Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

میرے درد سے بےخبر

ازقلم صبا مغل

قسط 4

وہ عیان کی موجودگی میں پریشان ہورہی تھی ۔۔ پر زینب بی بی کے ساتھ سے تسلی ہورہی تھی ۔۔۔
مال پہنچ کر انشاء اس کے پہچھے چل رہی تھی اہستہ اہستہ ۔۔۔

“اب یہ کیا مری ہوئی چال سے چل رہی ہو ۔۔۔ جلدی کرو اتنا رش ہے ۔۔۔ عیان نے اسے گھورتے ہوۓ کہا ۔۔۔ ویسے بھی وہ بےانتہا بےزار لگا دونوں کو ۔۔۔

“عیان بیٹے , اس طرح نہیں کہتے ۔۔۔ زینب بی بی نے کہا ۔۔

وہ ان کو ملازمہ کم گھر کا فرد سمجھتے تھے اس لیۓ انہوں نے تنبہی کی اور عیان کے چہرے کے زاویۓ کچھ نرم ہوۓ ۔۔۔

“سوری زینب بی بی ۔۔۔ اپ جانتی ہیں میں وقت کے ساتھ چلتا ہوں ۔۔ اس کی سلو مارجن میرا وقت برباد کرے گی ۔۔۔
انشاء نے نظرین جھکالیں اور زینب بی کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ چلنے لگی ۔۔۔

“اب اس جلاد ہلاکو کے ساتھ میں اپنے نکاح کا جوڑا لوں , کیا مصیبت ہے , سمجھ نہیں اتا یہ مصیبت وقت کے ساتھ چلتا ہے یا وقت اس کے ساتھ چلتا ہے ۔۔۔ باباجان کس مصیبت میں پھنسا دیا ۔۔۔

وہ منہ ہی منہ میں منمنائی ۔۔ زینب بی کو کچھ سمجھ ایا کچھ سمجھ نہیں ایا ۔۔ پر عیان نے ایک دم کہا ۔۔۔

“کیا کہا تم نے پھر سے کہو ذرہ ۔۔۔ جلاد ہلاکو اور کیا کہا ۔۔۔

اب انشاء کو لگا وہ گئی کام سے ۔۔۔ عیان کا غصہ اور اپنی جان نکلتی سی محسوس ہوئی ۔۔۔ اس سے پہلے دونوں کے بیچ بات بڑھتی کسی نے عیان کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ پلٹا ۔۔۔
وہ اس کے گلے لگا ۔۔۔

“تھینک یو سو مچ بھائی ۔۔۔۔ یو آر بیسٹ ۔۔۔

عیان مسکرایا ایمان کی بات پر اور کہا ۔۔۔۔

“بس جلدی شاپنگ کرو دونوں اور جیسے فری ہو مجھے بتانا میں پک کرلوں گا ان کو ۔۔۔

“پلیز زینب بی , بابا جان کو پتا نہیں چلنا چاہۓ ورنہ ان کو برا لگے گا ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔ ایک سلگتی نظر انشاء پر ڈالنا نہ بھولا وہ جو خوش تھی جان بچی لاکھوں پاۓ پر جلدی سے نظریں جھکا گئی ۔۔۔

“کوئی بات نہیں بچوں , یہ ہماری اپس کی بات ہے ہمارے بیچ ہی رہے گی ۔۔ وہ مسکرائیں ۔۔۔

عیان چلا گیا ۔۔ ایمان اور انشاء نے مل کے شاپنگ کی ۔۔ ان دونوں کا معصوم انداز دیکھ کر وہ دونوں کی نظر دل ہی دل میں اتارتی رہیں ۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔۔ انشاء کا چہرہ گلنار ہوگیا تھا اس کی سنگت میں ۔۔۔

“اللہ بری نظر سے بچاۓ دونوں کو ۔۔ آمین ۔۔ اور ان دونوں پر ایتوں کا ورد کرکے پھونکا ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے دونوں ایک دوسرے کو مکمل کررہے ہیں , مال میں کئی لوگوں نے پلٹ کر اس کپل کو دیکھا ۔۔۔

کافی دیر بعد ۔۔۔

“جلدی کرو دونوں گھر انتظار کرہے ہونگے تمہارے بابا جان ۔۔۔

زینب بی نے کہا ۔۔۔ دونوں نے ساتھ “جی کہا ۔۔۔ اسی وقت ایمان کے موبائل کی گھنٹی بجی ۔۔۔

“لین عیان بھائی کا بھی فون اگیا ۔۔۔ ایمان نے کال ریسوو کرکے مال کی ایکزٹ کی طرف جانے لگے ۔۔۔ سامنے عیان ہی کھڑا تھا اور دونوں پر نظر ڈالی , دل ہی دل میں “ماشاءاللہ کہا دونوں ساتھ میں اتنے خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔۔

انشاء کا چہرہ دمک رہا تھا کچھ نیاپن لگا عیان کو اس پر ڈائمنڈ کی نوز پن کی چمک جو ایک الگ ہی تاثر دیا عیان کو ۔۔۔ شاید پہلی دفعہ اس نے اتنی غور سے دیکھا تھا اس زیور کو ۔۔۔

“بھائی دیکھیں , مجھے اچھی لگی یہ نوزپن ڈائمنڈ کی تو لے لی انشاء کے لیۓ ۔۔ ایمان نے چہک کر کہا ۔۔۔

“ہممنم اچھا کیا ۔۔۔ عیان نے اہستہ سے کہا ۔۔

“اب بابا کے سامنے بات سنبھال لیجیۓ گا پلیز ۔۔ اس نے ریکوئیسٹ کی ۔۔۔

“بےفکر ہوجاؤ ان کو پتا نہیں چلے گا ۔۔۔ عیان نے تسلی دی ۔۔

“اور بھائی کیسی لگ رہی ہے یہ انشاء پر ۔۔۔

“اچھی لگ رہی ہے , اب جاؤ , ہمیں بھی گھر پہچنا ہے بابا پوچھ رہے ہیں ۔۔ عیان نے ہنس کر کہا ۔۔۔

انشاء اور زینب بی کو لے کر وہ گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔۔

@@@@@@

آخرکار خوشیوں بھری وہ رات اگئی جس کا بے صبری سے سب کو انتظار تھا ۔۔۔ شہر کا سب سے مہنگا بینکوئیٹ بک کیا تھا عیان نے ۔۔۔ اعلیٰ کوالٹی کی ڈیکوریشن ان کی امارت کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔۔۔ بہترین کھانے کا انتظام تھا ۔ ایک ایسا شخص نہ تھا جس نے تعریف نہ کی ہو اس انتظام کی یا پھر دولہے دلہن کی ۔۔۔

نکاح کا انتظام بھی اسٹائیلش طریقے سے کیا گیا تھا ۔۔۔ سفید پردہ لگا کر دولہے دلہن کو جدا بٹھا کر ایک دوسرے کے سامنے بلکل لکھنوی انداز میں نکاح پڑھایا گیا ۔۔۔ اس انداز کو سب نے سراہا ۔۔۔ ایمان کی طرف عیان اور اس کا بہترین دوست عمر ساتھ میں ایمان کے کئی دوست بیٹھے اور انشاء کی طرف باباجان اور زینب بی بی ساتھ کچھ فیملی فرینڈز بھی ۔۔۔

بابا جان انشاء کے ساتھ بیٹھ کر اسے باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی ۔۔۔ حیدر شاہ نے خود کو بیٹی کا باپ ثابت کیا ۔۔۔ انشاء کتنی دیر ان کا ہاتھ تھام کر روپڑی ۔۔۔ کتنا عزیم تھا یہ شخص جس نے اپنی اولاد سے بڑھ کر اسے چاہا ۔۔۔

