Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 06)

Meri Pathani by RB Writes

آریان تھکا ہارا سا گھر آیا یوں لگ رہا تھا جیسے سب لٹ سا گیا ہو۔ وہ بنا کسی سے بولے اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔ خضر صاحب اور شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا جو گھر میں آتے ہی شور مچانے لگ جاتا آج کیوں اتنا خاموش ہے۔

” آریان بیٹا آو کھانا کھا لو۔” شائستہ بیگم نے آواز لگائی تو اسکے قدم تھم گئے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں خضر صاحب اور شائستہ بیگم ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔

” نہیں ماما مجھے بھوک نہیں ہے۔” ایک کھوکھلی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ بنا ان کا جواب سنتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ خضر صاحب اور شائستہ بیگم نے پریشانی سے اس کی پشت دیکھی۔

” ارے اس کو کیا ہو گیا۔” خضر صاحب نے شائستہ بیگم کی جانب دیکھتے فکرمند لہجے میں بولے تو انہوں نے بھی لاعلمی سے کندھے اکچا دیے۔

” شاید تھک گیا ہوگا۔ اچھا مجھے نہ آپ سے بات کرنی ہے۔” شائستہ بیگم خود بھی پریشان ہوگئی تھی مگر پھر اس کی تھکن کا خیال آتے سر جھٹک گئی۔

” ہمم ہاں بولو کیا بات ہے۔” خضر صاحب ان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولے۔

” وہ دراصل آج نہ آفرین آئی تھی اس نے ایک لڑکی کا ذکر کیا کہہ رہی تھی کہ ماشاءاللہ سے بالکل ویسی ہے جیسی لڑکی کی ہمیں تلاش تھی۔ ” شائستہ بیگم مسکرا کر بولی تو خضر صاحب نے سر ہلایا۔

” مگر بات یہ ہے کہ وہ پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی ہے اور اگر آپ اجازت دیں تو کل میں بات کر آوں کیا پتہ لڑکی ہمیں پسند آجائے۔” شائستہ بیگم نے کہا۔

” ہممم ٹھیک ہے جیسے تمہیں ٹھیک لگے۔” خضر صاحب کھانا پلیٹ میں ڈالتے بولے تو شائستہ بیگم بھی خوش ہوتے کھانا کھانے لگی۔

💞
💞
💞

آریان اس وقت اپنے کمرے میں لیٹا یک ٹک چھت کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ ایک پل کے لئے بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔ حورم کا ہاتھ کسی اور کے ہاتھوں میں یاد کرتے ہی سانس رکنے لگ جاتی۔

کیا وہ کسی اور کی ہو جائے گی۔

مگر میں بھی تو اسے بہت چاہتا ہوں

ہنہہ مگر میں چاہتا ہوں اسے وہ تو نہیں نہ

میں نے تو ہمیشہ اسے تنگ ہی کیا ہے۔

ناجانے کیسی کیسی سوچیں آریان کے دماغ میں ڈیرا ڈال رہی تھیں۔ یہ سب سوچتے سوچتے اس کا سر درد کرنے لگ گیا۔ ایک باغی آنسو اس کی آنکھ سے نکلتا تکئے میں جذب ہوگیا۔

💞
💞
💞

ٹھک ٹھک ٹھک۔” وہ سب اس وقت ٹی وی لاونج میں بیٹھے گپے لگا رہے تھے کہ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔

‘” میں دیکھ کر آتا ہے۔” حورم اٹھتے ہوئے بولی سب نے سر ہلایا۔

حورم نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی عورت کھڑی تھی۔ حورم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

جب کہ وہ اسے بڑی خشمگین نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔

” کون مانگتا ہے تم؟”” حورم ان کو دیکھ کر نرمی سے بولی تو انہوں نے حورم کے بولنے کا انداز دیکھ کر انہوں نے مسکراہٹ دبائی۔ پہلی نظر دیکھ ہی انہیں حورم بہت پسند آئی۔

سر پہ چادر لئے، بڑی بڑی براون آنکھیں، گلابی ہونٹ، وہ سچ میں بہت ہی حسین اور سب سے الگ تھی۔

” بیٹا ماما پاپا گھر پر ہیں کیا۔” حورم کو خود کی جانب دیکھتے دیکھ وہ خود کو سنبھالتی وہ بولی۔

” ہاں وہ اندر بیٹھا ہے۔” حورم سر ہلاتے بولی۔ شائستہ بیگم نے محبت سے اسے دیکھا۔

ان کے کہنے پر حورم انہیں اندر لے آئی۔

” کون ہے حورم ۔” جہانگیر خان بولے کسی اجنبی خاتون کو دیکھتے وہ اور دلاور خان نظریں جھکا گئے جبکہ زریں بیگم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

” اسلام علیکم میرا نام شائستہ خضر ہے۔” شائستہ بیگم نے ان سب کی سوالیہ نظروں کو محسوس کرتے کہا تو زریں بیگم نے انہیں لاونج میں صوفے پر بٹھایا۔

” دراصل بھائی صاحب میں اپکی بیٹی کے لئے رشتہ لائی ہوں اپنے بیٹے کا۔” شائستہ بیگم نے نظریں جھکائے بیٹھے دلاور اور جہانگیر خان کو دیکھتے کہا زریں بیگم نے فورا پریشان نظروں سے جہانگیر خان کی جانب دیکھا۔ حورم اس وقت کچن میں موجود تھی۔

” دیکھئے بہن جی آپ جانتی ہیں کہ ہم پٹھان ہیں اور۔۔۔۔۔۔” جہانگیر خان کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ شائستہ بیگم نے انہیں ٹوک دیا۔

” جی جانتی ہوں کہ آپ پٹھان ہیں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ پٹھان اپنے بچوں کی شادی صرف پٹھانوں میں ہی کرتے ہیں۔ مگر بھائی صاحب اس کا مطلب ہم کیا سمجھیں کہ کیا پٹھان ہمیں انسان نہیں مانتے۔ کیا ہم مسلمان نہیں۔ کیا ہم اللہ اور اس کے رسول کو نہیں مانتے۔ ایسا تو نہیں ہے نہ تو پھر اس کا کیا مطلب ہے۔ میرا بیٹا ماشاءاللہ سے ابھی پڑھائی سے فارغ ہوا ہے۔ بہت جلد کام پر بھی لگ جائے گا۔ آپ یہ اس کی تصویر دیکھ لیں اور کسی بھی قسم کی تصدیق کرنا چاہیں تو آپ کر سکتے ہیں۔”

شائستہ بیگم نے بہت ہی گہرے اور خوبصورت الفاظ کا سہارا لے کر ان کے دل میں موجود اس بات کو ختم کرنا چاہا جس میں کافی حد تک وہ کامیاب ہوگئی۔

دلاور خان اور جہانگیر خان نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر ان کے ہاتھ سے وہ تصویر لے لی جس میں آریان مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہا تھا بالکل ایک شہزادے جیسا۔

” ہم اپنی بہن سے پوچھ کر بتاتے ہیں آپ کو۔” دلاور خان نے کہا تو وہ خوشی سے سر ہلا گئی انہوں نے انکار نہیں کیا تھا یہ ہی بہت تھا۔

چائے پی کر اور مزید کچھ باتیں کرتے وہ چلی گئی تھی۔

💞
💞
💞

” لالہ کون تھا ہے؟” ان کے جانے کے بعد حورم ان کے پاس آکر بیٹھتے بولی۔

آریان کے بارے میں تو دلاور خان سب جانتا تھا اور جہانگیر خان اور زریں بیگم کو بھی بتا چکا تھا۔ کئی بار اس کی ملاقات ہو چکی تھی آریان سے۔

اس کا اخلاق اور لہجہ دیکھ ہی وہ جان گیا تھا کہ بہت اچھی تربیت کی گئی ہے اس کی۔

” بیٹا ادھر آو۔” جہانگیر خان نے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ سر ہلاتے ان کے پاس چلی گئی۔

” بیٹا تمہارے لئے رشتہ لائی تھی یہ خاتون۔” جہانگیر خان نے جھجھکتے اپنی بات کہی تو حورم نے جھٹکے سے انہیں دیکھا۔

” ابوووو یہ تم کیا۔۔” حورم نم آنکھوں سے انہیں دیکھ بولی۔

” نہیں نہیں بچے روتے نہیں۔ دیکھو شادی تو تم نے ایک دن کرنا ہی ہے نہ تم ایک بار دیکھ لو باقی جو تمہارا مرضی ہو گا ہم وہی کرے گا ہمممم۔” اس کی نم آنکھوں کو دیکھتےتڑپ کر کہا ان کی بات نے حورم کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

اس نے جہانگیر خان کے ہاتھوں سے لیا۔ آریان کی تصویر دیکھ اسے بہت حیرت ہوئی۔

سب اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے اس کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *