Meri Pathani by RB Writes Season 1 NovelR50538 Meri Pathani (Episode 07)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 07)
Meri Pathani by RB Writes
” ارے اس کو تو میں جانتا ہے۔” آریان کی تصویر دیکھتے وہ بولی تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
” اچھا کہاں دیکھا ہے اسے۔” دلاور خان بولا تو اس نے اس کی جانب دیکھا۔
” وہ لالہ ہم نے نہ اس کا گاڑی ٹھوک دیا تھا مگر اس نے نہ ہمارے خلاف پولیس کیس بھی نہیں کروایا تھا اور ہم سے پیسہ بھی نہیں لیا تھا۔” کچھ باتیں گول کرتے وہ بولی تو سب نے سر ہلایا۔
دلاور تو اچھی طرح واقف تھا آریان کی نیچر سے۔
” اچھا تو اب بیٹا اپنا فیصلہ تو بتا دو ہم ہاں کردیں کیا؟”” جہانگیر خان بولے تو حورم نے ایک بار پھر اس کی مسکراتی تصویر کو دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں حورم نے ہمیشہ اپنے لئے عزت دیکھی تھی۔ اور اس دن جب وہ بینچ پر اس سے فاصلے پر بیٹھا تھا تو اسے بہت اچھا لگا۔
وہ چاہتا تو اسے اکیلا دیکھ تنگ کر سکتا تھا مگر اپنی حد وہ جانتا تھا۔
کچھ دیر مزید اس کی تصویر دیکھتے اس نے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔
” میرا پیارا بیٹا۔” جہانگیر خان نے کہہ کر اسے سینے میں بھینچ لیا۔ باپ کی محبت سے آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئیں۔
” ابو میں بھی آپکا ہی بیٹا ہوں۔” دلاور خان نے ادھر بیٹھے منہ بسور کر کہا تو جہانگیر خان ہنس دئے اور اپنا دوسرا بازو وا کیا جس میں فورا دلاور خان سما گیا۔ زریں بیگم نے نم آنکھوں سے سب کا پیار دیکھا اور ہمیشہ یونہی انکی خوشیوں کی دعا کی۔



آریان اس وقت لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی چینلز آگے پیچھے کر رہا تھا کسی بھی چیز میں اسے کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی۔
وہ وہی بیٹھا ہوا تھا کہ شائستہ بیگم گھر میں داخل ہوئی۔
” اسلام علیکم ماما۔” آریان اٹھتا کچن سے ان کے لئے پانی لے کر آتا بولا۔ شائستہ بیگم نے چادر سائڈ پہ رکھتے اس سے پانی کا گلاس لیا اور گھٹا گھٹ پی لیا۔
” وعلیکم اسلام بیٹا خوش رہو۔” شائستہ بیگم نے خوش ہوتے اسے دعا دی۔
” کہاں گئی تھی آپ؟”” آریان ان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا تو شائستہ بیگم کے آنکھوں کے پردوں پہ حورم کا چہرا لہرایا انکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آئی۔
آریان نے ناسمجھی سے انکا مسکراتا چہرہ دیکھا۔
” تمہارے لئے لڑکی دیکھ کہ آئی ہوں۔ ماشاءاللہ سے مجھے تو بہت پسند آئی ہے۔ بس وہ لوگ انکار نہ کردیں۔” شائستہ بیگم بنا آریان کا ہونک چہرہ دیکھے اپنی ہی دھن میں بولتی گئی۔
” ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔” آریان فورا ہوش میں آتا بولا۔ شائستہ بیگم نے آئبرو اچکائے اسکا ری ایکشن دیکھا۔
” کیا مطلب کیا کہہ رہی ہوں۔” شائستہ بیگم نے کہا تو آریان نے گہری سانس لے کر خود کو ٹھنڈا کیا۔
” دیکھیں ماما آپ نہ پلیز ایسا مت کریں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔” آریان گھٹنوں کے بل بیٹھتا انکے ہاتھ تھامتا التجائی لہجے میں بولا۔ شائستہ بیگم کا دل پگھل رہا تھا مگر انہوں نے خود پہ قابو پاتے اس پر سے نگاہیں پھیری کہ حورم جیسی لڑکی انہیں پھر کبھی نہیں ملے گی۔
” آریان یہ میرا آخری فیصلہ ہے بس۔” شائستہ بیگم نے اپنے ہاتھ آریان کی گرفت سے آزاد کرواتے ہوئے کہا۔
” تو پھر ٹھیک ہے سن لیں آپ بھی میں کسی سے شادی نہیں کرنے والا۔” آریان کھڑے ہوتے بولا تو شائستہ بیگم بھی کھڑی ہوگئی۔ آریان کہہ کر باہر کی جانب جانے لگا مگر شائستہ بیگم کی بات نے اسکے قدم روک دئے۔
” اگر تم نے انکار کیا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے تم۔” شائستہ بیگم بولی تو آریان نے مڑ کر حیرت سے انہیں دیکھا جو کہ اب نظریں چرا رہی تھی۔
آریان بنا انکی بات کا جواب دئے خد پہ قابو کھوتے فورا باہر چلا گیا۔ پیچھے شائستہ بیگم سر تھام کر رہ گئیں۔



” مورے کیا بنا رہا ہے تم۔” زریں بیگم کو کچن میں دیکھ حورم انکے پاس آتے بولی۔
” میں اپنی بچی کی پسند کا بریانی بنا رہی ہوں۔” حورم کا ماتھا چوم کر زریں بیگم بولی تو حورم کے چہرے پہ خوشی کی لہر دوڑی۔ بریانی کی خاطر تو وہ کسی کا قتل بھی کر سکتی تھی ایسا کہنا دلاور کا تھا۔
” واہ مورے تم نے میرا دل خوش کر دیا.” حورم خوشی سے بولی اس کی خوشی پر اندر آتا دلاور ہنس دیا۔
” بھئی تمہارا دل تو ہر کھانے کا نام سنتے ہی خوش ہو جاتا ہے۔ بڑا بھوکا دل ہے تمہارا۔” دلاور ہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے بولا۔ تو حورم نے ہمیشہ کی طرح آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا۔
” ماڑا لالہ یہ والا گستاخی مت کرنا۔ امارا دل کو اگر تم نے کچھ بولا تو ام تم کو چھوڑے گا نہیں۔” حورم انگلی اس کی جانب کئے وارننگ دیتے بولی۔
” وئی ماڑا میں تو ڈر گیا۔” دلاور ہاتھ اوپر کئے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا پھر اگلے ہی لمحے دونوں کے چھت پھاڑ قہقہے بلند ہوئے۔ زریں بیگم نے انہیں دیکھتے نفی میں سر ہلایا کہ ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
پہلے ایسے لڑتے ہیں جیسے ایک دوسرے کی جان لے لیں گے اور اگلے ہی لمحے ایسے ہو جاتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
” مورے اس کو نہ زیادہ زیادہ کھانا دو بچاری کچھ دنوں کی مہمان ہے۔” دلاور اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے آنکھوں میں شرارت لیے بولا تو حورم نے اپنی کہنی اس کے پیٹ پر ماری جس سے دلاور کراہتے ہوئے پیچھے ہوا۔
” لالہ ام تم کو نہ مہمان بنا دے کچھ دنوں کا۔” حورم غصے سے بولی تو دلاور ہنسنے لگا۔
” وئی وئی بچاری اب رونا مت تم تو بس کچھ دنوں کا مہمان ہے۔” دلاور اب بھی اسے تنگ کرنے سے باز نہ آیا۔
” مورے دے تہ او وایا چہ مہ کوا۔”
( مورے اسے بولیں نہ کہ مت کرو )۔ اسے باز نہ آتے دیکھ وہ زریں بیگم کو بولی جو ٹماٹر کاٹ رہی تھی۔
” تم لوگ اپنا لڑائی میں مجھے مت شامل کرو کام ہے ماڑا مجھے۔” زریں بیگم مصروف سی لہجے میں بولی۔
ان کے یوں کہنے پر دلاور نے زبان چڑھائی۔
” وئی وئی جاڑا مہ بچیا۔”
( وئی وئی رونا مت بچے۔ )
اسے دیکھتے دلاور ہنستے بولا تو حورم نے دانت پیستے اسے دیکھا۔
” وئی لالہ دعا نے تو ام کو تمہارے لئے پیغام دیا تھا ام تو بھول ہی گیا۔” کچن سے نکلتے حورم اونچی آواز میں سر پر ہاتھ مارتے ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔
دعا کا نام سنتے دلاور کے کان کھڑے ہوگئے۔ وہ فورا اس کے پیچھے لپکتا لاونج میں گیا۔
اور اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا حورم نے مسکراہٹ دبائی۔
” ہاں تو اب یاد آگیا اب دے دو پیغام۔” دلاور بولا تو حورم نے نفی میں سر ہلایا۔ دلاور نے ناسمجھی سے اسکے ادھر ادھر ہلتے سر کو دیکھا۔
” نہ ماڑا ابھی یاد ہے تم کو۔” حورم نے کہا اس کا اشارہ اسے کچھ دیر پہلے تنگ کرنے کی طرف تھا۔
دلاور نے معصوم نظروں سے اسے دیکھا مگر دل ہی دل میں اسے سنا رہا تھا۔۔
” میری پیاری بہن نہیں ہو۔ ذمہ زڑگئی۔” ( میرا دل )
دلاور التجائی نظروں سے اسے دیکھتے بولا اگر کوئی اور ہوتا تو شاید اس کی معصوم شکل دیکھ کر پگھل جاتا مگر یہاں کوئی اور نہیں بلکہ حورم خان تھی۔ جو اپنا بدلہ نہیں چھوڑتی۔
” نہ لالہ نہ دا پہ ما کار نہ کوی۔”
( نہیں لالہ نہیں یہ سب مجھ پہ کام نہیں کرتے۔ )
حورم اپنی انگلی اور سر ادھر ادھر گھماتے بولی تو دلاور نے دانت پیستے اسے دیکھا ناجانے کس مٹی کی بنی تھی۔
” چل پھر میں تجھے باہر لے کر جاو گا۔” دلاور نے کہا تو حورم کی آنکھیں چمکی۔
” ہاں ٹھیک ہے چلو جب گھوم کر آجائیں گے تب بتا دوں گا۔” حورم اپنے مطلب کی بات کرتے بولی۔ تو دلاور کو بھی چاروناچار اس کی بات مانتے اسے باہر لے کر جانا پڑا ۔
اچھی طرح اسے تنگ کرکے اس کے پیسے خرچ کئے اس نے مگر دلاور بچارہ محبت میں اندھا کچھ کہہ نہ پایا۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ گھر لوٹے حورم آتے ہی صوفے پر ڈھے گئی۔ دلاور بھی اس کے ساتھ آ کے بیٹھا۔
” اب بتاو کیا پیغام ہے۔” دلاور بولا تو حورم کے بھی دماغ میں صبح والی بات آئی اور اس کے چہرے پر کمینی مسکراہٹ چھا گئی۔
” ارے لالہ میں نے ایسے کب کہا کہ اس کا پیغام تمہارے لئے ہے میں نے تو یہ کہا تھا کہ اس کا پیغام میرے لئے ہے۔” حورم فورا پینترا بدلتے بولی دلاور کے تو کچھ دیر سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے مگر پھر کچھ ہی دیر لگی ساری بات سمجھنے میں ۔ اس نے رونے والا چہرہ بنا کر حورم کو دیکھا جو قہقہہ لگاتے بھاگ گئی۔
دلاور فورا غصے سے لال ہوتا اس کے پیچھے بھاگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں پورے گھر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا دنوں نے۔ پہچان میں ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی کچھ دیر پہلے کا صاف ستھرا گھر ہے۔



جہانگیر خان نے شائستہ بیگم کو کال کر کے رشتے کے لئے ہاں کر دی تھی۔ جسے سن خضر صاحب اور شائستہ بیگم بہت خوش کوئے۔ مگر آریان بالکل بھی خوش نہ ہوا۔
وہ تو یہ شادی صرف اپنی ماں کی خوشی کے لئے کر رہا تھا۔
کہاں اس نے خواب دیکھ لئے تھے اپنے اور حورم کی شادی کے اور کہاں یہ سب ہو رہا تھا۔
اس نے خاموش ہوتے اپنا فیصلہ اپنے رب کے سپرد کر دیا تھا اور ہمارا رب کب اپنے بندوں کا برا چاہتا ہے۔
جو چیز ہمارے لئے لکھ دی جاتی ہے بے شک وہ ہمارے لئے اچھی ہوتی ہے۔
دعا اور دلاور اور حورم اور آریان کا نکاح اور رخصتی ایک ہی دن طے کی گئی۔ کہ یہ منگنی کی رسم ان کے لئے بس فضول تھی۔
اگلے ماہ ان سب کا نکاح طے پایا گیا تھا۔
جاری ہے۔
