Rate this Novel
Episode 07
آج صبح سے ہی آسمان پر بادلوں کا راج تھا۔۔۔۔۔۔رات کو وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے موسم کافی بدل دیا تھا۔۔۔۔۔فضا میں موجود حبس میں کمی کر دی تھی ہر چیز کو نکھار کر تروتازہ کر دیا تھا۔۔۔۔اس چھوٹے سے۔۔۔۔۔گھر میں پکا فرش بھی گیلا ہو چکا تھا کچن سے آتی چاۓ کی مہک۔۔۔۔۔اسکے نتھوں کو چیرتے ہوۓ آگے بڑھ گٸ تو وہ کسمسا کہ اٹھی۔۔۔۔۔
کل شام کے بعد۔۔۔۔وہ اسے اسلام آباد سے سیدھا لاہور لے آیا تھا۔۔۔۔پھر اسے کسی کام کا کہہ کہ چلا گیا تھا اور پھر رات بارہ بجے تک وہ واپس نہیں آیا تھا اور لمبے سفر کی تھکان کی وجہ سے اسے پتہ ہی نہیں چلا کب اس کی آنکھ لگ گٸ تھی۔۔۔۔۔وہ اس وقت سادہ سے لان کے لباس میں۔۔۔۔۔بکھرے بالوں کے ساتھ تھکی تھکی لگ رہی تھی۔۔۔۔یہ لباس اس نے لاہور کے لیے نکلنے سے پہلے ہی پہن لیا تھا۔۔۔۔۔
کچن سے ابھی تک برتنوں کے ٹکرانے کی آوازیں آرہی تھی وہ تو اتنی جلدی۔۔۔۔۔یہ فرنیشڈ گھر ملنے پہ حیران تھی اور اتنی جلدی ملازم بھی۔۔۔۔
وہ حیرت میں گھری اٹھ کھڑی ہوٸی پیروں میں سلیپرز اڑستی اب اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے قریب جارہی تھی کانوں میں کوٸی شناسا سی آواز ابھر رہی تھی۔۔۔۔
شاید اسپیکر پہ سورة یوسف کی تلاوت کی آواز تھی۔۔۔۔
وہ برآمد کراس کرکے جیسے ہی لاٶنچ میں پہنچی آواز اور تیز ہو گٸ ۔۔۔۔۔
اور کچن میں پہنچ کہ اس کی حیرت میں تب مذید اضافہ ہوا جب۔۔۔۔۔سادہ سی بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراٶزر میں۔۔۔۔۔آستین کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے۔۔۔۔دھلے ہوۓ برتن اوپر شیلف پہ سیٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
پاس ہی چولہے پہ ابلتی ہوٸی چاۓ۔۔۔۔۔۔اور نیچے پلیٹ میں ٹوسٹ ۔۔۔۔۔۔۔اور ایک طرف ایک چھوٹا اسپیکر رکھا ہوا تھا جو شاید موباٸل کے ساتھ کنیکٹڈ تھا۔۔۔۔۔
تو کیا وہ اس پہ زبردستی مسلط ہوٸی ہے اب وہ اسے اپنے کام کرنے کا حق بھی نہیں دے گا جیسے ناولز میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔
وہ افسوس سے کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
جب اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ پلٹا۔۔۔۔۔
پھر سامنے اس سادہ سے کپڑوں والی معصوم سی لڑکی۔۔۔۔۔کو ۔۔۔۔دیکھا
جو پتہ نہیں کیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
”اٹھ گٸ تم۔۔۔۔۔“
وہ اب چولہے سے دیکچی نیچے اتار رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کے اتنے نرمی سے پوچھنے پہ وہ چونکی۔۔۔۔
بیٹھوں ناشتہ لگاتا ہوں۔۔۔۔
وہ دوستانہ لہجے میں بولا
تو وہ چھوٹی سی ٹیبل کے گرد کرسی کھینچ کے بیٹھ گٸ۔۔۔۔۔
وہ اب ٹیبل پہ ناشتہ لگا رہا تھا اور وہ سر جھکا کے بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔
پھر وہ بھی اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
”ایشنال ناشتہ کرو نا۔۔۔۔۔“
اس نے پلیٹ اس کے قریب رکھتے ہوۓ پکارا۔۔۔۔۔
اس نے خاموشی سے سر اٹھا کہ دیکھا
”کیا بات ہے ایشنال کوٸی پریشانی ہے۔۔۔۔۔“
اس نے قریب ہوتے ہوۓ فکرمندی سے کہا تھا
سورة یوسف کی تلاوت ابھی بھی جاری تھی۔۔۔۔۔
”نہیں۔۔۔۔۔لیکن آپ نے یہ شادی ہمدردی میں کی ہے۔۔۔۔۔نا “پھر آپ ناولز کے ظالم ہیرٶز کی طرح مجھ پہ ظلم کریں گے اور پھر آخر میںک
وہ پتہ نہیں کیا سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
اس لیے روہانسی ہو گٸ تھی
وہ اس کے انداز پہ ہنسا تھا۔۔۔
”دیکھو ایشنال میں صاف گو انسان ہوں۔۔۔۔۔کل نکاح میں تین بار قبول ہے کہنے سے پہلے تک تو تم میرے لیے کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔لیکن کل کے بعد تم میری بیوی ہو۔۔۔۔۔میری ذمہ داری ہو تمہاری ہر چھوٹی سے بڑی چیز میری ذمہ داری ہے کل تک تم کچھ نہیں ہو لیکن ابھی سے نکاح کے بعد سے تم میری محبت ہو۔۔۔۔۔۔اور ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ دوسری کی بیٹیوں کو گھر سے عزت سے رخصت کروا کے لاٸیں اور پھر ان پہ ظلم کریں۔۔۔۔
وہ اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ رسان سے سمجھا رہا تھا
اور وہ پرسکون تھی
اس نے غلط انسان سے محبت نہیں کی تھی
سامنے بیٹھا شخص اس کی محبت ہی نہیں اس کا فخر بھی تھا۔۔۔۔
”مرد کہلوانا بہت آسان ہے اصل میں مرد بن کے دیکھانا بہت مشکل۔۔۔۔۔“
چلو اب ناشتہ کرو۔۔۔۔۔اور ہر پریشانی ذہن سے جھٹک دو جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں کوٸی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔۔۔
اس نے چاۓ کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ مسکرا کہ اسے تسلی دی
اس نے مسکرا کے کپ تھام لیا۔۔۔۔
”اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی۔۔۔۔۔جاٶ چینج کر کے آٶ شاپنگ پہ لے کے چلو تمہیں۔۔۔۔۔اچھے اچھے کپڑے خریدو۔۔۔۔۔“
وہ اب ذرا خفکی سے اس کے کپڑوں پہ تنقید کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے ایک سرسری نظر اپنے کپڑوں پہ ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔۔۔۔
”آپ یہ ناشتہ ختم کریں میں تیار ہو کے آتی ہوں
پھر شاپنگ پہ چلتے ہیں
وہ کسی ننھے بچے کی طرح پرجوش ہوٸی تھی
اور پھر کچن سے نکل کے غاٸب ہو گٸ۔۔۔۔۔
اس کے اس انداز پہ وہ مسکرایا تھا
چلو اچھا ہوا کہ اس کی تسلی ہو گٸ۔۔۔۔۔
اس نے سوچا تھا۔۔۔۔۔
لیکن وہ اپنی پریشانی کا کیا کرتا۔۔۔۔۔
گذشتہ دن کا وہ منظر ایک دفعہ پھر اسے یاد آنے لگا تھا۔۔۔۔۔
اس حبس بھری دوپہر میں۔۔۔۔۔۔جب اس مصروف شاہراہ پہ گاڑیوں کا کافی رش تھا ایبٹ آباد کا مین روڈ ملیٹری ایریا ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔۔یہ جگہ کافی مصروف تھی
گاڑی سے نکل کے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس سنگ مر مر سے تراشیدہ عمارت کی طرف جانے لگا۔۔۔۔۔باہر فوارہ تھا۔۔۔۔۔جس پہ دو بڑے بڑے گھوڑوں کا مجسمہ تھا ایک طرف افواج پاکستان کی اہم شخصیات کی تصویریں۔۔۔۔وہ گیٹ کی سمت چلنے لگا۔۔۔۔۔گیٹ کے دونوں طرف آرمی کی مخصوص وردی میں۔۔۔۔۔چاک و چوبند کھڑے نوجوانوں سے اس سلیوٹ کیا تھا جس کا جواب اس نے محض سر کو خم کر کے دیا تھا۔۔۔۔۔
پھر وہاں یہاں وہاں کھڑے تمام سپاہیوں نے اسے سلیوٹ کیا تھا
وہ آگے بڑھتا گیا
اور آخر اس نے ایک گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کے دھیرے سے دستک دی۔۔۔۔۔
سن گلاسز اب اس نے شرٹ کے سامنے ٹکا دی تھی۔۔۔۔۔
یس کم آن
اندر سے رعب دار آواز نے اس کا استقبال کیا تھا۔۔۔۔
وہ دھیرے سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
سامنے بیٹھے شخص نے مسکرا کے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
پھر وہی کھڑے کھڑےوہ ۔۔۔۔۔اپنا ہاتھ ماتھے تک سیدھ میں لے کے گیا تھا۔۔۔۔
کپٹین حیدر شاہ ہیٸر۔۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔“
وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔
”میجر۔۔۔۔۔فاٸق حسن“
انہوں نے مسکرا کہ کہا تھا۔۔۔۔
وہ دھیرے سے کرسی کھینچ کے ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
اس نے اس وقت کالے رنگ کی سادی شرٹ پہن رکھی تھی اور نیچے کالے رنگ کی جینز۔۔۔۔۔بھورے بالوں کو جیل کی مدد سے ایک جگہ بیٹھا رکھا تھا بھوری آنکھوں میں چمک تھی اور چہرے پہ سنجیدگی۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر اسے دیکھتے رہے۔۔۔۔۔
پھر نظر کی عینک اتار کہ ٹیبل پہ رکھی۔۔۔۔
وہ ایک چالیس پینتالیس سال کے شخص تھے۔۔۔۔۔لیکن چست اور توانا ہونے کی وجہ سے اپنی عمر سے کم لگتے تھے۔۔۔۔۔بڑی بڑی مونچھیں۔۔۔۔اور چہرے کے ساتھ چپکی داڑھی ان کی شخصیت کو اور متاثر کن اور رعب دار بناتی۔۔۔تھی۔۔۔۔
”حیدر کوٸی پریشانی ہے تم نے تو جمعرات کو ملنے آنا تھا اور جلدی کیسے آگۓ۔۔۔۔۔“؟
لہجے میں نرمی تھی لیکن چہرے پہ وہی رعب۔۔۔۔
اور حیدر محض بولنے کے لیے الفاظ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
”سر ایک مسٸلہ ہو گیا تھا اسی سلسلے میں آیا ہوں۔۔۔۔“
اس نے گلا کھنکار کے گفتگو کا آغاز کیا تو اس طرف متوجہ ہوۓ۔۔۔۔
وردی پہ لگے ستارے ابھی بھی چمک رہے تھے۔۔۔۔۔
”سر میں نے شادی کر لی ہے۔۔۔۔“
اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔۔۔
اور انہوں نے بغور سامنے بیٹھے اپنے ڈپارٹمنٹ کے سب سے بہادر اور قابل شخص کو دیکھا
جس کے منہ سے وہ ایسی بات کی امید نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔
”اس حماقت کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔آپ سے دانیال حیدر شاہ۔۔۔۔۔۔“جبکہ آپ جانتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔جب۔تک آپ یہ مشن کمپلیٹ نہیں کریں گے آپ کوٸی ایسا کام نہیں کرسکتے آپ دنیا کے لیے ان کے محافظ دانیال حیدر نہیں۔۔۔۔۔۔ایک کریمینل خان ہے۔۔۔۔۔۔“
انہوں نے قریب ہو کے آہستہ مگر سخت لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
”میں مجبور تھا سر میرے پاس اور کوٸی راستہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔“
پھر اس نے ساری بات جنرل کے گوش گزار کی تھی۔۔۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتے رہے اس کی بات سنتے رہے۔۔۔۔۔
”اتنا سب کچھ ہوتا رہا اور آپ اسے ہلکا لیتے رہے۔۔۔۔۔“جہاں تک میرا خیال ہے میں نے وہاں آپ کو کسی لڑکی کی حفاظت کرنے نہیں بھیجا تھا ایسی حماقت اگر کوٸی ایسا بندہ کرتا جو ڈیپارٹمنٹ میں نیا تھا۔۔۔۔۔تو مجھے حیرت نہ ہوتی۔۔۔۔۔لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ جیسا قابل آفیسر جس نے پچھلے دو سال میں اپنی قابلیت کی بنا۶ پہ ٹرپل پرموشن حاصل کیے تب ہی آپ کو ایسے مشن پہ بھیجا کیونکہ اس مشن کے لیے مجھے آپ جیسے ہی کسی ذمہ دار آفیسر کی ضرورت تھی لیکن آپ نے یہ ثابت کیا حیدر شاہ کے آپ اس ذمہ داری کے اہل کبھی تھے ہی نہیں۔۔۔۔۔
اب وہ ٹیبل پہ دونوں ہاتھ جماۓ غصے سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ سر اٹھا کہ بیٹھا تھا پر نظریں ان کے چہرے کے بجاۓ ٹیبل پہ جما رکھی تھی۔۔۔
”میں اس وقت مجبور تھا سر۔۔۔۔مجھے جو ٹھیک لگا میں نے وہی کیا سر۔۔۔۔۔اور سر ڈیپارٹمنٹ کو میری ایک غلطی نظر آرہی ہے ایک غلطی سے میں باغی ہو گیا لیکن سر جب میں نے اسی وطن کے لیے اپنے بچپن کے دوست کی جان لی تو وہ کسی کو نظر نہیں آیا۔۔۔۔“
وہ نظریں ان کے چہرے پہ جماۓ تلخی سے بولا تھا
آنکھوں میں عجیب سی تپش تھی یا شاید درد۔۔۔۔
”کپٹین حیدر غلطی عام انسان کی ہوتی ہے ایک فوجی کی چھوٹی سی غلطی کو غداری تصور کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔“
”آفیسر کی غلطی چھوٹی بڑی نہیں ہوتی بس غداری ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔“
وہ بھی اتنی ہی تلخی سے بولے تھے۔۔۔۔
”یہ جو میرے رینکس میری وردی کے کنارے چمکتے ہوۓ نظر آتے ہیں کپٹین حیدر۔۔۔۔۔جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہیں ان کی اصل حقیقت کوٸی نہیں جانتا۔۔۔۔۔“
یہ چمکتا ہوا تارا دیکھ رہے ہو تم
انہوں نے اپنے داٸیں بازو پہ چمکتے ایک ستارے پہ اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔یہ مجھے ایک ایسے مشن کے اختتام پہ ملا تھا جب میں نے موت کو اتنے قریب سے دیکھا تھا کہ میں دن رات یہ دعا کرتا تھا مجھے بس چین سے موت آجاۓ میں اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے گلتا سڑتا نہ دیکھو ۔۔۔۔وہ تین دن نہیں تھے شاید میری ذندگی کے سب سے مشکل دن تھے۔۔۔۔جب ہمارا فل مشن کمپلیٹ تھا تو عین اسی وقت مجھے جو کال آٸی تھی۔۔۔۔۔اس کال کے بعد میں آج تک کوٸی کال اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔۔۔۔۔۔میرا بیٹا چھت سے گرا تھا اور اس کا سر پھٹ گیا تھا وہ ICU میں تھا اور ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ میرا وہ بیٹا جسے میں نے سات سال دعاٶں سے مانگا تھا میری اکلوتی اولاد اس کے بچنے کے چانسز صفر فی صد ہیں میری بیوی نے تڑپتے ہوۓ روتے ہوۓ کہا تھا کہ خدا کے لیے واپس آجاٸیں ۔۔۔۔۔۔
ان کی آواز کبھی آہستہ ہوجاتی تھی اور کبھی اونچی
لیکن چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔۔
تب میرے دل نے کہا تھا کہ اولاد تو سب کو پیاری ہوتی ہے
چھوڑ دو نا چلے جاٶ یہاں سے بھاگ جاٶ
اور تب جانتے ہو میں نے خود سے کیا کہا تھا؟
وہ کرب سے مسکراۓ تھے
وہ ہونٹ بھینچے سن رہا تھا
کہ اولاد تو سب کو ہی پیاری ہوتی ہے وطن کسی کسی کو پیارا ہوتا ہے۔۔۔۔
اگر میں آج یہاں سے لوٹ گیا تو روز کٸ بچے کسی بم دھماکے کی نظر ہو کہ خون آلودہ بستر پہ پڑے ہونگے
اور پھر میں چلا گیا
اپنے مرتے ہوۓ بچے اور روتی ہوٸی بیوی کو چھوڑ کے
میں جانتا تھا کہ اگر میرا بیٹا مر گیا تو مجھے اطلاع تک تب ملے گی جب اسے دفنا دیا جاۓ گا۔۔۔۔۔۔
لیکن اس وقت وطن سے وفا کا عہد ہر رشتے پہ بھاری تھا
”کپٹین حیدر میں بھی لوٹ سکتا تھا اور پھر آپ کی طرح اپنے جنرل کو اکپلین کر سکتا تھا
میں نے وہاں پہ ایک چھوٹی سرنگ میں وہ تین راتیں گزاری۔۔۔۔۔جب میرے سامنے میرے تین ساتھیوں کی لاشیں مردہ حالت میں پڑی تھی۔۔۔۔اور باہر برف باری اور اندر دہشت ناک خاموشی۔۔۔۔۔گھپ اندھیرہ اور باہر گولیوں کی یلغار۔۔۔۔۔میرا خون آلودہ ہاتھ اور جسم پہ ناکافی لباس ۔۔۔۔۔۔کیا آپ مجھ سے بھی ذیادہ مجبور تھے۔۔۔؟
