Meri Pathani by RB Writes Season 1 NovelR50538 Meri Pathani (Episode 03)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 03)
Meri Pathani by RB Writes
” ستڑے مشے بچیا۔”
(پشتو کا سلام)
حورم کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ زریں بیگم نے اسے دیکھ محبت سے کہا جس کا جواب اس نے بھی مسکراتے محبت سے دیا۔
” کر لیا تم نے خریداری۔ ” زریں بیگم اس کے آگے پانی کا گلاس کرتے بولی جس کو حورم نے بغیر وقت لگائے پکڑ لیا۔
” ہاں مورے کر لیا۔ لالہ کہاں ہے۔” حورم نے پانی پی کر دوبارہ گلاس ان کو پکڑاتے کہا اور پھر اپنے بھائی کا پوچھا۔
” لالہ یہاں ہے لالے کی جان۔” اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھتے اس نے حورم کو سینے سے لگاتے کہا۔
” لالہ تم کو پتا میں تمہارے لئے پرفیوم لایا ہے اس کا خوشبو اتنا پیارا ہے کہ تم کو بھی پسند آئے گا۔” حورم شاپنگ بیگ میں ہاتھ ڈال کر اس میں سے پرفیوم کی بوتل اٹھاتے ہوئے کہا جبکہ ایک بار پھر اسکا خوشبو کو پیارا کہنا دلاور کو ہنسی دلا گیا۔ حورم نے ناسمجھی سے اسے ہنستے دیکھا۔
” کیا ہوا تم ہنس کیوں رہا ہے؟ ” حورم نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھتے کہا تو دلاور نے اپنی ہنسی روکی اور اسے دیکھا جو کڑے تیوریوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” اوئے خوشبو پیارا نہیں ہوتا اچھا ہوتا ہے۔” دلاور اس کے سر پر چپت لگاتے بولا تو حورم خجل ہو کر ہنس دی۔
جبکہ اسے یوں شرمندہ ہوتے دیکھ دلاور خان قہقہہ لگا کر ہنس دیا جس پر حورم نے ہنہہ کہہ کر منہ پھیر لیا جس سے دلاور مزید ہنسنے لگا۔
ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ یکدم جہانگیر خان لاونج میں داخل ہوا۔
” اسلام علیکم ابو۔” حورم اور دلاور نے کھڑے ہوتے ادب سے سلام کرتے کہا جس کا جواب انہوں نے رعب دار لہجے میں دیا اور ایک سائڈ پر صوفے پر بیٹھ گئے۔
ان کے بیٹھتے ہی حورم اور دلاور بھی بیٹھ گئے۔
” کیا کر رہا ہے تم لوگ۔” جہانگیر خان اپنی شال درست کرتے ہوئے کہنے لگے۔ ان کی اس بات پہ دلاور نے مسکراہٹ دبائی اور معنی خیز نظروں سے حورم کو دیکھا۔
” کچھ نہیں ابو وہ حورم میرے لئے پرفیوم لے کر آئی ہے جس کا خوشبو بہت پیارا ہے۔” دلاور نے ہنستے کہا جبکہ حورم کب سے اسے گھوری جا رہی تھی۔ دلاور کی بات پر جہانگیر خان بھی ہنس دیے۔
اوئے آجاو سب کھانا کھا لو۔” اس سے پہلے کہ حورم کچھ کہتی زریں بیگم لاؤنج میں آتے ہوئے بولی۔
” ویسے خوشبو تو بہت پیارا ہے۔” دلاور لب دانتوں میں دبائے اسے تنگ کرتے ہوئے بولا۔
” ابوو دا اوگورا کانہ۔”
( ابو اسے دیکھیں نہ )
حورم تنگ آکر چیخ کر بولتی پیر پٹختی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔ جبکہ دلاور خان اور جہانگیر خان بھی ہنستے اس کے پیچھے چل دیے۔



دعا اس وقت حورم کے گھر کے باہر کھڑی تھی۔
زریں بیگم نے اسے آج گھر بلایا تھا کہ کافی وقت ہو گیا تھا وہ آئی نہیں تھی۔
حورم سے دوستی کے باعث وہ انکے گھر آتی رہتی جس سے زریں بیگم کو اس سے کافی اٹیچمنٹ ہوگئی۔
وہ اسے بالکل اپنی حورم جیسی لگتی تھی۔ پیاری نازک سی۔
دعا نے ہاتھ اٹھا کر دروازے پر دستک دی جو کہ کچھ ہی دیر میں کھل گیا۔
دعا نے نظر اٹھا کر جب دیکھا تو سامنے دلاور کو کھڑے پایا۔
دونوں ہی کی دھڑکنیں بےترتیب ہوگئی۔ ایک ہی دھن گانے لگی۔
دلاور نے اسے دیکھ فورا نظریں جھکا لی اور ایک طرف ہوکر اسے جگہ دی تاکہ وہ اندر آسکے۔
اس کے ہٹتے ہی دعا جھجھکتے اندر داخل ہوئی۔
” کیسی ہو تم ۔” دلاور نے نظر جھکاتے کہا کہ اس کا ابھی کوئی حق نہیں تھا کہ وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھے۔
” میں ٹھیک آپ کیسے ہیں؟ “” دعا نے دھڑکتے دل سے جواب دیا۔ نظریں اس کی بھی جھکی تھی اس کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کو دیکھے۔
اس سے پہلے کہ دلاور جواب دیتا حورم اگئی۔
” اوہ ماڑا دعا تم آگیا۔ وہاں کیوں کھڑا ہے اندر آو نہ۔” حورم نے اسے دروازے کے پاس ہی کھڑے دیکھ کر کہا۔ تو دعا فورا ایک آخری نظر دلاور پر ڈال کر اندر کی جانب چل دی حورم کے ساتھ۔ پیچھے دلاور اس کی پشت دیکھتا ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔



” مورے میں اور دعا نہ قریب والے پارک میں جا رہا ہے ٹھیک ہے جلدی آجائے گا ہم۔” حورم دعا کا ہاتھ پکڑ کر جاتی ہوئی اونچی آواز میں اپنی ماں کو اطلاع دیتے ہوئے بولی۔
” ٹھیک ہے لیکن خیال سے جانا۔” زریں بیگم پیچھے آواز دیتے بولی۔ جسے سن وہ دونوں باہر چل دیں اور قریب کے پارک میں چلی گئی۔
” ماڑا یہاں نہ مجھ کو بہت اچھا لگتا ہے۔” حورم پارک میں رکھے بینچ پر بیٹھتے بولی دعا اس کی بات پر دھیرے سے ہنس دی۔
” ہممم اچھا تو مجھے بھی لگتا ہے۔ اچھا تم بیٹھو میں ذرا یہ قریب کے شاپ سے کچھ لے آوں۔” دعا اس کا گال کھینچ کر بولی۔ حورم نے اس کی بات پر سر ہلایا۔ تو دعا اٹھ کر چلی گئی۔
” آہ ہ اتنا اچھا لگ رہا ہے آج اتنے دن بعد پارک آکر۔” آریان پارک میں داخل ہوتے ہوئے خود سے بڑبڑا کر بولا مگر نظر جب سامنے بینچ پر بیٹھی ہستی پہ گئی تو ہوش اڑ گئے۔
سامنے ہی حورم کو دیکھ دل بھنگڑے ڈالنے کو ہوا۔
” ہائے اللہ آج اتنا مہربان بھی مت ہوں کہ زندہ ہی نہ بچوں۔” آریان دل پہ ہاتھ رکھتا محبت سے اس کے بڑی چادر میں چھپے نازک وجود پر ڈال کر بولا اور اس کی جانب بڑھ گیا۔
” آہمم آہمم۔” آریان اس کے ساتھ بینچ پر فاصلے سے بیٹھتا گلہ کھنکارتا اس کو اپنی موجودگی کا احساس دلا گیا۔
حورم نے آواز سنتے چونک کر اپنے سے فاصلے پر بیٹھے آریان کو دیکھا جو ادھر ادھر دیکھتا خود کو اس سے لاتعلق ظاہر کروا رہا تھا۔
” اوئے ماڑا تم یہاں کیا کر رہا ہے ہاں۔” حورم کڑے تیوریوں سے اسے گھورتے ہوئے بولی۔
” میں ویسے ہی گھومنے آیا تھا کیوں یہاں آنا منع ہے کیا؟” آریان نے آئبرو اچکاتے ہوئے پوچھا تو حورم نفی میں سر ہلا گئی اور اس پر سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھنے لگی۔
” ویسے مجھے لگتا ہے کہ اس دن نہ تم نے میرا کچھ چوری کر لیا تھا۔” آریان گہری نظروں سے اسے دیکھتا ذومعنی لہجے میں بولا۔ دراصل آریان کا اشارہ اپنے دل کی طرف تھا جسے حورم پہلی ہی ملاقات میں چرا کر لے گئی تھی۔
” وئی وئی ماڑا کتنا جھوٹ بولتا ہے۔ میں کیوں چوری کرے گا تم سے کچھ۔” حورم تو فورا سے اپنی صفائی میں بولی۔ جبکہ اس کا وئی وئی بولنا اففف آریان بےساختہ اپنا دل تھام گیا۔ یہ لڑکی کسی کو آسانی سے گھائل کر سکتی ہے۔
آریان نے اسے دیکھتے دل میں کہا۔
” بولو نہ کیا چوری کیا میں نے تمہارا۔” حورم نے اسے گھورتے کہا تو آریان کا دل کیا کہ بول دے کہ ” تم نے میری رات کی نیند دن کا سکون میرا چین میرا دل سب چوری کر لیا ہے۔” مگر خاموش رہا۔
” چوری نہیں کیا مگر میری گاڑی کو تو ٹکر ماری تھی نہ اور اس کے پیسے دیے بغیر تم بھاگ آئی۔” آریان فورا خود کو سنبھالتا ہوا بولا۔ حورم نے فورا اسے گھورا کہ نجانے کیوں اسے یہ بات بھولتی ہی نہیں۔
” وئی ماڑا تم نہ سچ میں ہی بہت کنگلا ہے ہر وقت پیسے کی بات لے کر بیٹھ جاتا ہے تم ۔” حورم منہ بنا کر بولی اس سے پہلے کہ آریان جوابی کاروائی کرتا وہاں فرحان آگیا۔
” آریان آجا حیدر لوگ آگئے ہیں۔” فرحان دور سے اسے اشارہ کرتے اونچی آواز میں بولا تو آریان کو چاروناچار وہاں سے اٹھنا پڑا۔ اس کے نظروں سے اوجھل ہونے تک حورم کی نظروں نے اس کا پیچھا کیا۔
