Meri Pathani by RB Writes Season 1 NovelR50538 Meri Pathani (Episode 02)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 02)
Meri Pathani by RB Writes
” اوہ ماڑا تم نے ہم کو کیوں روکا۔ وہ کتنا بدتمیزی کر رہا تھا۔ آج تو ہم اس کو قتل کر دیتا۔'” گاڑی جیسے ہی آگے بڑھی حورم دعا کو آڑے ہاتھوں میں لیتے مکا اپنے ہاتھ پہ مارتے دانت پیستے ہوئے بولی۔
” میری جان غصہ ٹھنڈا رکھو۔ وہ تو شکر کرو اس نے ہمیں معاف کردیا ورنہ پولیس کیس بنتا تھا۔” دعا پچکارتے نرمی سے بولتی اسے حقیقت سے روشناس کرواگئی جسے سنتے حورم نے منہ بگاڑا۔
” او ماڑا اپنا منہ ٹھیک کرو پھر میں تم کو پشتو کا گانا لگا کر دے گا۔” دعا اس کا بگڑتا منہ دیکھ مسکراہٹ دبا کر اسی کے انداز میں بولی جس پر حورم ہنس دی اور اپنے کہنے کے مطابق دعا نے اس کے لئے پشتو کا گانا لگایا۔ جس سے حورم کا موڈ دوبارہ خوشگوار ہو گیا۔



” ابے یار کہاں رہ گیا ہے۔” فرحان اسے کال کرتے ہوئے بولا۔
” یار میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔” وہ منہ بنا کر بولا۔
” کیا ہوا ہے یار اور تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔ تو ٹھیک تو ہے کہیں لگی تو نہیں ہے تجھے۔” فرحان پوری بات سنے بغیر ایک ہی سانس میں بولا۔ اس کے لہجے میں آریان کے لئے فکرمندی تھی۔
” ابے اوہ میری بچھڑی معشوقہ پوری بات تو سن لے۔ میں موجود نہیں تھا گاڑی میں پیچھے سے ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ میری نئی نئی دلہنیا کی طبیعت بگاڑ دی۔” آریان شروع میں شوخ ہو کر بولتا آخر میں اپنی بات میں دنیا جہاں کے غم سمیٹ لایا۔
” اوہو پھر تو بہت برا ہوا تیرے ساتھ۔ بیٹا پھر تو تو گھر پہنچ۔ اور اگر تو زندہ بچ گیا نہ تو اپنی رپورٹ دے دینا مجھے۔ اور اگر ٹپک گیا تو بھی کسی طرح خبر پہنچا دی کیوں تیری بریانی میں نہیں مس کرنے والا۔” فرحان اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا جس پر آریان نے دانت پیسے جیسے فرحان اس کے دانتوں میں ہی موجود ہو۔
” بکواس نہ کر سمجھ آئی نہ۔ ورنہ اتنی لگاو گا نہ کہ اگلے دن خود قبر میں اپنی موت کی بریانی کھاتا رہ جائے گا۔” آریان غصے سے بولا جس پر فرحان کا زبردست قہقہہ فون کی سپیکر میں گونجا۔ آریان نے چڑتے اس کی کال کٹ کردی۔
فرحان نے اسے کال کر کے مال میں بلایا تھا۔ اس کو بھی کچھ شاپنگ کرنی تھی جو کہ آریان کے بغیر ادھوری تھی۔ دونوں ہی کی دوستی بےمثال تھی۔
کال کٹ کرنے کے بعد اس کی نظر ایک بار پھر اپنی گاڑی کی جانب اٹھی جس کا حشر وہ لوگ کر چکے تھے۔ گاڑی دیکھتے اس کی آنکھوں کے پردوں پہ ایک بار پھر حورم کا چہرہ لہرایا۔ اس کا بولنے کا انداز ہائے کہ بندہ پہلی ہی نظر میں دل ہار جائے۔
ہائے میری پٹھانی کاش ایک بار پھر مل جاو تم مجھے۔” آریان دل پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر کے شدت سے دعا مانگ گیا۔ اور دعا کب قبول نہیں ہوتی؟۔ ہر دعا ہمارے منہ سے نکلتے ہی قبول ہوتی ہے۔ بس اس رب کے کن کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کہ وہ ضرور کہتا ہے۔ بس ایک وقت ہوتا ہے دعا کی قبولیت کا جو ایک نہ ایک بار ضرور آتا ہے۔
تو کبھی بھی نا امید مت ہوں۔



” حورم یہ کیسا ہے۔” دعا اس کو ایک بلیک کلر کا ڈریس دکھاتے ہوئے بولی۔ جو بہت خوبصورت تھا اور ڈیسنٹ سا تھا۔ حورم نے جب اسے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی پسندیدگی کی چمک اٹھی۔
” اوہ ماڑا یہ تو بہت پیارا ہے۔ اور رنگ بھی کالا ہے۔ تم کو پتہ ہے کالا رنگ میرے لالے کو بہت پسند ہے۔” حورم اس کی جانب دیکھے بغیر بولی جبکہ دلاور خان کے ذکر پر دعا کی دھڑکنیں بےترتیب ہوگئی۔ اس نے بمشکل اپنی حالت پہ قابو پایا۔
دلاور کی آنکھوں میں تیرتی محبت کی لہر تو ہر کوئی آسانی سے دیکھ پاتا تو دعا کیسے نہ دیکھتی۔ اس کی آنکھوں میں محبت کے ساتھ ساتھ دعا نے عزت اور احترام بھی دیکھی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ نظریں جھکا دیتا جو کہ دعا کو بہت بھاتا۔ ان ہی باتوں میں کب وہ اس کے دل پر قبضہ کر گیا وہ جان بھی نہ پائی۔ کچھ حورم کی ہر بات میں اس کا ذکر اسے بہت پسند تھا۔
” ٹھیک ہے پھر یہ پیک کروا لیتے ہیں۔” دعا لب کاٹتے بولی۔ آج اس نے دلاور کے پسندیدہ رنگ کا جوڑا لیا۔ اس کے نام سے منسلک ہر چیز اسے کتنی بھاتی یہ کوئی اس سے پوچھتا۔
” ہاں ماڑا یہ لے لو بہت پیارا ہے یہ۔” حورم اس کی بات سے متفق فورا بولی پھر دعا نے وہ سوٹ پیک کروا لیا۔ اور وہ دونوں آگے کی جانب بڑھ گئیں۔



” یار کیا ہے گھنٹے سے گھمائی جا رہا ہے۔ اتنے سارے شرٹس تو لے لئے اب کیا پورا مال لینا ہے۔” آریان جھنجھلا کر بولا۔ کہ فرحان کی شاپنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ گھنٹے سے اسے گھمائی جا رہا تھا جس پر وہ اب غصے میں آگیا۔
” اوہ میری روٹھی معشوقہ آجا کچھ تیرے لئے بھی شاپنگ کر لیتے ہیں پھر چلتے ہیں۔ تجھے پرفیوم پسند ہے نہ تو آ تجھے پرفیوم لے کہ دیتا ہوں۔” فرحان اس کے غصے کو سنتا مسکراہٹ دبا کر اسے کھینچ کر پرفیوم والے سٹال پہ لے آیا۔
” اوہ ماڑا یہ والا دیکھو۔” جانی پہچانی آواز پر اس نے جھٹکے سے اپنے سائڈ پہ دیکھا جہاں حورم پرفیوم اٹھا کر دیکھتے دعا کو بول رہی تھی۔
اسے دیکھ آریان کا دل باغ باغ ہوگیا۔ نہیں مطلب اتنی جلدی دعا قبول ہو گئی اس کی۔
” اوہ ماڑا اس کا خوشبو کتنا پیاری ہے۔” حورم نے ناک کے قریب اسے سونگھتے کہا جبکہ اس کا خوشبو کو پیارا کہنا آریان کو ہنسی دلا گیا جسے وہ بڑی مہارت سے چھپا گیا۔
” بھائی یہ والا پرفیوم دکھائیں۔” آریان اس کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے سیلز مین کو مخاطب کر گیا جو اس کی بات پر سر ہلا تا اس کو مطلوبہ پرفیوم تھما گیا۔
حورم نے گردن گھما کر جب پیچھے دیکھا تو آریان کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھ اس کی آنکھیں پھیلی۔ اس نے لمحے می
میں بات سمجھتے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا۔
” اوئے تم امارا پیچھا کر رہا ہے۔” حورم اس کو گھورتے ہوئے بولی جبکہ اس کی بات پر آریان نے آنکھیں گھمائی۔
” ہاں نہ تم میری گاڑی ٹھوک کر بغیر پیسے دیے آگئی۔ تو اسی لئے اب میں تم سے پیسے لینے آیا ہوں۔” آریان اس کے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھتا اسے تنگ کرتے بولا۔
” تم کتنا کنجوس ہے ماڑا۔ تم صرف پیسہ لینے کے لئے ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔” حورم اس کو دیکھتے منہ بگاڑتے بولی جس پر وہ آریان کو مزید کیوٹ لگی۔ اس نے اپنی بےساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو بمشکل قابو کیا ہوا تھا۔
” ہاں نہ تو اب غریب بندہ ہوں کہاں سے لاؤں گا میں پیسے۔” آریان چہرے پر دنیا جہاں کی مسکینی طاری کرتے ہوئے بولا۔ اس کے اس طرح کہنے پر حورم نے غور سے اس کا جائزہ لیا مگر اپنے حلیے سے وہ کہیں دے بھی غریب لگا۔
” اوئے ماڑا کتنا کنگلا ہے تم۔” حورم نے کہا تو آریان گڑبڑا گیا۔ کہیں سچ میں ہی وہ اسے کنگلا نہ سمجھ بیٹھے اس کے فیوچر پلینز تو پل میں خاک ہو جانے۔
جبکہ دعا اور فرحان حیران و پریشان دونوں کو ایک دوسرے سے الجھتے دیکھ رہے تھے۔
” حورم چلو چلتے ہیں۔” دعا آریان کو کچھ بولتے دیکھ فورا بولی کہ کہیں دوبارہ انکی لڑائی نہ شروع ہو جائے۔
اس کی بات پر وہ بھی سر ہلاتی ایک آخری نظر آریان پر ڈال گئی جو اب تک اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ وہاں سے چلی گئی جبکہ آریان کی نظروں نے اسے اوجھل ہوتے دیکھا تھا۔



” اسلام علیکم ماما۔'” آریان گھر میں داخل ہوتا اونچی آواز میں سلام کرتا ہوا بولا اور صوفے کی پشت پر سر ڈھے دیا۔
اس کی ماما نے اسے دیکھ مسکراہٹ دبائی۔
‘” وعلیکم السلام جاو عدالت سجی ہے آج تمہارے لیے۔” شائستہ بیگم نے کپڑے استری کرتے کہا تو آریان نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا اسے کچھ سمجھ نہیں آئی ان کی بات۔
” کیوں۔” آریان نے پوچھا تو شائستہ بیگم نے اسے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔
” بیٹا جاو جا کر پوچھ آو۔” انہوں نے کندھے اکچا کر کہا جیسے انہیں کچھ معلوم نہ ہو اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ آریان کو خود یاد نہیں تھا کہ اس نے کیا کیا جو ایک بار پھر عدالت سج گئی تھی۔
” اچھا ٹھیک ہے میں جاتا ہوں۔ یا میرے اللہ میری مدد فرما۔” آریان اٹھتا ہوا بڑبڑا کر بولا جو کہ شائستہ بیگم نے سن لی انہیں بہت ہنسی جسے انہوں نے بالکل نہیں چھپایا۔
آریان لاونچ سے ہوتا سٹڈی روم کی جانب چل دیا جہاں جج صاحب یعنی اس کے والد محترم کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھے۔
” آو بھئی آو منسٹر صاحب کوئی چائے پانی منگواو آپ کے لئے۔” آریان کو اندر آتے دیکھ انہوں نے کتاب سائڈ پر رکھتے اس پر طنز کیا جو کہ آریان تو محسوس نہیں کر پایا۔
‘” نہیں بابا چائے نہیں بس تھوڑا ٹھنڈا پانی منگوا دیں۔” آریان اپنے ہی دھن میں بولا۔
اس کے بولتے ہی خضر صاحب کا ہاتھ اپنے جوتے تک گیا انہوں نے نشانہ لگایا جو کہ بالکل آریان کی کمر پہ لگا آریان درد سے بلبلا گیا۔
” اوئے کھوتے دے پتر کوئی شرم کوئی عقل ہے تجھ میں۔ کل ہی میں نے تجھے نئی گاڑی لے کر دی تھی اور آج کیا حال کر کے آیا ہے تو اس کا۔” خضر صاحب غصے میں بولے تو آریان کو عدالت کھلنے کی وجہ سمجھ میں آئی۔
” بابا اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے میں نے تو گاڑی کھڑی کی ہوئی تھی پیچھے سے کسی نے گاڑی مار دی۔” آریان منہ بناتے اپنی کمر سہلاتا ہوا بولا۔
” ہاں تو پیچھے والا بندہ اندھا تھا کیا اور کوئی پولیس کو بتایا کہ نہیں۔” خضر صاحب تھوڑا ٹھنڈا پڑتے ہوئے بولا جس سے آریان کو بھی ڈھارس ملی۔
” بابا وہ نہ لڑکیاں تھی اس میں تو میں نے سوچا کہ۔” آریان اپنی انگلیوں سے کھیلتا شرماتے ہوئے بولا اس کی بات سنتے خضر صاحب نے اپنا دوسرا جوتا ہاتھ میں لیا مگر اس بار نشانہ چوک گیا۔
” کمینے شرم کر لے کچھ باپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہہ رہا ہے بابا لڑکیاں تھی۔ ” خضر صاحب ایک بار پھر گرجتے ہوئے بولے آریان بچارہ کسی دیو کے ہاتھوں میں سہمی ہوئی ہیروئن کی طرح لگ رہا تھا۔
” اب تجھے میں رکشہ لے کر دوں گا وہ چلاتے رہنا اور اس میں پھر ڈھیروں لڑکیوں کو گھمانا۔” خضر صاحب دوبارہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولے جبکہ آریان خود کو رکشہ ڈرائیور کے روپ میں سوچ رہا تھا۔ ایک جھرجھری سی لی اس نے۔
” نہیں ں ں ں ں ں ۔” آریان کانوں پہ ہاتھ رکھتا چیختا ہوا بولا اور باہر بھاگ گیا پیچھے خضر صاحب اس کی اس حرکت پر قہقہہ لگا گئے اور دیر تک ہنستے رہے ایک یہی تو وجہ تھی ان کی حسین زندگی کی۔
جاری ہے۔
