Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 03)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

وہ سنجیدگی سے بی جان سے مخاطب ہوا۔ سمن شاہ نے بی جان کی طرف اشارہ کیا کے ابھی رخصتی کی بات مت کریں۔ بچیاں بیٹھی ہیں۔ تو بی جان نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ہاں بچے وہ ہم سوچ رہی ہیں کے تم عروش اور آیت کو شہر لے جاؤ انہیں کچھ خریداری بھی کروا دینا اور گھوما پھرا بھی دینا بچیاں سارا دن گھر میں اُداس سی رہتی ہیں باہر نکلیں گی تو ذہن فریش ہوں گے انکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر تمہیں بہتر لگے تو۔۔۔۔۔ انہیں موبائل فون بھی لے کر دے دو چلو ان کے دل بہل جائیں گے”

بی جان نے آخری بات کہہ تو دی تھی لیکن اب اُس کے تاثرات دیکھ رہی تھیں۔ جبکہ آیت اور عروش تو مانو ہواؤں میں اڑنے لگی تھیں۔ مطلب اُن کی بی جان میں اُن کے لیے اتنا سوچا۔۔۔۔لیکن اب وہ دونوں بھی عالم شاہ کو دیکھ رہی تھیں کو وہ کیا کہتا ہے۔۔۔کیونکہ ہونا تو وہی تھا جو وہ کہتا۔

“بی جان آپ جانتی ہیں نا پہلے ہی میں بہت مصروف ہوں آفس بھی سنبھالنا ھوتا ہے اور ساتھ ساتھ ایلکشن کی تیاریاں بھی چل رہی ہیں تو ابھی اس معاملے میں،میں کچھ نہیں کر سکتا اور اگر انہیں کچھ ضروری چاہیے بھی تو مجھے لسٹ بنا دیں میں منگوا دوں گا لیکن ایسے حالات میں ان کا باہر جانا مجھے ٹھیک نہیں لگتا۔۔۔اور جہاں تک بات ہے موبائل فون کی تو وہ بھی انہیں نہیں مل سکتے۔۔۔ یوں کنواری لڑکیاں کے پاس موبائل فون ہونا مناسب نہیں لگتا”

وہ انتہائی سنجیدگی سے بولا تو بی جان بھی خاموش ہو گئیں۔ جبکہ اُن دونوں کے منہ ہی لٹک گئے تھے۔ مطلب اتنی نہ انصافی۔

“دیکھ لیا تم نے اپنے جلاد لالہ کو۔۔۔۔۔ہنہ۔۔۔کتنے ظالم ہیں ہمیں تو تقریباً قید ہی کر رکھا ہے”

آیت نے منہ بنا کر عروش کے کان میں سرگوشی کی تو اس نے گھور کے اِسے دیکھا۔

“تو تمہاری اندر کی بیوی مر گئی ہے کیا۔۔۔جا کر احتجاج کرو کہ بھئی ہم بھی انسان ہیں۔۔۔۔۔۔بلکہ تم کیا کرو گی۔۔۔۔۔ابھی دیکھو میرا کمال”

عروش نے چٹکی بجائی اور اٹھ کے عالم کے ساتھ صوفے پر جا بیٹھی۔ اپنے دونوں بازو اس کے بائیں بازو پر لپیٹ کر لاڈ سے اُس کی طرف دیکھا۔ تو عالم شاہ نے پیار سے اُس کے بالوں پر لب رکھے۔

“لالہ دیکھیں پلیز بیشک سیل نہ لے دیں لیکن ہمیں شاپنگ پر تو آپ لے جا سکتے ہیں نا یاد کریں لاسٹ ٹائم ہم پورے دو سال پہلے گئیں تھیں شاپنگ پر آپ کے ساتھ، اتنا ٹائم ہو گیا ہے، ہم نے کبھی آپ سے کوئی ضد نہیں کی تو پلیز پلیز ہمیں لے جائیں نا دیکھیں ہم گارڈز کو ساتھ لے جائیں گے اور اللہ خیر کرے گا کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔دیکھیں لالہ مان جائیں نا “

عروش نے اتنے لاڈ سے کہا تو عالم شاہ نے اثبات میں سر ہلایا اور عروش کے گرد باہیں پھیلاتے اسے خود سے لگا لیا۔

“ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں کل پرسو تک چلیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بی جان آپ نے کچھ اور بھی کہنا ہے یہ میں اب چلوں”

وہ پیار سے کہتا کوٹ اٹھا کر اٹھ کھڑا ہوا اور بی جان کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔ تو اُنھوں نے کچھ سوچ کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

عالم شاہ کے کمرے سے باہر جاتے ہی آیت بھاگ کر عروش کے پاس ائی اور اُس کے گلے لگ گئی۔

“واہ عروش یار آج میں تمہیں سچ میں مان گئی۔۔۔۔ اب چلو جا کر کل کے لیے لسٹ بناتے ہیں کے کیا کیا لینا ہے”

آیت نے پر جوشی سے کہا تو عروش بھی اُس کے ساتھ جھومتی باہر نکلی۔

پیچھے وہ تینوں ان کے بچپنے پر مسکرا دیں۔ بی جان اُنہیں ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دیتیں وضو کے لیے اٹھ گئیں تو نائلہ اور سمن شاہ بھی رات کا کھانا دیکھنے کچن کی طرف بڑھیں۔۔۔۔

🖤
🖤
🖤

“چلو آیت مردان خانے سے لالہ کو بلا لاتی ہیں، اُنھوں نے کہا تھا چھ بجے جائیں گے، چھ تو بج گئے ہیں لگتا ہے لالہ مہمانوں میں بزی ہیں تو بھول ہی نہ گئے ہوں”

عروش نے اپنے ہینڈ بیگ میں ٹشو رول رکھتے ہوۓ زپ بند کی اور اُسے لاؤنج کے صوفے پر ہی رکھ کر آیت سے بولی۔

آیت جو گہری سوچ میں گم تھی اُس کی بات پر حیرانگی سے اُس کی طرف دیکھا۔

“تم پاگل تو نہیں ہو۔۔۔۔جانتی نہیں ہو اپنے لالہ کو اُنھوں نے سختی سے منع کیا ہوا ہے کے مردان خانے میں کوئی عورت بھی قدم نہ رکھے بیشک کوئی ملازمہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہن میرا تو اس ٹائم ڈانٹ کھانے کا کوئ ارادہ نہیں ہے ہاں اگر تمہارا ارادہ ہے تو، یو کین گو”

آیت نے سہولت سے انکار کیا اور اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگی کہ عروش نے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے روکا۔

“آیت یار کچھ نہیں ہوتا نہ ہم کسی ملازم کو بول کر لالہ کو بلا لیں گی خود کمرے میں داخل نہیں ہوں گی تو لالہ نہیں دانٹیں گے۔۔۔۔۔اب دیکھو ٹائم چھ سے اوپر ہو رہا ہے یہ نہ ہو لالہ لے بھی نہ جائیں اور کل یا پرسو تو ویسے بھی اُنھوں نے پانچ دنوں کے لیے اسلاماباد جانا ہے تو پھر شاپنگ پر جانے کہا موقع نہیں ملنا۔۔۔اب چلو بھی”

عروش نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تو دونوں مردان خانے کی طرف بڑھیں۔

ابھی وہ مردان خانے کے لاؤنج میں داخل ہوئی تھیں کے سارے ملازم اُنہیں دیکھ نظریں جھکا گئے۔ عروش نے آگے بڑھ کر ایک ملازم کو عالم شاہ کو بلانے بھیجا۔

ابھی ملازم کو گئے دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کے ملازم کی بجائے عالم شاہ آندھی طوفان بنا ایک کمرے سے نمودار ہوا۔ اُن دونوں کو یوں صرف دوپٹوں میں مردان خانے میں پایا تو ملازمین کو وہاں سے جانے کو کہا اور خود شعلہ اُگلتی نظروں سے اُن دونوں کو دیکھنے لگا۔۔۔ آیت تو اُسے یوں دیکھ کر پیچھے ہو گئی۔

“تم دونوں بچیاں ہو کیا کہ ہر بات سمجھانی پڑے گی تم لوگوں کو ، یہ سارا دن جو اچھلتی رہتی ہو نہ یہ اب چھوڑ دو اور دونوں تائی اور ماما کا ہاتھ بٹایا کرو اب کوئی چھوٹی بچیاں نہیں رہی تم لوگ ۔۔۔۔۔ اور آج کے بعد مجھے تم دونوں مردان خانے کے قریب بھی نظر آئیں نہ تو جان لے لوں گا دونوں کی سمجھیں “

عالم شاہ کی دھاڑ پر آیت تو تقریباً عروش کے پیچھے چھپ گئی جبکہ عروش خود اپنے لالہ کو اس قدر غصے میں دیکھ کانپ کر رہ گئی ۔

“و۔۔۔وہ۔۔لالہ۔۔۔ہم۔تو بس۔۔۔۔۔۔آپ۔۔کو۔۔ب۔۔۔۔بلانے۔۔ا۔آئیں۔۔۔تھیں۔و۔۔وہ”

آخر عروش ہی ہمت کرتی کانپتے ہوۓ بولی ۔۔۔

“ملازم مر گئے تھے جو مجھے بلانے تم دونوں ہی آن پہنچی ہو “

اس دفعہ وہ عروش کے پیچھے چھپی اُس نازک جان کو گھورتا ہوا بولا تھا۔ جو اُس کی نظریں خود پر محسوس کر کے مرنے والی ہو گئی تھی جبکہ اتنی دیر سے ضبط کیے ہوئے آنسو گلابی نرم و ملائم رخساروں پر بہ نکلے تھے ۔

اُس کی حالت غیر ہوتے دیکھ عالم شاہ نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کیونکہ جانتا تھا کے وہ جو اُس کی سخت نظریں برداشت نہیں کر سکتی تھی یہ لہجہ کیسے برداشت کرتی۔۔۔

“اچھا فلہال تم دونوں جاؤ میں تھوڑی دیر تک آ رہا ہوں اور آئندہ خیال رکھنا۔۔۔۔ہممم۔؟”

وہ اس بار کچھ نرم آواز میں مخاطب ہوا تو عروش نے سر ہلایا اور دونوں واپس زنان خانے کی طرف چل پڑیں۔۔۔

عالم شاہ تو اُن کی حرکت پر بلبلا کر رہ گیا تھا۔ کیسے وہ اس کے اتنا منع کرنے کے باوجود بھی مردان خانے میں آ گئی تھیں۔ لیکِن فلحال اُس نے اپنا غصّہ دبا لیا تھا کیونکہ ابھی وہ اُنہیں یہاں سے بھیجنا چاہتا تھا اسی لیے تھوڑا سا ڈانٹ کر بھگا دیا۔ اس وقت مردان خانے میں اُس کے کئی خاص مہمان ائے ہوئے تھے تو اُن کا سوچتے وہ اپنے غصے پر قابو پاتا دوبارہ اندر کی طرف بڑھا۔

🖤
🖤
🖤

“آیت خدا کا نام لو یار پلیز چپ کر جاؤ ماما مجھے ہی ڈانٹیں گی”

وہ دونوں وہاں سے سیدھا زنان خانے کی پچھلی طرف بنے لون میں آئیں تھیں اور آیت عالم شاہ کے غصے کو یاد کرتے روئے جا رہی تھی۔ جبکہ عروش کو ٹینشن تھی کے جب عالم شاہ بی جان لوگوں کو بتائے گا تو اِن دونوں کی تو خیر نہیں۔ وہ جانتی تھی حویلی آ کر عالم شاہ نے ان پر غصے سے پھٹنا تھا۔ لیکِن وہ ہمت سے کام لے رہی تھی اور تقریباً دس منٹ سے روتی آیت کو تسلی کروا رہی تھی۔ جب آیت کے چپ ہونے کے کوئی اثرات نظر نہ آئے تو بے بسی سے بولی۔ آیت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“مم۔۔۔میں نے کہا تھا نا ت۔۔۔تمہیں کّک۔۔۔۔کے نہیں جاتے تم میری بات مان لیتی ت۔۔۔۔تو اب یہ نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔اُنھوں نے کتنا ڈانٹا ہے مجھے اور اب پھر سے ڈ۔ڈا۔۔۔ڈانٹیں گے”

آیت پھر سے روتی ہوئی بولی تو عروش نے اس کے آنسو صاف کیے اور اُس کی طرف دیکھا۔

“اچھا یار پتہ ہے غلطی میری ہے، اب اٹھو چلیں حویلی یہ نہ ہو لالہ آ چکے ہوں”

عروش نے منت بھرے لہجے میں کہا تو آیت بھی کرسی چھوڑ کر اٹھ گئی اور دونوں اندر داخل ہوئیں۔ جہاں لاؤنج میں سب موجود تھے جبکہ عالم شاہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا۔

“اگر آپ لوگوں سے یہ نہیں سمبھلتیں تو مجھے کہیں میں ابھی ان کا بندوبست کرتا ہوں۔۔۔۔۔اب گئی کہاں ہیں یہ دونوں ؟”

ابھی وہ غصے سے غرا رہا تھا کے ان کو اندر اتے دیکھ مزید بھڑکا۔ آیت تو بھاگ کر سمن شاہ میں چھپنے والی ہو گئی۔ جبکہ عروش بھی خاموشی سے نائلہ شاہ کے پہلو میں نظریں جھکا کر کھڑی ہو گئی۔۔ کیونکہ اس وقت بی جان کے نزدیک جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اُن کے چہرے سے ہی لگ رہا تھا وہ بھی عالم شاہ جتنی بھڑکی بیٹھی ہیں۔

“یہاں آو دونوں فوراً”

عالم شاہ بولا نہیں چیخا تھا۔ عروش نے ایک نظر آیت کو دیکھا جو کانپتی ہوئی سمن شاہ کے سینے میں چھپی بیٹھی تھی۔ عروش نے مدد طلب نظروں سے نائلہ شاہ کو دیکھا تو اُنھوں نے ایک نظر بی جان پر ڈالی پھر عالم شاہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“عالم بیٹا معاف کر دو بچیوں کو دیکھو یہ شرمندہ ہیں۔۔۔۔۔اور ہم سمجھایں گی انہیں آئندہ یہ ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گی”

نائلہ شاہ نے عالم کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا تو عالم شاہ نے ایک سخت نظر روتی ہوئی آیت اور ڈالی۔۔۔سمن شاہ جب سے اُسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ بس روئے جا رہی تھی۔ عالم نے اُس کا خود سے اتنا ڈرنا محسوس کر کے اتنے غصے میں بھی مسکراہٹ دبائی۔پھر سنجیدگی سے نائلہ شاہ کی طرف دیکھا۔

“چچی آپ لوگ کیا سمجھائیں گی انہیں جب ان کے پاس دماغ ہیں ہی نہیں۔۔۔۔۔جب میں نے کہا تھا کے میں لے جاؤں گا شاپنگ پر تو ان کا مجھے بلانے وہاں پہنچ جانے کا مقصد؟…..انہیں ایک دفعہ کی کہی بات سمجھ نہیں آتی نا۔۔۔کہ مردان خانے تک ہی پہنچ گئیں۔۔۔۔کیا نام ہے اُس جگہ کا مردان خانہ مطلب مردوں کی جگہ وہاں یہ کیا سوچ کر ائی تھیں۔۔۔وہ بھی بغیر چہرہ چھپائے بغیر کسی چادر کے میرا تو سوچ کر ہی خون کھول رہا ہے کے سب ملازمین نے انہیں دیکھا ہو گا۔۔۔۔”

عالم شاہ کو پھر سے غصّہ ہوتے دیکھ عروش کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ تو بی جان کو ہی اُن پر رحم آیا۔

“اچھا عالم بس کرو بچے اب آئندہ یہ خیال رکھیں گی۔۔۔ہممم”

بی جان نے عالم شاہ سے کہا تو اُس نے بھی دونوں کی حالت کے پیش نظر خود کو کنٹرول کیا۔ سمن شاہ کے اشارے پر ملازمہ اُس کے لیے پانی کا گلاس لے ائی تو اُس نے دو گھونٹ بھر کر واپس ملازمہ کو پکڑا دیا۔۔۔ تو سمن شاہ نے وہی گلاس ملازمہ سے لے کر روتی بلکتی آیت کے منھ سے لگایا تو عالم شاہ کو سکون سا ملا۔۔۔

پھر عالم شاہ نے آگے آ کر عروش کو خود سے لگایا جو پہلی دفعہ یوں رو رہی تھی۔ جو بھی تھا اُس کو اپنی بہن بہت پیاری تھی اُس کی آنکھوں میں آنسو تو وہ برداشت کر ہی نہیں سکتا تھا۔ عالم شاہ نے اُس کے آنسو صاف کیے۔

“اچھا بس میری جان چپ کرو اب اور اگر شاپنگ پر جانا ہے تو بھاگ کے چادریں لے آؤ”

عالم شاہ نے محبت سے کہا تو عروش بھی آنسو صاف کر کے مسکرانے لگی اور شاپنگ کا سن کر اوپر چادریں لینے بھاگی۔ تو سب اُس کی سپیڈ پر مسکرا دیے۔

پھر عالم شاہ کے اشارہ کرنے پر نائلہ شاہ آیت کی طرف بڑھیں جس نے رونا تو بند کر دیا تھا مگر ہچکیاں اور کپکپاہٹ ابھی تک جاری تھی۔ یہی نزاکت تو نائلہ شاہ کو پریشان کرتی تھی۔

“آیت میری گڑیا جاؤ چہرے کو اچھے سے دھو کر آؤ پھر شہر کر لیے نکلو بیٹا اب کافی وقت ہو گیا ہے تو واپسی پر زیادہ رات نہ ہو جائے پھر یونہی مشکل ہو گی”

نائلہ شاہ نے پیار سے اُس کے بال سمیٹتے ہوئے کہا تو وہ جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ ایک نظر اٹھا کر عالم شاہ کو دیکھا جو اب لا تعلق سا اپنے سیل میں مصروف کھڑا تھا اور پھر سنجیدگی سے نائلہ شاہ کی طرف دیکھا۔

“نہیں ماما جان۔۔۔۔مم۔۔۔مجھے نہیں ج۔۔۔جانا کہیں بھی۔۔۔”

اُس کی بات پر سمن شاہ نے اُس کی طرف دیکھا۔

“آیت اٹھو بیٹا بس اب۔۔۔۔۔حالت دیکھو اپنی کیا بنا لی ہے آپ نے۔۔۔باہر جاؤ گی تو فریش ہو جاؤ گی بچے۔۔۔۔۔جلدی سے چہرہ درست کر کے آؤ اپنا”

سمن شاہ نے پیار سے اُسے سمجھایا۔

“نہیں تائی مجھے کہیں نہیں جانا میں بہت تھک گئی ہوں اب کچھ دیر روم میں ریسٹ کروں گی آپ عروش کو بھیج دیں ان کے ساتھ”

وہ اپنی بات کہہ کر اٹھی اور سیریہوں کی جانب جانے کے لیے عالم شاہ کے پاس سے گزرنے ہی لگی تھی کے عالم شاہ نے اُس کی کلائی زور سے پکڑی۔

وہ جو کب سے اس کے بار بار انکار کرنے پر اپنی غصے کو قابو کیے کھڑا تھا۔ اُس کی بد لحازی پر اچانک غصے میں آیا۔

“یہ کیا بد تمیزی ہے ہاں ؟ سمجھ نہیں آ رہی ماما اور چچی کیا کہہ رہی ہیں ؟ چپ چاپ چادر پکڑو اور چلو میرے ساتھ”

وہ سختی سے بولا اور سامنے سے اتی عروش کے ہاتھ سے ایک چادر تھام کر اُس کی جانب بڑھائی تو آیت کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگیں۔ اس نے نم آنکھوں سے نائلہ شاہ کو دیکھا جو خود عالم شاہ کے غصّہ ہونے پر پریشان تھیں لیکِن خاموش کھڑی تھیں۔

“مم۔۔۔مجھے نہیں آنا”

وہ پھر سے ڈھٹائی سے بولی تو عالم شاہ اُس کی ہٹ دھرمی پر مزید تیش میں آیا۔

“مجھے سختی پر مجبور مت کرو اور چپ چاپ یہ چادر اوڑهو “

وہ اپنی گرفت مزید سخت کرتا ہوا بولا تو آیت کو لگا اس کی کلائی ٹوٹ جائے گی۔

آیت نے بغیر کسی کے جانب دیکھے چادر پکڑی اور اچھے سے اپنے گرد اُوڑھی۔

عالم شاہ عروش کو اُسے لانے کا اشارہ کرتے خود باہر پورچ کی طرف چلا گیا۔ تو وہ دونوں بھی اُس کی پیروی میں لاؤنج سے نکلیں۔۔۔

“پتہ نہیں آیت کو کیا ہو گیا ہے پہلے تو وہ کبھی ایسے ناراض نہیں ہوئی”

بی جان نے نائلہ شاہ اور سمن شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“آج آیت بہت زیادہ ہی دکھی ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ ہے ہی اتنی نازک کہاں برداشت کر سکتی ہے کسی کی سختی، عالم کو بھی تو ایسا غصّہ آیا ہوا تھا کے ایک دفعہ تو میں بھی ڈر گئی تھی “

سمن شاہ نے سنجیدگی سے کہا تو بی جان نے سر ہلایا اور وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *