Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 05)

Meri Pathani by RB Writes

” کیا ہوا کیا کہتا ہے وہ لوگ۔” ان کے گھر پہنچتے ہی دلاور خان بے تابی سے ان کے قریب آکر بولا۔ اس کی اس قدر پریشانی پر سب نے مسکراہٹ دبائی۔ اس کی آنکھوں میں پلتی دعا کے لئے محبت کون نہ دیکھ پاتا۔

” انہوں نے انکار کر دیا۔” جہانگیر خان سیدھے ہو کر بیٹھتے سنجیدگی سے بولے تو دلاور نے جھٹکے سے انہیں دیکھا۔

” کیوں کیوں انکار کر دیا۔” دلاور آہستہ آواز میں بولا اس کی تو آواز ہی گم ہوگئی تھی۔ سب کے لئے اپنی مسکراہٹ ضبط کرنا مشکل ہوگیا۔

” ماڑا لالہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ انکار کر دے گا مگر تم نے ہمیں زبردستی بھیج دیا دیکھو کروا دیا نہ بےعزتی۔” حورم افسوس سے بولی تو سب نے ہی اس کی بات کی تائید میں دکھی سا سر ہلایا بچارہ دلاور تو کچھ بولنے کی حالت میں ہی نہیں تھا۔

” مگر انہوں نے انکار کیوں کیا۔” دلاور ایک آخری بار پھر منمنایا اسے سمجھ ہی نہیں آئی ان کے انکار کی وجہ۔

” دعا کہتا ہے کہ تم بہت غصہ کرتا ہے اس لئے میں تم سے شادی نہیں کرے گا۔” حورم بولی سب نے ہی اس کی بات پہ سر ہلایا ابھی وہ اسے مزید تنگ کرنا چاہتے تھے۔

” میں کدھر غصہ کرتا ہے۔ مورے میں غصہ نہیں کرتا نہ۔” دلاور خان بولتا آخر میں بچوں کی طرح اپنی ماں کو دیکھتا منہ بنا کر بولا۔ ان سب سے اب مزید برداشت نہ ہوا تبھی اس کی بات پر تینوں قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔

دلاور نے ناسمجھی سے انہیں یوں ہنستا دیکھا۔

” کیا ہوا تم لوگ ہنستا کیوں۔” دلاور سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھتا بولا تو سب نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ہاں کردی۔ دلاور کا تو دل جھوم اٹھا۔ مگر پھر کچھ یاد آتے حورم کو گھورنے لگا۔

” وئی قربان شم لالہ۔”

( قربان جاوں لالہ۔)

حورم اس کو دیکھ ہنستے ہوئے بولی۔

” یہ تم نے ام کو تنگ کیا تھا نہ اسی کا بدلہ لیا ہے میں نے۔” حورم اکڑ کر بولی جیسے ناجانے کتنا بڑا کام کر دیا ہو۔

” تا خو اس نہ پریگدم۔”

( تمہیں اب میں نہیں چھوڑوں گا۔ )

دلاور اس کے پیچھے بھاگتا بولا حورم اس کے بولتے ہی اس سے دور جا بھاگی اور دلاور اس کے پیچھے بھاگ گیا۔ پیچھے جہانگیر خان اور زریں بیگم ان کی حرکتوں پر ہنس کر رہ گئے۔

💞
💞
💞

” لالہ چلو نہ باہر چلتا ہے۔” حورم اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی جو کہ موبائل میں مصروف تھا۔

” ولے۔”

“( کیوں؟ )

دلاور خان آئبرو اچکائے اس سے پوچھنے لگا اس کے اس انداز پر حورم دانت پیستے رہ گئی۔

” لالہ دیکھو نہ تم اتنے دنوں سے مجھے باہر نہیں لے کر گیا۔ میں گھر میں تنگ آگیا ہوں ماڑا تم سمجھتا نہیں ہے۔” حورم اسے دیکھ کر بولی تو اس نے ایسی نظروں سے دیکھا کہ حورم شرمندہ ہوگئی۔ کہ مطلب ہر وقت تو وہ دعا کے ساتھ کہیں نہ کہیں چلی جاتی اور اب کہہ رہی ہے کہ گھر میں رہتے رہتے تنگ آگئی ہے۔ واہ بھئی حورم۔

” امارا مطلب ہے کہ ماڑا چلو نہ دعا کے لئے کچھ خرید لینا تم میں اپنے لیے کچھ لے لیتا ہوں۔” حورم فورا ہی دوسرے الفاظ تلاشتے دعا کو بات میں لاتے بولی۔ دعا کے ذکر پر دلاور کا دل زور سے دھڑکا مگر اپنی حالت پہ قابو پا گیا۔

” وہ کل کا یاد ہے تمہیں۔” دلاور خان روایتی بھائیوں کی طرح اس کو یاد دلاتا بولا کہ کل اس نے اسے تنگ کیا تھا تو اب وہ کیوں اسے لے کر جائے۔

” ماڑا لالہ تم تو دل پر لے گیا ہے میں نے تو مذاق کیا تھا ماڑا۔” حورم کا دل تو اس کی بات سن کر غصے سے بھر گیا مگر ابھی اسے مطلب تھا جس کی وجہ سے وہ کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتی تھی۔

” اچھا ٹھیک ہے میری ماں چلو لیکن آئندہ ایسا کیا تو میں بھی چھوڑو گا نہیں۔” دلاور اٹھتا بولا تو حورم فورا خوش ہوتی چادر لینے کے لئے بھاگ گئی اس کی خوشی پہ دلاور مسکرا کر رہ گیا۔

💞
💞
💞

” ماڑا لالہ یہ والا دیکھو۔” حورم اس کو دوسری انگوٹھی دکھاتی بولی جو کہ بہت ہی خوبصورت تھی۔ دلاور کو بھی وہ پہلی نظر میں ہی پسند آگئی۔

وہ دونوں اس وقت مارکیٹ میں تھے۔

” ہاں یہ اچھا ہے مگر مجھے تو اس کا سائز ہی نہیں پتہ۔” دلاور پہلے خوش ہوتا پھر بعد میں اداس سا بولا حورم کو اس پہ ٹوٹ کر پیار آیا۔

” وئی ماڑا تہ ولی خفا کی گے۔

(ماڑا تم کیوں خفا ہوتا ہے۔ )

حورم اسے دیکھ کر بولی جس پر دلاور نے اسے دیکھا کہ اب مہارانی کیا بات کرے گی۔

” ماڑا اس کا اور میرا سائز ایک ہی ہے تم میرے ہاتھ میں چیک کرلو۔” حورم اپنا ہاتھ اس کے آگے کرتے بولی تو دلاور خان نے بڑی پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا کہ آج کام آہی گئی۔

” آریان چل نہ یار۔” فرحان اس کے قریب آتا بولا۔

” ہاں آرہا ہوں نہ یار۔” آریان کہہ کر آگے بڑھ گیا مگر ایک جگہ پر اس کے قدم جیسے منجمد ہوگئے۔

وہ ساکت سا سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔

جہاں حورم ایک لڑکے کے ساتھ کھڑی تھی۔ دلاور خان اس کے ہاتھوں میں انگوٹھی پہنا رہا تھا جسے پہن کر حورم کے چہرے پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ چھا گئی۔

ایک چمک سی اس کے چہرے پر موجود تھی۔ جس کا مطلب آریان کچھ اور ہی اخذ کر گیا۔

” اس کا دم گھٹنے لگا وہاں پر وہ فورا وہاں سے نکلتا چلا گیا مگر آنکھوں کے آگے یہ منظر بار بار آرہا تھا۔

💞
💞
💞

” بہن جی اب میرا دل کرتا آریان کی شادی کردوں۔” شائستہ بیگم آفرین بیگم ( رشتے والی آنٹی ) کو بولی۔

” ہاں بہن کیوں نہیں ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ہے میرے پاس۔” آفرین بیگم فورا خوش ہوتے بولی۔

” مجھے لاکھوں میں ایک لڑکی چاہیے جس میں وہ ہر گن ہو جو کہ آریان کے ساتھ بالکل پرفیکٹ لگے۔” شائستہ بیگم بولی تو آفرین بیگم سوچ میں پڑ گئی۔ مگر پھر کچھ سوچ کر مسکرا دی۔

” باجی یہ ایک دو گلیاں چھوڑ کر خان ہاوس ہے جن کی لڑکی بہت خوبصورت ہے۔ ماشاءاللہ ایک بار دیکھو گی تو دیکھتی رہ جاو گی۔ بہت پیاری بچی ہے۔” آفرین بیگم بولی تو شائستہ بیگم کے دل میں اس کی اتنی تعریف پر اس کو دیکھنے کی خواہش ابھری۔

” مگر ایک مسئلہ ہے۔” آفرین بیگم نے کہا تو شائستہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

” وہ کیا ہے نہ کہ وہ پٹھان ہیں۔” آفرین بیگم نے کہا تو شائستہ بیگم مسکرا دی۔

” ارے تو کیا ہوا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔” شائستہ بیگم بولی۔

‘” ارے نہیں وہ تم نے سنا نہیں کہ پٹھان اپنے بچوں کی شادی صرف پٹھانوں میں ہی کرتے ہیں۔” آفرین بیگم بولی۔

” ارے میں سنبھال لوں گی بس اگر لڑکی پسند آجائے باقی اللہ مدد کرے گا۔” شائستہ بیگم بولی تو آفرین بیگم سر ہلا گئی یوں ہی پھر وہ دونوں باتوں میں مصروف ہوگئی۔

💞
💞
💞

دعا اس وقت اپنے کمرے میں لیٹی دلاور خان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

اس کے چہرے پر ایک خاص مسکراہٹ موجود تھی۔

دل تھا کہ اتنا زور سے دھڑکتا جیسے بند ہی ہوجائے گا۔

اس کا انداز ، اس کا نظریں جھکانا ، اس کا دھیما لہجہ

سب ہی قاتلانہ تھے۔

اس کو سوچ ایک شرمگین مسکراہٹ چہرے پر آئی۔

کچھ ہی دنوں میں وہ اس کی ہو جائے گی۔ یہ بات سوچتے ہی وہ اپنا چہرا دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *