51.1K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

صبح کی میٹھی اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے جیسے صبح کی آمد کا احساس دلایا۔۔۔۔۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ذمین پہ گرے اکا دکا خشک پتوں میں ہلچل پیدا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فرنیشڈ گھر میں بھی ابھی مدہم مدہم اندھیرا تھا۔۔۔۔۔روشنی ٹھیک طرح سے نہیں پھیلی تھی۔۔۔۔
اگست کے اختتام پہ بھی ہوا میں حبس تھا گذشتہ ہونے والی بارشوں نے بھی حبس کو کم نہیں کیا تھا اوپر دیوار کے ساتھ لٹکا پنکھا فل اسپیڈ سے چل رہا تھا
اور وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
جب اچانک اس کی خوابوں کی دنیا میں ہلچل مچی۔۔۔۔۔
کوٸی اسے جگا رہا تھا
اس نے نیم وا آنکھیں کھول کے اس دشمن کو دیکھا تو سامنے دشمن جاں کھڑا تھا۔۔۔۔
وہ کسمسا کے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
آنکھیں مل کے تصدیق کی تو ایک سیکنڈ کے لیے سفید لباس میں ملبوس اسے وہ موت کا فرشتہ لگا۔۔۔۔۔
پھر جب دھندلاہٹ ختم ہوٸی تو سامنے حیدر کو کھڑا دیکھ کے وہ اس وقت جی بھر کے بدمزہ ہوٸی۔۔۔
”ناشتہ تو آپ خود بنا لیتے ہیں میری نیند کیوں خراب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔؟“
وہ برا سا منہ بنا کے اکتا کے کہہ رہی تھی۔۔۔۔
”تم اپنی آخرت خراب کر رہی ہو میں تو تمہاری ہیلپ کرنے آیا ہوں۔۔۔۔۔“
وہ مسکراہٹ دبا کے بظاہر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا
”نیند سے بھی آخرت خراب ہوتی ہے؟“
اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔۔۔۔
کچی نیند سے جاگنے کی وجہ سے۔۔۔۔۔ابھی بھی سر چکرا رہا تھا۔۔۔۔۔
”نماز چھوڑنے سے دنیا اور آخرت خراب ہوتی ہے۔۔۔۔“
وہ اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
”حیدر میں قضا نماز پڑھ لوں گی نا۔۔۔۔“
اس نے ٹالنا چاہا
۔۔۔۔۔۔
”اوکے فاٸن اللہ تعالی بھی جب تمہیں اگنور کرنے لگے تو پھر تم گلا نہیں کرو گی
۔۔۔۔۔۔۔۔“
وہ ناراضگی سے کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اللہ مجھے کیوں اگنور کریں گے۔۔۔۔۔۔؟
وہ مذید الجھ گٸ تھی۔۔۔۔
”کیوں کے تم ان کی بات نہیں مان رہی ان کی محبت میں ان کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہو رہی۔۔۔۔تم خود کو بہت اعلی نعوذ بااللہ برتر سمجھ رہی ہو۔۔۔۔تم ایک ساتھ کٸ گناہ کی مرتکب ہو۔۔۔۔۔جب اللہ کے پاس تمہاری فاٸل جاۓ گی تو جب وہ ابتدا۶ سے ہی دیکھیں گے تو اتنے گناہ۔۔۔۔۔۔حکم نا ماننا ایک گناہ۔۔۔۔
وہ انگلیوں پہ گن کے بتا رہا تھا۔۔۔
اور وہ سن رہی تھی۔۔۔۔
پھر اس کی بات نہ ماننے سے اس چیز کا اظہار ہوتا ہے کہ انسان تکبر اور غرور میں مبتلا ہے۔۔۔۔
”اب اتنی براٸیوں کے بعد اگنورنس تو بنتی ہی ہے۔۔۔۔۔“؟
وہ اب ناراضگی سے سمجھا کے چہرہ دوسری طرف موڑ کے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
اور جاگ تو وہ گٸ ہی تھی اوپر سے اتنی بھیانک۔۔۔۔۔تصویر کشی۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے نکل کے غاٸب ہو گٸ
اور وہ مسکرا کے اسے جاتے ہوۓ دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
ٹھیک اسی وقت صبح کی مدہم روشنی نے اس چھوٹے سے لان والے گھر کو بھی اپنے حصار میں لینا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔
وہ جب سے واپس آیا تھا اسے کسی کروٹ چین نصیب نہیں ہورہا تھا
کروٹیں لیتے ہی بڑی کھڑکی سے روشنی اندر جھانکنے لگی تھی
ذہن سے کسی دم بھی۔۔۔۔۔وہ ملنگ کی باتیں محو نہیں ہو رہی تھی
رات والے ہی ٹراٶزر شرٹ میں رف بالوں والا وہ پریشان سا لڑکا خود کو یہ کہہ کر تسلی دے رہا تھا کہ وہ شاید پاگل تھا۔۔۔۔
لیکن دل میں ہلچل تھی
پورا بدن پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔۔۔۔
پنکھا فل اسپیڈ میں چل رہا تھا
اور اسے اپنا پورا جسم تپتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
اب تو سر بھی بھاری ہو رہا تھا
وہ شاید بخار میں تپ رہا تھا
”تیرا بھی خدا کھو گیا ہے“
وہ قہقہہ گونجا تھا۔۔۔۔
اس نے اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی تھی
وہ جھٹک نہیں پایا۔۔۔۔۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
سر چکرایا۔۔۔۔
لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا
اور اس نے خود سے وعدہ کیا کہ آٸیندہ کبھی بھی اس سڑک پہ نہیں جاۓ گا
لیکن یہ بات بہت جلد غلط ثابت ہونے والی تھی۔۔۔
❤❤❤❤❤
بریانی کی تازہ مہک نے اس پورے فرنیشڈ گھر کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔۔۔۔۔
َکچن سے دھواں نکل کے صحن میں پھیل رہا تھا
کچن سے ہوتے ہوۓ اندر جاٶ تو اندر وہ چولہے کے قریب کمر موڑے کھڑا تھا
گول گلے والی شرٹ نیچے جینز پہن رکھی تھی۔۔۔۔۔چہرہ تروتازہ تھا
اس کا موڈ کافی خوشگوار معلوم ہوتا تھا
قریب ہی وہ کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ جما کے بیٹھی ایک ہاتھ میں آدھی کھاٸی ہوٸی گاجر پکڑے انہماک سے یہ کارواٸی دیکھنے میں مشغول تھی
آج اس نے بھی رف جینز اوپر گول گلے والی پرٹنڈ شارٹ فراک پہن رکھی تھی لمبے بال شانوں پر پھیلا رکھے تھے۔۔۔۔۔جن کا رنگ اوپر سے کالا نیچے سے چاکلیٹی رنگ کا ہو جاتا تھا ناک میں پہنی نتھ چمک رہی تھی اور گلے میں ایشنال حیدر ٹمٹما رہا تھا
”آپ مجھے کام کرنے کو کیوں نہیں کہتے“؟
اس نے گاجر کو دانت سے کترتے ہوۓ بدلی ہوٸی آواز میں سرسری سا پوچھا تھا
”کیوں کہ میں جانتا ہوں تمہیں کام نہیں آتے گھر کے۔۔۔۔۔“
اس نے بڑے اطمینان سے کٹے ہوۓ ٹماٹر کڑاہی میں ڈالتے ہوۓ کہا
”پھر بھی مرد کہاں کام کرتے ہیں۔۔۔۔۔“ہمارے مغرب کے مرد تو ہل کے پانی تک نہیں پیتے کہ کہیں ان کی عظیم شان میں کمی نہ آجاۓ۔۔۔۔۔“
وہ تیز لہجے میں بولی
اور گاجر کو ایک دفعہ پھر دانت سے کترنے لگی۔۔۔۔۔
وہ ہولے سے ہنسا تھا
اصل میں ایشنال بی بی۔۔۔۔۔مسٸلہ اس طرح ہے کہ ہم لوگ ذہنی بیمار لوگ ہیں۔۔۔۔۔عورت گھر میں پیدا ہو گٸ چاہے جس بھی روپ میں ہم اسے بس کام کرنے والی ایک مشین سمجھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔جیسے وہ اپنے ماتھے پہ ٹیگ لگا کے آٸی ہے ہم نے عورتوں کو اتنا الجھا دیا ہے کہ انہیں بریک ہی نہیں دیتے انہیں خود سے قریب ہونے ہی نہیں دیتے۔۔۔۔۔یا شاید ہم بریک دینا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔۔“