ان کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے ذہن پہ برس رہے تھے
لیکن وہ ضبط کر کے بیٹھا تھا
میرا بھی دل ایک لمحے کے لیے چاہا کہ یہاں سے بھاگ جاٶں امدادی کرواٸیوں کا انتظار نہ کروں پتہ نہیں تب تک شاید میں اسی ملبے تلے دفن ہو جاٶں گا پتہ نہیں میرا بچہ کیسا ہو گا؟
ان دنوں میں نیم پاگل تھا۔۔۔۔۔
تین دنوں سے بھوکا تھا دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ بھاگ جاٶ ان مٹی کے ذروں سے تمہیں کیا ملیں گا۔۔۔۔۔ایک دو اعزازات اور کیا؟
لیکن میں وہی بیٹھا رہا نڈھال سا۔۔۔۔۔
پھر تیسرے دن امدادی کارواٸیاں پہنچاٸی گٸ۔۔۔۔
مجھے نیم بے ہوشی میں وہاں سے لایا گیا۔
وہ شکستہ خورہ لہجے میں کہہ رہے تھے۔۔۔
اور جب تین دن بعد مجھے ہوش آیا تو
میں نے اپنے بیوی بچوں کا نہیں پوچھا۔۔۔۔
میں نے سب سے پہلے اس ایریا کا پوچھا کیا دہشت گرد مارے گۓ یہ پوچھا
ان کی آواز اب تیز تھی
اور پھر جب میں گھر گیا تو میرے بیٹے کی تدفین بھی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
اور وہاں جب میں نے اپنے بیوی کو تلاشنا چاہا تو اس نے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔
میں حیران تھا کہ احان تو مر چکا ہے یہ پورا دن کھانا لے کے کس کے پیچھے بھاگتی ہے کھلونے کس کے لیے خریدتی ہے اور باتیں کس سے کرتی ہے۔۔۔۔۔۔؟
پھر مجھ پہ یہ راز کھلا کہ وہ اپنا دماغی توازن کھو چکی ہے
اس دن مجھے اس اعزاز سے نوازا گیا۔۔۔۔۔
”تم نے اس ملک کے لیے اپنے دوست کو مار دیا ۔۔۔۔۔۔تم جانتے تھے ڈیپارٹمنٹ تمہاری نوکری بحال ہی رکھے گا بلکے تمہیں اعزاز سے بھی نوازے گا میں زخمی ہاتھ لیے بیٹھا یہ سوچتا تھا کہ ہاتھ نہ بچا تو نوکری سے نکال دیا جاٶں گا
وہ افسوس بھرے لہجے میں کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
اور وہ ان سے نظر نہیں ملا پارہا تھا
اسے اپنی قربانی بہت ذیادہ لگ رہی تھی۔۔۔۔
لیکن یہاں تو قدم قدم پہ قربانیاں تھی۔۔۔
”وطن تھالی میں سجا کے نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔یہاں سینے پہ گولیاں کھانی پڑتی ہیں تو تمغہ شجاعت نشان حیدر ملتا ہے“
وہ بولتے بولتے خاموش ہو گۓ تھے۔۔۔۔۔
”کپٹین حیدر آپ اس ڈیپارٹمنٹ میں تین سال سے ہیں میں نے آج تک آپ کے کام میں کھوٹ نہیں دیکھا۔۔۔۔۔“اس لیے صرف ایک بات کہوں گا جو آپ نے کیا اسے مجبوری مت کہیۓ آپ اس لڑکی سے محبت کرتے تھے تب ہی آپ نے اسے بچایا۔۔۔۔۔“
وہ سنجیدگی سے کہہ رہے تھے اس نے پہلی بار سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
”میں چاہوں تو کہوں آپ اسے چھوڑ دیں لیکن میں جانتا ہوں آپ ایسا نہیں کریں گے لیکن میں اتنی امید تو رکھوں کہ آپ اسے سچ نہیں بتاٸیں گے ۔۔۔۔۔۔۔اور جب بھی آپ کو وطن پکارے آپ اس محبت کو وطن کی محبت پہ حاوی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔۔“
وہ جیسے اس سے وعدہ چاہتے تھے۔۔۔۔۔
”انشااللہ سر آپ کبھی مجھے پیچھے نہیں دیکھیں گے۔۔۔۔۔“
ماحول یکدم بدلا تھا دماغ کے کھلے دریچے بند ہوۓ تھے اور وہ حال میں واپس لوٹ آیا تھا
چاۓ ٹھنڈی ہو گٸ تھی اور ایشنال کمرے سے اسے پکار رہی تھی وہ اس اٹھ کہ اسی طرف چلے گیا۔۔۔۔۔
ٹھیک اسی لمحے۔۔۔۔۔۔اس چھوٹے سے گھر میں بھی صبح کا سورج طلوع ہوا تھا اور آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
کچن میں چاۓ کی خوشبو پھیلی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
اور نجمہ ۔۔۔۔۔۔ملازمہ کو ہدایت دے رہی تھی ساتھ ہی نظر اٹھا کے اسامہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ کے تاسف سے کچھ بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔۔
بند دروازے کے اندر بڑی کھڑکی سے دھندلی دھندلی روشنی اندر جھانک رہی تھی۔۔۔۔
اور وہ سلوٹ ذدہ لباس پہنے بیڈ پہ لیٹا اداس نظروں سے پنکھے کو گھور رہا تھا
چہرے پہ دنیا جہاں کی ویرانی تھی۔۔۔۔۔
ٹھیک اسی لمحے شہر کے مین روڈ پہ تعمیر شدہ۔۔۔۔۔۔اس خاموش گھر کا بڑا دروازہ کھول کے ہاشم ملک اندر داخل ہوۓ تھے اور ۔۔۔۔۔۔کچن سے نکلتی مسز ہاشم پہ ایک سنجیدہ نگاہ ڈال کے آگے بڑھ گۓ تھے۔۔۔۔۔۔
”میں ایشو کو کال کر لوں۔۔۔۔۔“؟
انہوں نے ان کو جاتا دیکھ کہ تذبذب سے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔۔
”وہ محض سر ہلا کے آگے بڑھ گۓ۔۔۔۔۔۔“
وہ خوشی سے فون کی طرف لپکی تھی۔۔۔۔۔
”اور اب ایشنال سے باتیں کر رہی تھی
اور ان کے چہرے کا اضطراب اب کم ہورہا تھا۔۔۔۔۔
اور صبح لمحہ لمحہ آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
رات کی سیاہی نے مدہم روشنی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔۔۔۔رات کے ساۓ گہرے ہوتے جارہے تھے۔۔۔۔۔۔چرند پرند اپنے گھروں میں دبک کے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں پاٶں پھیلاۓ بیڈ پہ بیٹھی ریموٹ ہاتھ میں پکڑے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
محویت سے ڈرامے کے سین میں گم تھی۔۔۔۔
جب دبے قدموں وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
اس نے سر اٹھا کہ دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔۔۔
َرات کا کھانا تو وہ باہر سے کھا کے آۓ تھے
اور اب جب وہ چینج کر کے واپس آیا تھا تو اس کو ٹی وی دیکھتے ہوۓ پایا تھا
اس نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اس نے ابھی تک کپڑے بھی چینج نہیں کیے تھے اسی سابقہ لباس میں بالوں کو ڈھیلے سے جوڑے میں باندھ رکھا تھا جن کا رنگ نیچے جا کے لال ہو جاتا تھا شاید وہ بالوں کو کلر کرواتی تھی ناک میں پہنی چاندی کی نتھ چمک رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ ایک گھٹنا اوپر کیے ساتھ بازو ٹکاۓ۔۔۔۔۔اوپر تھوڑی ٹکاۓ۔۔۔۔۔دیدے پھاڑے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ کتنے ہی لمحے صوفے پہ ٹیک لگا کے دونوں ساٸیڈوں پہ بازو پھلاۓ اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
جب وہ پلٹی تو شاید ڈرامہ ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
”وہاں کیوں بیٹھے ہیں سو جاٸیے آکے۔۔۔۔۔“
اس نے تکیہ درست کرتے ہوۓ سرسری سا کہا تھا۔۔۔
”یعنی آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ آپ کے پاس میرے لیے ٹاٸم نہیں تو ٹھیک ہے میں باہر چلا جاتا ہوں۔۔۔۔
وہ مصنوعی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
”نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا۔۔۔۔۔“
اسے روکنے کی نیت سے وہ گھبرا کے تیزی سے بولی تھی۔۔۔۔۔
مطلب کے تمہارے پاس وقت ہے
وہ ساری ناراضگی بھلا کے اس کے قریب آکے شرارت سے بولا تھا
اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا اس نے نظریں جھکا لی تھی۔۔۔۔
”اچھا دیکھو میں تمہارے لیے کچھ لایا ہوں۔۔۔۔۔“
وہ گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا تھا۔۔۔۔
اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔
جسے کچھ سوچ کے اس نے تھام لیا تھا
وہ اس کو لے شیشے کے سامنے آکے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اب آگے ایشنال اور پیچھے حیدر کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ اس کے کندھے تک آتی تھی ۔۔۔۔۔۔
سادہ سی سفید رنگ کی قمیض شلوار پہنے وہ بہت خوبرو لگ رہا تھا
اسے اپنی پسند پہ فخر ہوا تھا۔۔۔۔
اس نے اپنی جیب سے ایک کالے رنگ کی ڈبی نکالی تھی اور اس میں سے ایک خوبصورت چین ۔۔۔۔۔جس کے درمیان میں ایک تختی کی صورت میں ایشنال حیدر لکھا تھا۔۔۔۔۔
اس کے کندھے سے ہوتے ہوۓ اس کی آنکھوں کے سامنے لہراٸی تھی
اس نے خوشی کے مارے نکلنے والی چیخ کا گلا منہ پہ ہاتھ رکھ کے گھونٹا تھا۔۔۔۔
پہنا دوں اجازت ہے۔۔۔۔۔؟
اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔۔۔
اس نے سر ہلا کے نظریں جھکا لی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے اس کی اٹھی ہوٸی گردن میں چین پہناٸی تھی۔۔۔۔۔
وہ سرخ چہرہ لیے نظریں جھکا کے کھڑی تھی۔۔۔۔
جب اس نے اسے کندھوں سے پکڑ کے رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔۔۔
اور اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔۔۔۔۔۔
شکریہ میری ذندگی کا حصہ بننے کے لیے۔۔۔۔
وہ مسکرا کے کہہ رہا تھا
اور وہ مسرور سی کھڑی تھی۔۔۔۔۔
اسی رات۔۔۔۔۔۔وہ ابھی تک بے وجہ سڑکوں کی خاک چھان رہا تھا۔۔۔۔۔
یہ اس سڑک پہ اس کا دسواں چکر تھا۔۔۔۔
اب اکا دکا دکانیں کھلی تھی۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے چلتا ہی جارہا تھا۔۔۔۔
آنکھوں میں ویرانی اور چہرے پہ افسردگی تھی۔۔۔۔۔
سادہ سی گول گلے والی سلیو لیس شرٹ نیچے ٹراٶز پہنے وہ آگے بڑھ رہا تھا
جب کسی کی پکار پہ وہ یکدم رکا۔۔۔۔۔
پیچھے پلٹ کے دیکھا تو لمبے سے چغے والا لمبے اور بکھرے بالوں والا ایک ملنگ ٹاٸپ ادھیڑ عمر شخص کھڑا تھا گلے میں مختلف قسم کے عجیب و غریب ہار پہن رکھے تھے۔۔۔۔۔۔
اب مسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
”جی بابا جی کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی۔۔۔۔“
اس نے مخاطب کرنے کی یہی وجہ سمجھی کے شاید بھوکا ہے۔۔۔۔۔
”تیرا کچھ کھو گیا ہے۔۔۔۔۔“
وہ اب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مسکرا کے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”کیا مطلب۔۔۔۔۔؟“
وہ ناسمجھی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اگر تیرا کچھ نہیں کھویا تو ایسے کیوں پھر رہا ہے۔۔۔۔۔؟
محبت کا ستایا ہوا لگتا ہے۔۔۔۔“
وہ ذومعنی انداز میں ہنسا تھا
وہ الجھے ہوۓ دماغ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جو بظاہر ملنگ تھا۔۔۔۔۔لیکن اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔
پھر وہ اسے نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیا تھا
وہ دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگا تھا
اور اس کے قدم سے قدم ملاۓ تھے
وہ ابھی تک مسکرا رہا تھا
”آپ کو کیسے پتہ کہ میرا کچھ کھو گیا ہے ؟ میں محبت کا ستایا ہوا ہوں۔۔۔۔۔“
وہ بے تابی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”مجھے نہیں پتہ بچہ اس کو سب پتہ ہے۔۔۔۔۔۔؟
اس نے اوپر آسمان کی طرف انگلی اٹھا کے کہا تھا
سب کا کچھ نا کچھ کھو گیا ہے اور سب اسی کی تلاش میں ہیں۔۔۔۔۔۔کسی کی دنیا کھو گٸ ہے تو کسی کا خدا۔۔۔۔
تو بتا تیرا کیا کھویا ہے۔۔۔۔۔۔؟
وہ ذرا سختی سے اس کی طرف مڑا تھا۔۔۔۔
”خدا نہیں گم ہوتا بابا جی۔۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے“
اس نے جیسے خود کو تسلی تھی۔۔۔۔۔
وہ قہقہہ لگا کے ہنسا تھا۔۔۔۔
اسامہ شرمندہ ہوا تھا۔۔۔۔
”مطلب تیرا بھی خدا کھو گیا ہے۔۔۔۔“
وہ عجیب سے انداز میں ابھی تک ہنس رہا تھا
”میرا خدا نہیں کھویا۔۔۔۔۔“میری دنیا کھو گٸ ہے۔۔۔۔“
وہ جیسے بڑبڑایا تھا۔۔۔۔
”میرا خدا باٸیس سال کھویا رہا۔۔۔۔۔۔“
اور جب ایک دفعہ۔۔۔۔اسی سڑک پہ شراب کے نشے میں میری گاڑی۔۔۔۔۔درخت کے ساتھ ٹکراٸی تھی۔۔۔۔۔تو مجھے وہ مل گیا تھا۔۔۔۔
اس کا چہرہ اب چمک رہا تھا۔۔۔۔۔
اور اسامہ کو اس کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
”میں نے اسے پا لیا تھا۔۔۔۔۔“
پھر وہ ہر جگہ نظر آتا ہے تجھے وہ نظر آرہا ہے
۔۔۔۔؟
اس نے کچھ مشکوک لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
اس نے کسی ٹرانس میں سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔
مجھے نظر آرہا ہے۔۔۔۔
وہ جیسے فخر کر رہا تھا۔۔۔۔
”مجھے ہر جگہ نظر آتا ہے۔۔۔۔۔“
وہ خوشی سے جھوم رہا تھا۔۔۔۔۔
”تیرا بھی خدا کھو گیا ہے۔۔۔۔“
دنیا نہیں کھوتی خدا گم ہو جاتا ہے۔۔۔۔
وہ نہیں بھولتا تو بھول جاتا ہے۔۔۔۔۔
تو دنیا کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور اسے چھوڑ رہا ہے۔۔۔۔
”تو بدبخت ہے۔۔۔۔“
وہ پھر وہی فٹ پاتھ پہ بیٹھ گیا تھا
اور ساتھ لگاۓ گندے سے کپڑے کے پرس سے سوکھی روٹیاں نکالی۔۔۔۔
اور اسی وقت فٹ پاتھ پہ بیٹھے آوارہ کتے۔۔۔۔۔اس کی طرف بڑھے تو اس نے۔۔۔۔۔وہ روٹی ان کی طرف بڑھا دی۔۔۔۔۔
وہ دیکھ رہا ہے۔۔۔۔کہے گا۔۔۔۔۔۔گندی مٹی سے بنے بدبودار بدن کے لوتھڑے۔۔۔۔۔تو نے کتے سے کرخت کیوں کھاٸی تھی تو نے روزی میں سے اسے حصہ کیوں نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔میں نے تو پورے دن تیرے گناہ دیکھے میں نے تو تجھ سے کرخت نہیں کھاٸی کیا مجھے تیرے ساتھ گناہ کی بدبو نہیں آتی۔۔۔۔۔تو کون ہوتا ہے میری مخلوق میں سے نقص نکالنے والا۔۔۔۔
وہ غضب میں آجاۓ گا۔۔۔۔۔
وہ سب دیکھ رہا ہے۔۔۔۔۔
تجھے ابھی نظر نہیں آرہا مجھے سب نظر آرہا ہے۔۔۔۔۔
یہ اس کی شان ہے۔۔۔۔۔بندے کو محبت کرنا جس دن اس نے تجھ پہ غضب کیا تو۔۔۔۔تو کہیں کا نہیں رھے گا۔۔۔۔
وہ ابھی بھی ذور ذور سے ہنس رہا تھا
اور اسامہ کو لگا وہ تھوڑی دیر اور یہاں کھڑا رہا تو پاگل ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔
وہ الٹے قدموں سے وہاں سے بھاگا تھا اور پھر پیچھے پلٹ کے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی تک ہاتھ تھامے باتوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
اور اسامہ پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ بھاگ رہا تھا
اور رات اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤❤
