Meri Dharkano Ko Karar De By Eman Khan readelle50018 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
شام کا ملجگی اندھیرہ اور تیز برستی بارش کچھ خوفناک سا منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔سردیوں کی اس سرد شام میں سات بجے ہی سڑکیں سنسان ہو گٸ تھی
ایسے میں اس بڑے سے گیٹ والے گھر میں بیٹھے دو لوگ تذبذب کا شکار تھے۔۔۔۔۔
اور سامنے بیٹھی وہ عورت التجاٸیہ لہجے میں ان سے درخواست کر رہی تھی
اور ان دونوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا
”دیکھو نجمہ اسامہ ہمارے بچوں کی طرح ہیں۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ایشنال دماغی طور پہ اتنی ڈسٹرب ہے کہ ۔۔۔۔۔وہ ابھی ہماری کوٸی بھی بات سننے پہ رضامند نہیں ہے وہ عدت تک نہیں گزارنا چاہ رہی اسے لگتا ہے حیدر واپس آجاۓ گا اس لیے ہم جذبات میں آکے کوٸی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتے جو اس پہ اثر انداز ہو۔۔۔۔۔
ہاشم نجمہ کی طرف جھک کے انہیں آہستہ آواز میں سمجھا رہے تھے۔۔۔۔۔
بس اس کی عدت گزرنے دیں بس۔۔۔۔
شاٸستہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا
اور نجمہ بھی کچھ سوچ کے خاموش ہو گٸ
اور اندر وہ حیدر کی تصویر دل کے ساتھ لگاۓ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
وہ جتنا جیا کو اس کیس سے دور رکھنا چاہتے تھے وہ اتنا ہی شدید ردعمل کا اظہار کرتی تھی
ابھی ویسے بھی انکواٸیری ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس بات کو جھٹلا رہا تھا جو جرنل نے اس پہ الزام لگایا تھا
جرنل اس وجہ سے بھی پریشان تھا
اوپر سے جیا کی بگڑتی ھوٸی حالت
حالات سمجھ سے بالاتر تھے
انہوں نے اعلی حکام سے اجازت مانگی تھی ملاقات کی
لیکن فلحال وہ اس حق میں نہیں تھے
کم از کم تین سے چار ماہ۔۔۔۔
آخر انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی انکواٸری ختم ہو گی وہ اسے اس سے ملوا دیں گے
مانی تو خیر وہ نہیں تھی لیکن یقین کر لیا تھا
ویسے بھی اس نے ان چار ماہ میں کچھ کرنا تھا۔۔۔۔
محبت کرنے والے کہاں چین سے بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
اور پھر دن پر لگا کے اڑے تھے ایشنال کی حالت سنبھلی تو نہیں تھی لیکن اس نے خود کو وقت کے سانچے میں ڈھال لیا تھا
اس کی عدت ختم ہوٸی تھی۔۔۔۔تو وہ اب چاہتی تھی کہ آگے پڑھ لے
حیدر ہنوز وہی اس کے دل کے کسی نہاں خانے میں تھا۔۔۔۔۔
لیکن اب وہ خود کو مصروف رکھتی تھی
اسامہ پورا پورا دن گھر سے باہر گزار دیتا تھا
نجمہ پریشان تھی وہ کچھ حل چاہتی تھی ۔۔۔
اور حیدر ہنوز ٹارچر سیل میں تھا
جہاں اس پہ روز تشدد کیا جاتا تھا۔۔۔۔
اس کے ناخن تک اکھاڑ دیۓ گۓ تھے
ان تین مہینوں میں اس نے روشنی نہیں دیکھی تھی
اس کی سکن جھلس گٸ تھی۔۔۔۔
لمبی داڑھی آنکھوں کے گرد پڑے حلقے وہ کہیں سے بھی وہ حیدر نہیں لگتا تھا
اس نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا تھا۔۔۔۔۔
جب اچانک ایک دن وہ اس سے ملنے آگٸ تھی۔۔۔۔۔
وہ اس وقت کالے رنگ کے گھٹنوں تک آتے فراک نیچے کالے رنگ کا چوڑی دار پاجامہ پہنے جیل کی سلاخیں پکڑ کے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں کوٸی روشنی چبھی تو اس نے سر اٹھا کہ دیکھا۔۔۔۔
وہ سانولی رنگت والی لڑکی جس نے بال آج باندھ رکھے تھے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی جیسے کوٸی پیاسا پانی کے کنویں کو دیکھتا ہے۔۔۔۔
ساتھ وہی خاکی وردی پہنے شخص ہاتھ میں ٹارچ لیے کھڑا تھا
”جاٶ تم یہاں سے۔۔۔۔“
اس نے اس وردی والے اہلکار کے ہاتھ سے ٹارچ لے کے اسے جانے کو کہا
تھوڑی سی پس و پیش کے بعد وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
اس نے کندھے پہ لٹکتا وہ بڑا سا بیگ ذمین پہ رکھا۔۔۔۔۔
”حیدر شاہ“
اس نے چونک کے سر اٹھایا۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی
حیدر کے چہرے پہ اس کے پکارنے کے باوجود کوٸی تاثر نہیں تھا
نہ حیرت نا دکھ۔۔۔۔
اس کا دل بری طرح سے دکھا۔۔۔۔۔
وہ یونہی گھٹنوں کے بل سر جھکاۓ بیٹھا رہا۔۔۔۔
”آج یہاں نہیں آٶ گے آج تمہیں میں زہر لگ رہی ہونگی نا“؟
طنز کرتے ہوۓ اب اس کی آواز خود با خود اونچی ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔
وہ اب کی بار اٹھ کہ سلاخوں کے قریب آیا تھا۔۔۔۔
سلاخوں کو اسی جگہ سے پکڑا تھا جہاں سے جیا نے تھام رکھا تھا۔۔۔۔
بہت وقت بعد وہ اس کے قریب کھڑا تھا۔۔۔۔۔
وہ چاہ کے بھی اپنے آنسوٶں ضبط نہ کر سکی۔۔۔۔
اور آنسو لڑیوں کی صورت بہنے لگے۔۔۔۔
”بہت برے ہو تم۔۔۔۔۔“؟
بہت برے“
اس نے اس کے ہاتھوں کے ساتھ اپنا ماتھا ٹکا دیا۔۔۔۔
حیدر کو اپنا ہاتھ بھیگتا ہوا محسوس ہوا
”تم مجھے اعتماد میں تو لے سکتے تھے نا۔۔۔۔“
اعتبار تک نہیں کیا۔۔۔۔۔
وہ ذمین پہ گری ٹارچ کی مدہم روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ شکواں کناہ تھی
اور وہ خاموشی سے بس اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”میں یہ سوچ رہی تھی کہ چلو میں اتنی تو سستی ہوں نا کہ تم نے مجھ سے محبت کا ڈھونگ رچایا۔۔۔۔۔لیکن کیا اتنی سستی بھی تھی کہ تم نے مجھے استعمال بھی کیا۔۔۔۔“
کیا تم پاکستانیوں کا فرض تمہیں یہ سکھاتا ہے۔۔۔۔
وہ آنسو صاف کرتی تلخی سے مسکراٸی۔۔۔۔
اس نے اب کی بار سر اٹھایا تھا۔۔۔۔
”جیا ہمارے فرض میں کوٸی رشتہ نہیں ہوتا ہم تو اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنا آپ بھی دیکھاٸی نہیں دیتا۔۔۔۔
وہ بھی دکھ بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر رکی پھر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ کہ رہ گٸ ۔۔۔۔۔
”لیکن اس میں میرا کیا قصور تھا۔۔۔۔“؟
وہ خالی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔۔۔
”میں خود نہیں جانتا کیوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہو گٸ ۔۔۔۔“
وہ اتنا حوصلے مند مرد اس وقت بہت ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا لگ رہا تھا
”صرف مجھے۔۔۔۔۔صرف مجھے۔۔۔۔“
وہ بے یقینی سے منہ ہی منہ بڑبڑاٸی۔۔۔۔
”مطلب تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے“؟
وہ تڑپ کے بولی۔۔۔۔
گرفت سلاخوں پہ مضبوط ہوٸی ۔۔۔۔
”ہاں“
اس نے نظریں چراٸی
اس نے ایک تھکی ہوٸی سانس خارج کرکے جیسے خود کو نارمل کرنے کی ناممکن کوشش کی۔۔۔۔
”میں نے دیکھا وہ بہت خوبصورت ہے“
اس نے مسکرانے کی کوشش کی
وہ مسکرا بھی نہ پایا
بس گہری نظروں سے اسے دیکھ کہ رہ گیا۔۔۔۔
”اچھی لگتی ہے تمہیں“؟
ہونٹ کچلتے ہوۓ جیسے اس نے آنسوٶں پہ بندھ بندھنا چاہا۔۔۔۔
”مجھے نہیں پتہ کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے یا نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ جو یہ وقت اس کے بغیر گزارا ہے۔۔۔۔۔تو ذندگی سے عاری گزارا ہے ایک دن بھی ذندگی محسوس نہیں کی ایک دن بھی سانسوں کا شور سناٸی نہیں دیا۔۔۔۔۔۔“
وہ اب تھکے ہوۓ لہجے میں کہہ رہا تھا
اور جیا کا دل چاہ رہا تھا کہ
اس کا دل پھٹے اور یہی اس کے قدموں میں گر کے مر جاۓ۔۔۔۔
لیکن وہ ضبط کیے کھڑی رہی۔۔۔۔
تو لوٹ جاٶ نا ذندگی کی طرف۔۔۔۔۔“ چلے جاٶ اس کے پاس۔۔۔۔
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی پھر آہستہ آواز میں کہا۔۔۔۔
اور اس نے ایسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیسے“؟
اس نے اپنے لال بیگ میں سے ایک رول ہوا کاغذ نکال کے اس کی طرف بڑھایا
ساتھ ساتھ وہ یہاں وہاں دیکھ رہی تھی
اس نے کچھ سوچ کے تھام لیا۔۔۔۔
ساتھ ہی ایک چھوٹا کالا بیگ بھی۔۔۔۔۔
”یہ کیا ہے“؟
وہ سوالیہ لہجے میں پوچھ رہا تھا
”کھول کے دیکھو “
وہ اب خود کو سنبھال چکی تھی۔۔۔۔
اس لیے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
یہ یہاں سے نکلنے کا خفیہ نقشہ ہے اور اس میں کچھ اوزار بھی ہیں “
وہ اب سرگوشی میں اسے اطلاع دے رہی تھی
وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا
جیسے بے یقین ہو۔۔۔۔
”آخری دفعہ استعمال ہوٸی وہ بھی اپنی مرضی سے۔۔۔۔“
وہ کندھے اچکا کے جانی لگی
پھر پیچھے پلٹی۔۔۔۔
وہ پلٹنے لگا
جب اس نے پکارا۔۔۔
ادھر ہی کھڑے رہو ۔۔۔۔۔حیدر۔۔۔۔۔
میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اس کا سانس اب گھٹ رہا تھا
عجیب سی ٹیس تھی جو دل میں اٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔
سر میں بھی عجیب سا درد تھا
اب وہ کھڑی نہیں ہو پارہی تھی۔۔۔۔۔
حیدر نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تھا
وہ اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
اسے ادراک ہو چکا تھا
کہیں کچھ غلط تھا
مگر اب دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
وہ سلاخوں کو پکڑ کے ذور سے چیخا تھا
”جیا۔۔۔۔۔“کیا کیا ہے تم نے۔۔۔۔۔“؟
وہ سلاخیں توڑنا چاہتا تھا جیسے۔۔۔۔۔۔
وہی رہو حیدر مجھے تمہیں دیکھنے دو
وہ کمزور سے لہجے میں کہہ رہی تھی
”مجھے باہر نکالو کوٸی ہے“؟
خدا کے لیے۔۔۔۔
یہ مر جاۓ گی“
کوٸی ہے“؟
وہ چلا چلا کے کہہ رہا تھا
وہ اب گلے کو پکڑ کے ذمین پہ بیٹھتی چلی جارہی تھی
ساتھ ساتھ کھانس رہی تھی
اسی وقت۔۔۔۔خاکی وردی والے کچھ اہلکار تیزی سے اندر داخل ہوٸی
اور ذمین پہ کھانستی جیا کو دیکھ کہ جرنل کو بلانے۔۔۔۔۔ باہر کی طرف بھاگے
تھوڑی دیر بعد جرنل بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا
جیا ذمین پہ پڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی
وہ ہذیانی کیفیت میں اسکی طرف بڑھے۔۔۔۔
اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔
اس کے منہ سے جھاگ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا
”ڈیڈ پلیز حیدر کے پاس لے چلیں۔۔۔۔“
وہ اٹکتے ہوۓ کہہ رہی تھی
یہ تم نے کیا کر دیا جیا۔۔۔۔۔“؟
اپنے ڈیڈ کا تو سوچتی
وہ بچوں کی طرح رو رہےتھے۔۔۔
ایک خاکی وردی والے نے وہ ذنگ آلودہ تالا کھولا تو و بھاگتا ہوا اس کی طرف بڑھا
اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔
وہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
اس نے حیدر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا
آنکھوں کے سامنے دھند چھا رہی تھی
وہ اسے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی
جو آنسو ضبط کیے بیٹھا تھا
جرنل پاس بیٹھا سر تھامے بچوں کی طرح رو رہا تھا
اس کا کل اثاثہ لٹ گیا تھا
”حیدر۔۔۔۔“
اس نے ہلکی سی آواز میں کہا۔۔۔۔“
ہاں جیا میں پاس ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے بھی بے تابی سے جواب دیا تھا
اس نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں کے قریب لایا
”ابھی بھی نہیں رو رہے مجھے لگا میں مرنے لگوں گی تو رو دو گے۔۔۔۔“
اس کی سانسیں اٹک رہی تھی
وہ ہچکیاں لے رہی تھی
اور تب حیدر کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کے اس کے چہرے پہ بہہ گیا تھا۔۔۔۔۔
”ہوں نا جلد باز محبت کرنے والے یوں ہی جلد باز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔“
اب اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی
بہت ہلکی آواز میں بات کر رہی تھی
”مجھے یاد۔۔۔۔۔“
وہ بات کرتے کرتے ہی خاموش ہو گٸ شاید ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔
اس کا وجود ساکت ہو گیا تھا
تب پاس بیٹھے روتے ہوۓ اس کے باپ کو ہوش آیا تھا
”کٸ دفعہ ذندگی میں آخری مقام پہ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ ۔۔۔۔۔اس نے کیا کھو دیا ہے“
وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کے اس کے ساکت وجود کو جنجھوڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
”جیا میری بچی۔۔۔۔آنکھیں کھولو دیکھو تمہارے ڈیڈ تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔۔“
وہ روتے ہوۓ اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اس سے استفسار کر رہے تھے
پھر انہوں نے ایک نظر خاموشی سے کھڑے حیدر کو دیکھا
جس کے چہرے پہ دکھ کی پرچھاٸیاں تھی
ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا
انہوں نے تیزی سے اس کا گریبان پکڑ لیا تھا
”تم انسان نہیں ہو تم درندے ہو تم نے میری بیٹی کو مار ڈالا میرے پاس ذندگی میں کچھ نہیں بچا میں خالی ہاتھ رہ گیا۔۔۔۔۔“
انہوں نے اس پہ تھپڑوں کی مکوں کی برسات کر دی تھی
لیکن وہ ایک انچ بھی نہیں ہٹا تھا
اب یہاں جیا نہیں تھی اسے بچانے والی
پھر تالہ کھول کہ اسے دوبارہ تہہ خانے میں پھینک دیا تھا
گونگا اب اونچی آواز میں کچھ کہہ رہا تھا
ساتھ ہی سلاخوں کے پار جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا
اسٹریچر پہ جیا کی ڈیڈ باڈی رکھی جارہی تھی
”نامحرم کی محبتیں قرض ہوتی ہیں اور قرض ایک نہ ایک دن ادا کرنا پڑتا ہے چاہے جان کی صورت میں یا عزت کی صورت میں“
اس نے جان دے کے قرض ادا کر دیا تھا
اور وہ بس اسے جاتا دیکھ رہا تھا
اور وہاں خالی ہاتھ کھڑے اس ہارے ہوۓ شخص کے کانوں میں جیا کے آخری الفاظ گونج رہے تھے
”میں سوچتی ہوں ڈیڈ یہ محبت کرنے والے اندھے ہوتے ہیں یا محبت انھیں اندھا کر دیتی ہے۔۔۔۔“
جواب ان کے پاس تھا
لیکن اب وہ جواب لینے واپس نہیں آسکتی تھی۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
وہ پیپرز کا انبار اپنے سامنے پھیلاۓ ہونٹوں میں پن دباۓ حساب کتاب میں مصروف تھی۔۔۔۔۔جب دروازے پہ ہلکی سی دستک ہونے سے اس نے چونک کے سر اٹھایا
پھر مسکرا دی۔۔۔۔
آٸیں بابا۔۔۔۔۔
سامنے دروازے پہ ہاشم ملک کھڑے بغور اسے دیکھ رہے تھے
جو اس وقت سادہ سے کالے رنگ کی قمیض شلوار میں تھی کھلے بال شانوں سے ہوتے ہوۓ کمر پہ پھیلا رکھے تھے۔۔۔۔۔اور گرم شال لپیٹ رکھی تھی
کمرے میں چھوٹا ہیٹر بھی جل رہا تھا
وہ خود کو سنبھال چکی تھی
لیکن چہرے پہ تھکان اور ماتھے پہ تفکر کی لکیریں تھی۔۔۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اس کے قریب گۓ پھر وہی بیٹھ گۓ
”کیا کر رہی تھی“؟
انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
”بابا وہ یونیورسٹی کی اسامنٹ ملی تھی وہی لکھ رہی تھی۔۔۔۔“
”آپ بتاٸیں کیسے آٸیں ہیں۔۔۔۔۔“؟
اس نے مسکرا کہ پیپر سمیٹتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
”ایشنال تم نے اپنی اگلی ذندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے۔۔۔۔۔“
انہوں نے ٹھہرے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
اس کے پیپر سمیٹتے ہاتھ یکدم ساکت ہوۓ
سر اٹھا کہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا
جو جواب کے منتظر تھے۔۔۔۔۔
”کیا سوچنا ہے بابا میں نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا ہے پڑھوں گی“
اس نے دکھ سے مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔۔
”اور شادی“اب تو تمہاری عدت بھی گزر چکی ہے۔۔۔۔۔“
انہوں نے وہ بات کہہ ہی دی جو وہ کہنے آۓ تھے۔۔۔۔۔
اس نے عجیب سی نظروں سے انہیں دیکھا
بوجھ لگنے لگی ہوں آپ کو“؟
وہ تلخی سے بولی
”نہیں میرا بچہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی۔۔۔۔ان کے دکھ بوجھ ھوتے ہیں جو ماں باپ کی کمر توڑ دیتے ہیں۔۔۔۔“
ہمیں پتہ ہے تم اب خوش نہیں رہتی تم رات کو چھپ چھپ کہ روتی ہو۔۔۔ہم سے تمہارا دکھ نہیں دیکھا جاتا تمہاری ماں ہرٹ پیشنٹ ہے پتہ نہیں ہماری اور کتنی ذندگی ہے اور عورت مرد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
وہ اسے رسان سے سمجھا رہے تھے
”میں حیدر کی جگہ کسی اور کو نہیں دے سکتی
اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔۔
”وہ مرچکا ہے“ ایشو واپس نہیں آسکتا ۔۔۔۔۔“
ان کے یوں کہنے پہ وہ تڑپ اٹھی۔۔۔۔
”بابا۔۔۔۔“
اس کی آنکھیں سرخ ہوٸی
”میں بیوہ ہوں بیوہ کو کون قبول کرے گا
اس نے بے بسی سے کہا۔۔۔۔
وہی جو پہلے بھی تمہیں قبول کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
انہوں نے نظریں چرا کہ کہا
وہ بس انہیں دیکھ کہ رہ گٸ
ایشنال یہ اپنے باپ کے جڑے ہوۓ ہاتھ دیکھو
ضد چھوڑ دو اپنی ذندگی میں لوٹ آٶ۔۔۔۔
انہوں نے بے بسی سے ہاتھ جوڑ دیۓ
اور وہ تڑپ اٹھی
بابا مجبور مت کرے
اس نے تھکے ھوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔
میں جھولی پھیلاتا ہوں ایشو ۔۔۔۔“میری بات مان لو
انہوں نے منت بھرے لہجے میں کہا
اور اس کی برداشت جواب دے گٸ۔۔۔۔
بابا خدا کے لیے گناہ گار مت کریں مجھے۔۔۔۔
اس نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔۔۔۔
”آپ جیسا کہیں گے وہیسا ہی ہو گا۔۔۔۔“
اس نے سر جھکا لیا تھا
”جیتی رہو بیٹا
وہ اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کے باہر چلے گۓ
اور اس کی آنکھیں ایک دفعہ پھر برس پڑی۔۔۔۔۔
اب پوری رات اسے پھر رونا تھا
دل کو اسے بھولانے میں ابھی وقت ضرورت تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
اور وہ رات کے اس پہر سر جھکاۓ ماٶف دماغ کے ساتھ بیٹھا تھا
وہ اس کا راستہ آسان کر گٸ تھی
تو کیا مجھے لوٹ جانا چاہیۓ۔۔۔۔۔۔
اس نے سوچا
گونگا ابھی سو رہا تھا
وہ کچھ سوچ کے اٹھ کھڑا ہوا
اطراف کا جاٸزہ لیا
نقشہ نکالا
وہ چھوٹا کالا بیگ کھولا
پین نکالا
تب ہی نظر ایک کاغذ پر پڑی۔۔۔۔
ٹارچ ابھی بھی کہیں جلتی بجھتی پڑی تھی
دکھ میں کسی کو اٹھانا یاد ہی نہیں رہا تھا
روشنی بہت مدہم تھی
وہ دیکھ سکتا تھا مگر اس کاغذ کو کھول کے پڑھ نہیں سکتا تھا
اس لیے فلحال اس نے صرف پین نکالا
اور لاٸحہ عمل ترتیب دینے لگا۔۔۔۔۔
اسے جلد از جلد وہاں سے نکلنا تھا
مارخورز نے دکھ منانا نہیں سیکھا تھا
❤❤❤❤
وہ بیڈ پہ بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت سن رہا تھا جب دروازے سے نجمہ داخل ہوٸی ۔۔۔۔
”اسامہ وہ مان گٸ ہے۔۔۔۔“
انہوں نے اپنی طرف سے خوشی سے اسے بہت بڑی خبر سناٸی تھی
لیکن اس کے دل میں کوٸی ہلچل نہیں مچی تھی
اگر یہی بات وہ پہلے سنتا تو خوشی کے مارے اچھل پڑتا
مگر وقت وقت کی بات ھے۔۔۔۔“
وہ سوچ کہ رہ گیا
نجمہ اب پرجوش لہجے میں کہتے ہوۓ
اسے تیاریوں کا بتا رہی تھی
وہ خوش تھی
اسامہ خوش نہیں تھا
مطمٸین نہیں تھا
اب وہ ایشنال نہیں تھی
حیدر کی بیوہ تھی
جگہ مقام نام بدل چکا تھا
شاید دل بھی۔۔۔۔
❤❤❤❤
جس وقت اس نے تہہ خانے سے باہر پہلا قدم رکھا تھا
اس وقت صبح کی مدہم روشنی پھیل گٸ تھی
اکا دکا دکانیں کھلی ہوٸی تھی۔۔۔۔
اس نے بہت دنوں بعد سورج دیکھا تھا
آنکھیں جلنے لگی تھی
ملجگے لباس۔۔۔۔۔اور بکھرے بالوں کی وجہ سے وہ فقیر معلوم ہوتا تھا
اس نے اس چھوٹے کالے پرس سے اپنا پاسپورٹ نکالا
اس نے ٹیکسی روکی۔۔۔۔
اور ڈراٸیور کو اٸیرپورٹ کا کہہ کے خود شیشے سے باہر دیکھنے لگا
اب وہ آذاد تھا
لیکن دل میں افسوس تھا
جیا کی موت کا۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
شام کے ساۓ پھیلنے لگے ساتھ ہی اس کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔۔۔
آج اس کے نام کے ساتھ اسامہ کا نام جڑنے لگا تھا
دل بے چین تھا مضطرب بھی
سارے مہمان ہال میں جمع ہونے لگے تھے
لان ویران پڑا تھا
پارلر والی ابھی اس کا دوپٹہ سیٹ کرکے باہر نکلی تھی۔۔۔۔
اسی لمحے اس نے خود کو شیشے میں دیکھا تھا
پیچ کلر کے لانگ فراک میں اونچے جوڑے اور ہلکے سے میک اپ کے ساتھ وہ بہت حسین لگ رہی تھی
لیکن مسکرا نہ پاٸی تھی
ابھی وہ ایسے ہی بیٹھی تھی کہ لاٸٹ چلی گٸ
وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی رہی
جب اسے اپنے چہرے پہ کسی کا لمس محسوس ہوا
وہ گھبرا کے اٹھ کھڑی ہوٸی
کون۔۔۔۔۔۔
کککک کون۔۔۔
اس کے منہ سے گھٹی گھٹی آواز نکلی
اس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ ہوا تھا
وہ اندھیرے میں ہاتھ پاٶں ہلا رہی تھی
اس کے منہ پہ بھی کسی نے ہاتھ رکھا ہوا تھا
جب اچانک پورا کمرہ روشن ہو گیا
پھر وہ سانس نہیں لے پاٸی تھی
❤❤❤❤❤
ہوش اسے تب آیا جب دروازہ ذور ذور سے بج رہا تھا۔۔۔۔۔شاید کافی دیر سے کوٸی دستک دے رہا تھا
وہ ابھی بھی اس کے بالکل قریب کھڑا تھا
جس لمحے اسے دیکھا تھا تب دل دھڑکنا بھول گیا تھا سانسیں تھم گٸ تھی
اور اب سانسوں کا شور اتنا تھا کہ باقی ساری آوازیں مدہم تھی
وہ ابھی بھی بے یقین تھی
یوں لگ رہا تھا جیسے خواب ہو۔۔۔۔
”ایشنال تم ٹھیک ہو۔۔۔۔“؟
باہر ہاشم ملک دروازہ بجاتے ہوۓ کہہ رہے تھے
لیکن اسے آواز کہاں آرہی تھی
وہ یک ٹک اس کی صورت دیکھ رہا تھا
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس کے چہرے پہ پھیرنے لگی
یوں جیسے محسوس کرنا چاہ رہی ہو
آنکھوں سے آنسو ایک قطار کی طرح بہہ رہے تھے
اور ان کا وقت جیسے تھم گیا تھا
”ایشنال کچھ تو بولو۔۔۔۔۔“
شاٸستہ بیگم اور نجمہ کی فکرمندانہ آواز گونج رہی تھی
اور اسی لمحے دھڑام کی آواز سے دروازہ کھل گیا تھا
پھر سب جیسے وہی جم گۓ تھے۔۔۔۔۔
سامنے کا منظر ناقابل یقین تھا۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہوش میں آتے ہی دور ہٹی تھی۔۔۔۔
ہاشم ملک نے اسے دیکھا تھا
وہ وہی تھا بلیک جیکٹ پہنے وہ شخص وہی تھا
سب بے یقین تھے
اسامہ کا چہرہ سپاٹ تھا
آخر سب اس ٹرانس سے باہر نکلے تھے۔۔۔۔
”تم زندہ تھے حیدر۔۔۔۔“
سب سے پہلے اسامہ بولا تھا
لہجہ ہنوز سپاٹ تھا۔۔۔۔۔
”ہاں۔۔۔۔“
مختصرا جواب آیا تھا
”میں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔“
وہ ایک نظر سب کو دیکھ کہ وہاں سے جانے لگا۔۔۔۔
پھر مڑا
ایک نظر ایشنال کو سجا سنورا دیکھا
پوچھ سکتا ہوں اتنی تیاری کیوں۔۔۔۔“؟
لہجے میں طنز تھا
ایشنال نے جلدی سے سر اٹھایا
”ایشنال کی یونیورسٹی میں ناٸٹ پارٹی تھی اس کی سب فرینڈز جارہی تھی۔۔۔۔۔میرے کہنے پہ اس نے بھی برٹیسپیٹ کرلیا۔۔۔۔۔“انارکلی کا رول پلی کر رہی ہے۔۔۔۔“
اسامہ نے سہولت سے جھوٹ گھڑا
وہ ایک نظر ایشنال کو دیکھ کہ پھر آگے بڑھ گیا
ایشنال نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا تھا
وہ اب بھی ویسا ہی تھا کچھ نھیں بدلا تھا
اس کی ہر غلطی پہ پردہ ڈال دیتا تھا
پھر آہستہ آہستہ کمرہ خالی ہونے لگا تھا
سب سے پہلے روتی ہوٸی نجمہ نکلی تھی
منہ باپ بچوں کو ہر خوشی نہیں دے سکتے
قسمت سے نہیں لڑ سکتے
پھر شاٸستہ بیگم ایشنال کی طرف آٸی تھی
اس کا ماتھا چوما تھا
”ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔اللہ نے تمہاری سن لی۔۔۔۔“
اسامہ سے نظریں چرا کے وہ باہر نکل گٸ
”جاٶ تمہارا شوہر تمہیں لینے آیا ہے تمہاری خوشی میں ہم خوش ہیں۔۔۔۔۔۔“
ہاشم ملک اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کہ
اسامہ کا کندھا تھپکتے باہر نکل گۓ تھے۔۔۔۔
اب کمرے میں صرف اسامہ اور ایشنال تھے۔۔۔۔۔
”اسامہ۔۔۔۔۔“
وہ اس کے قریب جاکے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔۔۔۔
”مت رو ایشنال۔۔آج تکلیف نہیں ہوٸی مجھے۔۔۔“
وہ اداسی سے مسکرایا
اتنا کچھ کھو دیا ہے۔۔۔۔۔
اک تمہیں کھو دیا تو کیا ہو گیا
تم شروع سے اسی کی تھی۔۔۔۔
تم نے اسی کا رہنا ہے۔۔۔۔
”میری دعا ہے تم خوش رہو۔۔۔۔۔“
وہ مسکرا کہ کہتا ہوا جانے لگا
لڑکھڑاتے ہوۓ پیچھے مڑا
”ایشنال تمہیں تمہارا عشق مجازی اور مجھے میرا عشق حقیقی مبارک ہو۔۔۔۔۔“
وہ کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
وہ وہی کھڑی اس کے لفظوں کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
ایک سال بعد۔۔۔۔
ٹھنڈی ساحل کی ریت پہ وہ ڈوبتے سورج کو دیکھ رہے تھے
پانی کی لہریں ان کے قدموں سے ٹکرا رہی تھی
اور وہ اس کے کندھے پہ سر رکھ کہ بیٹھی تھی
بال ہوا کی وجہ سے اڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
“محبت۔۔۔۔۔“کرتے ہو مجھ سے۔۔۔۔۔“؟
اس نے اس کی طرف دیکھ کہ عجیب سا سوال پوچھا تھا۔۔۔۔۔
”پتہ نہیں کرتا ہوں یا نہیں لیکن تم ساتھ ہو تو لگتا ہے ذندہ ہوں۔۔۔۔“
اس نے محبت سے چور لہجے میں کہا
ساتھ ہی اس کے ماتھے سے بال ہٹاۓ تھے
اسی لمحے اس بڑے ہال میں ۔۔۔۔۔نوبل پراٸز اناٶس کیا جا رہا تھا
اور سب جانتے تھے اس دفعہ بھی یہ ایوارڈ کس کا ہے۔۔۔۔۔
award goes to mister osama khan….
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔۔
اس نے اس ایک سال میں معذور بچوں کے لیے بہت کام کیا تھا
اب وہ اپنی ذندگی سے خوش تھا۔۔۔۔
وہ بیساکھی کے سہارے اٹھا
اور اسٹیچ کی طرف بڑھ گیا
اور اسی لمحے ایشنال اٹھ کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے لگی
ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوۓ اس نے اپنے جیب سے وہ مڑا ہوا کاغذ نکالا تھا
جہاں اس کی وہ آخری تاریخ تھی
”حیدر۔۔۔۔۔۔جب تم یہ خط پڑھو گے تب تک شاید میں نہ رہوں۔۔۔۔میں ذندگی سے لڑتے لڑتے نہیں محبت سے لڑتے لڑتے تھک گٸ ہوں۔۔۔۔۔انسان تب تھک جاتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ یہ رفاقت تو بے سود ہے۔۔۔۔محبت کرنے والے صلہ کہاں مانگتے ہیں۔۔۔۔۔ایک طرفہ محبت اس دنیا کی اذیت ناک حقیقت ہے جس میں ایک شخص سو جاتا ہے اور اسی کی محبت میں گرفتار شخص پوری رات جاگتا ہے۔۔۔۔۔یہ محبت کا فلسفہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ایک کا دامن بھر جاۓ تو دوسرا خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔ایک کی دھڑکن کو قرار ملتا ہے تو ۔۔۔۔تو دوسرے کی دھڑکنیں تمام عمر بے قرار رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔ہم سب محبتوں میں گرفتار ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن ہم سب کو محبتیں ملتی نہیں ہیں۔۔۔۔۔تمہاری محبت نے میری دھڑکنوں کو بے قرار کیا تھا۔۔۔۔۔تمہارے فراق نے میری دھڑکنوں کو روک دیا۔۔۔۔۔
کبھی فرصت ملے۔۔۔۔۔۔کبھی میں یاد آٶں تو تمہاری آنکھیں تمہیں نم لگیں تو سمجھ لینا میری دھڑکنوں کو قرار مل گیا۔۔۔۔۔
خط فولڈ کرتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں سے آنکھوں کو ذور سے رگڑا
اور ایشنال کی طرف بڑھ گیا
جو مسکراتے ہوۓ اسے پکار رہی تھی۔۔۔۔
ختم شد
