75.9K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

اس تنگ کمرے میں خاموشی کا راج تھا یوں جیسے یہاں کوٸی موجود نہ ہو اچانک کسی کے قدموں کی چاپ سناٸی دی تو وہ میلے بکھرے لمبے بالوں والا لڑکا منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالتا ہوا اندھیرے میں ہاتھ پاٶں ہلانے لگا ۔۔۔۔۔۔
ایسے جیسے وہ افسوس سے اپنے غم کا اظہار کر رہا تھا
اچانک دروازے کا وہ ذنگ آلودہ تالا کھلنے کی آواز آٸی
اور جیسے کوٸی چیز پوری قوت سے آکے ذمین پہ لگی
اس کو منہ کے بل ذمین پہ پھینکا گیا تھا
اسے اندھیرے میں دیکھاٸی نہیں دے رہا تھا
وہ ہونٹ بھینچتا ہوا اٹھا کھڑا ہوا
پھر ایک ساٸیڈ پہ ہو کہ بیٹھ گیا
وہ گونگا ابھی تک کچھ بول رہا تھا لیکن وہ اندھیرے کی وجہ سے اسے دیکھ نہیں پا رہا تھا
اس لیے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی
وہ جانتا تھا کچھ وقت بعد ایشنال وہی اس کا انتظار کرتی رہے گی
اور وہ کچھ دنوں بعد یا اپنا ذہنی توازن کھو کے یا اپنی زبان کٹوا کے باقی زندگی یہی گزار دے گا
اب وہ ایشنال سے مل نہیں پاۓ گا یہ احساس ہی کتنا تکلیف دہ تھا
ابھی تک پاکستان میں میجر کو اطلاع مل گٸ ہو گی
اس نے اندازہ لگایا
وہ گونگا اب خاموش ہو گیا تھا جیسے سہم گیا ہو
یوں جیسے وہ مایوس ہوا تھا
پتہ نہیں انھوں نے ادھر پاکستان میں سب کیسے سنبھالا ہو گا
ایشنال کیسی ہو گی؟
عجیب سی سوچیں تھی عجیب سی مایوسی تھی
عجیب سی تلخی تھی
اور رات کے اسی پہر وہ رو نہیں رہی تھی
بس خالی خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی
دنیا جیسے حیدر کے ساتھ ہی ختم ہو گٸ تھی
اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہو سکتا تھا
وہ ایسے صدمے کے زیر اثر تھی کہ آنکھیں رونے سے انکاری تھی
حیدر کے بغیر اتنی لمبی ذندگی کا خیال ہی سوہان روح تھا
اور ساتھ اس بڑے لان والے گھر میں وہ بکھرے بالوں والا لڑکا اپنی ماں کے ہزاروں سوالوں کے جواب میں بھی بس سر جھکاۓ بیٹھا تھا
نجمہ نے اسے غور سے دیکھا تھا
یہ ان کا بیٹا تو نہیں تھا جو یہاں سے گیا تھا
وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ ایک ٹانگ کٹنے کی وجہ سے وہ اتنا اداس ہے
اداس تو وہ بھی تھی بلکے تکلیف میں تھی لیکن اظہار نہیں کر رہی تھی
ان کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ بچ گیا ہے ذندہ ہے
وہ اس کا منہ چوم چوم کے ہی نہیں تھک رہی تھی
کبھی کیا کھانے کو لا کے دے رہی تھی کبھی کیا
لیکن وہ چیزوں کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے پہچانتا ہی نا ہو
انہوں نے اس کی حالت کے پیش نظر وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا
شاید وہ تھک گیا تھا
اسے آرام کی ضرورت تھی
اور صدمے میں بھی تھا
یہ سب کچھ ان کے انکار کی وجہ سے ہوا تھا
نہ وہ ایشو کے لیے انکار کرتی نا ان کا بیٹا اس حال کو پہنچتا
مگر اب سواۓ خود کو کوسنے کے وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی
اس لیے آنسو پیتی وہاں سے اٹھ گٸ۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا جب ڈر کے مارے اس کی آنکھ کھل گٸ جیسے وہ کسی خواب سے جاگی ہو دماغ ایک دفعہ پھر سب کلک کرنے لگا تھا
”کٸ دفعہ اپنے حواسوں میں لوٹنا بھی ایک عذاب ہوتا ہے“
جہاں سے وہ ملا تھا
وہ کتنا غصہ کرتا تھا
پھر کیسے وہ نصیب میں لکھ دیا گیا تھا
پھر اس کا ساتھ کتنا کم تھا
اور پھر وہ بچھڑ گیا تھا
