Meri Zindagi by Ayat Fatima NovelR50592 Last updated: 27 March 2026
Rate this Novel
Meri Zindagi by Ayat Fatima
یہ ہے شاہ حویلی جو کے لاہور شہر سے ٹھوڑی باہر واقع ہے۔ اس میں چھ نفوس قیام پذیر ہیں۔
صالحہ شاہ (بی جان) کے دو بیٹے تھے بڑے بیٹے اذلان شاہ جن کی شادی بی جان نے اپنی پسند سے سمن شاہ سے کی جو ایک بہت اچھی بیوی اور بہو ثابت ہوئیں۔ اُن دونوں کے دو بچے ہیں بڑا بیٹا عالم شاہ جو 28 سال کا ہے عالم شاہ نے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اپنے باپ چچا کے بزنس کو سمبھالا ہوا ہے اور ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لے رہے ہے۔ ہے تحاشا خوبصورت ہیزل براؤن آنکھیں ، سفید رنگت ، گھنے براؤن بال ، کھڑی مغرور ناک اور خوبصورت انابی لب ، ہلکی موچھیں اور بیرڈ چھ فٹ تین انچ قد ۔۔۔ مردانا وجاہت کا بھرپور شاہکار ۔۔۔وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا تھا۔۔۔
اُس کے بعد اُن کی بیٹی عروش شاہ جو ابھی 20 سال کی ہونے ہی ولی ہے۔ وہ بھی بہت پیاری سی ہے نارمل قد کاٹھ کی چھوٹی سی لڑکی۔
اُس کے بعد بی جان کے دوسرے بیٹے سارم شاہ نے اپنی پسند سے شادی نائلہ بیگم سے کی جنہوں نے اُن کے زندگی میں آتے سب کے دل جیت لیے۔ اُن دونوں کی بس ایک ہی بیٹی آیت شاہ ہے ہو 20 سال کی ہو چکی ہے۔ گلابی اور سفید رنگت ، ڈارک براؤن آنکھیں گھنی پلکیں، گھنیں سیپڈ بھویں پتلی سے ناک اور گلابی بھرے بھرے ہونٹ ، گول شفاف چہرہ جبکہ بائیں گال پر پڑتا ڈمپل اُس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا تھا۔ کمر تک اتی براؤن بال اور نارمل سا قد نہ زیادہ موٹی نا پتلی۔ وہ بیشک کھڑے کھڑے کسی کو بھی اپنا دیوانہ بنا سکتی تھی۔۔۔اُسے بچپن سے ہی پڑھنے جا بہت شوق تھا لیکن ان دونوں کا کالج ختم ہوتے ہی عالم شاہ نے مزید پڑھائی سے منع کر دیا تھا۔۔اُس کے کافی احتجاج کے بعد بھی جب وہ بھی مانا تو وہ بھی خاموش ہو گئی۔
اُس کی پیدائش کے کچھ ماہ بعد اذلان شاہ اور سارم شاہ کسی ایکسڈنٹ میں وفات پا چکے تھے۔ اُس وقت حویلی پر صفِ قیامت بچھا تھا۔ شاہ حویلی سے دو دو جنازے اٹھائے گئے تو بی جان اپنے جوان بیٹوں کی موت پر دل کو تھام کر رہ گئیں۔
لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے ہمت کی اور سب کو سمبھالا۔ جب عالم شاہ 22 سال کا ہوا اور آیت شاہ 14 سال کی تھی تب بی جان کے فیصلے پر اُن دونوں کا نکاح کر دیا گیا۔ اور پھر عالم شاہ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنی ذمداريوں کو سنبھالنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔
بی جان کو سب بچے ہی بہت پیارے تھے انہوں نے عالم اور آیت کو اسی لیے جوڑا تاکہ آیت ہمیشہ اُن کی نظروں کے سامنے رہے۔۔۔اب انہیں بس عروش کی ہی فکر تھی لیکن یہ تو دستورِ دنیا ہے کے بیٹیاں پرائی ہی ہوتی ہیں تو وہ بھی خاموش ہو جاتیں۔
