Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Zindagi (Episode 05)

Meri Zindagi by Ayat Fatima

“لالہ مزید کتنا وقت لگے گا حویلی پہنچنے میں”

عروش یہ سوال کوئی ہزارویں دفعہ پوچھ رہی تھی۔ کیا کرتی سب کی یاد ہی اتنا ستا رہی تھی۔ عالم شاہ اُس کی بے صبری پر مسکرا دیا۔

“بس پندرہ منٹ لگیں گے اور پھر ہم حویلی ہوں گے”

عالم شاہ نے محبت سے چور لہجے میں کہا اور پھر بیک ویو مرر سے پیچھے بیٹھی آیت کو دیکھا جو سنجیدگی سے ونڈو کے پار دیکھ رہی تھی۔ صبح جب وہ روم سے باہر ائی تھی تو اُس کی سوجی آنکھیں دیکھ کر عروش نے بہت سوال کیے تھے جن کے جواب میں اُس نے بس اتنا کہا تھا کہ نئی جگہ ہونے کی وجہ سے وہ سہی سے نیند نہیں لے سکی تو عالم شاہ نے اُسے تنگ کرتے ہوئے کہا تھا کے پکا اسی وجہ سے نیند نہیں ائی نہ۔۔۔تو اُس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو بھرتے دیکھ عالم شاہ نے بات بدل دی تھی۔ صبح سے ہی اُس کی طبیعت کافی خراب ہو رہی تھی۔ سر میں درد سا تھا اور جسم بھی تکلیفوں سے چور چور تھا۔ بات بات پر رونا آ رہا تھا۔

عالم شاہ نے اُسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بات کی تو اُس نے انکار کر دیا کے وہ بس جلدی سے حویلی پہنچنا چاہتی ہے۔ عالم شاہ بھی اُس کی طبیعت کے پیش نظر خاموش ہو گیا۔

پھر وہ لوگ جب گاڑی کے قریب آئے تو اُس نے کہا کے وہ پیچھے بیٹھے گی تو عروش ہی آگے بیٹھ گئی تھی۔

عالم نے گاڑی حویلی کے پورچ میں روکی تو وہ دونوں جلدی سے اندر بھاگ گئیں۔ عالم شاہ بھی ملازمہ کو گاڑی سے سامان نکال کر اندر لانے کا حکم دیتا اندر کی طرف بڑھا۔

بی جان اس وقت صوفے پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھیں اور صبح جب سے عالم نے نائلہ اور سمن شاہ کو بتایا تھا کے وہ لوگ آ رہے ہیں تو وہ دونوں تب سے کچن میں اُن کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا رہی تھیں۔

وہ دونوں بھاگ کر بی جان کے گلے لگیں تو اُنھوں نے دونوں کو پیار کیا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ تبھی عالم شاہ بھی آ کر اُن سے ملا اور دوسرے صوفے پر ٹک گیا وہ اس وقت سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا ساتھ شانوں پر بدامی شال اوڑھ رکھی تھی۔وہ آج پہلے کی نسبت زیادہ نکھرا ہوا لگ رہا تھا بی جان نے بے ساختہ ماشاللہ کہا کے اسے اُن کی نظر ہی نہ لگ جائے۔

“بی جان ماما جان اور تائی جان کہاں ہیں ؟”

آیت نے پوچّھا تو بی جان نے کچن کی طرف اشارہ کیا۔ ابھی وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کے وہ دونوں مسکراتی ہوئی ان کے پاس آئیں اور باری باری تینوں کو پیار کیا۔

آیت تو نائلہ شاہ کے گلے لگتے ہی رونے لگی۔ کیا کرتی دکھ تھا کے ختم ہی نہیں ہو رہا تھا ماں کا لمس ملتے ہی وہ اپنا غم ہلکا کرنے لگی۔ سمن شاہ، عروش اور بی جان بھی تیزی سے اُس کی جانب بڑھیں۔عالم شاہ بھی اُس کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ وہ رو رو کر اب بلکل بیہوش ہونے والی ہو گئی تھی۔

