Meri Pathani by RB Writes Season 1 NovelR50538 Meri Pathani (Episode 04)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 04)
Meri Pathani by RB Writes
” یار آریان اگر تمہیں فرحان کے لئے کچھ کہنا ہو تو کیا کہنا چاہے گا۔” معراج آریان کو دیکھتا بولا جو کہ اس کی بات پر دھیرے سے ہنس دیا۔
وہ سب اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔
ان کے کل ہی پیپرز ختم ہوئے تھے جس کی خوشی یہ لوگ آج منا رہے تھے۔
” میں کہنا چاہوں گا کہ :
𝐷𝑒𝑎𝑟 𝑏𝑒𝑠𝑡 𝑓𝑟𝑖𝑒𝑛𝑑,
𝐼’𝑚 𝑣𝑒𝑟𝑦 𝑙𝑢𝑐𝑘𝑦 𝑡𝑜 𝑚𝑒𝑒𝑡 𝑦𝑜𝑢,𝑡𝑜 𝑘𝑛𝑜𝑤 𝑦𝑜𝑢 𝑎𝑛𝑑 𝑡𝑜 ℎ𝑎𝑣𝑒 𝑦𝑜𝑢. 𝑌𝑜𝑢 𝑎𝑟𝑒 𝑜𝑛𝑒 𝑜𝑓 𝑡ℎ𝑜𝑠𝑒 𝑏𝑒𝑠𝑡 𝑔𝑖𝑓𝑡 𝐼’𝑣𝑒 𝑒𝑣𝑒𝑟 𝑟𝑒𝑐𝑒𝑖𝑣𝑒𝑑.𝑇ℎ𝑎𝑛𝑘 𝑦𝑜𝑢 𝑓𝑜𝑟 𝑎𝑙𝑙 𝑦𝑜𝑢𝑟 𝑗𝑜𝑘𝑒𝑑 𝑎𝑛𝑑 𝑠𝑢𝑝𝑝𝑜𝑟𝑡. 𝑇ℎ𝑎𝑛𝑘 𝑦𝑜𝑢 𝑓𝑜𝑟 𝑏𝑒𝑖𝑛𝑔 𝑡ℎ𝑒𝑟𝑒 𝑡𝑖𝑚𝑒 𝑜𝑓 𝑛𝑒𝑒𝑑 𝑎𝑛𝑑 𝑦𝑜𝑢 𝑛𝑒𝑣𝑒𝑟 𝑡𝑖𝑟𝑒𝑑 𝑡𝑜 𝑎𝑙𝑙 𝑜𝑓 𝑚𝑦 𝑛𝑜𝑛𝑠𝑒𝑛𝑠 𝑎𝑛𝑑 𝑐ℎ𝑖𝑘𝑎𝑠 𝑎𝑛𝑑 𝑑𝑟𝑎𝑚𝑎’𝑠 𝑖𝑛 𝑙𝑖𝑓𝑒. 𝑇ℎ𝑎𝑛𝑘 𝑦𝑜𝑢 𝑓𝑜𝑟 𝑣𝑒𝑟𝑦 𝑏𝑒𝑎𝑢𝑡𝑖𝑓𝑢𝑙 𝑎𝑛𝑑 𝑐𝑟𝑎𝑧𝑦 ℎ𝑎𝑝𝑝𝑦 𝑚𝑜𝑚𝑒𝑛𝑡𝑠. 𝐼 𝑗𝑢𝑠𝑡 𝑤𝑎𝑛𝑡 𝑦𝑜𝑢 𝑡𝑜 𝑘𝑛𝑜𝑠 𝑡ℎ𝑎𝑡 𝑦𝑜𝑢’𝑟𝑒 𝑠𝑜 𝑝𝑟𝑒𝑐𝑖𝑜𝑢𝑠 𝑡𝑜 𝑚𝑒. 𝐷𝑜𝑛’𝑡 𝑓𝑜𝑟𝑔𝑒𝑡 𝑎𝑙𝑙 𝑎𝑏𝑜𝑢𝑡 𝑚𝑒 𝑒𝑣𝑒𝑛 𝑤ℎ𝑒𝑛 𝑦𝑜𝑢 𝑓𝑖𝑛𝑑 𝑛𝑒𝑤.![]()
![]()
M.E.N.T.I.O.N your bestfriend ![]()
آریان کے اس قدر خوبصورت الفاظ پر اس کی آنکھیں نم ہوگئی۔ وہ فورا اٹھتا آریان کے گلے لگ گیا آریان نے ہنستے اس کے گرد حصار مضبوط کیا۔
” ابے میری اموشنل کوئین بس کردے اب کیا جھرنا بہانا ہے۔” آریان نے اس کی نم آنکھیں دیکھ لی تھی تبھی وہ اس کا موڈ خوشگوار کرنے کو بولا جس پر سب ہنس دیے۔
فرحان بھی ہنستا اس سے الگ ہوا۔
یوں ہی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے پھر مزید کچھ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے وہ سب اپنے اپنے گھر چل دئے۔



” میں تو کہتی ہوں اب دلاور خان کا شادی کر دیتا ہے۔” زریں بیگم دلاور خان کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تو سب انکی جانب متوجہ ہوئے۔ دلاور خان نے جھٹکے سے اپنا سر اٹھایا۔
” ہاں مورے یہ تم نے اچھا بات کیا ہے۔ میں نے تو لڑکی بھی ڈھونڈ لیا ہے۔” دلاور کی شادی کی بات پہ حورم فورا اچھلتے خوشی سے بولی جبکہ دلاور خان کی حالت دیکھنے والی تھی۔
” مورے مجھے ابھی شادی نہیں کرنا۔” دلاور فورا بولا تو سب نے اس کی جانب ایسی نظروں سے دیکھا کہ بس بچارہ ادھر ہی پگھل گیا۔
” بتاو بیٹا کس لڑکی کو دیکھا ہے تم نے۔” زریں بیگم اب کی بار حورم کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولی تو وہ فورا سیدھی ہوگئی۔
دلاور کا دل اس وقت زوروشور سے دھڑک رہا تھا۔
” مورے وہ نہیں ہے میرا دوست دعا میں اس کا شادی کرواؤں گا اپنے لالہ کے ساتھ۔” حورم خوشی سے بولی جبکہ دلاور خان کی اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئی اور مشکور نگاہوں سے وہ حورم کو دیکھنے لگ گیا۔
جبکہ جہانگیر خان اور زریں بیگم اس کی بات پہ پریشان ہوگئے تھے۔
” لیکن بیٹا وہ لوگ اپنا بیٹی نہیں دے گا کیونکہ ہم پٹھان ہے۔” جہانگیر خان بولے تو دلاور خان بھی فکرمند ہوا یہ تو اس نے سوچا ہی نہ تھا۔
” اوہ ماڑا تم کیوں پریشان ہوتا ہے ہم کو پورا یقین ہے ویسے بھی ہمارا لالہ میں کوئی کمی تو نہیں ہے۔'” حورم انکو امید کی ڈوری تھماتی ہوئی بولی تو ان سب کے اندر بھی ایک امید کی کرن جاگ گئی۔



” اوہ ماڑا دعا تم سے ایک بات پوچھوں میں۔” حورم دعا کو دیکھتے بولی جو کہ بک کھول کر اسے گھورنے میں مصروف تھی۔ وہ دونوں اس وقت کالج میں موجود تھے۔
‘” ہاں پوچھو میری جان کیا پوچھنا ہے۔” دعا اپنے سر کتاب میں سے نکالتی پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولی۔
” تم کو کیا لگتا ہے کیا محبت سچ میں ہو جاتا ہے۔” حورم نے اس کو دیکھ کر کہا جو اس کی بات پر دھیرے سے مسکرا دی۔
”
محبت![]()
سچ کہتے ہیں
محبت ہو ہی جاتی ہے
ان دیکھے لوگوں سے![]()
کبھی دھیمے لہجے ستاتے ہیں
کبھی لفظ ہی
دلبر بن جاتے ہیں![]()
کوٸ انجانا
ان دیکھا
دھڑکن بن جاتا ہے![]()
دلکش باتیں
ہنستے جملے
کسی کی دھڑکن بڑھاتے ہیں
محبت ہو ہی جاتی ہے![]()
ان دیکھے
انجانے لوگوں سے
مت چاہو![]()
لفظ کھو بھی جاتے ہیں
انجانے پراۓ ہو ہی جاتے ہیں
“”
ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں دلاور کو سوچتے ہوئے بولی۔ اس کے الفاظ بہت خوبصورت تھے۔
حورم نے اس کی بات پہ سر ہلایا۔



” چلو ماڑا جلدی کرو ہم کو دیر ہو رہا ہے۔ ” حورم بڑی چادر لئے تیار سی بیٹھی بولی۔ سب اس کی جلدی پہ ہنس دی۔ دلاور اسے دیکھ کر رہ گیا اس سے زیادہ جلدی ہے۔
وہ سب آج دعا کے گھر اس کا رشتہ لے کر جا رہے تھے۔
دلاور کا دل تو تھا کہ وہ بھی جاتا ان کے ساتھ مگر پھر جہانگیر خان کے سنانے پر منہ بگاڑتا گھر میں ہی رک گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ دعا کے گھر پہ ہی موجود تھے۔
وہ سب اس وقت لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔
عصمت صاحب اور نور بیگم بھی ان سے باتیں کرنے میں لگے رہے۔ کیونکہ حورم کو تو وہ جانتے ہی تھے۔
” اچھا تو بھائی صاحب اس وقت ہم یہاں پر ایک خاص مقصد کے لئے حاضر ہوا ہے۔” جہانگیر خان سیدھے ہو کر بیٹھتے مدعے کی بات پہ آتے ہوئے بولے تو عصمت صاحب اور نور بیگم بھی ان کی جانب متوجہ ہوئے۔
” بھائی صاحب ہم اپنے بیٹے دلاور خان کے لئے دعا بیٹی کا ہاتھ مانگتا ہے۔ ” جہانگیر خان بولے تو عصمت صاحب اور نور بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
” لیکن بھائی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔” عصمت صاحب نے کچھ کہنا چاہا تو جہانگیر خان نے ٹوک دیا۔
” دیکھو بھائی میرا بیٹا تمہاری بیٹی کو خوش رکھے گا ہم کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ ہم اس کو حورم کی طرح رکھے گا۔” جہانگیر خان دعا کے لئے اپنے لہجے میں محبت لاتے ہوئے کہا۔
” ہاں ماڑا انکل تم ہاں کردو نہ ماڑا میں کہہ رہا ہے نہ دعا میرے ساتھ خوش رہے گا۔” حورم جہانگیر خان کے چپ ہوتے ہی وہ بولی۔ اس کی بات سن کر سب مسکرا دیے۔
” ٹھیک ہے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دعا۔۔۔'” عصمت صاحب بولے تو سب پرسکون ہوگئے۔
” اوہ ماڑا دعا کی تم ٹینشن نہ لو میں جاتا ہے اس سے پوچھ کر آتا ہے۔” حورم بولی اور اٹھ کر دعا کے پاس چلی گئی کچھ ہی دیر بعد وہ چمکتے چہرے کے ساتھ اندر آئی۔
” اوہ ماڑا میں کہتا تھا نہ کہ وہ مان جائے گا۔” حورم خوش ہوکر بولی تو جہانگیر خان سمیت سب بہت خوش ہوئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔
جبکہ دلاور خان کو گھر میں ایک پل سکون کا نہیں مل رہا تھا وہ بیچنی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ وہ سب مان جائیں۔




” آریان چل نہ جلدی کر۔” فرحان اس کے پاس آتا ہوا بولا وہ بھی سر ہلاتا جانے لگا تھا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر ساکت ہوا۔
دل جیسے دھڑکنا بند کر گیا ہو۔ اس کو آکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔
بنا پلک جھپکائے وہ سامنے کا منظر دیکھنے میں مصروف تھا۔
جہاں حورم کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی اور وہ لڑکا اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا رہا تھا جبکہ حورم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ایک الگ چمک اس کے چہرے پہ موجود تھی۔
اس کے لئے وہاں کھڑے رہنا محال ہو رہا تھا وہ فورا وہاں سے چل دیا مگر آنکھوں میں یہ منظر بار بار گھوم رہا تھا۔
جاری ہے۔