وہ سنجیدگی سے کڑاہی میں چمچہ ہلاتے ہوۓ اسے سمجھا رہا تھا
وہ گاجر کھاتے ہوۓ اسے سن رہی تھی۔۔۔۔۔
”ہم اپنی حکمرانی کا رعب جھاڑنے کے اتنے عادی ہوگۓ ہیں کے ہم اپنی بیٹیوں کو بہنوں کو یا بیویوں کو اپنے سے قریب ہونے دیں ہم مردوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ اگر ہم ان کے دوست بن کے رہیں گے تو ہماری ان پہ حکمرانی ختم ہو جاۓ گی۔۔۔۔۔۔لیکن اس سب میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی حکمرانی کے زعم میں ہم انہیں خود سے دور کر رہیں ہیں۔۔۔
”اللہ نے مرد کو حکمران بنایا ہے۔۔۔۔۔۔“
”حکمران پتہ ہے کون ہوتا ہے۔۔۔۔۔“؟
وہ اب اسکی طرف پلٹا تھا
”حکم دینے والا۔۔۔۔۔“
بیوی شوہر کی تابعدار بناٸی گٸ۔۔۔۔۔۔
اس کے حکم کی تابع۔۔۔۔۔
”مرد حاکم کے ساتھ ہی محافظ بھی ہے ۔۔۔۔۔“
لیکن حاکم کے پاس بات منوانے کے بھی دو طریقے ہوتے ہیں یا وہ ظالم جابر حاکم بن جاۓ اور حکومت کے نشے میں چور ظلم کرے یا دوستانہ انداز اپناۓ۔۔۔۔۔
وہ فریج سے دہی نکال کے چولہے پہ رکھی کڑاہی میں انڈھیل رہا تھا۔۔۔۔
وہ گاجر پہ ہاتھ صاف کرنے کے بعد۔۔۔۔۔اب کھانے کی کوٸی اور چیز ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔۔
اب ہمارے ادھر یہ مسٸلہ ہے کہ مرد خضرات پہلے اپن سخت رویے سے اپنے گھر کی عورتوں کو خود سے دور کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ہلٹر کی طرح اپنا کردار بنا لیتے ہیں۔۔۔۔ خود ساختہ لکیر کھینچ لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور پھر گھر کی عورتوں کے ساتھ جب کوٸی مساٸل پیش آتے ہیں تو ۔۔۔۔۔وہ گھر کے باہر سے ہمدرد ڈھونڈتی ہیں اور ایک نۓ راستے پہ چل نکلتی ہیں۔۔۔۔
”تمہیں پتہ ہے ایشنال۔۔۔۔۔۔میں عورت کو غلط نہیں کہتا عورت باذات خود غلط نہیں نا سمجھ ہوتی ہے اس کو دماغ بہت شاندار دیا گیا ہوتا ہے لیکن وہ اس سے کام نہیں لیتی ۔۔۔۔۔۔عورت کی فطرت ایسی ہے کہ اسے میٹھے دھوکے پسند ہیں۔۔۔۔۔اور مرد بھی غلط نہیں ہوتا میں اسے بھی غلط نہیں کہتا۔۔۔۔۔۔اس کی فطرت ہی ایسے تشکیل دی گٸ ہے۔۔۔۔۔۔۔“
”تمہیں بتاٶں قصور کس کا ھے۔۔۔۔۔“؟
وہ اب اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
”قصور ہم سب کا ہے۔۔۔۔۔“
”ہم بچپن سے ہی اپنے بچوں کے کچے ذہنوں میں فحاشی بھر دیتے ہیں۔۔۔۔ہم ان کی آٸیڈل لزم میں کہیں بھی عمر رضی کی بہادری عثمان رضی کی شجاعت اور علی رضی کی دلیری شامل ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔“
تمہیں پتہ ہے جب میں چھوٹا تھا۔۔۔۔
وہ ایک دم پرجوش ہوا
تو میری امی روز رات کو مجھے قصہ سنایا کرتی تھی۔۔۔۔۔ایک چھوٹا بچہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔۔۔۔۔۔
میں اس رات دیر تک سوچتا رہا۔۔۔۔۔
اسلام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔“؟
اگلے دن امی سے میں نے پوچھا امی اسلام کیا ہے جسے قبول کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔
”امی میرے معصوم سوال پر مسکراٸی تھی۔۔۔۔۔“
”اسلام ۔۔۔۔۔۔دعوت ہے خوبصورت دعوت۔۔۔۔۔جو صرف خوش قسمت لوگوں کو ملتی ہے۔۔۔۔۔اور تمہیں تو بہت آسانی سے ملی ہے۔۔۔۔۔“
انہوں نے میرا ماتھا چوم کے کہا تھا
پھر وہ مجھے ایک قصہ روز سنایا کرتی تھی۔۔۔۔
جس میں ہیرو عمر رضی علی رضی ہوتے تھے۔۔۔۔۔
میں کتنی ہی دیر انہیں admire کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
آج کل کے بچوں کے ولن ۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کن کن عجیب و غریب ناموں کے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
”میرے ولن۔۔۔۔۔۔ابو جہل۔۔۔۔۔ابو لہب جیسے نام تھے۔۔۔۔۔“
ان کا انجام سن کے میں بہت خوش ہوتا تھا۔۔۔۔
وہ کرسی کھینچ کے اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
مجھے ابھی بھی یاد ہے بچپن میں جب میں نے ایک بچے کو آنکھ پہ مکا مار کے۔۔۔۔۔اپنا سابقہ بدلا لیا تھا۔۔۔۔
تو ۔۔۔۔۔امی نے تب مجھے۔۔۔۔۔ایک ایسی ذات کا قصہ سنایا تھا کہ جن پہ لوگ کوڑا کرکٹ تک پھینکتے تھے اور وہ مسکرا کے انہیں معاف کر دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔
تب میں بہت شرمندہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
”میں نے بھی اگلے ہی دن جا کے اس سے معافی مانگی تھی۔۔۔۔۔۔“
وہ اسے بہت خوشی سے بتا رہا تھا۔۔۔۔
اور وہ مسکرا کے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
باتیں کرتا وہ کتنا اچھا لگتا تھا۔۔۔۔
امی کو سورة یوسف بہت پسند تھی۔۔۔۔۔
”وہ کہتی تھی۔۔۔۔۔
”حیدر اپنی غلطیوں کو جسٹفاٸی مت کیا کرو غلطیوں کا بھی چارم ہوتا ہے جسٹفیکیشن سے وہ اپنا چارم کھو بیٹھتی ہیں۔۔۔۔۔۔“
وہ دونوں ہاتھوں کو باہم ملاۓ میز پہ ٹکاۓ مسکرا مسکرا کر اسے بتا رہا تھا
”جسٹفیکشن سے غلطیاں گناہ بن جاتی ہیں“
کہتی تھی جب کچھ غلط کرو نا تو بس اسے غلط مان لیا کرو۔۔۔۔۔یہ مت کہا کرو کہ نیت اچھی تھی میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔اور لوگ بھی تو کرتے ہیں نا۔۔۔۔۔“
بس کہہ دیا کرو غلطی ہو گٸ معاف کر دو۔۔۔۔۔
تب انسان کو وہ غلطی لگتی ہے۔۔۔۔۔
”کیوں کہ ایشنال سورة یوسف میں جب خضرت یوسف کے بھاٸیوں نے ان کے خلاف سازش کی تھی تو تب شیطان نے ان کی اس برآٸی کو اچھا کرکے دیکھایا تھا انہوں نے خود کو خود ہی جسٹفاٸی کر دیا تھا تب وہ جو کر رہے تھے وہ انہیں ٹھیک لگنے لگا کہ ہم اپنے والد کی محبت اور توجہ لینے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔
وہ اب اٹھ کہ چاول دھو رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ کہیں سے بھی اس وقت گینگ سٹار نہیں لگ رہا تھا
وہ ایک بہت سلجھا ہوا انسان لگ رہا تھا
”تم اتنا اچھا سوچتے ہو اور پھر ایسے کام کیوں کرتے ہو۔۔۔۔۔“؟
وہ تذبذب کا شکار تھی
اس لیے پوچھے بغیر نا رہ سکی۔۔۔۔
اس کے چاولوں کو دھوتے ہاتھ یکدم ساکت ہوۓ اور مسکراہٹ سمٹی ۔۔۔۔۔۔چونکہ ایشنال کی طرف اس کی پیٹھ تھی اس لیے وہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔
جب وہ بولا تو محض اتنا بولا تھا کہ
ہم اب اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔۔۔۔
وہ کچھ ایسی سنجیدگی سے بولا کہ اسے چپ لگ گٸ۔۔۔۔
”لیکن آپ نے مجھے اپنا صحیح نام بھی نہیں بتایا۔
۔۔۔“؟
وہ ماحول کی سرد مہری کو ختم کرنے کی غرض سے بولی۔۔۔۔۔
”ہاں لیکن اب تو پتہ چل گیا نا۔۔۔۔۔
وہ پھر مسکرایا تھا۔۔۔۔
”وہ بھی اسے مسکراتا دیکھ کہ کھلکھلا کے ہنس دی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسے اب بریانی کا۔طریقہ سمجھا رہا تھا
اور وہ ہمہ تن گوش تھی
۔۔۔۔۔
باہر دوپہر کی تپتی دھوپ کے ساۓ اب مدہم ہو رہے تھے
۔۔۔۔۔
❤❤❤❤
رات کے اندھیرے نے اطراف کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
ٹریفک پولیس کی سیٹیوں کی آواز اس مصروف سڑک پہ چلتی گاڑیوں کے شور میں گڈ مڈ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
اس جگہ پہ معمول کے مطابق ہی رش تھا۔۔۔۔۔
وہ بھی بے وجہ یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا
چکور گلے والی شرٹ نیچے جینز پہنے کان میں ہینڈ فری لگاۓ وہ اداس سا گانے سننے میں مصروف تھا
یہ ملنگ والے واقعے سے کچھ دن بعد کی بات تھی۔۔۔۔
اور وہ ملنگ آہستہ آہستہ اس کے ذہن سے محو ہو رہا تھا
دل کی دنیا۔میں ایک دفعہ پھر ایشنال ہی تھی۔۔۔۔
جب پلٹتے ہی اسے ایک دفعہ پھر فٹ پاتھ پہ بیٹھا اسے وہ فقیر دیکھاٸی دیا تھا
وہ اسی کی طرف بہت گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اسامہ نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
فقیر شناساٸی سے مسکرایا تھا
اسامہ کے قدم خود بخود اس طرف اٹھنے لگے۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد نا چاہتے ہوۓ بھی اس نے خود کو اس کے قریب پایا۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
اسامہ نا چاہتے ہوۓ بھی اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
”آپ روز یہاں کیوں آتے ہیں۔۔۔۔۔“؟
اسامہ نے سڑک پہ رواں دواں گاڑیوں کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔۔
”اپنے دوستوں سے ملنے۔۔۔۔۔“
وہ اپنے کپڑے کے پرانے سے تھیلے سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔
اور آپ کے دوست کون ہے۔۔۔۔۔“؟
اسامہ اب گھبرایا نہیں تھا۔۔۔۔۔
اسے اس فقیر میں دلچسپی پیدا ہوٸی تھی۔۔۔۔
”یہ کتے میرے دوست ہیں۔۔۔۔“
وہ فخر سے بتا رہا تھا
اور اسامہ ہولے سے ہنس دیا تھا
یہ سچ میں پاگل تھا۔۔۔۔
جب اس کے اس کپڑے کے تھیلے میں سے ایک تصویر نیچے گری۔۔۔۔۔
اسامہ نے جھک کے تصویر اٹھاٸی تھی
وہ ایک انیس بیس سال کا۔۔۔خوبصورت نقوش والا نوجوان تھا۔۔۔۔۔۔جس کے نقوش بالکل انگریزوں جیسے تھے۔۔۔۔
اسامہ یک دم ٹھٹکا تھا۔۔۔
نظر اٹھا کہ اپنے ساتھ بیٹھے فقیر کو دیکھا تھا۔۔۔۔
جو مسکرا رہا تھا۔۔۔
“یہ میں ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے سرسری سا بتایا
اسامہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”لیکن یہ تو انگریز ۔۔۔۔۔“؟
اسامہ اتنا ہی بول پایا۔۔۔۔۔
جب اس نے اسامہ کی بات کاٹ دی۔۔۔۔۔
”تھامسن نام تھا میرا۔۔۔۔۔۔“
اس نے شستہ اردو میں کہا تھا
اس کی اردو بہت اچھی تھی۔۔۔۔۔
”تم انگریز ہو تو۔۔۔۔۔اللہ کو کیسے مانتے ہو۔۔۔۔۔“؟
اسامہ بے یقین تھا۔۔۔۔
”جیسے تم مانتے ہو۔۔۔۔“
اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔۔۔
لیکن ہم مسلمان ہیں۔۔۔۔
اسامہ نے الجھن سے کہا۔۔۔۔
”تو کیا اللہ صرف مسلمانوں کے ہیں۔۔۔۔۔
قرآن پڑھنا جانتے ہو۔۔۔۔۔؟
نماز پڑھتے ہو۔۔۔۔۔؟
اسامہ مشکوک سا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”کیا فرق پڑھتا ہے۔۔۔۔۔“
میں عاشق ہوں اس سے عشق کرتا ہوں۔۔۔۔
”جب دل چاہتا ہے اسے دیکھ لیتا ہوں اس سے بات کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔“
نماز کی کیا ضرورت۔۔۔۔؟
اس نے بھی دو بدو کہا
اسامہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
کلمہ پڑھا تھا۔۔۔۔؟
اسامہ نے اگلا سوال داغا۔۔۔۔
”ہاں جب میرے جسم میں کیڑے پڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔تب دور کہیں تم لوگوں کے مسجد سے آذان کی آواز آرہی تھی۔۔۔۔۔“
اس وقت مجھے صرف ایک لفظ سمجھ آیا تھا۔۔۔۔
”اللہ اکبر۔۔۔۔۔“
میں نے نیم بے ہوشی میں کہنا شروع کر دیا تھا
خالانکہ میں مانتا نہیں تھا
لیکن ماننے سے کیا ہوتا ہے
اس نے قہقہہ لگایا تھا۔۔۔۔۔
اسامہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
میں سوچ رہا تھا وہ بھی مجھ سے کرخت کھاۓ گا دھتکار دے گا مرنے کے لیے چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔مجھے یہی کیڑے کھا جاٸیں گے۔۔۔۔۔
”میں نے تب ہی کلمہ پڑھ لیا تھا
جب میں نے روتے ہوۓ کہا تھا
اللہ اکبر۔۔۔۔۔
اللہ اکبر۔۔۔۔۔
آہ پھر میں نے خود کو ذندہ پایا تھا۔۔۔۔
حالانکہ ۔۔۔۔۔۔میرے جسم میں کیڑوں کے کاٹنے کے نشانات تھے۔۔۔۔۔
لیکن جب آنکھیں کھولی تھی تو سامنے کرسٹی۔۔۔۔۔نیل سب کو دیکھا تھا۔۔۔۔
لیکن میرے ذہن میں ایک ہی الفاظ گونج رہے تھے
اللہ اکبر۔۔۔۔۔
اللہ۔۔۔۔
اللہ۔۔۔۔
کدھر ملے گا۔۔۔۔۔؟
میں چیخ چیخ کے پوچھ رہا تھا
میرے دوست ایک دوسرے کا چہرہ تک رہے تھے
۔۔۔۔۔
جب مجھے کوٸی جواب نہیں ملا تو میں دیوانہ وار باہر کی طرف بھاگا۔۔۔
کہیں سے وہی شناسا آواز آرہی تھی۔۔۔۔
میں اس سمت بھاگا۔۔۔۔
میں اس سنگ مرمر سے بنی مسجد میں چلا گیا۔۔۔۔۔
اللہ۔۔
اللہ
میں پاگلوں کی طرح چلا رہا تھا۔۔۔۔۔
رو رہا تھا۔۔۔۔۔
ایڑھیاں رگڑ رہا تھا
سب مجھے پاگل سمجھ رہے تھے
جب ایک باریش بزرگ میری طرف بڑھے تھے۔۔۔۔
”کسے ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔۔۔“؟
انہوں نے پیار سے پوچھا تھا۔۔۔
اللہ کو۔۔۔۔۔“
میں نے روتے ھوۓ کہا تھا۔۔۔۔
”کھو گیا ہے کہیں۔۔۔۔۔“
میں تڑپ تڑپ کے رو رہا تھا۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر مجھے دیکھتے رہے۔۔۔۔۔
”مسلمان ہو۔۔۔۔۔“
انہوں نے ایک دفعہ پھر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا تھا
اللہ کو چاہتے ہو۔۔۔۔؟
ان کے اگلے سوال پہ میں خاموش ہو گیا تھا
مجھے اللہ سے ملوا دو۔۔۔۔۔جتنے پیسے کہو گے دوں گا۔
۔۔۔“
میں نے لالچ دی تھی۔۔۔۔
وہ ہنسے تھے۔۔۔۔۔
”پاگل اللہ پیسوں سے نہیں تلاش سے ملتا ہے۔۔۔۔“
کلمہ پڑھو۔۔۔۔۔
انہوں نے مجھے کلمہ پڑھوایا تھا۔۔۔۔
اور جیسے میری تڑپتی ہوٸی روح کو سکون مل گیا تھا۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے سارا قصہ سنا رہا تھا
اسامہ کو اس وقت یہ کہیں سے بھی پاگل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کے جانے لگا۔۔۔۔
”ایک دن تم سب سمجھ جاٶ گے۔۔۔۔۔“
جس دن تمہارے پاس اس کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔۔
اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا
اب وہاں کوٸی نہیں تھا
آج وہ بھاگ نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔
❤❤❤❤❤
ستمبر کے اواٸل دنوں نے گرمی کی شدت کو کچھ حد تک کم کر دیا تھا۔۔۔۔۔اب عجیب سا موسم رہتا تھا کبھی بہت ذیادہ بارش ہونے لگتی تو دو تین دن موسم نارمل رہتا اور کبھی۔۔۔۔۔بہت تیز دھوپ نکل آتی۔۔۔۔۔تو موسم اگلے چار دن بہت ذیادہ گرم رہتا تھا۔۔۔
یہ بھی ایک ایسے ہی دوپہر تھی جب آسمان پہ بادلوں کا راج تھا۔۔۔۔۔
وہ خار دار جھاڑیوں سے ہوتا ہوا جیسے ہی اس جنگل سے باہر نکلا موباٸل کے سگنل واپس آۓ۔۔۔۔
اور موباٸل ذور و شور سے بجنے لگا
اس نے گاڑی کے اندر بیٹھ کے موباٸل دیکھا تو سامنے۔۔۔۔۔جنرل کی کال آتی دیکھ کر ٹھٹک گیا۔۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ بند کیا اور کال پک کر کے موباٸل کان کے ساتھ لگا دیا۔۔۔۔
اسلام علیکم سر۔۔۔۔۔“؟
وہ مودبانہ لہجے میں بولا
ساتھ ہی گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔
ایبٹ آباد کے اس اونچی فلیٹ کی پانچھویں منزل پر وہ فون کان کے ساتھ لگاۓ۔۔۔۔کچن کا دروازہ بند کرتے ہوۓ باہر بالکونی کی طرف آۓ تھے۔۔۔۔۔
سادہ سا ٹراٶزر شرٹ پہنے وہ بہت سنجیدہ سے لگ رہے تھے اور پریشان بھی۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں چاۓ کا مگ تھامے دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگاۓ۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔۔۔
انہوں نے سلام کا جواب دیا تھا۔۔۔ ۔
دوسری طرف وہ۔۔۔۔۔۔ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ گھماتا ہوۓ گاڑی چلا رہا تھا
نظریں ونڈ اسکرین کے باہر جمی ہوٸی تھی۔۔۔۔
”کدھر ہو حیدر۔۔۔۔۔“؟
انہوں نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوۓ۔۔۔۔۔پوچھا
”سر ابھی ابھی حطار انڈسٹری ایریا کی طرف جا رہا ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے بھی سرسری بتایا تھا۔۔۔
”گاڑی ریورس کرو اور ایبٹ آباد آفس پہنچو۔۔۔۔۔میں تمہیں وہی ملتا ہوں۔۔۔۔“
انہوں نے حکم دیا تھا
اوکے سر
وہ بھی بغیر کوٸی سوال جواب کیے رضامند ہو گیا تھا۔۔۔۔
لیکن ذہن بری طرح الجھ گیا تھا
اور ایشنال والی بات کے بعد تو وہ اور بھی چوکنا ہو گیا تھا
اب اس کا رخ ایبٹ آباد کی طرف تھا
اور ٹھیک اسی لمحے وہ بھی اپنا فلیٹ لاک کر کے پارکینگ ایریا کی طرف تھا
❤❤❤❤
وہ اس وقت۔۔۔۔سنجیدہ سا چہرہ لیے جنرل کے سامنے بیٹھا تھا
دوپہر دو بجے وہ یہاں پہنچ آیا تھا
اب وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
وہ اس وقت یونیفارم میں نہیں تھا
کالے رنگ کی قمیض شلوار۔۔۔۔۔جس کے آستین فولڈ کر رکھے تھے کہنیاں میز پہ ٹکاۓ ان کے بولنے کا منتظر تھا۔۔۔۔
انہوں نے ایک پیپر اس کی طرف بڑھایا
اس نے ناسمجھی سے اپنے سامنے پڑے پیپر کو پھر ان کے چہرے کی طرف دیکھا
”حیدر تم پانچ دن بعد انڈیا جا رہے ہو۔۔۔۔“
وہ الرٹ سے بیٹھے سپاٹ لہجے میں اسے بتا رہے تھے
اور وہ بس ان کا چہرہ دیکھ کہ رہ گیا
”لیکن سر میں ال ریڈی دو ذندگیاں گزار رہا ہوں۔۔۔۔۔“اگر میں ترکی جاٶں گا تو یہاں خان کا کیا ہوگا۔۔۔۔۔“؟
اس نے تیزی سے ایک ایک لفظ پہ ذور دے کے کہا
وہ اس کو دیکھتے رہے
پھر قریب ہو کہ بولے تھے
میں اس وقت اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سب سے بہادر آفیسر حیدر شاہ سے نہیں۔۔۔۔۔ایک ایسے مرد سے بات کر رہا ہوں جو ایک عورت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے۔۔۔۔۔“
کیا میں یہ سمجھوں کیپٹن حیدر شاہ۔۔۔۔“؟
انہوں نے طنز سے جتا کہ کہاوت
سر میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اکتا کہ بولا تھا۔۔۔۔
پھر کیا مسٸلہ ہے حیدر۔۔۔۔؟
وہ ابھی تک کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
”سر میں اسے ایسے حالات میں کیا کہہ کر چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔“وہ بالکل اکیلی ہو جاۓ گی سر وہ مجھے ہمیشہ دھوکے باز سمجھیں گی“
وہ شکستہ خورہ لہجے میں بولا تھا
”اور اگر آپ انڈیا نہ گۓ تو ڈیپارٹمنٹ آپ کو غدار سمجھے گا۔۔۔۔“
انہوں نے زور سے دونوں ہاتھ ٹیبل پہ مار کے جیسے اسے کسی خواب سے جگایا تھا۔۔۔۔
وہ یکدم چونکا تھا
”میں اسے کیا کہوں گا۔۔۔۔۔“
اس کا لہجہ اب بالکل سپاٹ تھا
”آپ اسے کچھ بھی نہیں کہیں گے کچھ بھی نہیں بتاٸیں گے بس اسے چھوڑ آٸیں اس کے والدین کے گھر۔۔۔۔۔رشتہ ختم کرنے کا کون کہہ رہا ہے ایک سال کی ہی تو بات ہے۔۔۔۔۔آپ واپس آجاٸیں گے
اب ان کا لہجہ نرم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ کچھ دیر درد بھری نظروں سے انہیں دیکھتا رہا۔۔
جیسے کوٸی گنجاٸش باقی نہیں۔۔۔۔۔
”پھر آخر میں دل پہ پتھر رکھ کہ اس نے پیپر پہ دستخط کرنے لگے۔۔۔۔۔“
پیپرز کی جگہ نکاح پہ پیپرز کسی بلبلے کی طرح ابھرنے لگے
اس کی آنکھیں جلنے لگی تھی
اس نے پہلے پیپر پہ دستخط کیا تھا۔۔۔۔
پانی کا بلبلا غاٸب ہو گیا تھا
اب وہاں صرف اس کا فرض تھا محبت کہیں نہیں تھی۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا
آنکھیں ہنوز جل رہی تھی
وہ جانے لگا
جب یکدم پلٹا تھا
”میں اسے چھوڑ دوں گا کچھ نہیں بتاٶں گا کیونکہ میں حیدر شاہ ہوں غدار نہیں ہوں۔۔۔۔۔“
میں رات کے اندھیرے میں اس کا ہاتھ چھوڑ دوں گا میں ایک بزدل مرد بن جاٶں گا اس کی نظر میں میں اس کی بیناٸی قوت گویاٸی سب چھین لوں گا کہ وہ مجھے جاتا ہوا نہ دیکھ سکے
۔۔۔۔۔
میں سرحد عبور کر کے جاٶں گا۔۔۔۔
وہ ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بول رہا تھا
”کپٹین حیدر شاہ۔۔۔۔“
انہوں نے اسے پکارا تھا
وہ پلٹا نہیں تھا
”ایجنٹ بہت بے وفا ہوتے ہیں انہیں محبت نہیں کرنی چاہیۓ،۔۔۔۔۔۔“
وہ کہہ کے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے تھے
جہاں اب بارش شروع ہو چکی تھی
۔۔۔۔۔۔
قطرے کھڑکی کو بھگو رہے تھے
شاید کسی کی خوشیوں کو بہا کے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔۔۔۔
وہ خالی ہاتھ نہیں آیا تھا خالی ہاتھ جا۔رہا تھا