انکھ میں انسو کئی لوگوں کے اگۓ محبت کے اس انداز پر ۔۔۔ پھر مشکل سے عیان نے چپ کروایا اور کہا ۔۔۔

“ابھی رخصت نہیں ہوئی اپ کی بیٹی باباجان ۔۔۔۔

بات میں دوسرا لقمہ ایمان نے دیا ۔۔ اور وہ ہنس پڑے ۔۔۔

“اور بےفکر ہوجائیں اپ کے گھر ہی انا ہے جب رخصت ہوگی ۔۔

“ہممم اب چلو دونوں اسٹیج پر ۔۔۔ باباجان نے خود کو سنبھال کر کہا ۔۔۔پھر ایمان اور انشاء کو ساتھ بٹھایا گیا اور سب کے سامنے مگنی کی رسم ادا کی گئی ۔۔۔ ایمان نے انشاء کو اور انشاء نے اسے رنگ پہنائی ۔۔۔

@@@@@@

“ماشاء اللہ بہت خوبصورت کپل لگ رہا ہے دونوں کا کیوں عیان ۔۔۔

عمر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسٹیج کی طرف دیکھا اور کہا ۔۔۔

“ماشاء اللہ ۔۔۔ سہی کہا تم نے ۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچاۓ دونوں کو آمین ۔۔۔ عیان کے کہنے پر عمر نے کہا ۔۔۔

“آمین ۔۔۔

“یار کتنا اچھا ہوتا اگر اس محفل میں تمہارے بچے اپنے چاچا چاچی کو تنگ کررہے ہوتے تو کتنا مکمل لگتا یہ فنکشن ۔۔۔

“اور ہان میں ان کو تمہارے حوالے کرتا اور وہ تمہارے بچے کچے بالوں کو کھینچ کر گنجا کررہے ہوتے تم کو , تو مجھے اور بھی مزا ارہا ہوتا ۔۔۔

“عیان کتنی بار کہا ہے بالوں کا مذاق نہیں ۔۔۔ عمر کو اپنے بالوں سے بڑا لگاؤ تھا جس کی جتنی فکر کرتا اتنے گرتے اور عیان کے گھنے بالوں کو دیکھ کر عمر چڑ جاتا ۔۔۔

“تو عمر یار میں نے کتنی بار کہا مجھ سے شادی کا مذاق نہیں ۔۔۔ عیان نے کہا ۔

“اوکے اوکے یار رہنے دو تمہیں سمجھانا بےکار ہے ۔۔۔ عمر نے شانے جھٹکے اب دونوں تینتیس کے ہونے لگے تھے ۔۔ عمر کے دو بچے تھے اسے عیان کا کنواراپن کھٹکتا تھا جیسے ان کی سرکل کی لڑکیوں کو ۔۔۔ اس وقت ان کے سرکل میں سب سے ڈیمانڈنگ لڑکا عیان تھا ۔۔۔ عمر یا باباجان کے پوچھنے پر ہمیشہ اس کا یہی جواب ہوتا ۔۔۔
“ابھی نہیں سہی وقت انے پر کرلوں گا ۔۔ اتنا دوٹوک انداز کسی کی ہمت نہ ہوتی دوبارہ کہنے کی ۔۔۔

“تو پھر بےکار کی کوشیشین نا کرو ۔۔۔ عیان نے کہا بےپروائی سے ۔۔۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔

“میری دعا ہے تجھے شدت والی محبت ہو اور تو شادی کرے اور مجھے چاچا کہنے والے اجائیں ۔۔۔

عمر کا بھی اپنا دکھ تھا چاربہنوں کا اکلوتا بھائی اور اکلوتا بیسٹ فرینڈ بھی کنوارا ۔۔۔

“محبت کو چھوڑو , باقی چاچا بنائیں گے تم کو ایک دو سال صبر میرے یار ۔۔۔

دونوں ہنسنے لگے ۔۔۔ اسی وقت باباجان دونوں کی طرف بڑھے ۔۔
“عیان تم چھوڑ آؤ انشاء کو گھر ۔۔۔ اب مہمانوں کی واپسی ہورہی ہے ۔۔۔

“میں ۔۔۔۔ پر بابا ایمان لے جاۓ , مجھے یہاں سے سب مہمانوں کو رخصت کرکے بلز کلیئر کرنے ہیں ۔۔۔ میری بہت مصروفیات ہیں ۔۔۔

عیان نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہا ۔۔۔ وہ باپ تھے عیان بھی ان کا بیٹا تھا ۔۔۔ ایمان کے اترے منہ کو دیکھا اس نے ۔۔ وہ جانتا تھا اس کا بھائی ان خوبصورت لمحوں کو اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے جو غلط بھی نہ تھا ۔۔

“اوکے میں خود لے جاتا ہوں , جانتا ہوں تمہاری سب چالاکیان ۔۔
باباجان نے کہا ۔۔۔۔

عمر منہ پر ہاتھ رکھے یہ فیملی ڈرامہ دیکھنے لگا جس میں سب سے زیادہ قابل رحم حالت ایمان کی تھی ۔۔۔ ہنسی ضبط کرنا مشکل لگا عمر کو ۔۔۔ وہ ان کے گھر اتا جاتا رہتا تھا اور ہر بات سے واقف تھا ۔۔ عیان نے گھورا عمر کو اور بابا کے قریب ہوکر کہا ۔۔۔

“بابا ایک منٹ میری بات سنیں ۔۔۔ وہ سائیڈ لے جاکر ان کو سمجھانے لگا ۔۔۔ کچھ دیر بعد دونوں ساتھ اۓ ۔ ایمان کے کندھےطپر عمر کا ہاتھ تھا ۔۔۔ ایمان نے مدد طلب نظرون سے عیان کو دیکھا ۔

“ہممم انشاء کو تم لے جاؤ ایمان , پر دھیان سے جلدی گھر انا ۔۔ ایمان کا دل چاہا یا ہو کا نعرہ لگاۓ پر کنٹرول کرکے کہا ۔۔۔

“جی بھائی ۔۔۔
زینب بی انشاء کو چادر اوڑھائیں اور ایمان کی گاڑی میں بٹھائیں ۔۔۔

زینب بی اور نازیہ بھابھی (عمر کی بیوی ) نے مدد کی اس کی گاڑی میں بٹھایا ۔۔ اور گاڑی روانہ ہوئی ۔۔۔

@@@@@@

چاندنی رات میں دونوں گاڑی میں بیٹھے آئیسکریم کھا رہے تھے ۔۔۔

“میری زندگی کا سب بہترین دن ہے اج کا , ہمارے نام جڑگۓ , ایسا لگتا ہے مکمل ہوگئی میری زندگی , کبھی کوئی گلہ نہیں رہے گا اب زندگی سے ۔۔۔ ایمان نے محبت سے لبریز لہجے کہا ۔۔۔

“میں بھی اج بہت خوش ہوں , میری زندگی کا خوبصورت ترین دن ہے ۔۔ اس نے دوپٹا سر پر لیا جو سرکنے لگا تھا , اسے عیان کی تنبہی یاد تھی جو گاڑی میں بیٹھنے کے بعد عیان نے دی تھی انشاء کو ۔۔۔

“یہ دوپٹا سر سے سرکنا نہیں چاہیۓ اور دونوں جلدی گھر انا ۔۔۔
اخری لفظ ایمان سے کہے تھے ۔۔۔ جس پر دونوں نے اثبات میں سرہلایا ۔ ۔

“اف یہ عیان بھائی کی سختی بھی نا ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔

جس پر ایمان مسکرایا اور کہا ۔۔

“فکر نہ کرو وہ ہم دونوں سے بہت پیار کرتے ہیں ہماری پرواہ ہے اس لیۓ ۔۔۔

“رہنے دو تمہارے بھائی ہیں اور صرف تمہاری پرواہ ہوگی ۔۔۔انشاء نے ہمیشہ کی طرح منہ بنایا اور ایمان نے کھل کے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“تمہاری بےاعتباری میرے پیارے بھائی پر , اج کی خوبصورت رات کے لمحے اس بات پر ضایع نہیں کرسکتا میری جان , یہ ہمارے لمحے ہیں صرف ہمارے ۔۔۔ جنہیں صرف تم پر نچھاور کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

اتنا کہے کر اس نے خوبصورت ڈائمنڈ کا بریسلیٹ نکال اس کی کلائی کی زینت بنایا ۔۔۔ اور دونوں نے سرشار ہوکر ایک دوسرے کو دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کی گھر کی طرف روانہ ہونے کے لیۓ ۔۔

@@@@@@@

وقت تیزی سے گزرنے لگا ۔۔۔ گھر میں دونوں سے بہت سی خوشیان اور رونقین ہونے لگیں انشاء اور ایمان کی شرارتوں سے ۔۔۔ باباجان اب بھی عیان کو کہتے رہتے شادی کا پر وہ نہیں مانتا ۔۔۔اب وہ اپنا بزنس اسٹارٹ کر چکا تھا عمر اور وہ دونوں پارٹنر تھے ۔۔

اب رخصتی کی باتیں ہونے لگیں تھیں تاریخ بھی طے تھی ۔ انشاء کی ڈگری مکمل ہوگئی تھی اور ایمان کی ہاؤس جاب چل رہی تھی ۔۔۔ اب وہ ڈاکٹر ہونے کے فرائض نباہ رہا تھا پر گھر میں بلکل بچہ بنا رہتا ۔۔

حیدرشاہ چاہتے تھے اب عیان کی بات بھی کہیں پکی ہوجاۓ اس کی عمر بڑھ رہی تھی ۔۔۔ پر عیان بلکل لاپرواہ تھا خود سے ۔۔۔

اب شادی میں کچھ دن رہ گۓ تھے ۔۔۔ عیان اپنے خیال میں جارہا تھا ۔ اچانک سامان سے بھرا تھال جو انشاء لارہی تھی اس سمیت عیان سے ٹکرائی ۔۔۔ سب سامان بکھر گۓ تھے زمین پر ۔۔۔

“دیکھ کر نہیں چل سکتی انکھیں ہیں یا بٹن ۔۔۔ عیان نے ازلی غصہ بھرے انداز میں کہا پر اج انشاء ہمیشہ والے انداز میں گھبرائی بلکل نہیں اور ارام سے کہا ۔۔

“سوری عیان بھائی ۔۔۔ غلطی سے ہوگیا ۔۔۔

“دیکھ کے چلا کرو سارا وقت برباد کردیا ۔۔ عیان کو اب بھی غصہ تھا اس لیۓ اس کا لہجہ تیز تھا پر انشاء کے تاثرات میں ردی برابر فرق نہ ایا وہ پرسکوں ہی تھی ۔۔

“اب دو منٹ میں کونسی دنیا بھاگنی ہے اور اتنا غصہ کس لیۓ , چلیۓ اب میری اٹھانے میں مدد کروائیں , مجھے بھی بہت سے کام ہیں , میرا بھی ٹائم ضایع ہوا ہے ۔۔۔

وہ حیرت سے دیکھنے لگا اسے , اس کے اندر کی تبدیلی پر حیران تھا جسے وہ اتنے مہینوں میں محسوس نہ کرسکا ۔۔۔ یہ تو وہ انشاء رہی نہ تھی جو عیان کو غصے میں دیکھ کر سانس روک لیتی تھی ۔۔۔ یہ تو کوئی اور انشاء لگی اسے ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