75.9K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

اس بڑے سے ہال میں اس وقت محظ آہو زاری ہی تو تھی۔۔۔۔۔اور ماتم کا سماں تھا باہر بارش ذور و شور سے برس رہی تھی ۔۔۔۔۔جیسے آسمان بھی برس رہا تھا
اندر وہ صوفے پہ بیٹھی خاموشی سے اپنی ہتھیلوں کو گھور رہی تھی
آنکھیں خشک تھی۔۔۔۔۔
لیکن ساتھ بیٹھی بھرے ہوۓ جسم والی وہ عورت چیخ چیخ کے رو رہی تھی
میرا اسامہ۔۔۔۔۔نہیں مر سکتا
وہ نہیں مر سکتا
وہ دیوانہ وار چلا رہی تھی
اور شاٸستہ بیگم انہیں سنبھالنے کی ناممکن کوشش کر رہی تھی
سفید لباس پہنے عورتیں افسوس سے انھیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
ایک طرف وہ بھی سر جھکاۓ پتہ نہیں اپنے ہاتھوں میں کیا تلاش کر رہی تھی
پتہ نہیں کیا کھو گیا تھا۔۔۔۔
ہر طرف صف ماتم بچھا ہوا تھا
دل شدت غم میں ڈوبا ہوا تھا لیکن آنکھیں رونے سے انکاری تھی۔۔۔۔
ابھی تو وہ ٹھیک سے حیدر کے جانے کا غم بھی منا نہیں پاٸی تھی اور اب اسامہ بھی چلا گیا تھا
امتیاز نے اس خبر کی انکواٸیری کرواٸی تھی۔۔۔۔
جس میں یہ خبر کنفرم ہو گٸ تھی کہ اس رات اسامہ کی گاڑی ہی حادثے کا شکار ہوٸی تھی
اور سرچ آپریشن کے دوران جو نمبر پلیٹ ملی تھی وہ بھی اسامہ کی ہی گاڑی کی تھی
اور اس کے بعد تو کوٸی شک ہی بچا نہیں تھا
ڈیڈ باڈی کا قصہ یہ کہہ کہ ختم کر دیا گیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی جنگلی جانور کی خوراک بن گیا ہو۔۔۔۔۔
ویسے بھی اتنی اونچی جگہ سے گاڑی گرنے کے بعد بچنا کسی معجزے سے کم نہیں ہو سکتا تھا
اور معجزے ذندگی میں کم ہی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔۔
کم از کم یہاں سب کا ماننا یہی تھا
”مجھے تو پتہ نہیں کس گناہ کی سزا ملی ہے مجھے میرے بیٹے کا آخری دیدار بھی نصیب نہیں ہوا۔۔۔۔۔“
وہ جنونی انداز میں سر پیٹ رہی تھی
اور شاٸستہ بیگم انہیں خاموش کرنے کی ناممکن کوشش کر رہی تھی
اور اس سب میں وہ بس خاموش تماشاٸی کا کردار ادا کر رہی تھی
جو نہ ٹھیک سے رو پارہی تھی اور نہ اپنے غم کا اظہار کر پارہی تھی
ٹھیک اسی وقت لمبے زیتون کے درختوں میں وہ چھوٹی سرنگ نما کچی سی جگہ پہ وہ بے بس سا شخص ہاتھ پاٶں مار رہا تھا
جس کے منہ میں پٹی ٹھونسی گٸ تھی
اور رسیوں سے اس کے ہاتھ پاٶں بندھے ہوۓ تھے
ٹانگ پہ بندھی سفید پٹی اب لال ہو چکی تھی
بڑی ہوٸی شیو لمبے بال جو بکھرے ہوۓ تھے اور لال آنکھیں جن میں کرب اور اذیت کے سوا کچھ نہیں تھا
اپنے سامنے ایک انسان کو ذندگی کی چند سانسوں کے لیے ایڑھیاں رگڑتے دیکھ رہا تھا
ابھی تھوڑی دیر ہی تو پہلے کی بات تھی جب یہ شخص اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ یہاں آیا تھا
اور پھر کچھ دیر باتوں کی آوازیں آتی رہی اور پھر اس نے سر تب اٹھایا جب یہ مدہم آوازیں شور میں بدل گٸ
پھر وہ بندہ کچھ ٹینک سے ہوتے ہوۓ اس کے قدموں کے قریب منہ کے بل گرا۔۔۔۔
اور پھر اس کے وہ آٹھ نو دوست جن کے ہاتھ میں چھریاں تھی ۔۔۔۔۔
اس پہ جھپٹنے کو تیار تھے
وہ رینگتا ہوا کبھی کس طرف ہو رہا تھا اور کبھی کس طرف۔۔۔۔
پھر وہ بھرے ہوۓ جسم والا چست و توانا انسان یوں کھڑا ہوا تھا جیسے وہ اب لڑنے کا فیصلہ کر چکا تھا
کچھ دیر تلخ کلامی ہوتی رہی
پھر اس نے اس شخص کو کہتے سنا تھا
”تم میرے دوست ہو تم مجھے نہیں مار سکتے“
اس کے لہجے میں وہ مان تھا وہ اعتبار تھا کہ
اس نے بے اختیار سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
اور پھر وہ دکھ سے مسکرایا تھا
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ اسے مار دے گے
پھر سر جھکا کہ ذمین کو گھورنے لگا تھا
اس بچی کی موت کے بعد یوں بھی وہ خود کو مجرم تصور کر رہا تھا
یا وہ روز یہ سب دیکھ کہ اب عادی ہو گیا تھا
اس لیے وہ ذیادہ اثر نہیں لے رہا سب کی توقع کے عین مطابق ہوا تھا
ایک نے اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا
اس کی آنکھیں باہر کی طرف ابل پڑی
بے یقینی سے وہ اپنے انہیں دوستوں کو دیکھ رہا تھا جن کے ساتھ پتہ نہیں وہ کتنی ہی دفعہ بغل گیر ہوا تھا
ایک ہی پلیٹ میں کھایا ہوگا
اسامہ بس سر جھکاۓ بیٹھا رہا۔۔۔۔۔
سر نہیں اٹھایا
وہ اب پیٹھ کے بل ذمین پہ گرا تھا
اور اسامہ کو لگا وہ دوستوں کے ہاتھوں منہ کے بل گرا ہے
اس کے دوست محض چند پیسوں کے لیے اس کی قربانی دے رہے تھے
اور یہاں تو یہ روز کا کام تھا
وہ روز یہاں ایک نیا تماشہ دیکھتا تھا
کبھی کوٸی شوہر اپنی بیوی کی ویڈیو بیچنے آتا تھا تو کبھی کوٸی بواۓ فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کی تصویریں بیچنے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ عجیب دنیا تھی
یہاں سب چلتا تھا سب بکتا تھا جانوروں سے لے کر انسانوں کے اعضا۶ تک۔۔۔۔۔
یہاں ہر وقت شراب کی بدبو ہوتی تھی
اور اسامہ ہر وقت ایک ہی دعا کرتا تھا کہ وہ کاش اسی دن مر جاتا۔۔۔۔۔
اب وہاں بے جان وجود پڑا تھا
اور اس کے دوست اس کی لاش تک کو حوالے کر کے پیسے گن رہے تھے
اب کی بار اسامہ نے پہلی بار سر اٹھا کہ اس زخمی چہرے والے شخص کو دیکھا تھا
نو عمر وہ لڑکا۔۔۔۔۔جس کی چھوٹی چھوٹی مونچھیں تھی
کھلی آنکھوں سے جیسے اسے دیکھ رہا تھا
ابھی تک اس کی آنکھیں کھلی تھی
یہ موت کی بے یقینی تھی یا اعتبار ٹوٹنے کا دکھ اسامہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
یہاں سب کچھ تھا لیکن کیا نہیں تھا
خدا نہیں تھا
”تمہارا خدا بھی کھو گیا ہے نا“
اسامہ کو بے اختیار اس ملنگ کی وہ بات یاد آٸی تھی
اور اس نے اپنی خون آلودہ ٹانگ کو دیکھ کہ ایک ہی دعا کی تھی
کہ خدا اسے اس قید سے رہاٸی دے دیں
پھر وہ اپنا کھویا ہوا خدا ڈھونڈ لے گا۔۔۔۔
اس نے ایک تھکی ہوٸی سانس ہوا کے سپرد کی
وہاں ابھی تک انسانوں کی بولی لگاٸی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
اور زمین کانپنے سے گریز پا تھی
اور دور ایک چھوٹے سے گاٶں میں ایک ماں دروازے پہ اپنے اکلوتے بیٹے کی راہ تک رہی تھی اور یہ کہہ کے خود کو مطمٸین کر رہی تھی کہ کیا ہوا دوستوں کے ساتھ گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ یہ بھول گٸ تھی کہ اب وہ واپس نہیں آۓ گا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اوپری منزل کی ابتداٸی سیڑھیاں چڑھتی ایشنال کو کسی نے کندھے سے دبوچ کے نیچے فرش پہ لا کھڑا کیا تھا
اور وہ ششدر سی کھڑی اپنی ماں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی
داخلی دروازے سے عورتیں قل کی دعا کرنے اندر آرہی تھی
اور اس کی ماں اسے اپنے کمرے کی طرف لا جانے لگی
وہ بس حیرت سے ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگی
جب انہوں نے کمرے میں لا کے اسے پرے دھکیلا اور کنڈی چڑھا کہ وہ اس کی طرف پلٹی
وہ غیض و غضب سے اسے دیکھ رہی تھی
ایشنال دہل کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
انہوں نے ایشنال کا ہاتھ اپنے سر پہ رکھ دیا تھا
”میری قسم کھا کہ کہو ایشنال کہ تم نے حیدر کے متعلق سب سچ کہا تھا
وہ بس جواب کی منتظر تھی
وہ بلاوجہ ہونٹ چبانے لگی
ہاشم ملک کل لاہور گۓ تھے انہیں اطلاع ملی تھی کہ حیدر کب سے گھر بیچ کے جا چکا تھا
نہیں میں نے جھوٹ بولا تھا ابتدا۶ سے ابھی تک سب۔۔۔۔۔“
وہ ہاتھ ان کے سر سے ہٹاتے ہوۓ پھٹ پڑی
وہ صدمے سے اسے دیکھ کہ رہ گٸ۔۔۔۔۔
پھر جب وہ سب بتا کہ صوفے پہ ڈھ گٸ تو شاٸستہ بیگم اپنا توازن نہ برقرار رکھ سکی۔۔۔۔
انہوں نے بے اختیار دیوار کا سہارا لیا
وہ ان کے سر پہ قیامت توڑ کے سپاٹ نظروں سے زمین کو گھور رہی تھی۔۔۔۔۔
اور ٹھیک اسی وقت بڑے سے اس قصر کے اس عالیشان بیڈ روم میں وہ اس کے ہاتھوں کو نزاکت سے تھامے لبوں کے ساتھ لگاۓ بیٹھا تھا
اور اس نے نظریں جھکا رکھی تھی
”میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے محبت کا مطلب سمجھ میں آیا۔۔۔۔۔بس اب ایک ہی خواہش ہے کہ تمہیں پالوں۔۔۔۔۔“
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ۔۔۔۔۔کہہ رہا تھا
اور اس کے گال سرخ ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
میں تمہیں تسخیر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔مجھے اجازت دو۔۔۔۔۔۔“؟
اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی
اس نے ہولے سے سر اٹھایا تھا
تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔“
اس نے اب کی بار بے باکی سے کہا تھا
وہ ذومعنی انداز میں مسکرایا تھا۔۔۔۔
اور ایک نظر اس کے سراپے کا جاٸزہ لیا تھا
جو اس لمحے کھلے گلے والے ناٸیٹ گاٶں میں تھی کھلے بال شانوں پہ پھیلا رکھے تھے۔۔۔۔۔
وہ اسی لمحے اس کی طرف جھکا تھا
اور یکدم دروازہ کھلنے سے گڑبڑا کہ پیچھے ہٹا تھا
جیا نے بھی دروازے پہ کھڑی شخصیت کو دیکھ کہ خود کو سنبھالا تھا
اور وہ بے یقینی سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہے تھے
پھر ایک کہر آلودہ نگاہ اس پہ ڈال کے جیا کو بازو سے دبوچ کے کمرے سے باہر لے گۓ تھے۔۔۔۔۔
”تمہیں دیکھ لوں گا میں
وہ اسے وارن کرتے ہوۓ باہر نکل گۓ۔۔۔۔
وہ ذومعنی انداز میں مسکرایا تھا
سب کچھ تو پلین کے مطابق ہو رہا تھا
مگر کب تک۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
اور پھر یہ طوفان جیسے اب تھم گیا تھا سب کی ذندگیاں معمول پہ آگٸ تھی سب نے اپنے دکھوں کو قبول نہ سہی مگر سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔۔۔۔جیسے اس بڑے گھر کی کھڑکی سے روز چاند کو تکتے اسے خوبصورت آنکھوں والی لڑکی نے جس نے ابھی تو آنکھوں میں رنگ بھرے تھے ہاتھوں میں تتلیاں سمیٹی تھی اور اب وہاں صرف کانٹے تھے جس نے ان سات مہینوں میں ایک ایک دن گن کے گزارا تھا۔۔۔۔۔اور جاگ کے بھی اور ساتھ ہی اس کشادہ لان والے گھر میں دوپٹے سے آنسو پونچھتی وہ عورت جس نے ان سات مہینوں میں ہر دن اپنے بیٹے کو یاد کیا تھا شاٸستہ بیگم نے اب کڑھنا چھوڑ دیا تھا بظاہر وہ لاپروا تھی لیکن ایشنال جانتی تھی کہ وہ چھپ چھپ کر روتی ہیں ہاشم ملک اب بھی باقاعدہ نماز پڑھتے تھے مگر اس نے دیکھا اب ان کی نمازیں بہت طویل تھی پتہ نہیں کیا مانگتے رہتے تھے اور دور اس سرنگ میں بیٹھا وہ کمزور سا لڑکا ہر روز موت مانگتا تھا اور اس قصر میں ایک وہ لڑکی جو اپنے باپ سے روز غداری کرتی تھی اور اپنے باپ کی مخصوص چیزیں بغیر کسی سوال جواب کے اس لڑکے کو تھما دیتی تھی جیسے وہ اس کے ہاتھوں بنی کٹ پتلی ہو۔۔۔۔۔اور وہ لڑکا اب اس عکس کو مٹاتا تھا جس میں وہ اونچی پونی ٹیل والی لڑکی ہوتی تھی وہ سب محبت کے ستاۓ ہوۓ تھے جیسے کسی معجزے کے منتظر ان سب کے راستے جدا تھے کوٸی ایک دوسرے کے فیوچر میں فٹ نہیں ہوتا تھا سب نے بچھڑنا تھا کچھ نے واپس لوٹنا تھا بعض کی واپسی نا ممکن تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
اونچے درختوں کے ساۓ میں بنی اس سرنگ میں وہ لڑکا جیسے ہر احساس سے عاری تھا اب وہ موت نہیں مانگتا تھا اس نے ہر چیز سے سمجھوتا کر دیا تھا اب نہ عورتوں کی چیخیں اس پہ اثر انداز ہوتی تھی اور نہ ہی انسانی اغضا۶ کی بدبو اسے متاثر کرتی تھی۔۔۔۔۔
اب وہ جان چکا تھا کہ وہ یہاں سے نکل نہیں سکتا وہ جانتا تھا وہ پلٹ نہیں سکتا۔۔۔۔۔اس کے نام کی کوٸی گم نام قبر ہو گی۔۔۔۔
اور اسی لمحے ایک معجزہ ہوا تھا جس کی اسے امید نہیں تھی
آپریشن کی ذد میں یہ ٹھکانہ بھی آگیا تھا۔۔۔۔۔
پوری رات گولیوں کی برسات ہوتی رہی
اور پھر بالاخر اسے بازیاب کروا لیا گیا
وہ نا حیران تھا نہ خوش ہر احساس جیسے اپنی موت آپ مر گیا تھا
تین دن وہ ہسپتال میں داخل رہا تھا
اور پھر اسے اطلاع ملی تھی کہ
اسکی زخمی ٹانگ ناکارہ ہو چکی ہے اس لیے کاٹ دی گٸ ہے۔۔۔۔۔
وہ اب معذور تھا
لیکن اس دن بھی وہ سپاٹ نظروں کے ساتھ اپنی کٹی ٹانگ کو دیکھتا رہا
ہر بار معجزے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔“
❤❤❤❤❤❤
اس بڑے سے قصر میں رات کا سایا پر پھیلاۓ اتر رہا تھا
وہ دبے قدموں اس کمرے میں داخل ہوا تھا
لاٸیٹ آن کی تھی کمرہ روشن ہو گیا تھا
پھر دھیرے سے لیپ ٹاپ اٹھایا تھا
اس پہ کچھ نمبر ڈاٸل کیے تھے
پھر گردن موڑ کے یہاں وہاں دیکھا تھا
سکرین روشن تھی
اس سے پہلے کے وہ ایک اور کلک کرتا
دھڑام سے دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔۔
”you are under arrest mstr haider shah……”
pakistani spay…..
وہ اس اچانک افتاد پہ گھبرایا نہیں تھا
دونوں ہاتھ اٹھا کہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
پھر گردن موڑ کے دیکھا تھا
دو تین سکن وردیوں والے اہلکار ہاتھ میں بندوقیں تانے کھڑے تھے
سب سے آگے جنرل تھا
وہ پکڑا جا چکا تھا
بہت بری طرح سے
اب واپسی ناممکن تھی
”خود کو ہمارے خوالے کر دو“
ایک چیخا تھا
اسی لمحے جیا بھاگتی ہوٸی اندر آٸی تھی۔۔۔۔۔
”یہ کیا ہے ڈیڈ “
وہ چیخی تھی
انہوں نے ہاتھ میں پکڑے کچھ پیپرز اس کی طرف اچھالے تھے
جو زمین پہ بکھر گۓ تھے
وہ اس کے پاکستانی آٸی ڈی کارڈ کی کاپی اور اوریجنل پاسپورٹ تھا
وہ کل تک یہاں سے فرار ہونے والا تھا
لیکن اب یہ ناممکن تھا۔۔۔۔۔
”یہ جھوٹ ھے“؟
وہ ابھی تک بے یقین تھی
یہی سچ ہے اب قانون کے کاموں میں مت بولنا
یہ ایک پاکستانی جاسوس ہے
وہ اسی طرح بندوق تانے اس پہ چلاۓ تھے
حیدر کو اب ہتھکڑی پہناٸی جارہی تھی
وہ خاموش تھا اور چہرہ سپاٹ۔۔۔۔
جاتے ہوۓ جیا نے اسے پکارا تھا
”پھر اس کے قریب جاکے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
میں تمہیں بچا لوں گی“
اس نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔۔۔
وہ مسکرا بھی نہ پایا تھا
وہ جانتا تھا وہ اب پاکستان نہیں لوٹ سکتا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤۔
اور ٹھیک اسی لمحے اس بیلڈنگ کے آفس میں فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی
انہوں نے فاٸل سے نظر ہٹا کہ ریسور کان سے لگایا۔۔۔۔۔
ہیلو جنرل افق سپیکنگ۔۔۔۔
وہ فورا الرٹ ہوۓ سامنے سے آنے والی خبر اچھی نہیں تھی
”کیا مگر کیسے“
وہ پریشانی سے ماتھا مسلتے پوچھ رہے تھے
اچھا ٹھیک اب وہ واپس نھیں آسکتا ۔۔۔۔۔۔
تم ٹی وی خبر چلواٶں کہ مشہور گینگسٹار خان۔۔۔۔۔بھارت میں ایک آپریشن میں مارا گیا
انہوں نے فورا خود کو سنبھال لیا تھا۔۔۔۔
پھر سر پیچھے کرسی پہ گرا لیا تھا
حیدر اب واپس نہیں آسکتا تھا
پتہ نہیں بھارتی حکومت اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گی“؟
انہوں نے آنکھیں رگڑ ڈالی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
سردیوں کی اس سرد شام میں وہ ننگے پاٶں گھاس پہ گھوم رہی تھی جب۔۔۔۔۔اسے شاٸستہ بیگم نے پکارا وہ خاموشی سے اندر چلی گٸ جہاں ہاشم ملک ریموٹ ہاتھ میں پکڑے نیوز دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔
وہ چپ چاپ صوفے پہ ٹک گٸ۔۔۔۔۔
آپ کو اطلاع دیتے چلیں کے مشہور گینگ سٹار خان جو حکومت کو مطلوب تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے ٹی وی کی طرف بڑھی
دل کی دھڑکن جیسے رک گٸ تھی
بھارت میں ایک آپریشن میں مارا گیا
اس نے بے یقینی سے ہاشم ملک کو دیکھا جو دم سادھے بیٹھے تھے
وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔۔
نیوز رپورٹر ابھی بھی کچھ کہہ رہی تھی
وہ آگے نہیں سن سکی۔۔۔۔۔
اندر کی طرف بھاگی
کچن سے نکلتی شاٸستہ بیگم سے ٹکراٸی۔۔۔۔
وہ اس کی حالت دیکھ کہ گھبرا گٸ۔۔۔۔
جیسے ہی آگے بڑھی ہاشم ملک کو بھی اسی خالت میں پایا۔۔۔۔
اور پھر ٹی وی پہ چلتی پٹی کو دیکھ کہ وہی ذمین پہ بیٹھتی چلی گٸ۔۔۔۔۔
اور ٹھیک اسی لمحے ساتھ بنے اس بڑے لان والے گھر میں دروازے پہ مسلسل دستک ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسامہ کی تصویر کو وہی ٹیبل پہ رکھ کہ آنسو صاف کرتی تھکے تھکے قدموں سے دروازے کی طرف جانے لگی
دستک جانی پہچانی تھی
لیکن وہ کیسے واپس آسکتا تھا
دروازے کھلتے ہی سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کہ وہ ورطہ حیرت میں ڈوب گٸ
انہیں سچ مچ معجزوں پہ یقین آگیا تھا
سامنے ان کا بیٹا کھڑا تھا