51.1K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

سنسان خار دار جھاڑیوں اور بنجر ذمین پہ ہوا محو رقص تھی ٹھنڈی سرد ہوا ہر چیز سے بے خبر اونچے قد آور درختوں کے گرد طواف کرتی یہاں سے وہاں رقص کررہی تھی ہر چیز سے بے خبر ۔۔۔۔۔اس سکوت میں محض کسی کی ہلکے ہلکے آہستہ آہستہ کراہنے کی آواز آرہی تھی گھپ اندھیرے میں وہ سسک رہا تھا
ایک طرف GLI کرولا کے بچے ےہوۓ پرزے جن میں آگ لگی ہوٸی تھی اس کی مدہم زرد روشنی میں ایک زخمی چہرہ دیکھاٸی دے رہا تھا چہرے پہ لال مادہ جم گیا تھا کچھ ایسا ہی چیتھڑے اڑے شرٹ کاحال بھی تھا سر سے بہتا ہوا تازہ خون لہک لہک کے ذمین کی طرف جارہا تھا وہ ذخمی پھڑپھڑاتے پرندے کی طرح حرکت کرنے کی کوشش کر رہا تھا
اس کی ٹانگ میں شدید درد تھا ٹانگ شاید ٹوٹ چکی تھی اس نے ہلنے جلنے کی کوشش کی تو وہ حرکت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔
اس کا سر گھوم رہا تھا پتہ نہیں وہ ذندہ کیسے تھا جسم کی ہڈیوں کا کچومر نکل گیا تھا شاید اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گٸ تھی سر پھٹ گیا تھا اور شاید پسلیاں بھی اتنا شدید درد اس نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا اس کا دل چاہا کہ وہ اونچی اونچی آواز میں روۓ لیکن وہ یہ بھی نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔۔
وہ حرکت ہی نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔۔
وہ ذندہ کیوں تھا ۔۔۔۔۔
وہ مر ہی جاتا اتنی تکلیف تو برداشت نہ کرتا
رات اب گہری ہو رہی تھی
اسے کوٸی ڈھونڈنے کیوں نہیں آیا تھا
کوٸی سرچ آپریشن ہوتا
یا شاید وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ اتنی گہری کھاٸی میں گرنے کے بعد ذندہ رہنا ناممکن تھا
پھر وہ ذندہ کیوں تھا
سرد ہوا کے جھونکے نے اس کے جسم کو مجمند کرنا شروع کر دیا تھا
اور اس کا جسم شل
وہ غنودگی میں تھا
وہ بے ہوش کیوں نہیں ہوا تھا
یہ کیسا معجزہ تھا
اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ پہ کسی چیز نے کاٹا تھا
وہ اتنی تکلیف میں تھا لیکن اس کے باوجود یہ درد بہت ذیادہ تھا
وہ چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز گلے میں پھنس کے رہ گٸ تھی
ایشنال اب کہیں نہیں تھی اس اندھیرے میں کہیں بھی نہیں اس کے ذہن سے بھی محو ہو چکی تھی
وہ کیوں اسے یاد نہیں آرہی تھی
کیا وہ قبر میں تھا؟
کیا وہ مر چکا تھا؟
وہ چیز اب مسلسل اس کے جسم پہ کاٹ رہی تھی
اور اب وہ مذید برداشت نہیں کر سکتا تھا
وہ کچھ یاد کرنا چاہتا تھا
کوٸی ایسا جو اس کی مدد کرتا ۔۔۔۔
وہ کس کو پکارے
کوٸی دوست ۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں تھا
وہ اتنا بے بس کیوں ہو گیا تھا
وہ تو انسان تھا
اور انسان کہاں بے بس تھا
وہ تو اشرف المخلوقات تھا
تو کیا وہ اشرف المخلوقات اپنے جسم سے ایک کیڑا ہٹانے کی بھی سکت نہیں رہتا تھا
اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھی
آنکھ سے ایک آنسو نکل کے اس بنجر ذمین میں جذب ہوا تھا
اس نے پوری ذندگی ایشنال ایشنال ہی تو کیا تھا
اس وقت کچھ بھی نہیں تھا کوٸی بھی نہیں تھا
اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا
اسے اللہ کا نام لیتے ہوۓ بھی اسے پکارتے ہوۓ بھی عجیب سی شرمندگی ہو رہی تھی اپنی ذات پہ
وہ کس منہ سے انہیں پکارے
پوری عمر تو دنیاوی محبتوں کی نظر کر دی تھی
کچھ تھا ہی نہیں جس کا واسطہ دیتا کہ اس کے عوض ذندگی نا سہی اسے موت آجاتی
اسے محسوس ہوا کہ اب وہ مذید آنکھیں کھلی نہیں رکھ پاۓ گا۔۔۔۔۔
اس کے جسم کا درد بڑھتا جا رہا تھا
پھر اس کی آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی
اور پھر ہر طرف دھند چھا گٸ۔۔۔۔
اور پھر اس دھند کی جگہ تاریکی نے لے لی۔۔۔۔۔
نا ختم ہونے والی تاریکی
❤❤❤❤❤❤
اس بڑے سے محل نما بنگلے میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا صرف داٸیں طرف والے بڑے سے حال میں عجیب سا شور تھا دونوں نفوس اپنی بات پر ذور دے رہے تھے
اور اوپر چھت پہ وہ ریلنگ پہ بازو ٹکاۓ مسکرا کہ دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔۔۔
”تم پاگل ہو جیا یوں کسی اجنبی کو کوٸی اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے“
وہ اکتا کے اونچی آواز میں اسے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے
جو کمر موڑے غصے سے لال چہرہ لیے ضبط کیے کھڑی تھی
”وہ اجنبی نہیں ہے ڈیڈ میرا دوست ہے وہ میں جانتی ہوں کہ وہ کیسا ہے مجھے مت سکھاٸیں آپ“
وہ غصے سے پلٹی تھی پھر تپش بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ ہاتھ اٹھا اٹھا کہ بولی تھی
وہ بس ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھ کہ رہ گۓ تھے
وہ ان کی وہ بیٹی تھی جو ان کی کسی بھی بات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتی تھی
اور آج اس ایک لڑکے کے لیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر رہی تھی۔۔۔۔
اوپر اس نے ایک بازو ریلنگ پہ ٹکایا پھر سر ادھر ادھر گھمایا جیسے یہ گفتگو اسے مزا دے رہی ہو۔۔۔۔۔۔
”کیا ہے اس لڑکے میں جیا“؟
وہ نرم پڑتے ہوۓ عجیب سے انداز میں بولے تھے
جیا نے ایک دم کچھ گڑبڑا کہ انہیں دیکھا تھا
وہ ان سے ایسے سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی
اور اوپر وہ ایک دم سیدھا ہو کہ کھڑا ہوا تھا جیسے وہ جواب سننے کا منتظر تھا
”کیا ہو سکتا ہے بس وہ میرا دوست ہے اور میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔“
اس نے چور لہجے میں کہتے ہوۓ نظریں چراٸی تھی
اور بابا اگر آپ اسے نہیں رکھنا چاہتے تو میں بھی نہیں رہوں گی
وہ جیسے انھیں دھمکی دے رہی تھی
اور اپنی بیٹی سے انھیں خوف آرہا تھا
اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا جو ان کی نظروں سے مخفی نہیں تھا وہ ہتھیار ڈالنے لگے تھے
ٹھیک ہے جیا جو دل چاہتا ہے کرو
وہ اوپر کبھی کان کھجاتے کبھی سر کھجاتے بے چینی سے گفتگو سننے کی کوشش کر رہا تھا جو ان کے آہستہ بولنے کی وجہ سے وہ سن نہیں پارہا تھا
وہ جیا کا جواب بھی سن نہیں پایا تھا
جیا نے بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھا تھا
پھر خوشی سے ان کی طرف لپکی تھی
تھینک یو ڈیڈ
ان کے گال پہ پیار کر کے باہر چلی گٸ تھی
اور وہ سہمی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
ان کی بیٹی اس لڑکے سے محبت کر بیٹھی تھی جس کے بارے میں وہ شکوک و شہبات کا شکار تھے
پتہ نہیں آگے ذندگی میں انہیں کیا کیا دیکھنا تھا
ایک لمبی سانس انہوں نے ہوا کے سپرد کی تھی
اور صوفے پہ ڈھ گۓ تھے
وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی پلٹی تو ٹھٹکی وہ اوپر کھڑا مسکرا کہ اسے دیکھ رہا تھا
ہلکی سی شرمندگی نے اسے گھیر لیا تھا
وہ حجالت سے مسکراٸی
اس گرے شرٹ اور بلیک ٹراٶز والے لڑکے نے گردن نفی میں ہلا کہ گھماٸی پھر کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔۔
جیسے کہنا چاہتا ہو میں نے کچھ نہیں سنا
اور وہ اور شرمندہ ہوٸی تھی
پتہ نہیں وہ اسے کیوں اتنا اچھا لگتا تھا
اور اندر بیٹھے اس بوڑھے شخص کو اس سے اتنی نفرت کیوں تھی
شاید پاکستان کی وجہ سے۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
بڑی کھڑکی سے روشنی چھن چھن کے اندر کمرے کی طرف آرہی تھی
سفید رنگ کی سادہ سی بیڈ شیٹ پہ مختلف پیپر اور ڈاٸیرز کا انبار پھیلاۓ وہ کھلے بالوں والی لڑکی بیزار سی بیٹھی تھی
پھر اس نے پین اٹھایا بلیو کور والی ڈاٸیری اٹھاٸی اور اس پہ الفاظ بکھیرنے لگی۔۔۔۔۔
”میری ذندگی میری خواہش
میری آرزو میری چاہتیں
جو بھی پاس تھا میری جاں
تیری راہ گزر میں لٹا دیا
ابھی اس نے آدھا ہی لکھا تھا کہ دروازہ کھلا اور شاٸستہ بیگم اندر داخل ہوٸی اس نے جلدی سے ساری چیزیں سمیٹ کے ساتھ ٹیبل پہ رکھ دی
پھر انہیں دیکھ کہ افسردگی سے مسکراٸی
انہوں نے ہمدردی سے اسے دیکھا تھا
پھر اس کے قریب آکے بیٹھی تھی
”کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی ایشو“؟
انہوں نے محبت سے اس کے بال سنوارتے ہوۓ کہا
”لڑاٸی ہوٸی ہے حیدر سے“؟
انہوں نے دس دفعہ کی ہوٸی بات ایک دفعہ پھر دہراٸی
اس نے پہلے کی طرف نفی میں سر ہلایا
اور وہ ہمیشہ کی طرح اس کے آنکھوں کے گرد پڑے حلقے دیکھ کہ رہ گٸ۔۔۔۔۔
”اس کا نمبر کیوں آف ہے ایشنال“؟
انہوں نے ٹھنڈے لہجے میں اس سےپوچھا تھا
وہ خاموش رہی تھی اس کے پاس کوٸی جواب نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
”تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو“؟
انہوں نے کندھے سے پکڑ کے اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوۓ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا
نہیں تو میں کیا چھپاٶ گی“
اس نے گڑبڑا کہ رخ موڑ لیا
”پھر وہ کیوں بات نہیں کرتا تم سے ہاں“؟
کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے“؟
وہ ماں تھی تڑپ کر بولی تھی۔۔۔۔۔
اور اسے یکدم ہوش آیا تھا
وہ یہ کیوں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کیوں اپنے ماں باپ کو پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔
ہاشم ملک اس سے کوٸی سوال جواب نہیں کرتے تھے
لیکن جانتی تھی وہ بہت پریشان ہے
”ارے امی آپ کیوں ٹینشن لیتی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس میری اور اس کی چھوٹی سی لڑاٸی ہو گٸ تھی تو بس اسی وجہ سے تھوڑا ناراض ہے۔۔۔۔۔“اس کی عادت ہے تب ہی فون آف کر دیا ہے اس نے ٹھیک ہو جاۓ گا
اس نے خود کو نارمل کرتے ہوۓ مسکرا کے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
”وہ آۓ گا نا تمہیں لینے“؟
انہوں نے تصدیق چاہی
اس نے سر ہلا دیا
اچھا چلو پھر باہر آجاٶ کھانا کھاتے ہیں مل کے
وہ اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اٹھ کہ کمرے سے باہر نکل گٸ
وہ بھی بیڈ سے اتر کے کھڑکی کے پاس کھڑی ہو گٸ
جہاں اب دھوپ مدھم پڑھ چکی تھی
اور آسمان پہ بادلوں کا راج تھا
دل بہت اداس تھا کہیں کچھ بہت غلط تھا
جیسے کوٸی اپنا بہت مصیبت میں ہو
مگر کون اپنا حیدر یا اسامہ“؟
❤❤❤❤❤❤
بوسیدہ سی اس عمارت میں عجیب سا شور تھا اور عجیب سی بدبو بھی
بڑے بڑے ڈرم ڈروازے کے آس پاس بکھرے پڑے تھے
بلب کی ذرد روشنی آنکھوں میں چبھتی تھی
بڑی ٹیبل کے اردگرد کچھ مرد بوسیدہ سی ٹراٶزر شرٹ پہنے تاش کھیلنے میں مصروف تھے
اور ساتھ ساتھ قہقہے لگا رہے تھے
غنودگی میں عجیب و غریب شور نے اس کی نیند میں خلل ڈالا
اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولی
دھندلا سا منظر دیکھاٸی دیا تھا
ذرد روشنی میں وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا تھا
وہ اس وقت لکڑی کے ایک بڑے سے تختے پہ لیٹا ہوا تھا
اس نے جب آنکھیں کھولی تو خود کو ایک قدرے اجنبی جگہ پہ پایا
وہ کچھ دیر حیرت سے ادھر ادھر دیکھتا رہا
بوسیدہ گندی سی جگہ جس کی دیواریں سیاہ ہو چکی تھی
شاید جلنے کی وجہ سے
”کیا وہ ذندہ تھا“؟
اسے خوشگوار حیرت ہوٸی
اگر وہ ذندہ تھا تو کہاں تھا“؟
کچھ لوگوں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھی
اس کے سر کا درد قدرے کم تھا
اور اس کی ٹوٹی ہوٸی ٹانگ پہ اب سفید رنگ کی پٹی تھی
اس کے سر پہ بھی پٹی تھی
اور اس کے ہاتھ پہ بھی
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ اٹھ نہیں پایا
اسے اپنا آپ بندھا ہوا محسوس ہوا
وہ ٹھیک سمجھا تھا
اس کے دونوں بازو اور ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہوٸی تھی
وہ کہاں تھا“؟
وہ اس سے آگے سوچنا نہیں چاہتا تھا
ذندگی اپنا حساب لینے سے پہلے اس کی آذادی کے حق میں نہیں تھی
❤❤❤❤
باہر تیز بارش نے کب آندھی کا روپ دھارا کسی کو پتہ نہیں چلا
باہر بجلی ذور سے کڑکی تھی اور اسی لمحے وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
دھیرے سے دروازہ کھول کے اپنی شاطر آنکھوں سے اطراف کا جاٸزہ لیا تھا۔۔۔۔
نیچے خاموشی تھی
صرف ہال کا بلب جل رہا تھا
وہ بلی کے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔۔۔
پھر داٸیں طرف پلٹا
جیب سے چھری نکالی اور مین سوٸیچ کی طرف بڑھا ایک لمبی تار لی اور اس پہ چھوٹا سا کٹ لگایا۔۔۔۔۔
پھر ایک دفعہ پلٹ کے دیکھا۔۔۔۔۔
اور پھر لان کی طرف بڑھ گیا
وہاں سے وہ دیکھ سکتا تھا میجر کے کمرے کی بتی ابھی بھی جل رہی تھی۔۔۔۔
اس نے سرکے ہوۓ پردی سے اندر دیکھا
وہ لیپ ٹاپ کھولے اس پہ مصروف تھا
ساتھ ہی فون کان کے ساتھ لگا کہ آہستہ آواز میں کسی سے بات کر رہا تھا
”اچھا تم دوسرا پاس ورڈ لگا کہ دیکھو۔۔۔۔۔“؟
ہاں میرا فون نمبر ہے اس کا پاسورڈ ۔۔۔۔۔۔
وہ عجلت سے کہہ رہا تھا
اور وہ کان لگا کہ سن رہا تھا
جب اس نے اپنے کندھے پہ بوجھ محسوس کیا
کوٸی اس کے پیچھے کھڑا تھا
مگر کون
اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