Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Last Episode)

Meri Pathani by RB Writes

آج آریان حورم اور دعا دلاور کا نکاح تھا۔

ہر طرف چہل پہل تھی۔ گھر پورا سجایا گیا تھا۔ کوئی ادھر تو کوئی ادھر مصروف تھا۔

دلاور خان کے تو پاوں ہی زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی چمک تھی کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جائے۔

یہی حال دعا کا بھی تھا۔ اس کا تو دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہوا جا رہا تھا۔ اس کو خوش دیکھ اس کے ماما بابا بھی خوش ہوتے اس کو دعائیں دے رہے تھے۔

حورم کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ناجانے یہ کونسا احساس تھا جو اسے چھو کر گزر جاتا۔ آریان کا سوچ سوچ کر ہی دل دھڑک جاتا۔

جبکہ دوسری جانب آریان تھا جو کہ دنیا جہاں کہ غم پالے بیٹھا تھا۔ اس کو کسی بھی چیز میں کوئی بھی دلچسپی نہیں تھی۔ خضر صاحب اور شائستہ بیگم پہلے اس کی حالت دیکھ پریشان ہوگئے مگر پھر یہ سوچا کہ شادی کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔

جبکہ آریان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے کہیں دور چلا جاتا جہاں صرف تنہائی ہوتی اور وہ بس۔۔۔۔۔۔۔🙂🖤

💞
💞
💞

” آریان تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے۔ جلدی کرو ہم نے نکلنا ہے۔” شائستہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو آریان کو ویسی ہی گھر والی حالت میں دیکھ کر بولی مگر آریان ہنوز ویسے ہی پڑا رہا۔

” ماما ابھی وقت کے ویسے بھی۔” اوندھے منہ لیٹا وہ دبی آواز میں بولا تو شائستہ بیگم نے افسوس سے اسے دیکھا۔

” اٹھو شاباش جلدی کرو جا کہ تیار ہو۔” شائستہ بیگم اس پر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولی تو اسے چاروناچار اٹھنا پڑا ویسے بھی صرف ڈیڑھ گھنٹہ رہ گیا تھا۔

ایک سرد آہ بھر کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے لئے وہ باتھروم میں بند ہوگیا۔

تقریبا بیس منٹ بعد وہ باہر آیا اور شیشے کے سامنے کھڑا ہوکر بال بنانے لگا۔

اس وقت وہ اتنا خوبصورت لگ رہا تھا کہ دیکھنے والے کی نگاہ ٹہر جائے۔

کالی شیروانی میں نفاست سے بال بنائے وہ بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا مگر اس کے انگ انگ سے اداسی چھلک رہی تھی۔ اس نے ایک آخری نظر اپنے وجود پر ڈالی۔

آنکھوں کے پردوں پہ حورم کا چہرہ لہرایا۔

❤️ہم نے اسے محبت میں چاہنے کی انتہا کردی ❤️

💕اپنی ہر خوشی اس پر فدا کردی 💕

❤️کچھ اس انداز سے اس نے لوٹ مجھے کو ❤️

💕میری ہی زندگی میرے لیے سزا کردی 💕

❤️بیٹھ کر نماز میں مانگی تھی جس کی زندگی ❤️

💕خدا نے اس ہی کی جدائی عطا کردی 💕

❤️رات بھر روتے ہیں اب اس یاد کر کے❤️

💕اب سوچتے ہیں محبت کی یا خطا کردی 💕

❤️تنگ آکر خدا سے مانگی موت ہم نے ❤️

💕تو کسی ظالم نے ہمارے جینے کی دعا کردی💕

وہ فورا خود کو سنبھالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا کچھ ہی دیر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ میرج حال کے لئے نکل گیا۔

💞
💞
💞

” مورے میری شیروانی نہیں مل رہی۔” دلاور جھنجھلاتا زریں بیگم کے پاس آیا جو کہ خود بہت مصروف تھی۔

” ماڑا جا کر دیکھو میں نے تمہارے بیڈ پہ رکھ دیا تھا۔” زریں بیگم کڑے تیوریوں سے اسے گھورتے ہوئے بولی۔

جو منہ بناتا واپس پلٹ گیا۔

مگر کچھ ہی دیر بعد پھولا ہوا منہ لئے دوبارہ زریں بیگم کے پاس آیا۔

” مورے نہیں مل رہا نہ۔” دلاور خان بچے کی طرح منہ پھلائے بولا تو زریں بیگم نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا۔

” اگر مجھے مل گیا نہ تو پھر دیکھنا۔” زریں بیگم غصے سے بولتے دلاور خان کو بولی اور اسکے کمرے کی جانب چل دی پیچھے دلاور خان جھلاتا انکے پیچھے چل دیا اسے یقین تھا کہ زریں بیگم کو بھی نہیں ملنی کیونکہ وہ ہر جگہ دیکھ چکا تھا مگر حیرت کا جھٹکا تو تب لگا جب زریں بیگم کو ہاتھ میں شیروانی پکڑے خود کی جانب گھورتے پایا۔

” یہ کیا تمہارا ماں ہے ہاں؟”” زریں بیگم دبے دبے لہجے میں غراتے ہوئے بولی تو دلاور نے تھوک نگلا۔

” مورے پہلے نہیں تھا نہ۔” دلاور منمنایا تو زریں بیگم نے دانت پیستے ہوئے اسے شیروانی پکڑائی اور باہر نکل گئی دلاور خان بھی فورا وقت کا ضیاع کئے بغیر باتھروم میں جا کر بند ہوگیا۔

💞
💞
💞

زریں بیگم دلاور کے کمرے سے ہوتے حورم کے پاس چلی گئی جو اپنے دوپٹے سے الجھنے میں مصروف تھی۔

” مورے دا اوگورا کانہ نا صحیح کیگی۔”

(مورے اسے دیکھیں نہ نہیں صحیح ہو رہا یہ۔)

حورم بے بسی سے منہ بنائے بولی تو زریں بیگم نے افسوس سے اسے دیکھا دونوں بہن بھائی بچے بنے ہوئے تھے آج شادی تھی ان کی اور حرکتیں بچوں والی کر رہے تھے۔

” وئی حورم تا بہ سہ کیگی۔”

( وئی حورم تمہارا کیا ہوگا )

زریں بیگم سر تھام کر اس کے پاس آتے بولی تو حورم نے منہ بگاڑا۔

” سہ بہ کیگی۔”

(کیا ہوگا)

حورم نے ناک ٹیڑھی کرتے پوچھا تو شائستہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا تو حورم بھی چپ ہوگئی۔

کچھ ہی دیر میں زریں بیگم نے نفاست سے اس کے سر پر سجا دیا۔

زریں بیگم نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا جو گولڈن کلر کے بھاری لہنگے میں برائڈل میک اپ کئے آسمان سے اتری کوئی پری لگ رہی تھی۔

وقت کتنا جلدی گزر جاتا ہے ابھی تو انہیں یوں لگ رہا تھا جیسے کل ہی وہ وقت تھا جب وہ چھوٹی سی انکی گود میں آئی تھی اور آج وہ انہیں رخصت کر رہے تھے۔

یہ بیٹیاں اتنی جلدی کیوں بڑی ہو جاتی ہیں۔

زریں بیگم نے اسے دیکھتے سوچا اور پھر نم آنکھوں سے اسکا ماتھا چوما۔ ابھی وہ کچھ بولتی کہ دروازے میں سے آواز آئی۔

” واہ بھئی ماں کا پیار ملتے ہی ہمیں بھول گئی۔” جہانگیر خان دلاور خان کے ہمراہ دروازے میں سے کھڑے خفگی بھرے لہجے میں بولے تو حورم اور زریں بیگم ہنس دئے۔

جہانگیر خان اور دلاور خان بھی اندر آتے انکے پاس کھڑے ہوگئے۔

” ویسے چڑیل تم آج بھی پیاری نہیں لگ رہی مجھے دیکھو لشکارے مار رہا ہوں۔” دلاور اس پر ہنستا اپنی بات پہ اکڑ کر بولا تو حورم نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا.

” خوبونہ مہ گورا۔”

(خواب مت دیکھو۔) حورم نے گویا اس کا مذاق اڑایا تو دلاور کو آگ لگی مگر آج اس نے اگنور کرنا ہی بہتر سمجھا۔

” آج جب تم چلی جاو گی تو سب صرف مجھ سے پیار کریں گے۔” دلاور خوش ہوتا بولا جب کہ دل تو اداسیوں سے بھرا پڑا تھا کہ آج اس کی جان سے پیاری بہن اس سے دور چلی جائے گی سوچتے ہی آنکھوں کے گوشے بھیگ جاتے ہیں۔

” او لالہ غلطی ہے تمہارا کوئی تم سے پیار نہیں کرے گا سب مجھ سے ہی کرے گا پھر بھی۔” حورم نے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔

” ہاں ہاں دیکھتے ہیں موٹی۔” دلاور نے اسے آگ لگائی۔

حورم نے اس کے موٹی کہنے پر اسے غصے سے گھورا جبکہ جہانگیر خان اور زریں بیگم نم آنکھوں سے ان دونوں کی یہ لڑائی دیکھ رہے تھے ناجانے پھر یہ موقع کب ملے۔

” ہم تم دونوں سے پیار کرتا ہے اور کرے گا ادھر آو میرے بچوں۔” جہانگیر خان محبت سے بولے تو حورم اور دلاور بھی مسکراتے ان کے بازو میں سما گئے۔ زریں بیگم بھی نم آنکھوں سے مسکراتے انہیں دعائیں دینے لگی۔

💞
💞
💞

” حورم خان ولد جہانگیر خان آپ کا نکاح آریان خضر ولد خضر حیات سے حق مہر پانچ لاکھ کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟””” مولوی صاحب اس کے پاس آتے بولے تو حورم کی آنکھیں بھیگنے لگی۔

اس کے لئے آنسوؤں کے پھندے کی وجہ سے بولنا مشکل ہوگیا۔ بمشکل اپنی حالت پہ قابو پاتے اس نے قبول ہے کہتے سر ہلایا۔

یوں ہی تین بار اس کی قبول لئے مولوی صاحب آریان کے پاس چلے گئے۔

” آریان خضر ولد خضر حیات آپ کا نکاح حورم خان ولد جہانگیر خان کیا جاتا ہے کیا آپکو قبول ہے؟”””مولوی صاحب بولے مگر اسے کچھ سنائی نہ دیا اس کے دماغ میں بس حورم کا چہرا تھا۔ خضر صاحب نے اسے کچھ نہ بولتے دیکھ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے وہ ہوش میں آیا۔

اپنی آنکھیں مینچتے وہ قبول ہے کہہ گیا تو شائستہ بیگم اور خضر صاحب نے سکھ کا سانس لیا۔ آریان کے قبولیت کے بعد سب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور مبارکباد کا سلسلہ شروع ہوا۔

اب مولوی صاحب دعا کے پاس موجود تھے جو اپنی انگلیوں سے کھیلتی اپنی گھبراہٹ پہ قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔

” دعا عصمت ولد عصمت ملک آپ کا نکاح دلاور خان ولد جہانگیر خان سے حق مہر پانچ لاکھ کیا جاتا ہے۔ کیا آپکو قبول ہے؟”” مولوی صاحب بولتے دعا کی دھڑکنیں بےترتیب کر گئے۔ اس کا روم روم آج خوش تھا کہ اسے اسکی محبت مل رہی اس نے کچھ لمحے بعد سر ہاں میں ہلا کر نکاح قبول کیا۔

” دلاور خان ولد جہانگیر خان آپ کا نکاح دعا عصمت ولد عصمت ملک کیا جاتا ہے کیا آپکو قبول ہے؟”” مولوی صاحب بولے تو دلاور نے بنا ایک لمحے کی بھی دیر کئے دعا کو اپنے نکاح میں قبول کیا۔ سب اسکی اتنی جلدبازی پر ہنس کر رہ گئے۔ ایجاد قبول کے مراحل کے بعد سب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔

ایک گھنٹے بعد سب نے رخصتی کا شور مچایا۔ سب سے پہلے حورم کو قرآن کے سائے میں رخصت کیا گیا۔

حورم کی رخصتی کے کچھ دیر بعد دعا کی رخصتی بھی قرآن کے سائے میں ہوگئی۔

💞
💞
💞

بیڈ پر اپنا لہنگا پھیلائے وہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھال رہی تھی جو کہ آج اسے پاگل کر دینے کے در پہ تھی۔

اپنی انگلیوں سے کھیلتی وہ اپنی گھبراہٹ پہ قابو پانا چاہتی تھی۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اسے دروازہ کھلنے کی آواز آئی جس سے وہ خود میں ہی سمٹ گئی۔

دلاور اس کو دیکھ مسکراتے اس کے قریب آیا اور اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا جس سے دعا تھوڑا پیچھے کی جانب کھسکی۔ اس کو یوں کھسکتے دیکھ دلاور نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔

” اتنا گھبرا کیوں رہی ہیں۔” دلاور اس کے گھبرانے پہ چوٹ کرتا ہنس کر بولا۔

” نن۔نہیں مم میں تو نہیں گھبرا رہی۔” دعا بوکھلاتے ہقلا کر بولی۔

” جی وہ تو دکھ ہی رہا ہے۔ دعا میں آپ کو زیادہ کچھ تو نہیں دے سکتا مگر میں اپکو محبت اور عزت ضرور دے سکتا ہوں۔ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ میں چاند تارے توڑ کر لانے کے وعدے نہیں کرتا مگر ہاں میں آپ کو خوش ضرور رکھوں گا۔” دلاور گھمبیر آواز میں بولتا دعا کی حالت خراب کر گیا۔ دعا اس کے لفظوں کے سحر میں جکڑتی چلی گئی۔