“آیت کیا ہو گیا ہے تمہیں میری جان کیوں روئے جا رہی ہو بتاؤ تو سہی میرا بچا”

نائلہ شاہ اسکی پیٹھ سہلاتی بولیں۔ جبکہ عروش بھاگ کر اُس کے لیے پانی لائی، ابھی سمن شاہ نے گلاس اُس کے لبوں سے لگایا ہی تھا کے وہ ہوش و حواس کھوتی نائلہ شاہ کی باہوں میں جھول گئی۔ عالم شاہ نے اُسے بیہوش ہوتا دیکھ آگے بڑھ کر اسے نائلہ شاہ سے لیا اور اپنی بانہوں میں اٹھا کر اوپر کی جانب بڑھا۔ وہ سب بھی اُس کے پیچھے بھاگیں ۔

عالم شاہ نے اُس کے کمرے میں آ کر اُسے بیڈ پر لٹایا اور اُس پر کمبل ڈال کر پیچھے ہوا۔

“میں ڈرائیور کو بھیجتا ہوں ڈاکٹر کو بلانے آپ لوگ پریشان نا ہوں یونہی کمزوری کی وجہ سے بیہوش ہو گئی ہوگی”

وہ اُنہیں تسلی دیتا نیچے چلا گیا۔

نائلہ شاہ آیت کی طرف دیکھ کر پریشانی سے اُس کے پاس جا بیٹھیں۔

“پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے میری بچی کو کچھ دن پہلے تو ٹھیک ٹھاک تھی”

نائلہ شاہ اُس کے ہاتھ سہلاتی بولیں۔

“مجھے تو لگتا ہے اسے ایچ بی کی کمی ہو گئی ہے، ڈھنگ سے کھانا تو کھاتی ہے نہیں ۔۔اسی لیے کمزوری کی وجہ سے کچھ دونوں سے روئے جا رہی ہے عالم سے کہتی ہوں ڈاکٹر سے اس کی ایچ بی چیک کروائے۔۔۔۔کیسا کھلتا ہوا گلاب تھی اور اب دیکھو مرجھا گئی ہے “

سمن شاہ بھی فکر سے بولیں۔

عالم کمرے میں داخل ہوا اور اُن اب کو باہر جانے کا اشارہ کیا کیونکہ قریبی ڈاکٹر پہنچ چکا تھا۔ وہ سب باہر نکلیں تو عالم نے اگے بڑھ کے اُس کا چہرہ بھی کمبل سے چھپا دیا۔ پھر ڈاکٹر کو اندر بلایا۔ ڈاکٹر نے آ کر اُس کی نبض چیک کی پھر عالم کی طرف دیکھا اور پھر اُسے صحیح سے چیک کرنے کے بعد عالم سے مخاطب ہوئے۔

“مسٹر عالم شاہ انہیں اور کچھ نہیں ہے بس کوئی پریشانی لی ہی انہوں نے آپ بس انہیں پریشانیوں سے دور رکھیں اور اُنہیں کافی کمزوری بھی ہے تو کھانے پینے کا خیال رکھیں میں بس ایک ڈرپ لکھ دیتا ہوں آپ وہ منگوا کر میرے ہاسپٹل آ کر لگوا لیجئے گا اُس سے اُنہیں طاقت ملے گی ، بس اور کسی دوا کی ضرورت نہیں ہے”

ڈاکٹر نے عالم شاہ کو سہولت سے سمجھایا اور ایک پیپر پر ڈرپ کا نام لکھ کے باہر کی جانب چلے گئے۔ عالم شاہ اپنی وجہ سے اُس کی یہ حالت دیکھ کر تھوڑا فکرمند ہوا لیکن پھر یہ سوچ کے مطمئین ہو گیا کے وہ اس کی بیوی ہے وo جو چاہے اُس کے ساتھ کر سکتا ہے۔

🖤
🖤
🖤

آج صبح سے ہی عالم کو کچھ ضروری کام تھے اور شام میں اسے اسلاماباد کے لیے بھی نکلنا تھا۔ آیت کو رات کو ہوش آیا تھا لیکن عالم شاہ اُس کے سامنے نہیں گیا تھا۔ نائلہ شاہ تو اب اسی کے کمرے میں شفٹ ہو گئی تھیں کیونکہ رات کو وہ بہت ڈر گئی تھی۔ عالم سب عورتوں سے کہہ کر گیا تھا کے کچھ دیر تک وہ واپس آ کر آیت کو ہسپتال ڈرپ لگوانے لے جائے گا۔

تب سے وہ چاروں اُسے سمجھانے میں لگی تھیں۔لیکن اسے بچپن سے انجکشن وغیرا سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اب بھی وہ اپنی زد پر اٹکی تھی کے وہ اچھے سے کھائے پیئے گی تو خود ہی ٹھیک ہو جائے گی لیکن وہ ڈرپ نہیں لگوائے گی۔

“آیت بیٹا کچھ بھی نہیں ہوتا باریک سے سوئی ہوتی ہے چندہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلنا اور برنولہ لگ بھی جانا ہے”

سمن شاہ نے اُسے پیار سے بہلاتے ہوئے کہا۔ لیکن اُس نے ایک ہی رٹ لگائی تھی کہ نہیں تو بس نہیں۔

“اوکے ماما آپ لوگ اسے کچھ مت کہیں لالہ کو آ لینے دیں ذرا وہ خود اس کا دماغ ٹھکانے لگائیں گے”

عروش نے تنگ آ کر کہا تو آیت پھر سے بی جان کی گود میں منہ چھپا گئی۔

“بی جان پلیز آپ اُنہیں روکیں گی نا”

آیت نے ہے بسی اور معصومیت سے کہا تو بی جان نے اُس کے بالوں پر پیار کیا۔

“بیٹا ایک ڈرپ ہی ہے نہ کچھ نہیں ہوتا لگوا لو۔ آپ کے فائدے کے لیے ہی لگوا رہے ہیں۔۔۔۔حالت دیکھو ذرا اپنی کتنی کمزور ہو گئی ہو بستر سے تو اٹھا نہیں جا رہا تم سے”

بی جان نے بھی اُسے ہی سمجھایا تو وہ پھر سے دکھی ہو گئی۔

“بیگم صاحبہ عالم صاحب آ گئے ہیں اور وہ پورچ میں آیت بی بی کو بلا رہے تھے”

ملازمہ نے آ کر پیغام دیا تو آیت کو لگا کے اب اُس کا بچنا ممکن نہیں ہے۔

“آیت اٹھو چادر لو اور جاؤ میری جان عالم انتظار کر رہا ہوگا پھر یونہی غُصّہ ہو جائے گا”

نائلہ شاہ نے کہتے ساتھ ہی اُسے سہارا دے کر اٹھایا۔ جبکہ سمن شاہ نے اُس کی الماری سے سیاہ کڑھائی والی چادر نکال کر اسے اچھے سے آیت کے گرد لپیٹ دیا۔

آیت بھی آنسو پیتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔

گاڑی کے پاس آ کر نائلہ شاہ نے اُسے فرنٹ سیٹ پر عالم کے ساتھ بیٹھایا اور خود واپس مڑ گئیں۔

عالم نے بھی خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کی اور حویلی کا گیٹ پار کر گیا۔ہسپتال حویلی سے صرف پندرہ منٹ کی دوری پر ہی تھا۔

سارا رستہ آیت خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔۔۔عالم بھی اُسے ایگنور کرتا رہا کیونکہ اگر وہ زیادہ توجہ دیتا تو پھر وہ مزید زدی ہو جاتی۔

عالم نے گاڑی ہسپتال کے باہر روکی۔ پھر اُس کی جانب رخ کیا Iور اُس کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں پوچھیں۔

خوف کی وجہ سے آیت کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ عالم شاہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا پھر اُس کی طرف کا دروازہ کھول کر اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اُسے سہارا دے کر باہر نکالا۔ آیت خاموشی سے اُس کے ساتھ چلنے لگی۔

جیسے ہی ڈاکٹر کو پتہ چلا عالم شاہ آیا ہے تو اُنھوں نے فوراً اُسے اپنے روم میں بلایا۔ اُس سے آیت کا حال چال پوچھا۔ پھر آگے بڑھ کر پیکٹ سے سرنج نکالنے لگا تو آیت کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے اُس نے بے ساختہ عالم کا بازو سختی سے پکڑ لیا۔ عالم نے اُس کی حالت دیکھی پھر اُسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔کچھ دیر وo یونہی اُسے اپنے سینے سے لگائے بیٹھا رہا جب اُسے محسوس ہوا کے آیت خاموش ہو چکی ہے تو اُس نے نرمی سے آیت کو خود سے الگ کیا۔ اور کب سے انتظار کرتے ڈاکٹر کو آگے انے کا اشارہ کیا تو آیت نے شکوہ کناں نظروں سے اُسے دیکھا۔ عالم اُسے نظرانداز کرتا اُس کا ہاتھ تھام کر ڈاکٹر کو پکڑا گیا۔

جبکہ آیت اب آنکھیں بھینچے کانپ رہی تھی۔۔۔ڈاکٹر نے جلدی سے وینز ڈھونڈ کر سرنج لگائی اور پھر خون روکنے کے لیے کاٹن اُس کے ہاتھ پر دبائی۔۔۔آیت کو تکلیف ہوئی تھی۔ لیکن وہ آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی۔ جب ڈاکٹر نے برنولہ لگا لیا تو عالم شاہ نے اُس کا ہاتھ تھاما۔ آیت نے آنکھیں کھول کر اپنا ہاتھ دیکھا پھر زور سے ہاتھ کھینچ کر عالم شاہ کے ہاتھ سے نکالا اور کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی عالم بھی ڈاکٹر کو خدا حافظ بول کر باہر نکلا۔

واپسی کا سفر بھی خاموشی سے گزرا بس اب آیت رو نہیں رہی تھی خاموش تھی۔

عالم شاہ نے حویلی پہنچ کر اُسے اُس کے کمرے میں لٹایا اور خود ڈرپ اسٹینڈ منگوا کر بیڈ کے پاس رکھا۔ عالم شاہ نے خود ہی اُسے ڈرپ لگائی اور ڈرپ کی سپیڈ درست کرتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا جو ایک ہاتھ تکیہ پر رکھے سر نائلہ شاہ کی گود میں رکھے آنکھیں موندے لیٹی تھی۔ عالم نے ایک آخری نظر اُس پر ڈالی پھر سمن شاہ سے مخاطب ہوا۔

“جب ڈرپ ختم ہو جائے تو آپ خود اُتار لیجئے گا۔۔۔۔میں نے ارحم (عالم کا خاص ملازم) سے کہہ کر اپنی پیکنگ کروا لے تھی اب میں بس اسلاماباد کے لیے نکلوں گا۔۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر کو میں کل کال کر دوں گا وہ بینولہ اتارنے حویلی آ جائیں گے آپ لوگ پردہ کر کے اس کے پاس بیٹھ جائيے گا”

عالم شاہ نے سنجیدگی سے اُن سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور سب سے مل کر باہر بڑھ گیا۔کیونکہ اُس کی فلائٹ کا وقت ہونے ہی والا تھا۔

🖤
🖤
🖤

آج شاہ حویلی میں ایک جشن کا سماں تھا کیونکہ آج عالم شاہ ایليکشن جیت چکا تھا۔۔ وo کچھ ہی دیر میں حویلی پہنچنے والا تھا۔ سمن شاہ اور نائلہ شاہ نے تو خوشی سے شکرانے کے نفل بھی ادا کیے تھے۔ پھر کچھ دنوں میں یہ رونق بھی کم ہو گئی۔

آخر دو تین دنوں بعد عالم شاہ کی مصروفیات ختم ہوئیں اور اُس نے دوبارہ سے آفیس پر دھیان دینا شروع کر دیا۔ حویلی میں بھی اب پر سکون ماحول تھا۔ بس آیت ہی تھی جس کے دماغ پر ابھی بھی وہی رات سوار تھی اب اُس کی طبیعت بھی قدرے بہتر ہو گئی تھی۔۔۔اُسے عالم شاہ کی جیت سے خوشی تو ہوئی لیکن اُس نے اپنے دل کو خاموش کروا دیا تھا۔

ابھی رات کے نو بج رہے تھے اور وہ سب ڈنر کے بعد لاؤنج میں بیٹھے قہوہ پی رہے تھے۔ تبھی بی جان کے ذہن میں ایک خیال آیا تو اُنھوں نے خاموش بیٹھی آیت کی طرف دیکھا۔

“آیت ، عروش بیٹا تم دونوں جاؤ جا کر سو جاؤ صبح نماز بھی پڑھنی ہے ، جلدی سو گی تو نیند کھلے گی صبح جاؤ شاباش”

بی جان نے اُن دونوں سے کہا تو عروش جسے مشکل سے ماں کا سیل دستیاب ہوا تھا اور ابھی اُس نے انسٹا گرام آن کیا ہی تھا کے بی جان کی بات پر منہ بنا کر رہ گئی۔

“بی جان صرف ہم دونوں نے تو نماز نہیں پڑھنی نا وہ تو آپ لوگوں نے بھی پڑھنی ہے تو آپ لوگ بھی سو جائیں”

عروش سیل سمن شاہ کو تھماتی ہوئی بولی تو بی جان نے اُسے ایک گھوری سے نوازا اور سمن شاہ نے اُس کے کندھے پر ایک چپت لگائی تو وہ بھی آیت کے پیچھے بھاگ گئی۔

بی جان نے ایک ہنکارا بھرا اور اُن سب کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“میں سوچ رہی ہوں اب عالم کا الیکشن بھی ہو گیا ہے تو اب ہمیں آیت کی رخصتی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔۔عالم تم کیا چاہتے ہو”

بی جان نے عالم کو مخاطب کیا تو اُس نے بھی اثبات میں سے ہلایا۔

“جی بی جان میں بھی آپ سے یہی بات کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔اب آپ نے کہہ دیا ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔آپ لوگ تیاریاں شروع کر دیں”

عالم شاہ کی بات پر نائلہ شاہ کی آنکھیں بھرا گئیں۔

“لیکن آیت ابھی ٹھیک نہیں ہے”

اُنھوں نے بے بسی سے بات بنائی تو عالم شاہ اُن کی تکلیف سمجھتا ان کے پاس آیا اور اُنہیں خود سے لگا گیا۔

“چچی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں۔۔۔۔بس کمرہ ہی تو بدلنا ہے آیت کا اور یقین رکھیں میں آپ کی بیٹی پر زندگی میں کبھی بھی ایک انچ بھی نہیں انے دوں گا۔۔۔اور ویسے بھی میں اپنی پیاری سے چچی کو یوں دکھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔تو آپ بھی سارے غم بھول کر تیاریاں شروع کریں”

عالم شاہ نے محبت سے کہا تو نائلہ شاہ بھی نم انکھوں سے مسکرا دیں۔

“مجھے پتہ ہے میرا بیٹا بہت اچھا ہے اور جانتی ہوں تم سے بڑھ کر آیت کا کوئی خیال نہیں رکھا سکتا بس یونہی اُس کی رخصتی کا سن کر دل بھر آیا لیکن تم پریشان نا ہو ہم کل سے ہی تیاریاں شروع کریں گے ، ویسے اب کوئی تاریخ بھی رکھ لیتے ہیں”

نائلہ شاہ نے اُس کی گال پر ہاتھ رکھ کر کہا تو بی جان بولیں۔

“ٹھیک ہے تو میرے خیال سے اسی مہینے کی پچیس کو مہندی رکھ لیتے ہیں ۔۔۔جیسا کے آج دس تاریخ ہے تو کل سے آیت کو مایوں بھی بٹھا دو “

بی جان نے حمتی لہجے میں کہا تو سب مسکرا کر اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔

🖤
🖤
🖤

آیت صبح نماز پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھی۔ ابھی بھی وہ سوئی ہوئی تھی کے نائلہ شاہ نے اُس کے کمرے میں آ کر کھڑکی سے پردے ہٹائے تو سورج کی کرنیں اُس کی آنکھوں پر پڑیں۔ آیت نے الجھن سے آنکھیں کھولیں لیکن اپنے بیڈ پر نائلہ شاہ کو بیٹھے دیکھ وہ بھی اٹھ بیٹھی۔

نائلہ شاہ جو اُسے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں اُسے اٹھتا دیکھ اُس کے پاس جا بیٹھیں اور اُس کے چہرے پر پیار کیا۔

“پچیس کو تمہاری مہندی رکھ دی ہے ہم نے “

اُنھوں نے عام سے لہجے میں اُسے آگاہ کیا تو آیت کی نظریں حیرت سے پھٹ پڑیں۔

“ماما آپ۔۔۔آپ مذاق کر رہی ہیں نا”

آیت نے معصومیت سے کہا تو اُنھوں نے سنجیدگی سے نفی میں سے ہلایا۔

“نہیں میری جان میں ہرگز مذاق نہیں کر رہی۔۔۔رات کو ہی بی جان نے ہم سے بات کی ہے تو عالم نے بھی آج سے تیاریاں شروع کرنے کا کہا ہے۔۔۔آج سے تم مایوں بیٹھو گی”

اُن کی بات پر آیت اُن کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“لیکن ماما۔۔۔مم۔۔۔میں ابھی۔۔کہیں۔۔۔نہیں۔۔۔جانا چاہتی۔۔مجھے۔۔۔۔اپنے۔۔روم میں۔۔۔آپ کے ساتھ۔۔ر۔رہنا ہے”

وہ ہچکیوں سے روتی ہوئی بولی تو انہوں نے اپنے دوپٹے سے اُس کے آنسو پونچھے جبکہ اُنھوں نے خود کو بھی بڑی مشکل سے سمبھالا۔

“آیت کیا ہو گیا ہے بیٹا کسی نہ کسی دن تو آپ نے جانا ہی ہے نہ۔۔۔۔اور رخصتی کے بعد بھی عالم تو آفيس جایا کرے گا تو آپ اپنے کمرے میں وقت گزار لیا کرنا۔۔۔اور عالم تو اتنا اچھا ہے بیٹا دیکھنا آپ دو دنوں میں ہی اُس کے ساتھ سیٹل ہو جاؤ گی “

نائلہ شاہ نے اُسے سمجھایا۔

“ماما پلیز میں آپ کی ساری باتیں مانتی ہوں نا تو آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کریں”

اُسے اس قدر روتا دیکھ نائلہ شاہ تو پریشان ہی ہو گئیں۔

“آیت چپ کرو پہلے ہی اتنی مشکل سے ٹھیک ہوئی ہو اب مت رو میری گڑیا پھر سے طبیعت خراب ہو جائے گی”

نائلہ شاہ نے اُسے خود سے جدا کیا ور اُس کی بھیگی آنکھیں چومتے ہوئے بولیں۔

اُنھوں نے بڑی مشکل سے اُسے سمجھایا بجھایا اور اُسے لے کر باہر نکلیں۔

وہ نیچے آئیں تو سب ناشتے پر ان کا ہی انتظار کر رہے تھے۔

سمن شاہ نے آیت کا ستا چہرہ دیکھا تو سمجھ گئیں وo پھر سے روئی ہے۔

“عالم کیوں نہ ہم سب کچھ دنوں کے لئے شہر والے بنگلے میں شفٹ ہو جائیں بیٹا یوں شاپنگ کرنے میں آسانی ہو گی۔ اب شادی کے لیے اتنا کچھ لینا ہے تو کیسے روز روز شہر کے چکر لگائیں گے۔”

نائلہ شاہ کی بات پر عالم نے ایک گہری نظر آیت پر ڈالی۔ جو پھر سے رونے کی تیاری کر رہی تھی۔

“چچی جیسا آپ لوگوں کو بہتر لگے”

اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا تو آیت نے اپنا کب سے جھکا سر اٹھایا۔

“میں وہاں نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ لوگوں کو جانا ہے تو بیشک چلے جائیں میں اکیلی یہیں رہ لوں گی”

آیت چیختے ہوئے بولی تو سب نے حیرانگی سے اُس کی طرف دیکھا۔

“نائلہ ہو کیا گیا ہے اسے۔۔۔۔عجیب چڑ چڑاپن آ گیا ہے اس کے مزاج میں بات بات پر رونا چلانا۔۔۔۔ایسی تو نہیں تھی ہے”

بی جان ذرا غصے سے بولیں تو سمن شاہ نے اُنہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

جبکہ آیت اب دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رو رہی تھی۔

“مجھے۔۔۔نن۔۔۔نہیں۔۔۔جانا۔۔ک۔۔کہیں۔۔۔نہیں۔۔۔کرنی۔۔۔م۔۔۔مجھے۔۔۔۔ابھی۔شادی۔۔۔کیوں۔آپ۔۔۔۔لوگ ۔۔۔میرےپیچھے۔۔پڑ۔۔۔گئے۔ہیں۔۔۔کہاں پھنس ۔۔۔گئی۔۔ہوں۔۔میں”

وہ کرسی دھکیلتی کھڑی ہوتی چلائی تو عالم شاہ بھی غصے سے اٹھا۔

“یہ تماشا کیا لگا رکھا ہے تم نے ہاں۔۔۔۔۔ہر بات پر بدتمیزی ہر بات پر ڈھٹائی۔۔۔تم کوئی پہلی لڑکی نہیں ہو جس کی شادی ہو رہی ہے۔۔۔لڑکیاں تو شادی کر کے غیر ملک بھی چلی جائیں تو بھی اتنا شور نہیں کرتیں جتنا شور تم صرف ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے پر کر رہی ہو ۔۔۔ اب تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا۔۔۔۔۔۔بی جان کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہے مجھے ابھی اور اسی وقت اس کی رخصتی چاہیے۔۔۔بہت پر نکل آئے ہیں نہ اس کے تو بہتر ہے ابھی كاٹ دوں “

وہ اتنی زور سے بولا تھا کے سب کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ جبکہ آیت اُس کی آخری بات پر بے بسی سے رونے لگی۔

آخر سمن شاہ نے آگے بڑھ کر اسے کرسی پر بیٹھایا اور جھک کر اُسے پیار کیا۔ وہ اس وقت شدت سے روتی کوئی ذہنی مریض ہی لگ رہی تھی۔۔۔لیکِن عالم شاہ پر اُس کی حالت کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔

“ماما چھوڑیں آپ اسے اس کے ڈرامے تو چلتے ہی رہیں گے”

عالم شاہ نے اگے بڑھ کر اُسے بازووں میں اٹھایا اور سمن شاہ کو کہتے ساتھ ہی روتی،مزاحمت کرتی آیت کو لے کر اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔

پیچھے وہ چاروں ارے ارے ہی کرتی رہ گئیں۔

نائلہ شاہ سے تو آیت کی حالت ہی نہیں دیکھی جا رہی تھی لیکن وہ فلحال خاموش رہی تھیں کیونکہ اُنہیں بھی کوئی اور حل نہیں دکھ رہا تھا۔ وہ جانتی تھیں عالم اُس سے بہت محبت کرتا ہے اُسے تکلیف بھی دیگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *