود میں بھینچ لیا۔

“کچھ نہیں ہوتا میری جان ویسے ہی اتنی خوبصورت لگتی ہے مجھے۔۔۔۔۔ تیار نا بھی ہو یہ بندہ پھر بھی آپ پر فدا ہے”

عالم پیار سے کہتا اُس کی کمر سہلانے لگا تو آیت کو کچھ ہی دیر میں نیند آ گئی۔ عالم بھی اُس کی پیشانی پر لب رکھتا آنکھیں موند گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *