75.9K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

سفید اونچی چکور عمارت کے باہر اس وقت لوگوں کا بہت رش تھا شام کے ساۓ مدہم ہو رہے تھے اور اس جگہ ستمبر کے اختتام میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہواٸیں چل رہی تھی جگہ جگہ لڑکے اور لڑکیاں مسکراتے ہوۓ دیکھاٸی دے رہے تھے کچھ محبت کی قسمیں وعدوں میں مصروف تھے کچھ محبت کی اس نشانی ”تاج محل“ کے باہر محبت کی نشانیاں سونپنے میں مصروف تھے
اس رش میں وہ فوارے کے ایک طرف درخت کے ساتھ ٹیک لگاۓ الگ تھلگ سا کھڑا تھا
سفید ٹی شرٹ بلیک ٹراٶزر والا وہ لڑکا کسی گہری سوچ میں گم تھا
نظریں کسی غیر مرٸی نقطے پہ مرکوز کر رکھی تھی
یکدم اس نے چونک کے گھڑی پہ ٹاٸم دیکھا
پھر یہاں وہاں نظریں گھماٸی
پھر بیزاری سے ہونٹ بھینچ کے وہی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
جب اسے اپنے کندھے پہ ہاتھ کا بوجھ محسوس ہوا پھر پیچھے پلٹا۔۔۔۔
اور پھر زبردستی مسکرایا
وہ شارٹ اسکرٹ پہنے کھلے اسٹیرٹ بالوں والی لڑکی ہولے سے مسکراٸی تھی
ٹانگیں برہنہ تھی۔۔۔۔۔وہ فرصت سے تیار ہو کے آٸی تھی
اور وہ بظاہر مسکراتے ہوۓ بھی جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا۔۔۔۔
”ارے آپ نے اتنی جلدی کا ٹاٸم دے دیا میں تو صرف ایک فیور مانگا تھا آپ جب بھی فری ہوتی آجاتی ملنے“
اس نے چھوٹتے ہی کچھ شرمندگی سے کہا
”میں آپ کے لیے تو ہر ٹاٸم فری ہوں“
اس نے ہولے سے مسکراتے ہوۓ کندھے اچکاۓ۔۔۔۔
وہ ایک دفعہ پھر اس کے سحر میں گرفتار ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ بھی جوابا مسکرایا
”وہ دونوں اب ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔۔۔۔“
”بس میں نہیں چاہتی تھی آپ اور وقت کسی ہوٹل میں گزار دیں“
وہ کچھ جتاتے ہوۓ مسکرانے لگی
وہ ہنوز مسکرا رہا تھا
”تو پھر ”آپ نے میری رہاٸش کا کیا انتظام کیا۔۔۔۔۔“؟
وہ اب جیبوں میں ہاتھ ڈالے بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
”آپ گس کریں۔۔۔۔۔“
اس نے بالکل اس کے قریب ہوتے ہوۓ کہا
وہ اب بالکل اس جگہ پہ کھڑے تھے جہاں ان کے پیچھے تاج محل کی عمارت تھی
لوگوں کا رش بڑھ رہا تھا
”میں کیسے گس کر سکتا ہوں۔۔۔۔“
اس نے لاپراہی سے کندھے اچکا دیۓ
”آپ میرے ساتھ رہیں گے میرے گھر میں۔۔۔۔۔“؟
اس نے تحکم سے کہا
وہ اس سے پوچھ نہیں رہی تھی حکم دے رہی تھی
وہ یکدم چونکا تھا
چہرے پہ سایہ سا لہرایا تھا
کم از کم یہ پلین کا حصہ نہیں تھا
نہ وہ ایسی بات کی توقع کر رہا تھا
وہ پاس ضرور رہنا چاہتا تھا لیکن اس گھر میں نہیں جہاں اس کے لیے خطرہ تھا
”میں آپ کے گھر کیسے رہ سکتا ہوں“
اس نے مصنوعی ناسمجھی ظاہر کی۔۔۔۔
پین گیسٹ کی حیثیث سے۔۔۔۔
اس نے جیسے مسٸلہ ہی حل کر دیا تھا
وہ ٹھیک سے مسکرا بھی نہیں سکا۔۔۔۔۔
”تو آپ کے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہو گا“؟
اس نے کان کھجاتے ہوۓ کریدنا چاہا۔۔۔۔۔
”نہیں تو فیملی میں ہے ہی کون ایک میرے بابا وہ آرمی جنرل ہیں ان کے پاس ٹاٸم کہاں ہوتا ہے۔۔۔۔۔“ویسے بھی وہ میری کوٸی بات ٹالتے نہیں ہیں۔۔۔۔
وہ بات کے اختتام میں پرجوش ہوٸی
وہ ہونٹ سکیڑے تھوڑی دیر کچھ سوچتا رہا
”آٸیڈیا برا نہیں تھا۔۔۔۔۔“
”ٹھیک ہے ہمیں قبول ہے آپ کی قربت ۔۔۔۔۔“
اس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے سر کو خم دے کے ذومعنی مسکراتے ہوۓ کہا
اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوٸی مسکراہٹ سمٹی اور اس نے نظریں جھکا لی
پھر وہ گاڑی کی سمت بڑھنے لگی
وہ ایک نظر تاج محل کی اس سفید عمارت کو دیکھتا ہوۓ اس کی پیروی میں آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
وہ گھر اس کے لیے سیو تھا یہ اس کی غلط فہمی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
کمرے کے اس سکوت کو مسز ہاشم کی تفتیشی انداز میں کی جانے والی گفتگو نے توڑا۔۔۔۔
جب سے ایشنال نے انہیں بتایا تھا کہ وہ واپس لاہور چلا گیا ہے اور کچھ دن ایشنال یہی رہے گی تب سے مسز ہاشم اسے کرید رہی تھی
انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ وہ بتا کے بھی نہیں گیا تھا اور سکیورٹی گارڈ نے اسے باہر جاتے ہوۓ بھی نہیں دیکھا تھا پھر وہ دیوار پھلانگ کے گیا تھا“؟
ان کے اتنے سوالوں کے جواب میں دوسرے صوفے پہ بیٹھی ایشنال بس ہاں ہوں میں جواب دے رہی تھی
اس کا ذہن سن تھا
اور نظریں ٹیبل پہ پڑے گلاس پہ جما رکھی تھی۔۔۔۔
”بات ہوٸی ہے تمہاری اس سے ؟ بتایا کہ بتاۓ بغیر اتنی جلدی لاہور کیوں لوٹ گیا“؟
وہ مشکوک لہجے میں پوچھ رہی تھی
ماں تھی اس شادی کی وجہ سے وہ پہلے ہی مطمٸین نہیں تھی اور اب انہیں ویسے بھی ایشنال کی حالت دیکھ کہ ڈر لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
”ہاں کہہ رہا تھا کام ہے اس نے دونوں ہاتھوں سے کنپٹی کو مسلتے ہوۓ مختصر جواب دیا
تمہاری اس سے کوٸی لڑاٸی ہوٸی ہے کیا“؟
انہوں نے اس کے بکھرے بالوں کو دیکھتے ہوٸی نرمی سے استفسار کیا
”نہیں
اس نے گردن پیچھے کرکے سر صوفے پہ گرا لیا
وہ بار بار یاد آرہا تھا
”اچھا ایسا بھی کیا کام تھا بتا تو دیتا
وہ خود مطمٸین نہیں ہو رہی تھی ابھی تک منہ ہی منہ بڑبڑا رہی تھی
وہ اب نہیں سن رہی تھی
اس کے ذہن میں بہت سی سوچیں تھی
وہ پہنچ گیا ہو گا وہ کیسا ہو گا؟
کیا وہ مجھے بھول جاۓ گا؟
اس نے وہی آنکھیں موند لی تھی۔۔۔۔۔
ٹھیک اسی وقت ساتھ بڑے لان والے گھر میں شام کے ساۓ پھیل رہے تھے جب ڈارک براٶن رنگ کے اس دروازہ کو کھول کے وہ باہر نکلا۔۔۔۔
نجمہ سامنے ٹی وی پہ کوٸی ڈرامہ دیکھتے ہوۓ آلوٶں سے چھلکے اتار رہی تھی۔۔۔۔۔
ٹی وی پہ ذور و شور سے کوٸی عورت بین کر رہی تھی
نجمہ نے ایک نظر اسے دیکھا جو نیوی بلیو رنگ کی چکور گلے والی شرٹ جس پہ کسی برینڈ کا نام نقش تھا ہاتھ میں جاگرز پکڑے ہشاش بشاش سا کمرے سے نکلا تھا
اسے وہ بہت دنوں بعد نارمل نظر آیا تھا
ہلکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا اور پھر وہ ساٸیڈ والے صوفے پہ بیٹھا شوز ذمین پہ پٹھ کے انہیں پہننے لگا۔۔۔۔۔۔۔
”کہیں جارہے ہو“؟
نجمہ نے اس کی تیاری کو بھانپتے ہوۓ کہا
”ہاں مری۔۔۔۔۔”
اس نے تسمے باندھتے ہوۓ اطلاع دی
تو نجمے نے گردن موڑ کے حیرت سے اسے دیکھا
”مری کیوں“؟
انہوں نے اگلا سوال قدرے حیرانگی سے کیا تھا
گھومنے پھرنے۔۔۔۔۔“
اس نے لاپرواہی سے جواب دیا تھا
”کون کون جارہا ہے ساتھ”؟
انہوں نے تفتیشی لہجے میں پوچھا
سب دوست
اس نے جھوٹ گڑھا تھا
وہ اکیلا جا رہا تھا
رہو گے کدھر ؟“
اب وہ مطمٸین سے انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
”فارم ہاٶس میں
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
”کتنے دنوں کے لیے انہوں نے اس کی طرف دیکھنے کے بجاۓ ٹی وی دیکھتے ہوۓ پوچھا
”ایک ہفتہ۔۔۔۔۔“
اس نے اندر اپنے کمرے سے سفری بیڈ کندھوں پہ لٹکاتے
ہوۓ بتایا
نجمہ نے محض سر ہلا دیا۔۔۔
وہ سر پہ پی کیپ ٹکاتے ہوۓ خدا خافظ کہتا ہوا باہر نکل گیا
وہ اب اطمینان سے کچھ وقت اپنے ساتھ گزار سکتا تھا۔۔۔۔۔
اور نجمہ نے یہ اندازہ لگایا کہ شاید وہ ذندگی کی سمت لوٹ آیا ہے
لیکن وہ دونوں غلط تھے۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
جس وقت وہ اس بنگلے نما گھر میں داخل ہوا تھا اس وقت رات گہری ہو چکی تھی
سامنے پورچ میں تین چمچماتی گاڑیاں کھڑی تھی۔۔۔۔
اور ایک طرف لان اور پورچ کے درمیان فوارہ جس پہ دو گھوڑے نما مورتیوں میں سے پانی لہک لہک کے باہر نکل رہا تھا
ایک طرف بڑا سا لان تھا جس میں گلاب موتیاں کے پھولوں کے پودے تھے اور خوشبو پھیلی ہوٸی تھی
وہ اس بنگلے کا گردن موڑ موڑ کے جاٸزہ لیتے ہوۓ اس کی پیروی میں آگے بڑھ رہا تھا
لکڑی کا بھاری دروازہ عبور کر کے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا تو وہ تعریف کیے بغیر نہیں رہ پایا تھا
سامنے ہال میں قیمتی فرنیچر تھا
ایک ساٸیڈ مندر نما چھوٹی سی جگہ بنی ہوٸی تھی
سامنے بڑے سے صوفے پہ ایک ساٹھ سال کی عمر کے قریب کا ایک بندہ ناٸیٹ گاٶن میں نظر کی عینک لگاۓ کوٸی مگزین پڑھ رہا تھا
اس کے اندر آتے ہی اس نے چونک کے سر اٹھایا تھا
پھر حیرت سے جیا کے پیچھے کھڑے اس نوجوان کو حیرت سے دیکھا۔۔۔۔
”میں کب سے آپ کا انتظار کر رہا تھا کدھر رہ گٸ تھی آپ “؟ وقت دیکھیں جیا“
انہوں نے ذرا ناراضگی سے کہا۔۔۔۔۔
”سوری ڈیڈ میں اپنے فرینڈ کو پک کرنے چلی گٸ تھی۔۔۔۔۔“
اس نے ان کے گل مل کے گال پہ پیار کرتے ہوۓ کہا۔
۔۔۔
پھر جوتے اتار کے مندر کی جانب بڑھ گٸ
اس نے ناگواری سے اس کی اس حرکت کو دیکھا تھا۔
”یہ کون ہے“؟
اس بوڑھے نے تنقیدی نظروں سے اس سپاٹ چہرے والے نوجوان کو دیکھا
وہ ہاتھ جوڑے مورتی کے سامنے کھڑی تھی
”دوست ہے ڈیڈ“
اس نے وہی کھڑے کھڑے کہا
ہیلو کمار شرما“؟
اس نے دوستانہ ہاتھ بڑھایا
انہوں نے کچھ سوچتے ہوۓ ہاتھ ملا لیا
جیا نے گردن موڑ کے مسکرا کے دیکھا
وہ بھی جوابا مسکرا دیا
چلو سونو تم تھک گۓ ہو گے تمہیں کمرہ دیکھا دوں تمہارا۔۔۔۔
اس نے شوز کی سٹرپ بند کرتے ہوۓ کہا
اس بوڑھے نے گردن موڑ کے اسے دیکھا
وہ کندھے اچکا کے اس کے پیچھے چلنے لگا
”جیا میری بات سن کے جانا“
انہوں نے ذرا سرد مہری سے اسے کہا تھا
اس نے مسکرا کے سر کو خم دیا تھا
پھر تیزی سے اس کو بازو سے پکڑ کے سیڑھیاں چڑھنے لگی
وہ ناگواری سے اس لڑکے کو جاتے دیکھتا رہا
وہ انہیں ایک نظر نہیں بہایا تھا
پھر وہ سر جھٹک کے میگزین کی طرف متوجہ ہو گۓ تھے
”تمہارے ڈیڈ کو میرا یوں آنا پسند نہیں آیا“
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
”نہیں وہ ایسے ہی ہیں میں انہوں سمجھا دوں گی۔۔۔۔۔“
اس نے سرگوشی میں اسے تسلی دی تھی
اس نے پیچھے موڑ کے میگزین پڑھتے بوڑھے کو دیکھا
پھر ذو معنی انداز میں مسکرا کے آگے بڑھ گیا
❤❤❤❤❤❤
جس وقت وہ اسلام آباد کراس کر کے مری کی ذگ ذیگ سڑکوں پہ پہنچا اس وقت تیز بارش شروع ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
اتنی تیز کے گاڑی کا سامنے کا شیشہ بارش سے بھر جاتا تھا اگلی گاڑی دیکھاٸی نہیں دیتی تھی
اسے امید نہیں تھی کہ موسم اتنا خراب ہو جاۓ گا
مری کی سڑکوں پہ لاٸٹس بھی ندارد ۔۔۔۔۔
اور اتنی تیز بارش میں محض گاڑی کی ہیڈ لاٸٹس نہ کافی تھی۔۔۔۔
جب وہ گول موڑ کاٹ کے اوپر والی سڑک پہ پہنچا۔۔۔۔
تو اسے ٹریفک جام دیکھاٸی دی
اس نے ناگواری سے جام ٹریفک کو دیکھا
دو تین گھنٹے تو یہی ضاٸع ہو جاٸیں گے۔۔۔۔۔
اس نے سوچا تھا
ٹریفک پولیس کی مخصوص ودری پہنے ہاتھوں میں چھتریاں پکڑے دو نوجوان ٹریفک کھولنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔
”ڈراٸیور خضرات سے گزارش ہے کہ ۔۔۔۔۔گاڑی احتیاط سے چلاٸیں اگلے پہاڑوں پہ لینڈ سلاٸیڈنگ کا خطرہ ہے
ایک پولیس اہلکار اس اسپیکر کو منہ کے قریب کر کے سب کو مطلع کر رہا تھا
اس نے بے دلی سے سنا تھا
اللہ اللہ کر کے ٹریفک کھلی تو اس نے گاڑی کی اسپیڈ اور بڑھا دی
وہ جلد از جلد پہنچنا چاہتا تھا
وہ ایک تنگ سڑک پہ پہنچا جس کے ایک طرف بڑے بڑے پہاڑ تو دوسری طرف گہری کھاٸیاں تھی
ابھی وہ موڑ کاٹنے ہی والا تھا کہ
ایک بڑا پتھر لڑھکتا ہوا آیا اس سے پہلے وہ اپنی گاڑی کو کنٹرول کرتا
وہ گاڑی کے ساتھ ٹکرایا اور گاڑی لڑھکتی ہوٸی اس تنگ سڑک سے نیچے گہری کھاٸی میں گر گٸ۔ ۔۔۔۔۔