Rate this Novel
Episode 12
نیلا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا ہوا تھا بارش متوقع تھی اور اکتوبر کے اواٸل دنوں میں گرم ہواٶں کا رخ بدلا تھا اور ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہواٸیں چلنے لگی تھی لان میں پڑا بڑا جھولا ویران پڑا تھا ہلکی ہلکی ہواٶں کی وجہ سے ہلکا ہلکا حرکت کررہا تھا
لان کی نسبت اندر سناٹا نہیں تھا بڑے ہال میں اس وقت وہ ہاتھ میں موباٸل پکڑے پریشانی سے یہاں وہاں ٹہل رہی تھی وقفے وقفے سے وہ عجلت سے کوٸی نمبر ڈاٸل کرتی۔۔۔۔۔۔اور آگے سے آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے کا ٹکا سا جواب سنتی ۔۔۔۔۔۔۔پھر کال کاٹ کے دوبارہ ڈاٸل کرنے کی کوشش کرتی پچھلے ایک گھنٹے سے وہ یہی کر رہی تھی
دور اس جنگل میں ہلکی ہلکی ہوا کی سنسناہٹ میں ذمین پہ موباٸل کے کچھ پرزے چمک رہے تھے
سم دوسری طرف پڑی تھی
ہال میں چلتے ہوۓ کسی خیال کے تحت وہ اب کسی اور کا نمبر ڈاٸل کر رہی تھی
خوبصورت وادی کی چوٹی پہ وہ سنگ مر مر سے بنی چھوٹی سی عمارت سورج کی کرنوں کے زیر اثر چمک رہی تھی
داٸیں اور باٸیں طرف پھولوں کی باڑ تھی
اونچی سی پہاڑی پہ بنا یہ فارم ہاٶس اندر سے بھی اتنا ہی حسین تھا جتنا باہر سے۔۔۔۔۔
اندر پڑا ٹیلی فون مسلسل بج رہا تھا
جب ایک چالیس سالہ دراز قد اور لمبی داڑھی والے آدمی نے ریسیور کان سے لگایا
پھر وہ ایکدم الرٹ ہو کے سننا لگا
کال ریسیو ہوتے ہی وہ پریشانی چہرے پہ سجاۓ صوفے پہ بیٹھتے ہی فورا سے بولی تھی
ہیلو امتیاز کیسے ہو“؟
انہوں نے خود کو سنبھالتے ہوۓ خیر خیریت دریافت کی تھی
”میں ٹھیک بی بی جی آپ کیسی ہے“؟
اس نے خوشدلی سے جواب دیا تھا
بہت وقت بعد شہر سے کسی کا فون آیا تھا
”اچھا امتیاز وہ اسامہ صاحب پہنچ گۓ تھے رات کو یہاں “؟اگر جاگ گۓ ہیں تو میری بات کروا دو ان سے“ان کا نمبر آف آرہا ہے“
انہوں نے عجلت سے اپنا مدعا بیان کیا تھا
اور دوسری طرف فارم ہاٶس میں ریسیور کان کے ساتھ لگاۓ وہ الجھے چہرے کے ساتھ کھڑا تھا
”بی بی جی چھوٹے صاحب کب آۓ“؟یہاں“
اس نے سر کھجاتے ہوۓ حیرت سے پوچھا تھا
اور دوسری طرف یہ الفاظ کسی بم کی طرح اس کی سماعتوں پر اثر انداز ہوۓ تھے
وہ فورا اٹھ کھڑی ہوٸی تھی
کیا کہہ رہے ہو وہ وہاں پہنچا ہی نھیں “؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے امتیاز وہ مجھے یہی کا کہہ کے گیا تھا تم کل رات وہی تھے نا“؟
وہ اب پاگلوں کی طرح اپنی بات۔پہ ذور دے رہی تھی جیسے یہ ثابت کرنا چاہ رہی ہو کہ وہ وہی تو ہے“
”جی نجمہ بی بی میں نے کدھر جانا ہے کب سے یہی ہوں اسامہ صاحب یہاں نہیں آۓ“
وہ بھی سچا تھا اس لیے اپنی بات پہ ذور دے کے بولا
”کیوں بی بی جی خیریت تو ہے نا اسامہ صاحب ٹھیک تو ہے“؟
وہ پریشانی سے استفسار کر رہا تھا۔۔۔۔
”ہاں ہاں وہ ٹھیک ہے اگر وہ وہاں پہنچے تو مجھے اطلاع کر دینا “
اپنی بات کہہ کے انہوں نے فون رکھ دیا تھا
اور وہ ریسیور کو دیکھتا رہ گیا
وہ اب اپنے ذہن سے خدشات کو جھٹکتے پریشان بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ مری نہیں تھا تو کدھر تھا“؟
کہیں وہ کسی مصیبت میں تو نہیں تھا“؟
اسی سوچ کے آتے ہی وہ پھر دیوانہ وار بند نمبر ڈاٸل کر رہی تھی
دوسری طرف اس پہاڑ کی چوٹی پہ بنے فارم ہاٶس میں کھڑے امتیاز نے ٹیبل صاف کرتے نیچے گرے اخبار کو اٹھانے کے لیے جھکا تو نظر اوپر درج سرخی پر ٹھہر گٸ۔۔۔۔۔
”مال روڈ کے قریب بنے پل پہ موڑ کاٹتے ہوۓ تیز رفتار گاڑی حادثے کا شکار گاڑی میں بیٹھے نوجوان کے جابحق ہونے کی اطلاع خبر دو دن پہلے کی تھی
امتیاز ہاتھ میں اخبار پکڑے وہی ٹھہر گیا تھا
”کہیں یہ صاحب جی“؟
وہ منہ ہی منہ بڑبڑایا
پھر اس خیال کو خود ہی جھٹک دیا
یہ اسامہ نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔
یہی سوچ کہ وہ ایک نظر کھڑکی کے باہر چمکتے سورج کو دیکھ کہ رہ گیا
❤❤❤❤❤
سورج کی یہ مدہم کرنیں اس بوسیدہ سے تہہ خانے کے گرد آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھی جنگل کی گہراٸی میں بنا یہ تہہ خانہ جس کو لمبے اونچے قد آور پیڑوں اور درختوں نے گھیر رکھا تھا مدہم کرنوں کی اندر رساٸی ناممکن تھی اندر ابھی بھی وہ ذرد روشنی والا بلب ٹمٹما رہا تھا
وہ ایک جلے ہوۓ ڈرم کے ساتھ کمر اور سر ٹکاۓ ایک گھٹنا فولڈ کیے اور دوسری ٹانگ جس پہ سفید پٹی باندھ رکھی تھی سیدھی ذمین پہ رکھے آنکھیں موندے جیسے ان چیخوں سے جان چھڑانا چاہتا تھا
پورا گھر انسانی چیخوں سے گونج رہا تھا
اور کونے میں بیٹھا وہ شخص جس کی ٹوٹی ٹانگ علاج نہ ہونے کی وجہ سے حرکت کرنا چھوڑ چکی تھی خاموش تماشاٸی تھا۔۔۔۔۔۔اس جگہ پہ یہ اس کا تیسرا دن تھا پہلے تو اس نے کافی ہنگامہ کیا تھا لیکن پھر عادی ہو گیا تھا یہاں روز وہ ایسی چیخیں سنتا تھا
اس نے ایک نظر اپنی ٹانگ کے گرد بندھی پٹی کو دیکھا جس پہ لال دھبہ اب مذید واضح ہو رہا تھا
ٹانگ سے ایک دفعہ پھر خون رسنے لگا تھا
اور اس کا سوجا ہوا ہاتھ
وہ ڈاکٹر تھا روز ایسے کٸ مریض اس کے پاس آتے تھے جن کی ٹانگیں اس قدر خراب ہوتی تھی کہ ان کا جسم سے جدا ہونے کے سوا کوٸی چارہ نہ ہوتا تھا
یہ اس کا پروفیشن تھا وہ بڑے آرام سے کہتا اور چلا جاتا اس نے کبھی پلٹ کے مریض کے چہرے پہ چھاٸی اس اذیت کو نہیں دیکھا تھا اور یہاں تو آٸینہ بھی نہیں تھا جس میں کم از کم اپنا چہرہ ہی دیکھ لیتا
وہ ڈاکٹر ہو کے اپنے لیے کچھ نہیں کر پارہا تھا۔۔۔۔۔
”یہ واقعی سچ ہے کہ انسان سے ذیادہ بے بس اور کوٸی مخلوق نہیں ہے“
اس کا دل چاہا وہ اپنی میڈیکل کی ڈگریوں کو آگ لگا دے
کیا فاٸدہ ایسی پڑھاٸی کا کہ انسان خود کو ہی بچا نہ پاۓ۔۔۔
چیخوں کی آواز اب مدہم ہو گٸ تھی
شاید اس کو یہاں سے لے جایا جا چکا تھا
اور وہ یہ سوچ رہا تھا کہ ایک دن اس کی بھی کسی آنکھ میں سلاخ گھسی ہو گٸ ہونٹ کٹے ہونگے اور ذہنی مریض لوگ ڈارک ویب پہ اس کی ویڈیوز دیکھ کہ لطف انداوز ہو رہے ہونگے
تو ڈاکٹر اسامہ ایک دن محض ذہنی مریضوں کی تفریح بن کے رہ جاٸینگے
اس کے ہونٹوں پہ ایک کرب بھری مسکراہٹ پھیل گٸ
تو شاید میں اسی لیے ذندہ بچ گیا تھا
ابھی وہ اسی طرح بیٹھا تھا کہ کسی چھوٹی بچی کے چیخنے کی آواز آنے لگی۔۔۔۔
اس نے چونک کے سر اٹھایا
گردن یہاں وہاں گھماٸی۔۔۔۔
اٹھنے کی کوشش کی
آواز اب قریب سے آرہی تھی
یہ پہلی بار تھی جب اغضا۶ کاٹنے کے لیے کوٸی بچی لاٸی گٸ تھی
وہ اس وقت ایک ایسے گروہ کی قید میں تھا جو ڈارک ویب کا حصہ تھے
یہاں ہر غلط کام ہوتا تھا
وہ آواز اب قریب ہوتی گٸ
اب جب اس نے سر اٹھایا تو اپنے سامنے ایک کرخت چہرے والے دراز قد مرد کو اور ساتھ ایک گول مٹول معصوم سے چہرے والی بچی کو دیکھا جس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال ہوچکی تھی۔۔۔۔۔
اس کرخت چہرے والے شخص نے اس کی ڈھیلی پونی سے اسے پکڑ رکھا تھا
بچی کپڑوں سے کسی اچھے گھر کی لگتی تھی
شاید اغوا۶ ہوٸی تھی
”تو ممبر بنے گا نا ہمارا تو سوچا تیرے سامنے ہی کروں سب کچھ تجھے بھی پریکٹس ہو جاۓ گی۔۔۔۔“
وہ خباثت سے ہنستا ہوا بلٹ کھولنے لگایا
اسامہ کی آنکھیں بے یقینی سے پھیلی۔۔۔۔۔اس نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا اس کی وہ امید نہیں کر سکتا تھا
”تم یہ نہیں کر۔سکتے وہ بچی ہے“
وہ دھاڑا
اثر لیے بغیر وہ ذمین پہ گری بچی کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
بچی ابھی بھی چیخ رہی تھی۔۔۔۔
”چھوڑو اس کو یہ بچی ہے بہت چھوٹی ہے وہ مر جاۓ گی
وہ خلق کے بل چلایا
اثر لیے بغیر وہ کارواٸی میں مصروف تھا
”تمہیں خدا کا واسطہ ہے اسے چھوڑ دو “
وہ ہاتھ جوڑ کے منت پر اتر آیا تھا۔۔۔۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ اٹھ نہیں پایا
ایک ٹانگ مکمل ٹوٹی ہوٸی تھی اور دوسری زخموں سے چور۔۔۔
اب اسے محسوس ہوا کہ انہوں نے پہلے دن کے بعد اسے کیوں نہیں باندھا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ بغیر سہارے کے اٹھ ہی نہیں سکتا تھا
اس نے بہت کوشش کی تو اپنی ایک ٹانگ اٹھانے میں کامیاب ہو ہی گیا
بچی ابھی تک بچاٶ انکل بچاٶ انکل پکار رہی تھی
وہ کھڑا ہوا تو درد اتنا شدید تھا کہ وہ دوبارہ زمین بوس ہو گیا
اب بچی کی آوازیں مدہم ہو رہی تھی۔۔۔۔۔شاید وہ ہمت ہار گٸ تھی
اور وہ تو دماغی طور پہ بھی مفلوج تھا
وہ دھاڑیں مار مار کے بچوں کی طرح رو رہا تھا
وہ اس ننھی گڑیا کے لیے کچھ نہیں کر پایا تھا
اس نے سر اٹھا کہ دیکھا وہ شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا
اس نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا
”تو بھی اگر کچھ کرنا چاہتا ہے تو“؟
اس شخص نے آنکھ دبا کے کہا تو
وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا دونوں کہنیوں کے بل اس بچی کی طرف بڑھا
اس کا معصوم چہرہ نیلا پڑھ رہا تھا
اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھی لیکن وہ ذندہ تھی
وہ سیدھا ہو کہ بیٹھا اور اس کا سر گود میں رکھا
پھر اس کرخت چہرے والے شخص جس کے چہرے پہ چیچک کے داغ تھے
تھوڑا پانی لا دو یہ مر رہی ہے“
وہ روتے ہوۓ التجاٸیہ لہجے میں بولا
تو مرنے دو ہمارے کس کام کی ہے“؟
لاپرواہی سے جواب دیتا ہوۓ آگے بڑھنے لگا
پھر پلٹ کے ایک ذور دار مکا اس کے ناک پہ جھڑ کے آگے بڑھ گیا
خون کا ایک فوارہ چھوٹا تھا
اور وہ بے سدھ سا بیٹھا تھا
بچی کا بے سدھ وجود اس کی گود میں تھا
اور اس کے ناک سے خون کے قطرے اس بچی کا چہرہ بگھو رہے تھے
اور وہ اب چیخیں مار مار کے رو رہا تھا
یہ پہلا قتل تھا جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا
اور اسے محسوس ہوا وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے
❤❤❤❤❤❤
صبح سے تیز بارش نے ہر چیز کو بگھو کے رکھ دیا تھا بڑے محل نما اس گھر میں ڈاٸینگ ٹیبل پہ ناشتے کی مختلف انواع اقسام کی چیزیں پڑی تھی اور بڑی کرسی پہ جنرل بیٹھا عینک ناک پہ جماۓ اخبار پڑھنے میں مصروف تھا
پاس ہی جیا ایک ہاتھ میں اورینج جوس پکڑے دوسرے سے مسیج ٹاٸپ کرنے میں مصروف تھی
جب وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتا دیکھاٸی دیا
اس نے مسکرا کہ جیا کی طرف دیکھا تو جواب میں وہ بھی مسکرا دی
جنرل نے سر اٹھا کہ دیکھا تھا
آٶ سونو ناشتہ کرو“
جیا نے اسے پیشکش کی
”نہیں میں باہر سے کر لوں گا روز روز اچھا نہیں لگتا
اس نے بھی مسکرا کہ جنرل کی طرف دیکھتے ھوۓ پیشکش ٹھکرا دی
”یہ کیا بات ہوٸی چلو بیٹھو یہاں
وہ ماتھے پہ بل ڈالتی کھڑی ہوٸی پھر اسے بازو سے پکڑ کے اپنے قریب کرسی پہ بیٹھا دیاتھا
وہ اخبار پیچھے سرکا کہ اب ڈبل روٹی کا سلاس اٹھا کہ جیم لگا رہے تھے
اور وہ کن اکھیوں سے اس خوش شکل نوجوان کو دیکھ رہے تھے جو سفید گول گلے والی شرٹ پہنے گھونٹ گھونٹ جوس پی رہا تھا ساتھ ہی جیا کے ساتھ بات بھی کر رہا تھا۔۔۔۔۔
”ڈیڈ وہ رگو کی طبیعت اب کیسی ہے“؟ اور کچھ پتہ چلا رات کو اس پر کس نے حملہ کیا تھا
جیا کو ایک دم جیسے یاد آیا تھا
سلاٸس منہ میں ڈالتے ہوۓ وہ ان کی طرف پلٹی
جو کھوجتی نگاہوں سے سونو کو دیکھ رہے تھے
”ہاں اس نے بیان تو دیا ہے کہ کوٸی بندہ میرے کمرے کے ساتھ کھڑا باتیں سن رہا تھا سر پہ ٹوپی پہن رکھی تھی اور کالی چادر لپیٹ رکھی تھی اس لیے وہ پہچان نہیں پایا اور جیسے ہی اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو اسی لمحے لاٸٹ چلی گٸ اور اسی اندھیرے میں اس نے میرے سر میں گملا دے مارا اور آگے کا تو تمہیں پتہ ہے کہ شور سن کے میں باہر نکل آیا تھا اور وہ خون میں لت پت پڑا تھا
انہوں نے سونو کی طرف دیکھتے ہوۓ جیا کو بتایا
جیا نے کچھ سوچتے ہوۓ محض سر ہلا کہ رہ گیا
اور وہ ان کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے پہلو بدل کے رہ گیا
”مجھے تو کسی گھر کے بندے کا کام لگتا ہے“؟
انہوں نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ کہا
“کیا مطلب ہے آپ کا ڈیڈ“؟
اس نے ماتھے پہ بل ڈال کے کہا
”ٹھیک کہہ رہا ہوں مین سوٸیچ کی تار کٹی ہوٸی تھی کسی ملازم کا کام بھی ہو سکتا یا پھر وہ بات ادھوری چھوڑ کے اٹھ کھڑے ہوۓ
ایک اچنٹی نظر مسکراتے ہوۓ سونو پہ ڈالی اور باہر نکل گۓ۔۔۔۔
اس نے کوٸی صفاٸی پیش نہیں کی
گھوڑے کی لگام اس کے ہاتھ میں تھی وہ کوٸی صفاٸی نہ بھی دے تو جیا کو اس پہ یقین تھا
اور جب تک جیا کو اس پہ یقین تھا کوٸی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا
وہ اٹھ کھڑا ہوا تو جیا نے اس کے ٹیبل پہ رکھے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کہ کہا
”مجھے تم پہ یقین ہے“
اس نے مسکرا کہ کہا تھا
اور وہ اس کی باہر نکلی لٹھ کو کان کے پیچھے اڑستا نظر چرا کہ باہر نکل گیا تھا
بے اختیار بہت دنوں بعد وہ پھر یاد آٸی تھی
جسے بھلانے کا وہ تہیہ کر چکا تھا