وہ ہذیانی کیفیت میں اٹھ کہ اسے آوازیں دینے لگی تھی
کبھی اپنا سر دیوار کے ساتھ دے مارتی تھی
پھر چیخیں مار مار کے روتی تھی
پھر تھک کے ذمین پہ بیٹھ جاتی۔۔۔۔
پھر چیخنے لگتی
شور سن کے مسز ہاشم اور ہاشم ملک بھاگتے ہوۓ آۓ تھے
اور اس کی حالت دیکھ کہ وہ اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے
یہ محبت کی کون سی کیفیت تھی جو وہ سمجھنے سے قاصر تھے
اس کا سارا چہرہ خون سے بھرا ہوا تھا
اور وہ بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی
”مجھے اسامہ کی بد دعا لگ گٸ
میرا حیدر ۔۔۔۔۔مجھ سے دور چلا گیا“
پھر روتے روتے وہ تھک کے ذمین پہ گر گٸ
شاٸستہ بیگم خود پہ قابو نہ رکھ پاٸی
وہ بھی ذارو قطار رونے لگی
اس کا صدمہ ٹوٹا تھا اس نے افسوس منانا تھا
ان کی بیٹی کہاں کھو گٸ تھی
اور وہ اس تنگ سرنگ میں بے چینی سے ٹہلتے ہوۓ یہ سوچ رہا تھا
دل کیوں ڈوب رہا ہے“؟
شاٸستہ بیگم نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا
ہاشم ملک ڈاکٹر کا نمبر ڈاٸل کر رہے تھے
امی میرا حیدر واپس لا دیں“۔
وہ آنکھیں موندنے التجاٸیہ لہجے میں بولی
وہ روتے ہوۓ اسے کسی ننھے بچے کی طرح پچکار رہی تھی
اور پھر ڈاکٹر کے آتے ہی اسے انجیکشن لگا کے سلا دیا گیا تھا اور اس کی پٹی بھی کر دی گٸ تھی
اور وہ رات سب نے آنکھوں میں کاٹی تھی
❤❤❤❤❤❤
اگلے دن صبح کی روشنی کہیں سوگواری تو کہیں امید لے کے پھوٹی تھی۔۔۔۔۔
دواٶں کے زیر اثر وہ ابھی تک سو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اور شاٸستہ بیگم اور ہاشم ملک بے بسی سے پاس بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
اور وہ جیسے کہیں جانے کے لیے تیار کھڑا تھا ایک ہاتھ میں بیساکھی تھی
جس کو بازو میں دبا رکھا تھا
وہ بس اسی کے سہارے کھڑا تھا
لیکن ہر احساس سے عاری تھا
جب وہ اٹھ کے شیشے تک گیا تو وہ خود ششد رہ گیا
تھوڑی دیر کے لیے اس کے چہرے پہ حیرت اتری
یہ وہ ہی اسامہ تھا
اس نے ہاتھ سے اپنے چہرے کو چھوا
جگہ جگہ زخموں کے نشان تھا آنکھیں اندر کو دھنسی ہوٸی تھی۔۔۔۔
ہونٹ پھٹ چکے تھے
سر سے بال بھی گرے ہوۓ تھے
جیسے وہ صدیوں کا بوڑھا ہو
تھوڑی دیر اپنا جاٸزہ لینے کے بعد چہرے پہ پھر وہی سپاٹ سا تاثر آگیا تھا
جب نجمہ دروازہ کھول کے اندر آگٸ
پھر اسے یوں کھڑا دیکھ کہ مسکرا اٹھی
وہ بہتری کی طرف آرہا تھا۔۔۔۔۔
”کہیں جارہے ہو کیا“
انہوں نے پیار سے اس کے ماتھے سے بال ہٹاتے ہوۓ کہا
وہ جوابا مسکرا بھی نہ پایا
”کام سے جا رہا ہوں آتا ہوں“
دو ٹوک جواب آیا تھا
جب سے وہ آیا تھا پہلی بار بات کی تھی
”بیٹا ایسے کیسے اکیلے جاٶ گے ابھی تک تو تم ٹھیک بھی نہیں ہوۓ۔۔۔۔۔“
انہوں نے ہمدردانہ لہجے میں کہتے ہوۓ جیسے اسے روکا
وہ لڑکھڑاتے ہوۓ دو قدم آگے گیا
پھر یکدم پلٹا
”میں اب ایسے ہی رہوں گا“
خشک لہجے میں کہتے ہوۓ وہ بیساکھی کے سہارے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
اور وہ نم آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھتی رہی
اب ان کا بیٹا کیا پہلے جیسا ہو سکے گا۔۔۔؟
اور ٹھیک اسی وقت اس تنگ کمرے میں ابھی تک اندھیرا تھا ۔۔۔۔
اور وہ بے چین سا ایک طرف ہو کے بیٹھا تھا
وہ گونگا ابھی تک سو رہا تھا ۔۔۔۔
اسے تو یہی لگا کیونکہ اب اس تنگ کمرے میں خاموشی تھی
وہ جانتا تھا باہر صبح ہو چکی ہو گی
اور یہ جگہ ایسی تھی جہاں روشنی نہیں پہنچ سکتی تھی۔۔۔۔۔
یہ بھی ٹارچر کا ایک طریقہ تھا
یہاں جو لوگ آٹھ آٹھ دس دس سالوں سے قید ہیں حیدر یقین سے کہہ سکتا تھا کہ انہوں نے اتنے سالوں میں روشنی نہیں دیکھی ہو گی
اور وہ جانتا تھا کہ وہ گونگا بھی شاید کسی ملک کا جاسوس تھا جو یقینا اپنی زبان کٹوا کے اپنے ملک کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے رہا تھا
تھک کے اس نے آنکھیں موند لی
اور ٹھیک اسی وقت اس بڑے سے قصر میں وہ صوفے پہ سر تھامے بیٹھے تھے
ان کی بیٹی نے گھر کا سارا نقشہ تبدیل کر دیا تھا
زمین پہ پڑی چیزیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔۔۔۔۔
اور وہ ملجگے لباس کھلے بکھرے بالوں والی لڑکی جس کی آنکھیں سرخ تھی چہرے پہ آنسوٶں کے نشان صاف تھے آنکھوں سے کاجل بہہ کے سارا چہرہ سیاہ ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
ذمین پہ بیٹھی مسلسل اپنے بال نوچ رہی تھی
اور وہ اسے قابو کرنے کی ناممکن کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔
”ڈیڈ اگر رات تک وہ واپس نہ آیا یا آپ نے اپنا کیس واپس نہ لیا تو آپ میرا مرا ہوا منہ دیکھے گے“
اس نے آنسو سے تر آنکھیں اٹھا کہ انہیں دیکھا پھر تھوڑا وقفہ لے کے انھیں دھمکی دی پھر بامشکل کھڑی ہوٸی آستینوں سے آنسو صاف کرتی ۔۔۔۔۔اپنے کمرے میں چلی گٸ اور دھڑام سے دروازہ بند کر لیا
وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھے بے بسی کی تصویر بنے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
لیکن وہ جانتے تھے وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے انھیں تکلیف پہنچے
لیکن بہت جلد وہ غلط ثابت ہونے والے تھے۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
تیز ہوا کے تھپیڑوں کو نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھتا ہی جا رہا تھا اس کا سانس پھولا ہوا اور ٹریفک کا شور ہنوز تھا خراب موسم کی وجہ سے دن کے چار ہی رات کا منظر پیش کر رہے تھے پنڈی صدر بازار کے بڑے بڑے عالیشان پلازے چیرتا ہوا وہ دنیا جہاں سے بے خبر گردن یہاں وہاں گھما کے اسے ڈھونڈ رہا تھا
آخر وہ اسے ایک پرانے درخت کے ساتھ ٹیک لگاۓ نظر آہی گیا
وہ اس کی طرف ایسے بڑھا جیسے کوٸی اپنی ماں کی جداٸی میں تڑپتا ہوا بچہ اپنی ماں کی طرف لپکتا ہے
وہ ملنگ آنکھیں موندے درخت کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا لڑکھڑاتا ہوا اس تک پہنچا
پھر ذمین پہ ڈھ گیا
اس ملنگ نے آنکھیں نہیں کھولی
بند آنکھوں سے مسکرا دیا
”لوٹ آۓ ہو“
اس نے یونہی آنکھیں موندے کہا
”پتہ نہیں شاید لوٹ آیا ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے سامنے رش کو دیکھتے ہوۓ عجیب سے لہجے میں کہا
اس فقیر نے جھٹ سے آنکھیں کھول دی
”خدا ملا“
وہ ایسے تڑپ کے اس کی طرف مڑا جیسے اپنی کسی عزیز چیز کے کھو جانے کا پتہ پوچھ رہا ہو۔۔۔۔
وہ پرجوش تھا اور آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔۔
”نہیں مجھے نہیں ملا۔۔۔۔۔“
مجھے مل بھی کیسے سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس نے یکدم اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔۔
”کیوں تمہیں کیوں نہیں مل سکتا“؟
وہ مایوس ہوا تھا
”کیونکہ میں بہت گناہ گار ہوں میں بہت بے بس ہوں میں کچھ نہیں کر سکتا
وہ بلاوجہ ہی ہاتھوں میں کچھ کھوجنے لگا
او پاگل تم بے بس ہو گۓ ہو پھر بھی کہتے ہو خدا نہیں ملا۔۔۔۔۔“
وہ ذور سے ہنسا
اسامہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا
انسان جب بے بس ہو جاۓ تب انسان نہیں ملتا خدا ملتا ھے“
اس نے راذداری سے کہا
”میری عجیب سی کیفیت ہے آپ نے کہا تھا مجھے سب سمجھ آجاۓ گی مجھے سب سمجھ آگٸ ہے میں نے جنگل میں وہ دن بہت اذیت میں گزارا مجھے لگا میں مر جاٶں گا لیکن اتنی بڑی کھاٸی میں گرنے کے باوجود میں بچ گیا
پھر سات مہینے میں نے ایک ٹارچر سیل میں گزار دیۓ جہاں ہر دن گناہ ہوتا تھا شروع میں احتجاج بھی کرتا تھا پھر بے بس ہو کے چھوڑ دیا
میرے سامنے ایک معصوم بچی کو ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا میں اسے بچا نہ پایا
میرے سامنے قتل ہوتے رہے میں مرنے والے کو بچا نہ پایا
میں کیسا انسان ہوں
وہ تیزی سے بولتے بولتے چپ ہوا ۔۔۔۔۔
وہ بکھرے بالوں والا شخص بہت غور سے اس کی بات سن رہا تھا
لوگ تو کہتے ہیں انسان اشرف المخلوقات ہے
لیکن میں نے ان سات مہینوں میں جانا
انسان تو اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
اشرف المخلوقات کو آٹھ گھنٹے ایک کیڑا کھاتا رہا
اور وہ اسے بھی نہ ہٹا سکا
وہ لہجے میں درد لیے بتا رہا تھا
”کیا یہ میں تھا جس نے پانچ سال میڈیکل کیا اور اپنی ٹانگ ٹھیک نہ کر سکا “
وہ ابھی بھی رو نہیں رہا تھا بس بتا رہا تھا
”میں رات کو سو نہیں پاتا اپنا آپ گناہ گار لگتا ہے اس بچی کی موت کے وقت کی چیخیں سناٸی دیتی ہیں
میں سوچتا ہوں میں نے تو دیکھا ہے تو سو نہیں پاتا قاتل کیسے سوتا ہو گا۔۔۔۔۔
وہ کچھ لمحے رکا پھر جیسے تھک گیا تھا۔۔۔۔
قاتل پتہ ہے کیوں سو جاتا ہے“؟
وہ بہت دیر بعد ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بولا تھا
میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔۔۔۔
”انسان جب کوٸی بھی غلط کام کرتا ہے تو اسے پہلی سیڑھی پہ کوٸی آواز روکتی ہے منع کرتی ہے مت کرو مت کرو کہتی ہے۔۔۔۔۔“
اگر وہ اس وقت اس آواز کو نظر انداز کر دیتا ہے تو
اگلی سیڑھی پہ چڑھتے ہی وہ آواز خود با خود مدہم ہو جاتی ہے۔۔۔۔
پھر جیسے جیسے وہ سیڑھیاں چڑھتا ہے آواز مدہم ہوتی جاتی ہے
پھر ایک وقت آتا ہے آواز آنا بالکل بند ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔
پھر اس لمحے اس کو لگتا ہے سب ٹھیک ہی تو کیا ہے۔۔۔۔
پھر خود بتاٶ غلطی کو جسٹیفاۓ کر دیا تو غلطی غلطی رہی بھلا۔۔۔۔
وہ ہنسا
وہ تو گناہ ہی بن گیا نا
دوسرا کچھ نہیں ہوتا سب کچھ پہلا ہی ہوتا ہے
پہلی محبت پہلی نفرت پہلی چاہت پہلی غلطی پہلا گناہ۔۔۔۔۔
دوسری سیڑھی پہ کوٸی نہیں رکتا
خود کو شروع میں روکنا ہوتا ہے
اس کو نیند پتہ ہے کیوں آتی ہے کیونکہ وہ عادی ہے اس نے جسٹیفاٸی کرکے خود کو مطمٸین کر دیا ہے
اور تم سے یہی نہیں ہو پارہا۔۔۔۔
اسامہ کو لگا کہ وہ اندازہ لگا رہا ہے
”شاید“
وہ گم سم سے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
”میں نے اتنے دنوں میں سیکھا کہ انسان جیسی بے رحم مخلوق اس دنیا میں کوٸی نہیں ہے۔۔۔۔۔جانور دوسرے جانور کو چیر پھاڑ دیتا ہے محض اپنی خوراک کے لیے کیوں کہ وہ اس کی ضرورت ہے لیکن انسان دوسرے انسان کو نقصان پہنچاتا ہے محض اپنے کچھ وقت کی لذت کے لیے۔۔۔۔۔۔
اس نے دکھ سے سر کو جھٹک ڈالا۔۔۔۔
وہ بس مسکراتے ہوۓ اس کو دیکھ رہا تھا
ان کا تعلق کب ایسا ہوا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے دل کی باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔
لیکن جو دل کے تعلق ہوتے ہیں وہ بتا کے کہاں بنتے ہیں۔۔۔۔۔
”میں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا“
وہ دکھ سے اس کی طرف دیکھ کہ بے بسی سے بولا
جو مسکرا کہ اسے دیکھ رہا تھا
”کوٸی بھی ایسا نہیں سوچتا جیسا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔“
وہ دور آسمانوں میں کچھ کھوجتے ہوۓ بولا
”اب میں کیا کروں“؟
وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح بے بسی سے بولا۔۔۔۔۔
وہ اپنا سامان سمیٹنے لگا۔۔۔۔۔۔
پھر اپنا بوسیدہ بستہ کندھے پہ لٹکایا
اور جانے لگا
وہ خاموشی سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
پھر وہ پلٹا
رو دو۔۔۔۔۔
اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ آگے بڑھ گیا
وہ تھوڑی دیر تو اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا
لوگ ابھی بھی قریب سے گزر رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ سر جھکاۓ بیٹھا رہا
آنکھیں خشک تھی
اچانک اسے بہت دیر بعد نمی محسوس ہوٸی۔۔۔۔۔
پھر وہ اپنے بس میں نہیں رہا تھا
وہ چیخیں مار مار کے بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔۔
اسے اردگرد کے لوگوں کی کوٸی پرواہ نہیں تھی
اب لوگ اس کے اردگرد جمع ہو رہے تھے
اور وہ بس روۓ جارہا تھا
“انسان کا عشق اگر بند کمروں میں رولاتا ہے تو اللہ کا عشق سربازار رلا دینے کی سکت رکھتا ہے“
اسے ابھی تو عشق ہوا تھا ابھی اسے فنا بھی ہونا تھا
❤❤❤❤❤❤
”کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔“
ایسا کیسے ہو سکتا ہے“
نجمہ دل تھام کے بیٹھی صدمے سے کہہ رہی تھی
انہیں اپنی سماعتوں پہ یقین ہی نہیں آرہا تھا
پاس صوفے پہ ہاشم ملک اور شاٸستہ بیگم بے بسی اور غم کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
کیسی چھوٹی عمر میں بے چاری بچی کیسے غم سہہ رہی ہے“؟
وہ ہمدردی سے کہہ رہی تھی
”کتنا سب کچھ ہو گیا شاٸستہ اور تم نے مجھے بتایا تک نھیں“
انہوں نے دکھ سے گلا کر ڈالا۔۔۔۔۔
وہ آج اسامہ کے بارے میں بتانے آٸی تھی۔۔۔۔۔
لیکن یہاں ان کا دکھ سن کے وہ اپنی خوشی بھلا بیٹھی تھی
باہر سے آتی باتوں کی آواز سن کے وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
پھر اطراف کا جاٸزہ لیا
پھر سب یاد آنے لگا۔۔۔۔
اس کے سر پہ سفید پٹی بندھی تھی۔۔۔۔۔
وہ بیڈ سے اتری ننگے پاٶں دروازے تک گٸ۔۔۔۔
آواز جانی پہچانی تھی
باہر ابھی بھی باتوں کی آوازیں آرہی تھی
نجمہ کا تعزیتی لہجہ شاٸستہ کی دکھ بھری آواز۔۔۔۔۔
”میں تو یہاں خوشخبری سنانے آٸی تھی لیکن یہاں کا دکھ سن کے سب کچھ بھول گٸ ہوں۔۔۔۔۔“
انہوں نے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوۓ کہا
تو شاٸستہ نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔۔۔۔۔
ہاشم ملک بھی کچھ ایسی ہی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھولتی اشنال کے ہاتھ یکدم ٹھہر گۓ
”ہاں میرا اسامہ اللہ نے مجھے واپس کر دیا ہے۔۔۔۔“
معجزہ ہوا ھے“
وہ تشکر بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی
ہاشم ملک اور شاٸستہ بیگم بے یقینی سے دیکھ رہے تھے
اور اندر کھڑی اشنال کو اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔
وہ دیوانہ وار باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔
❤❤❤❤
”جیا پاگل مت بنو۔۔۔۔۔۔“
پسٹل نیچے رکھو“
وہ اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے
جو بندوق کنپٹی پہ رکھے کھڑی تھی۔۔۔۔
”مجھے اس سے ملنے دے ورنہ میں وہ خود کو ختم کر دوں گی
وہ ہذیانی کیفیت میں چلاٸی تھی
جیا میری بیٹی میں تمہیں اس سے ملواٶں گا اسے نیچے رکھ دو“
وہ منت پہ اتر آۓ تھے
پھر دو قدم آگے ہوۓ تھے
پھر ایک ذور دار طمانچہ اس کے منہ پہ مار کے دوسرے ہاتھ سے پستول لے لیا تھا
وہ ہونقوں چہرہ لیے انھیں دیکھ کہ رہ گٸ۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤❤
خالہ خدا کے لیے۔۔۔۔۔
مجھے اسامہ کے پاس لے چلیں۔۔۔۔۔
وہ ان کے پاٶں میں آبیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اور ہاتھ جوڑ جوڑ کے منت کر رہی تھی
شاٸستہ بیگم اس کی یہ حالت دیکھ کہ بے بسی سے آنسو بہاۓ جارہی تھی۔۔۔۔۔
نجمہ گڑبڑا گٸ تھی
اٹھو ایشنال یہ کیا کر رہی ہو میں تمہیں لے جاتی ہوں اسامہ کی طرف بیٹا
وہ اسے تسلی دیتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوٸی
پھر اسے سہارہ دے کے کھڑا کیا
وہ پھر بھی لڑکھڑا رہی تھی
اور ہاشم ملک کو اشارہ کرتے ہوۓ ایشنال کو لے کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ گٸ۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
رات کے ساۓ پتہ نہیں کب اس قصر پہ اترے تھے اسے خبر نہیں ہوٸی تھی
وہ سیڑھیوں پہ گھٹنوں پہ تھوڑی جماۓ بیٹھی
باہر ویران درختوں کو دیکھ رہی تھی
ڈیڈ کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی جاسوس ہے۔۔۔۔۔“
تو کیا وہ مجھے دھوکہ دے رہا تھا
بے وقوف بنا رہا تھا۔۔۔۔۔
نہیں
اس نے سختی سے خیال کو ذہن سے جھٹک دیا تھا
پھر اٹھ کھڑی ہوٸی
وہ اس وقت بہت ڈپرس لگ رہی تھی بکھرے بال سرخ متورم آنکھیں چہرے پہ آنسوٶں کے نشان تھے۔۔۔۔۔اور کاجل کی سیاہ لکیریں ۔۔۔۔۔وہ صدیوں کی بیمار لگتی تھی
وہ ننگے پیر ہی تھکے تھکے قدم اٹھاتی سیڑھیاں اتر کے نیچے گٸ
نیچے خاموشی تھی
ہال ویران پڑا تھا
شاید ڈیڈ جاچکے ہیں
اس نے سوچا
پھر اس کے کمرے کی جانب مڑ گٸ
اندر گھپ اندھیرہ تھا جب سے وہ گیا تھا پہلی بار وہ اس کمرے میں آٸی تھی
اندر ہر طرف اس کی خوشبو بسی ہوٸی تھی
ایک ایک چیز کو چھو کے جیسے وہ اسے محسوس کر رہی تھی
وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی وہاں اس کے پسندیدہ پرفیوم کی شیشی پڑی تھی۔۔۔۔
اس نے اسپرے کیا تو خوشبو پورے کمرے میں پھیل گٸ
اس نے ناک سکیڑ کے خوشبو کو اپنے اندر اتارا
اسے لگا وہ اس کے پاس ہے
اب وہ اچھا مخصوص کر رہی تھی
وہ کمرے سے باہر جانے لگی جب ٹھوکر لگنے سے کوٸی چیز نیچے آگری
وہ چونک کے پیچھے مڑی
پھر جھک کے اسے اٹھایا
وہ ایک بلیک کلر کی ڈاٸری تھی
اور ڈاٸری میں سے کوٸی تصویر بھی گری تھی
جو اندھے منہ پڑی تھی
جس کی بیک پہ تحریر تھی
one and only queen of my world……
جیا کو دھچکا لگا
اس نے تصویر کو موڑا
تو ایک معصوم چہرے والی لڑکی جس نے اونچی پونی کر رکھی تھی ۔۔۔۔۔مسکرا رہی تھی
وہ لڑکھڑا کے دو قدم پیچھے ہٹی
ڈاٸری کانپتے ہاتھوں سے کھولی
دل بری طرح دھڑک رہا تھا
جیسے جیسے وہ تحریر پڑھ رہی تھی آنسو خود باخود گر رہے تھے
آخر اس کی برداشت جواب دے گٸ۔۔۔۔
ڈاٸری اس کے ہاتھ سے چھوٹ گٸ
تصویر کے اس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیۓ تھے
تھوڑی دیر میں اس نے پورے کمرے کی حالت بے ترتیب کر دی تھی
ہر چیز ذمین پہ بکھری پڑی تھی
اور وہ پاس ہی گھٹنوں کے بل دونوں ہاتھوں سے سر تھامے بیٹھی تھی
جب داخلی دروازہ کھلا اور کوٸی اندر داخل ہوا اس نے سر نہیں اٹھایا
جنرل نے ایک نظر اسے پھر کمرے کی بکھری حالت دیکھی اور آگے بڑھ گۓ۔۔۔۔
صوفے پہ بیٹھے اور سر پیچھے گرا لیا
آنکھیں موندھے بیٹھے انہیں تھوڑی ہی دیر ھوٸی تھی جب انہیں اپنے گھٹنوں پہ کسی کا لمس محسوس ہوا
انہوں نے چونک کے آنکھیں کھولی
تو دیکھ کہ جیا ان کی گود میں سر رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔
ان کا دل رو رہا تھا
لیکن بظاہر ضبط کر کے بیٹھے تھے
”ڈیڈ مجھے معاف کر دیں“
اس نے رندھی ہوٸی آواز میں کہا
وہ چپ رہے۔۔۔۔
”ڈیڈ میں نہیں چاہتی تھی کہ مجھے اس سے محبت ہو لیکن میں اس سے محبت کر بیٹھی میں بہت بری ہو نا۔۔۔۔۔محبت کرنے والے بہت برے ہوتے ہیں نا ڈیڈ۔۔۔۔۔لیکن سوچتی ہوں کہ کیا وہ اندھے بھی ہوتے ہیں“یا محبت انہیں اندھا کر دیتی ہے“؟
وہ ان کی طرف پلٹ کے ان کے ان کے دونوں ہاتھوں کو سختی سے تھامے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے بسی سے کہہ رہی تھی
”لیکن ڈیڈ بس ایک آخری دفعہ اس سے ملنے دیں ۔۔۔۔بس ایک دفعہ۔۔۔۔۔
اس نے ذور ذور سے روتے ہوۓ ماتھا ان کے ہاتھوں پہ ٹکا دیا
وہ بھی بے آواز رو رہے تھے۔۔۔
”میں اس کو نہ دیکھوں نا ڈیڈ تو مجھے اپنی بیناٸی جاتی ہوٸی محسوس ہوتی ہے اس کی آواز نہ سنوں تو لگتا ہے صدیوں سے قوتِ گویاٸی سے محروم ہوں۔۔۔۔۔وہ میرے اردگرد نہ ہو تو میں پاگل ہونے لگتی ہوں۔۔۔۔۔میں اتنی بے بس کیوں ہو گٸ ہوں ڈیڈ۔۔۔۔
محبت تو آذادی ہوتی ہے پھر یہ قید کیوں کر دیتی ہے“
وہ ہچکیاں لیتے ہوۓ کہہ رہی تھی
انہوں نے بغیر کہے اپنے بازو اس کے گرد حماٸل کر لیے
وہ ابھی تک سسک رہی تھی۔۔۔۔۔
اور باہر رات ویسے ہی ویران سنسان خاموش سی پگھل رہی تھی
❤❤❤❤
جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوٸی اس وقت اسامہ آنکھیں موندھے لیٹا تھا سر بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹکاۓ وہ تھکا تھکا سا لگتا تھا۔۔۔۔
کسی کے قدموں کی آہٹ سن کے اس نے آنکھیں دھیرے سے کھولی۔۔۔۔
سامنے وہ سفید کپڑے پہنے کھلے بکھرے بالوں والی لڑکی لال سوجھی ہوٸی آنکھیں دوپٹہ کندھے سے ہوتا ہوا ذمین کو چھو رہا تھا
دروازے پہ اداس سی نجمہ کھڑی تھی
ایک نظر انھیں دیکھ کہ پھر وہاں سے ہٹ گٸ
”وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی اس تک آٸی
اس کے چہرے پہ کوٸی تاثر نہیں تھا
یہ وہی آنکھیں تھی جو ایشنال کو دیکھ کو چمک اٹھتی تھی
آج وہاں صرف ویرانی تھی۔۔۔۔۔
اور قدم ساکت تھے
بیڈ کے کونے پہ ٹک کے بس اس کا ویران چہرہ دیکھ کہ رہ گٸ
وہاں اب سواۓ نشانات کے کچھ نہیں تھا
ان دونوں کے پاس الفاظ نہیں تھے
بس خاموشی تھی
”کیا کھویا ہے اسامہ“؟
وہ یہاں سود و زیاں کا حساب لینے آٸی تھی
”اپنا آپ“
اس نے مختصر جواب دے کہ رخ دوسری جانب موڑ لیا
اور کیا پایا ہے“؟
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔
اور وہ نظریں چرا رہا تھا۔۔۔۔۔
”اللہ کو“
وہ پر اعتماد لہجے میں بولا تھا
وہ اداسی سے مسکرا دی تھی۔۔۔۔
”تمہیں پتہ ہے ایشنال جب تمہاری حیدر سے شادی ہو گٸ تھی تو میں بہت بری طرح سے ٹوٹ گیا تھا مجھے میری دنیا ویران لگنے لگی تھی میں اللہ سے روز شکوہ کرتا تھا کہ ایک چیز چاہی تھی ذندگی میں آپ نے وہ ہی نہ دی میں بد زن ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اس لمحے میں یہ بھول گیا تھا کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہوا ہے میں محتاج نھیں ہوں کسی کا میں اپنے پاٶں سے چل سکتا ہوں ہاتھوں سے کھا سکتا ہوں اللہ نے مجھے ڈاکٹر بنایا۔۔۔۔وہ نہ چاہے تو میں دو قدم چل بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔
وہ سانس لینے کو رکا۔۔۔۔۔
پھر اس نے مجھے بتایا کہ میں واقعی ہی نہ چاہوں تو کچھ بھی نھیں ہو سکتا۔۔۔۔تم سانس بھی نہیں لے سکتے۔۔۔۔۔
جب میں قید میں تھا تو سب کچھ بھول گیا تھا تمھیں بھی۔۔۔ ادھر میں نے یہ دیکھا کہ لوگوں کی ذندگی میں کیسے کیسے دکھ ہے ۔۔۔۔۔مجھے اپنا دکھ اس وقت کچھ نہیں لگا۔ ۔۔۔۔۔جب میں نے اس چھوٹی بچی کی آنکھوں میں ذندگی کی خواہش کو مرتے دیکھا۔۔۔۔۔۔اور تب تو دکھ بالکل ہی ختم ہو گیا جب اس لڑکے کی آنکھوں میں اعتماد کی موت دیکھی۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔
وہ اپنا دل اس کے سامنے کھول کے رکھ رہا تھا۔۔۔۔
اور وہ اتنا بولنے والی لڑکی خاموشی سے سن رہی تھی
تب تم میرے ذہن سے محو ہو گٸ
جانتی ہو ایشنال۔۔۔۔۔
جیسے چیزوں کی اکسپاٸری ڈیٹ ہوتی ہے ویسے ہی انسانوں کی بھی ہوتی ہے ایک مدت کے بعد اگر ہم ان کے ساتھ چلیں تو وہ مضر صحت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
ضرورت ان کی ہمیں ہوتی ہے لیکن ہم خود ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ ہمیں خود کو بچانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
وہ اب بڑی کھڑکی سے باہر چمکتے سورج کو دیکھ رہا تھا
اور وہ اسے۔۔۔۔
جو کبھی ذندگی سے بھر پور ہوتا تھا۔۔۔
”سنو۔۔۔۔۔۔“
میں نے بھی اسے کھو دیا ہے۔۔۔۔۔
میں نے حیدر کو کھو دیا ہے“
وہ چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
اس نے اسے نھیں دیکھا۔۔۔۔
وہ شیشے سے باہر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”مجھے معاف کر دو اسامہ مجھے تمہاری آہ لگی ہے۔۔۔۔۔۔“
خدا کے لیے
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
”معاف کیا ایشنال“
وہ دو ٹوک لہجے میں کہہ کے اٹھنے لگا۔۔۔۔
پھر بیڈ کے کنارے پڑی بے ساکھی اٹھاٸی
ایشنال یک ٹک دیکھ کہ رہ گٸ
اسامہ۔۔۔۔۔
اس نے صدمے کے زیر اثر صرف اتنا کہا۔۔۔۔۔
کہ وہ خود بھی سن نہ پاٸی
”اسامہ“
وہ اٹھ کھڑی ہوٸی پھر تیزی سے پکارا
”کیا ایک معجزہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ حیدر لوٹ آۓ۔۔۔۔۔۔“؟
وہ امید سے سوال کر رہی تھی
”ہر بار معجزے نہیں ہوتے۔۔۔۔ذندگی میں ایک چیز ہوتی ہے ایڈجسٹمنٹ جو کہ انسان با آسانی ہر ماحول میں کر لیتا ہے۔۔۔۔۔“
جن کے بغیر جینا ہے ان کے بغیر جینا ہے چاہے ایک دن یا پوری ذندگی“
وہ پلٹے بغیر جیسے ہی باہر نکلا
نجمہ سے ٹکرا گیا۔۔۔۔
ان کی آنکھیں نم تھی شاید وہ ساری گفتگو سن چکی تھی
”اسامہ۔۔۔۔اس وقت تمہیں میں نے ہی منع کیا تھا آج میں ہی کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔“
وہ بہت اکیلی ہے اسامہ اس کا سہارا بن جاٶ اس سے شادی کر لو۔۔۔۔۔
وہ التجا کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اور وہ دکھ سے انہیں دیکھ کہ رہ گیا تھا۔۔۔۔
یہ وہ ہی عورت تھی جو پہلے اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اندر ایشنال ابھی تک ہچکیوں سے رو رہی تھی
”آپ خالو سے بات کر لیں کسی بیوہ کو سہارا دینے میں مجھے کوٸی اعتراض نھیں۔۔۔۔“
وہ سپاٹ لہجے میں کہہ کے لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا
اور وہ اس کے الفاظوں پہ غور کرتی رہ گٸ
”کیا انسان اتنی جلدی دل سے اتر جاتے ہیں“۔۔۔۔