” آپ کچھ نہیں کہیں گی کیا؟”” اس کو یوں خاموش پاتے دلاور اس کا ہاتھ تھامتے بولا تو دعا نے اپنے پلکوں کی جھالر اٹھاتے اسے دیکھا مگر زیادہ دیر دیکھ نہ پائی تبھی دوبارہ پلکیں گرا گئی۔ دلاور یہ منظر دیکھ خوبصورتی سے مسکرا دیا۔

” میں بھی آپ سے پیار کرتی ہوں اور ہمیشہ میں یونہی آپ کی وفادار رہوں گی۔” خود میں ہمت پیدا کرتے وہ بھی اپنے دل کا حال مختصر الفاظوں میں بیان کر گئی۔ دلاور اس کی بات سنتا زندگی سے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجا گیا۔

💞
💞
💞

” آریان بیٹا اندر جاو دلہن انتظار کر رہی ہے۔” آریان کو ویسے ہی لاونج میں بیٹھے دیکھ شائستہ بیگم اس کے پاس آکر اکھڑے لہجے میں بولی۔

” ماما میں نہیں جا رہا۔” وہ منہ بنا کر بولا تو شائستہ بیگم نے اسے گھورا۔

” میرے سے مار مت کھا لینا دفع ہو اپنے کمرے میں۔” شائستہ بیگم غصے سے دبے دبے لہجے میں غراتے ہوئے بولی۔ تو آریان نے بے بسی سے انہیں دیکھا مگر رحم کا کوئی چانس نہ دیکھتے وہ گہری سانس بھرتا مردہ قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہوا۔

” ک۔رے میں داخل ہوتے اس کی پہلی نظر گھونگھٹ گرائے حورم پر گئی۔ اسے دیکھتے ہی وہ نظر پھیر گیا اور اس کے پاس ہی بیڈ پہ بیٹھ گیا اور یک ٹک زمین کو گھورنے لگا۔

حورم نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا جو ناجانے کیوں اتنا خاموش تھا۔

” کیا ہوا تم کو ایسا کیوں بیٹھا ہے تم۔” حورم بولی۔ جانی پہچانی آواز سن کر آریان نے جھٹکے سے سر اٹھایا مگر پھر اپنا وہم سمجھتے دوبارہ اپنا سر جھٹک دیا۔

اس کو دوبارہ کچھ نہ بولتے دیکھ حورم کو تعجب ہوا۔

” وئی ماڑا کیا ہوا ہے تم کو ۔” اپنا گھونگھٹ پلٹتے وہ اپنا سر اس کے قریب کرتے بولی جبکہ حورم کو دیکھتے آریان کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے اپنی آنکھیں مل کر دوبارہ کھولی مگر حورم غائب نہ ہوئی۔

وہ فورا سے اٹھتا باہر کی جانب گیا جہاں شائستہ بیگم بیٹھی ہوئی تھی آریان کو واپس آتے دیکھ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

” ماما وہ اندر۔۔۔۔۔” آریان کو سمجھ نہ آیا کہ کیا بولے۔

” آریان دفع ہو جاو اندر اس سے پہلے کہ میں جوتی۔۔۔۔۔۔” شائستہ بیگم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دوبارہ کمرے میں بھاگ گیا۔ شائستہ بیگم کو آج وہ پاگل لگا۔

کمرے میں آیا تو حورم کو حیران و پریشان دیکھ وہ خوشی سے اس کے قریب آیا اور اسے اپنے گلے لگا لیا۔ اس کی اس جسارت پر حورم شرما گئی۔

” اووو میری جان میں بتا نہیں سکتا افففف میں کتنا خوش ہوں۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔” اسے یونہی گلے سے لگائے وہ نم آنکھوں سے خوشی سے بولا۔

” ماڑا تم کو کیا ہو گیا ہے۔” حورم اس کی یوں بچوں والی حرکتوں پر پریشانی سے بولی تو آریان مسکرا دیا۔

“ہائے میری جان میں نے اب پورے بدلے نکالنے ہے تم سے ۔'” حورم کو کچھ نہ سمجھتے دیکھ وہ شرارت سے بولا۔

” حورم تمہیں پتہ۔” آریان بولا تو حورم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

” زہ تہ سارا مینہ کوم۔”

(میں تم سے محبت کرتا ہوں )

آریان بولا تو حورم اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔ آریان نے بھی مسکراتے اس کے گرد گھیرا مضبوط کیا۔

آج وہ جتنا بھی شکر کرتا اتنا ہی کم تھا۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی برا نہیں کرتا۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔۔🥰

💞
💞

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *